news2

کپواڑہ اور حاجن میں کریک ڈاؤن
فورسز اور عسکریت پسندوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کوئی گرفتار
سرینگر؍13نومبر/ //کپواڑہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے نصف درجن دیہات میں دوران شب فورسز کی جانب سے شروع کیا گیا سرچ آپریشن پرامن اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی کے باوجود بھی اس علاقے میں کہیں پر بھی فورسز اور جنگجوؤں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ سی این ایس کے مطابق راشٹریہ رائفلز کی 28ویں کے علاوہ سی آرپی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے کپوارہ کے رنگوار لالپورہ میں وسیع پیمانے پرایک سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فورسز کو ان علاقوں میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ تاہم وسیع پیمانے پر کئے گئے اس سرچ آپریشن میں فورسز کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔دوپہر کے قریب فورسز نے ان علاقوں کا محاصرہ ہٹالیا ہے۔فوج نے ان علاقوں کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردئے جس دوران نہ کسی کو وہاں کی طرف جانے اور نہ ہی کسی کو باہر آنے کی اجازت دی گئی۔مقامی لوگوں کے مطابق کچھ ایک مقام پر کریک ڈاؤن کے دوران نہ صرف مردوں کو نوے کی دہائی کی طرح ایک ہی جگہ جمع کرکے ان کی شناختی پریڈ کروائی گئی بلکہ دوسری جانب رہائشی مکانوں کی تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کو ان علاقوں میں جنگجو ؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی تاہم وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی کے باوجود بھی اس علاقے میں کہیں پر بھی فورسز اور جنگجوؤں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ادھر فورسز نے سوموار کی صبح حاجن بانڈی پورہ کے میر محلہ میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پانے کے بعد اس علاقے کو محاصرے میں لیکر جنگجوؤں کو ٰڈھونڈنے کے لئے کے لئے گھر گھر تلاشیاں لیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت ترین محاصرے کے بیچ کسی کے متذکرہ علاقے کے اندر یا اس سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ بعد میں گھنٹوں تک کریک ڈاؤن کے بعد علاقہ کا محاصر ہ اٹھا لیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial