News3

کشمیری عوام کیخلاف ہرزہ سرائی پوری کشمیری قوم کی تذلیل
اقتدار کی لالچ اور اس کے ساتھی بی جے پی نے موصوفہ کو حواس باختہ قراردیا /مشترکہ مزاحمتی قیادت
سرینگر؍۱۳؍نومبر //مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وزیراعلیٰ کی جانب سے کشمیری عوام کیخلاف ہرزہ سرائی کو پوری کشمیری قوم کی تذلیل کے مترادف قرار دیکر اس پر اپنے شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار کے نشے میں اندھی ہوکر موصوفہ نے جس قوم کو agitator یا begger کہہ کر پکارا ہے تو اسکو معلوم ہونا چاہئے کہ جو قوم روزانہ اپنے بچوں کی قربانیاں پیش کرتی ہو جو روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھاتی ہو اُس قوم کو نہ تو نفع نقصان کا پاٹ پڑھایا جاسکتا ہے اور نہ حقیر مفادات کے عوض جابر قوتوں کے آگے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا اقتدار کی لالچ اور اس کی حکومت میں ان کے ساتھی بی جے پی نے موصوفہ کو حواس باختہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاموصوفہ کی سربراہی میں مختلف ایجنسیاں آئے روز نت نئے حربوں سے کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کی کوششیں کرتے ہیں ۔ارسال کردہ مشترکہ بیان میں سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ یہ کشمیری عوام کی یکجہتی اور سخت مزاحمت کا نتیجہ ہے کہ بھارت کی آباد ی اور وسائل میں کوئی مماثلت نہ ہونے کے باوجود اپنے حق خود ارادیت کے خاطر سات دہائیوں سے محو جدوجہد ہیں ۔ انہوں نے کہا اس طرح کی مثالی قربانیاں ایک اخلاقی طور باضمیر قوم سے ہی امید کی جاسکتی ہے تاہم یہ باتیں استحصالی اور موقعہ پرست لوگوں کے سمجھ سے بالاتر ہے۔مزاحمتی قائدین نے کہا 1947 سے مفادات اور کرسی کی خاطر ان لوگوں نے جو در حقیقت بھارت کے بھی دوست نہیں ہیں نے کشمیر کو لیکر مسلسل سمجھوتیں کئے اور اس طرح سے یہاں قبضے کو دوام بخشا گیا۔ انہوں نے کہا کرسی کی خاطر بار بار دھوکہ دہی سے آج اس قدر حالات پیدا ہوگئے ہے کہ دفعہ370 اور35-A کو منسوخ کرنے کی باتیں کی جاتی ہے تاکہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر کو پوری طرح ضم کیا جائے۔انہوں نے کہا کشمیری عوام کی تحریک کو کمزور کرنے کی خاطر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت پی ڈی پی کے ساتھ اتحادی حکومت عمل میں لائیں گئی۔ انہوں نے کہا یہ وہی پی ڈی پی ہے جس کے سربراہ مفتی محمد سعید نے بطور بھارت کے وزیر داخلہ یہاں افسپا نافذ کیا جس کے تحت فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی من مرضی کے مطابق کسی کو بھی گولی کا نشانہ بنائیں۔ مزاحمتی قائدین نے کہا جہاں ایک طرف لوگوں پر گولیاں اور پلٹ برسائے جارہے ہیں، ہزازوں کی تعداد میں نوجوان مختلف جیلوں اور تھانوں میں پابند سلاسل ہیں اورتحریک پسند قیادت کیخلاف NIA کے ذریعے ایک پروپگنڈہ عملایا جارہا ہے جس کے تحت درجنوں لیڈرغیر قانونی طور گرفتار ہیں اور دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر CASO کے ذریعے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں پر تشدد برپا کیا جاتا ہے اور دوسری طرف کشمیری عوام کو terrorism یا tourism میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا نعرہ لگا کر اور دفعہ 370 کے خلاف GST کے اطلاق سے کشمیری معیشت اور سیاحت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا گیا۔کشمیری قوم کو اقتصادی بدحالی سے دوچار کرنے کیلئے ان جماعتوں نے نہ صرف کشمیری عوام کے جملہ مفادات کو بیچ کھایا بلکہ کشمیری عوام کو دانے دانے کا محتاج بنا دیا۔کشمیری معیشت کو مزید زک پہنچانے کی خاطر زلف تراشی کے گھنونے واقعات کو عملا کر اسے محضHysteriaکا نام دیا گیا۔ انہوں نے کہا یہ ریاست کی نام نہاد وزیر اعلیٰ کے لئے نہایت شرم کی بات ہے کہ ہماری ماؤں بہنوں کی عزت میں حملہ آوروں میں سے ایک کوبھی کیفر کردارتک نہیں پہنچایا گیااس کے برعکس ان واقعات کو پس پشت یہ کہہ کر ڈالا گیا کہ ایسے واقعات دوسری ریاستوں میں بھی رونما ہوئے ہیں۔انہوں نے تاجر برادری سے وابستہ کچھ افراد کی اس روئے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جو بھارت کے حواریوں کو قربانیوں کی تذلیل کرنے کا موقعہ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیرمیں ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے بشمول تاجر برادری نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں لہذا ان کا تحفظ کشمیریوں کا قومی فریضہ ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ کشمیری عوام کو زندہ رہنے کیلئے ہندوستان کی پشت پناہی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جیساکہ محبوبہ مفتی نے باور کرانے کی کاشش کی۔ حق خود ارادیت کے حصول کی صورت میں کشمیر ی عوام کے پاس قدرتی وسائل اور ذخائر کا لامتناہی سلسلہ موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial