News4

اقوام متحدہ ماہرین نے کی سوچھ بھارت مشن کی تنقید
کہا اگرحفظانِ صحت ضروری ہے توکیاپینے کاپانی لازمی نہیں
سرینگر؍۱۳؍نومبر //اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوچھ بھارت مشن کی تنقیدکرتے ہوئے سوال کیاہے کہ اگرحفظانِ صحت ضروری ہے توکیاپینے کاپانی لازمی نہیں ۔ مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ ماہرین کی اعلی سطحی کمیٹی کے رُکن لیو ہیلر نے کہاکہ ہندوستان کے سوچھ بھارت مشن کو نفاذ کرنے میں ’ انسانی حقوق کے اقدار‘ کو نذر انداز کرنے کی بات کی گئی ہے۔میڈیارپورٹسکے مطابق اپنے دوہفتوں طویل ہندوستانی دورے کے بعد یواین ماہرین نے ’کھلے میں حاجت کی تکمیل‘پروگرام کے تحت بھی ’ انسانی حقوق‘ کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اپنی رائے میں کہاکہ حفظان صحت کے ضروری پانی کی فراہمی کو پس پشت ڈال دیاگیاہے۔ لیو ہیلر نے کہاکہ پانی اور حفاظان صحت کے حقوق علیحدہ مگر ضروری ہیں۔ اقوام متحدہ ماہرین کی ٹیم نے بتایاکہ اگر پانی اور حفظان صحت ایک سے دوسرے ہاتھ میں جارہے ہیں تو انہیں پانی اور حفظان صحت کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے اور اس کی وضاحت پیکیج کے تحت ہونی چاہئے۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ گھروں میں بیت الخلاء کی تعمیر نہ کرنے پر عہدیداروں کی جانب سے لوگوں کے ’راشن کارڈس کی منسوخی‘اور ’برقی منقطع کرنا‘دراصل ’جارحانہ اور بدسلوکی والی کاروائی ہے‘۔لیو ہیلر نے کہاکہ حکومت ہند بیت الخلاء کی تعمیر پر زور د ے رہی ہے ،لیکن لوگوں کے باقی بنیادی حقوق کی جانب خاطرخواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔ سوچھ بھارت ابھیان کے لوگو جس میں مہاتماگاندھی کا چشمہ ہے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لیو ملیر نے کہاکہ اسکیم کے اس تیسرے سال کے نفاذ کے بعد اب حالات سنگین ہیں ہوگئے ہیں لہذا عینک کوانسانی حقوق کی عینک سے تبدیل کرنا ہوگا۔تاہم مرکز ی سرکارنے اس پر اپنا فوری ردعمل پیش کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ حقائق سے بعید اور تعصب کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial