news6

وادی کشمیر میں عسکریت کا خاتمہ پہلی ترجیح
مسعود اظہر کے بھتیجے کامارا جانااس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس میں ملوث ہے/فوجی سربراہ
نئی دہلی؍۷؍نومبر //وادی کشمیر میں جنگجوئیت کے خاتمے کو ترجیح قرار دیتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ مسعود اظہر کے بھتیجے طلحہ رشید کے مارے جانے اور امریکی ساخت ہتھیار کی برآمدگی کی خبر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو سرحد پار سے مدد مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی سر زمین پر قدم رکھنے والا کوئی بھی شدت پسند خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو،کو اپنے انجام تک پہنچایا جا ئیگا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نئی دہلی میں نامہ نگاروں سے ایک تقریب کے حاشئے پر بات کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ وادی کشمیر میں آخری جنگجو تک آپریشن جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ سرزمین ہند پر جو کوئی شدت پسند اپنے قدم رکھے گا ،اُسے فوج اپنے منطقی انجام تک پہنچا ئے گی ۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار اگلر کنڈی پلوامہ میں جھڑپ کے دوران جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھتیجے طلحہ رشید کے مارے جانے پر کیا ۔انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر کے بھتیجے طلحہ رشید کے مارے جانے اور امریکی ساخت ہتھیار کی برآمدگی کی خبر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو سرحد پار سے مدد مل رہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ جو رائفل جھڑپ کے مقام پربرآمد ہوئی ،اُس کا استعمال افغانستان میں نیٹو فوج کررہی ہے اور اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ جیش محمد کے ملی ٹنٹوں کو سر حد پار سے مدد مل رہی ہے ۔ یاد رہے کہ اگلر کنڈی پلوامہ میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ رشید 2ساتھیوں سمیت پیر کی شپ ہوئی جھڑپ میں ازجان ہوا تھا ۔فوج کے سربراہ نے مزید بتایا کہ وادی کشمیر میں آکری جنگجو تک آپریشن جاری رہے گا ۔ان کا کہناتھا کہ اگر ملی ٹنٹ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے ،جان ومال کو نقصان پہنچائیں گے اور بھارتی شہریوں کو خطرے میں ڈالیں گے ،کسی پولیس اسٹیشن یا فوجی عمارت وتنصیبات پر حملہ کریں اور لوگوں کو مشکلات میں ڈالیں گے ،توہماری کوشش رہے گی ہم اِن کو اپنے انجام تک پہنچائیں ۔ان کا کہناتھا ’چاہئے وہ (ملی ٹنٹ ) مسعود اظہر کا بھتیجا ہو یا کوئی اور ،ہماری ترجیح صرف ملی ٹنسی کا خاتمہ ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تشویش نہیں اُن کا کیا مہذہب ہے یا پھر کوئی کچھ اور ۔جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ مہلوک جنگجوؤں کی تحویل سے امریکی ساخت رائفلیں برآمد کی گئیں ،تو جنرل بپن راوت نے کہا کہ میڈیا ایک مقامی جنگجو کی یہ ہتھیار سمیت ایک تصویر وائرل ہوئی تھی ،جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہیں سرحد پار (پاکستان) سے مدد مل رہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial