news7

صلاح الدین کے فرزندکی رہائش گاہ پرعلی الصبح چھاپہ
شاہدیوسف کالیپ ٹاپ اوراہل خانہ کے کئی موبائل فون ضبط 
بڈگام؍۲۶، اکتوبر //صلاح الدین کے فرزندکی رہائش گاہ میں صبح صادق سے پہلے چھاپہ ڈالکرNIAکی ٹیم نے شاہدیوسف کالیپ ٹاپ اوراہل خانہ کے کئی موبائل فون ضبط کرلئے ۔صبح ساڑھے 4بجے سے 7بجے تک چھاپے کے دوران این آئی اے اہلکاروں نے گھرکاچپہ چپہ چھان مارا،نیزافرادخانہ سے بھی پوچھ تاچھ کی ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق قومی تفتیشی ایجنسی ’این آئی اے ‘ نے گرفتار حزب سپریمو سید صلاح الدین کے فر زند سید شاہد یوسف کی رہائش گاہ واقع سویہ بُگ بڈگام پر چھاپہ ڈالا۔معلوم ہوا ہے کہ ’این آئی اے ‘ کی ایک ٹیم نے جمعرات کی صبح4بجکر30منٹ پر سید یوسف کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا اور یہاں کئی گھنٹوں تک اہلخانہ سے تفتیش کی ۔ذرائع نے بتایا کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران قومی تفتیشی ایجنسی ایجنسی ’این آئی اے ‘ کی ٹیم نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران سید شاہد یوسف کے گھر سے متعدد موبائیل فون اور ایک لیپ ٹاپ ضبط کیا ۔یاد رہے کہ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے فرزند کو این آئی اے نئی دہلی میں پوچھ تاچھ کے دوران سنہ2011کے ایک مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں 24اکتو بر کو حراست میں لیا ۔25اکتوبر کو سیدصلاح الدین کے فرزندسے مزیدپوچھ تاچھ کیلئے قومی تفتیشی ایجنسی ’این آئی اے‘نے عدالت سے شاہدیوسف کا7روزکیلئے ریمانڈحاصل کرلیا۔منگل کے روزمنی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں گرفتارسیدشاہدیوسف کوبدھ کی صبح نئی دہلی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کیاگیاتھا۔این آئی اے کے قانونی صلاح کارنے عدالت کوبتایاکہ تفتیشی ایجنسی شاہدیوسف سے مزیدپوچھ تاچھ کرناچاہتی ہے ،اسلئے اُسے کچھ وقت کیلئے ایجنسی کی تحویل میں دیاجائے۔ این آئی اے نے خصوصی عدالت سے سیدصلاح الدین کے فرزند سیدشاہدیوسف کا7روزکیلئے ریمانڈحاصل کرلیاہے۔ این آئی اے نے رواں ماہ کی16تاریخ کو سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کے نام سمن جاری کیا تھا جس میں انہیں 24اکتوبر کے روز نئی دلی میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹر آنے کیلئے کہا گیا تھا ۔وسطی کشمیر کے سویہ بگ بڈگام سے تعلق رکھنے والے شاہد یوسف متحدہ جہاد کونسل سربراہ سید صلاح الدین کے تیسرے بیٹے ہیں جو ایگریکلچر پوسٹ گریجویٹ ہیں اور محکمہ باغبانی میں اپنے ہی علاقے میں ایگریکلچر ایکسٹینشن اسسٹنٹ کی حیثیت سے تعینات ہیں۔ ایس ایس پی بڈگام کے توسط سے سید شاہد یوسف تک پہنچایا گیا سمن این آئی اے کے ایس پی اجیت سنگھ نے جاری کیا تھاجس میں25اپریل سال 2011کو درج کئے گئے کیس زیر نمبرRC-06/2011/NLA/DLIکا حوالہ دیتے ہوئے شاہد یوسف کو دلی آنے کی ہدایت دی گئی تھی۔اس کیس کی تحقیقات ایس پی اجیت سنگھ ہی کررہے ہیں اور یہ کیس حزب المجاہدین کیلئے فنڈنگ کے بارے میں ہے ۔ سید شاہد یوسف پر الزام ہے کہ انہوں نے سال 2011 اور2014کے درمیان حوالہ چینلوں کے ذریعے سات قسطوں میں4.5لاکھ روپے کی رقم وصول کی ہے۔اُدھرشاہدیوسف کے اہل خانہ نے واضح کیا ہے کہ گھرکاکوئی بھی فردکبھی بھی منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہاہے ۔انہوں نے این آئی اے کے اقدا م کوہراسانی قراردیتے ہوئے کہاکہ ایسے حربوں کااصل مقصدصلاح الدین کی شبیہہ خراب کرناہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے اب تک جی ایم بٹ ،محمد صدیق گنائی ،غلام جیلانی لیلو اور فاروق احمد ڈگا سمیت6افراد کے خلاف 2چارج شیٹ عدالت میں پیش کی ہیں ۔4افراد عدالتی حراست میں ہیں جبکہ محمد مقبول پنڈت اور جی ایم بٹ کے خلاف بھی این آئی اے نے چارج شیٹ دائر کی ،لیکن یہ مفرور ہیں جبکہ انکے خلاف انٹر پول کے ذریعے ’ریڈ کار نر نوٹس‘ بھی جاری کی گئی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial