محمد یاسین ملک چیرمین سنٹرل جیل سے رہا

لبریشن فرنٹ کے دیگر گرفتارزعماء جیلوں میں ہنوز نظر بند
سری نگر؍۱۴، اپریل //جے کے ایل ایف چیرمین سنٹرل جیل سے رہا جبکہ فرنٹ کے دیگر زعما جیلوں میں ہنوز نظر بند ہے۔ موصولہ بیان کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک ،نائب چیئرمین مشتاق اجمل، قائد ظہور احمد بٹ نیز حریت لیڈر ہلال احمد وار کوسنیچروار سرینگر سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔ ان لوگوں کو ۱۲؍ اپریل ۲۰۱۸ ؁ء کے روز گرفتار کیاگیا تھا اور آج کئی روز کی گرفتاری کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ فرنٹ کے زونل صدر نور محمد کلوال، نائب چیف آرگنائزر سراج الدین میر اور ضلع صدر بارہمولہ عبدالرشید مغلو بالترتیب سرینگر سینٹرل جیل،کریری پولیس اسٹیشن اور بارہمولہ سب جیل میں مقید ہیں۔ بڈگام پولیس نے نصر اللہ پورہ سے فرنٹ رکن بلال احمد ڈارکوایک ہفتے میں دوسری بار گرفتار کرلیا ہے۔ اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرنٹ نے کہا ہے کہ بلال احمد ڈار کو ایک اور فرنٹ رکن پیر عبدالرشید کے ہمراہ گزشتہ روز ایس ایچ او بڈگام نے طلب کیا اور وہاں پورے دن تک ٹھہرانے کے بعد کل شام گئے بلال احمد ڈار کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔ ان دونوں کو ۷؍ اپریل ۲۰۱۸ ؁ء کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں کئی روز تک قید رکھنے کے بعدرہا کیا گیا۔ کل انہیں دوبارہ طلب کیا گیا جہاں بلال احمد ڈار کو پھر نظر بند کردیا گیا ہے۔ پولیس بلال احمد ڈار کو انکے بیٹے کی جگہ جسے وہ تلاش کررہی ہے کے بدلے قید میں رکھنے پر قانع ہے جو بہر صورت انتہائی مذموم عمل ہے اور جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔درایں اثناء بابائے قوم محمد مقبول بٹ شہید کے ہمراہی ، قائدتحریک امان اللہ خان مرحوم کے دستِ راست اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر وائس چیئرمین جناب عبدالحمید بٹ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ برطانیہ دورے کے موقع پر 18؍اپریل کو لندن میں بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم اور ربھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف تمامی کشمیری برادری سے سراپا احتجاج رہنے کی اپیل کی ہے تاکہ بھارت کامکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے بے نقاب ہوسکے ۔ بٹ صاحب نے برطانیہ میں مقیم کشمیریوں بالخصوص آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی ، مذہبی و سماجی تنظیموں کے قائدین سے اپیل کی کہ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسندعوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پا مالیوں کو اجاگر کرنے کے لئے وہ اپنے تمام تر ذاتی ، فروعی ، جماعتی و نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر لندن میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ اُن کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی مجوزہ ملاقات کے موقع پربھارتی مظالم کے خلاف اپنا بھر پور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *