پرتاپ پارک سرینگرمیں نان اپروڈ اخبار مالکان اور اخبارات سے وابست ملازمین کا خاموش احتجاج۔

۳۰اپریل تک اگر ہمارے مسائلوں کو حل نہیں کیا گیا تمام ناناپروڈ اخبارات مالکان بوکھ ہرتال شروع کرے گے
سرینگر؍؍جے کے این ایس؍؍کشمیر سے تعلق رکھنے والے نان اپروڈ مالکان اور اخبارات سے وابست ملازمین نے آج پرتاپ پارک سرینگر میں کشمیر سے شائع ہورہے اخبارات کے تئیں سرکار کی جانب سے بھرتی جارہی امتیازانا پالیسی کے خلاف زابردست احتجاج کیا گیا جس دوران کشمیر سے آٹھ برسوں سے شائع ہورہے اخبارات کو اشتہارات کے دائرے میں لانے کے لئے وزیر اعلیٰ سے پرزور اپیل کی گئی ۔جے کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق ااج پرتاپ پارک سرینگر میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے نان اپروڈ اخبارات کے مالکان اور ملازمین نے نان اپروڈ اخبارات کے تئیں سرکاری پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کیا جس دوران احتجاج کرنے والے ایڈیٹرس سرکار اور محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ حکام پر کشمیری صحافیوں کے ساتھ امتیاز بھر نے کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے ۸ برسوں سے کشمیر میں انتہائی نامساعد حالات میں اخبارات شائع کررہے ۔انہوں نے کہا چونکہ پچھلے ۶مہینوں اور بعد میں ایک سال کے بعد اخبارات کو سرکاری اشتہارات کے دائرے میں لایا جاتا تھا راہم ستم ظریفی یہ ہے کہ ۲۰۱۱سے ۲۰۱۷ تک محکمہ اطلاعات کی جانب سے ایمپنل مینٹ کے سسلے میں کوئی میٹنگ منقعد نہیں کی گئی جب کہ اس دوران ۲۰۱۶ میں ایڈویر ٹائزمینٹ پالیسی تبدیل کی گئی ۔احتجاج پر بیٹھے اخبارات مالکان نے کہا کہ محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ اور سابقہ وزیر اعلیٰ مرحومہ مفتی محمد سیعد نے اس وقت انہیں یقین دلایا کہ ۲۰۱۶ سے پہلے شائع ہورے اخبارات کو رعایت دے جائے گئی ۔انہوں کہا کہ اگر چہ ۲۰۱۷ میں ایمپنل مینٹ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تاہم اس وقت کے سرکار کے سبھی وعدے سراب سابت ہوئے کیوں کہ میٹنگ کے دوران کشمیر کے نامساعد حالات اور ۲۰۱۱ سے شائع ہورہے اخبارات کے مالکان کو درپیش مشکلات کو یکسر نزانداز کر کے کشمیری صحافیوں کے ساتھ امتیازیرویہ کا برملا اظہار کرتے ہوئے جموں کے ۷۰اخبارات جبکہ کشمیر سے شائع ہورہے محض ۲۹اخبارات کو اشتہارات کے دائرے میں لایا گیا اس پر بھی طرہ یہ کہ ان ۲۹ اخبارات میں سے بیشتر کی periodicaly تبدیل کرنی تھی اور اس طرح کشمیر کے محض دو تین نئے اخبارات کوہی سرکاری اشتہارات کے دائرے میں لایا گیا ۔نان اپروڈ اخبارات مالکان و ملازمین نے سرکار پر کشمیری صحافیوں کے ساتھ امتیاز بھرتے کا الزام عائد کر تے ہوئے بتایا کہ ۵ اپریل ۲۰۱۸ کو جموں میں محکمہ اطلاعات کی ایمپنل منیٹ کمیٹی کی میٹنگ منقعد ہوئی جس میں ایک بار پھر کشمیر سے اخبارات کو نظر انداز کر کے جموں کے ۷ اور لداخ کے ایک اخبار کو اشتہارات کے دائرے میں لایا گیا ۔جبکہ کشمیر سے ایک ہفتہ وار اور ماہانا میگزین اس دائرے میں لایا گیا جس کی وجہ سے کشمیری صحافیوں میں پھل جھکے ہے ۔اخبارات مالکان نے کہا کشمیری صحافیوں کے ساتھ روا امتیاز ریاست کو خطوں میں بانٹنے کی کوئی درپردہ سازش ہے انہوں نے کہا کہ پچھلے اٹھ برسوں کے دوران کشمیر سے شائع ہورہے درجنوں اخبارات ک اشاعت کو بند ہونے کا خطرہ لاحق ہوا ہے انہوں نے ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی صاحبہ کو اس سنگین معاملے میں ذاتی مداخلت کی پرزور اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی جائز مانگوں کو پورا کیا جانا چاہے ۔تاکہ ہمیں مشکلاتوں سے راحت مل سکھے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *