پی ڈی اقتدار کی خاطر فرقہ پرستوں کے رنگ میں رنگ چکی ہے

ایم ایل اے کولگام نے کی وزیر اعلیٰ سے تصدق مفتی کے بیان کی وضاحت طلب 
سری نگر؍۱۴، اپریل //پی ڈی حصول اقتدار کی خاطر بنیادی ایجنڈے سے منحرف ہوکر فرقہ پرستوں کے رنگ میں رنگ چکی ہے‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے ایم ایل اے کولگام نے ریاست کے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے تصدق مفتی کی طرف سے دئے گئے بیان کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔ کے این ایس کے مطابق سی پی آئی ایم کے ریاستی لیڈر اور ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو تصدق مفتی کے گزشتہ روز پریس کو دئے گئے بیان پر وضاحت پیش کرنے کو کہا ہے۔ ریاست کے وزیر سیاحت اور وزیر اعلیٰ کے برادر اصغر مفتی تصدق حسین نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کاخاخمیازہ عوام کو اپنے خون سے چکاناپڑرہا ہے۔ محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ مفتی تصدق حسین کے بیان کے بعد ریاستی وزیر اعلیٰ اپنی پوزیشن واضح کریں۔تاریگانی نے وزیر اعلیٰ کے برادر اصغر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے سامنے معافی مانگنے میں پی ڈی پی کو کیا چیز روک رہی ہے۔ اگرچہ اندرون و بیرون ریاست جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگوں لوگوں نے کئی مرتبہ پی ڈی پی کو فرقہ پرستوں کی سازشوں سے قبل از وقت واقف کرایا تھا مگر پی ڈی پی نے جمہوری آوازوں پر کوئی کان نہ دھرتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد کیا جس کی وجہ سے آج پوری ریاست غیر یقینیت اور فرقہ واریت کی شکار ہے۔ انہوں نے پی ڈی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا اس پارٹی نے کبھی بھی بی جے پی کو ایجنڈا آف الائنس میں درج وعدوں کو عملانے پرجواب دہ نہیں بنایا۔ اس وقت عوام کے اندر پی ڈی پی کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو نافذ العمل نہ بنانے اور اس جماعت کی خاموشی پر کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔انہوں ے کہا کہ پی ڈی پی نے اقتدار کے حصول کی خاطر اپنے بنیادی ایجنڈے سے انحراف کرلیا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ جماعت فرقہ پرستوں کے رنگ میں رنگ چکی ہے۔ کٹھوعہ آبروریزی اور قتل معاملے پر بولتے ہوئے تاریگای نے کہا ہے کہ پی ڈی پی کی مخلوط حکومت میں شامل اکائی بی جے پی کے دو وزرا کھلے عام مجرموں کو بچانے کے لیے نمایاں طور سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو مہینے گزرنے کے باوجود بھی ریاستی وزیر اعلیٰ ان وزراء کے خلاف کارروائی نہیں کرپائی اب جبکہ عالمی سطح پر سماج کے مختلف طبقوں نے اس شرمناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوثین کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تب جاکر بی جے پی کے دو وزرا بیرونی دباؤ کی وجہ سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اُن تمام افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے جنہوں نے قانونی کارروائی میں کسی بھی قسم کا رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ریاست میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے مخلوط حکومت وجود میں آئی ہے تب سے لے کر آج تک حکومت کی جانب سے صرف طاقت اور تشدد کا استعمال کیا جارہا ہے جبکہ حکومت برائے نام ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام اب پی ڈی پی کے ایجنڈا آف لائنس کے پرفریب نعرے سے پوری طرح واقف ہوچکی ہے جو صرف اور صرف ایک سیاسی پنترے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *