سابق وزیر اعظم ناروے کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد مزاحمتی قائدین سے ملاقی

کشمیر مسئلہ کا دائمی حل اقوام متحدہ کی قراردادیں یا سہ فریقی مذاکرات
سری نگر ؍؍کے این ایس ؍؍کشمیر کے دورے پر آئے ہوئے ناروے کے سابق وزیر اعظم کجل میگنے کی قیادت میں آئے ہوئے ایک وفد نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال سے آگاہی حاصل کی جبکہ مزاحمتی قیادت نے وفد کو ریاست کے طول و عرض میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق ابتر صورتحال سے آگاہ کیا۔ملاقات کے دوران مزاحمتی قیادت نے وفد کو بتایا کہ ں وکشمیر کے عوام حق خودارادیت کی بنیاد پر دیرینہ تنازع کشمیر کا ایک ایسا دائمی اور پر امن چاہتے ہیں جس کیلئے یا تو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پاس قراردادوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے یا مسئلہ کشمیر سے جڑے تینوں فریقین بھارت پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین جامع مذاکراتی عمل کا قیام لایا جائے تاکہ اس مسئلہ کا کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کیا جاسکے تاکہ یہاں کے عوام کو اُن مصائب سے چھٹکارا مل سکے۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قائدین بشمول سید علی شاہ گیلانی اورمیرواعظ عمر فاروق نے حیدرپورہ میں ناروے کے سابق وزیراعظم کجل میگنے کی قیادت میں کشمیر کے دورے پر آئے ہوئے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قائدین نے وفد کو جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی اور حقوق انسانی کے حوالے سے ابتر صورتحال سے آگاہ کیا۔وفد کو بتایا گیا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ سات دہائیوں کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کو التوا میں رکھنے کی بنا پر یہاں کے عوام کو شدید مشکلات ،ماردھاڑ، قتل و غارت گری ، حقو ق انسانی کی ابتر پامالیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کالے قوانین کے بل پر یہاں کے عوام کے جملہ حقو ق کو سلب کرلیا گیا ہے ۔قائدین نے معزز مہمان کو بتایا کہ جموں وکشمیر کے عوام حق خودارادیت کی بنیاد پر دیرینہ تنازع کشمیر کا ایک ایسا دائمی اور پر امن چاہتے ہیں جس کیلئے یا تو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پاس قراردادوں پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے یا مسئلہ کشمیر سے جڑے تینوں فریقین بھارت پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین جامع مذاکراتی عمل کا قیام لایا جائے تاکہ اس مسئلہ کا کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کیا جاسکے تاکہ یہاں کے عوام کو اُن مصائب سے چھٹکارا مل سکے جن کا اس مسئلہ کی وجہ سے اُنکو سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ناروے ایک ایسا ملک ہے جو پوری دنیا میں متنازعہ مسائل کے حل کیلئے ایک مثبت کردار اداکرتا رہا ہے لہٰذاجموں وکشمیر میں روزانہ ہو رہے قتل و غارتگری کے واقعات اور اس مسئلہ کے دائمی حل کیلئے حکومت ناروے کو آگے آنا چاہئے ۔قائدین نے معزز مہمان کو اُس تکلیف دہ صورتحال اور مسائل و مصائب سے آگاہ کیا جن کا کشمیری عوام کو روزانہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام پر ہو رہی زیادتیوں کو روکنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق وفد کے اراکین نے قائدین کو یقین دلایا کہ وہ بھی مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا حل چاہتے ہیں جس میں کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کو مد نظر رکھا جائے اور وہ کوشش کریں گے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز ہو سکے جس میں کشمیری عوام کو اعتماد میں لیکر اس مسئلہ کے منصفانہ حل کیلئے مثبت اور نتیجہ خیز کوششیں کی جاسکیں۔ادھر قائدین نے جموں وکشمیر کے حریت پسند عوام سے یہ اپیل پھر دہرائی ہے کہ وہ رواں نام نہادپنچایتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے موقعہ پر مورخہ24 نومبر 2018 بروزسنیچروار کوبھی کرالہ پورہ، ملیال، ریڈی چوکی بل،ہندوارہ، روہامہ، گاندربل، سویہ بگ، سرسیار، کیلر، ڈی ایچ پورہ، ڈی کے مارگ اور مینز گام شوپیان علاقہ جات میں مکمل بائیکاٹ اور احتجاجی ہڑتال کرکے اس نام نہاد مشق سے عملاً دور رہ کر اسے کلی طور پر مسترد کریں اور رواں خونین تحریک آزادی کے ساتھ اپنی مکمل وابستگی کا اظہار کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial