All posts by wadikiawaz2016

’’کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی بردار ی کا اظہار تشویش‘‘

کشمیر کی صورتحال پریشان کن ؍ امریکہ حالات تشویشناک ؍ برطانیہ ؍ ہلاکتیں نسانی حقوق کی خلاف ورزی (پاکستان ) مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں سرفہرست؍او آئی سی 
سرینگر؍؍الفا نیوز سروس ؍؍کشمیر میں عام شہریوں کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت پرامریکہ ،برطانیہ سمیت عالمی برداری نے شدید تشویش ظاہر کی ہے جبکہ پاکستان نے اس ہلاکتوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔اس دوران اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم (او آئی سی ) نے شہری ہلاکتوں کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے پر سر فہرست ہے اور بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ٹیم کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینا قابل افسوس ہے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق کشمیر میں تشدد کی لہر میں مزید ہلاکتوں پر عالمی برداری نے بالآخر تشویش ظاہر کی ہے اور اس سلسلے میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کشمیر کی صورتحال کو پریشان کن قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق کشمیرمیں حالیہ دنوں پھرتشدد بھڑکا ہے جس میں فورسز کے ہاتھوں مزید14 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات پر امریکہ کو یقینی طور پر تشویش ہے جس کو دیکھتے ہوئے امریکہ چاہتا ہے کہ کشمیر میں صورتحال کو معمول پر لایا جائے اوراس سلسلے میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پہلے بھی امریکہ کے پاس شکایات موصول ہوتی رہی ہیں اور بار بار امریکہ نے اپنی تشویش سے ہندوپاک کی حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ جو صورتحال کشمیر کے اندر بن رہی ہے اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات پر پھر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس بات کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا ہے کہ کسی بے گناہ فرد کو مارا گیا اور ایسے میں صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے ہندوپاک کو اپنی توجہ حل طلب مسائل کی جانب سے مبذول کرانا ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یقینی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کشمیر کی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔اس دوران برطانیہ نے بھی کشمیر میں تازہ ہلاکتوں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور بھارت میں مقیم برطانوی ہائی کمشنر کیساتھ رابط قائم کیا گیا ہے ۔برطانوی حکومت نے صاف کر دیا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کسی بھی وقت دھماکہ خیز بن سکتی ہے لہذا دونوں ممالک کو کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی کوشش ضرور کرناہوگی تاکہ امن کو برقرار رکھا جاسکے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق ادھر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بھی کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں تازہ ہلاکتوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی طور پر ان ہلاکتوں کو برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کشمیر میں جبر وقہر جاری رکھے ہوئے ہیں اور نہتے کشمیریوں کو ہلاکت کررہی ہے ۔سرتاج عزیز نے عالمی اداروں سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کی صورتحال پر خصوصی توجہ دیں اور کشمیریوں کا قتل عام بند کروانے کیلئے بھارت پر دباو بنائیں ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کوروکنے کیلئے حرکت میںآئیں اور اس سلسلے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی کشمیرمسئلے کو حل کرنے کی کوششوں میں لگاہوا ہے ۔اس دوران او آئی سی نے کشمیر میں ہلاکتوں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر مسئلے کو سرد خانے میں ڈالا نہیں جائیگا اور نہ ہی بھارت کو اس سلسلے میں کوئی موقعہ فراہم کیا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے ۔و آئی سی کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ امت مسلمہ کو او آئی سی سے بہت توقعات وابستہ ہیں ہم تمام بڑے مسائل پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے جب کہ مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔

راجوری سیکٹر میں پاک بھارت افواج کے درمیان شدید گولہ باری 

فوجی اہلکار شدید طورپر زخمی ، رہائش پذیر لوگ خوف ودہشت میں مبتلا 
سرینگر؍؍جے کے این ایس؍؍راجوری میں پاکستانی رینجرس کی فائرنگ میں فوجی اہلکار شدید طورپر زخمی ۔ پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا فوج نے بھر پور جواب دیا۔ جے کے این ایس کے مطابق راجوری سیکٹر میں پاکستانی رینجرس نے فوجی اہلکار جس کی شناخت سپاہی دلبہادر تھاپہ کے بطور ہوئی ہے گولیاں لگنے سے شدید طورپر زخمی ہوا۔ خون میں لت پت اہلکار کو فوری طورپر فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر اُس کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ نمائندے کے مطابق فورسز اہلکاروں نے بھی پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا سختی کے ساتھ جواب دیا جس کے نتیجے میں کئی منٹوں تک دوبدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ دفاعی ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی رینجرس نے ایک دفعہ پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجرس کی گولہ باری کا سختی کے ساتھ جواب دیا گیا۔ 

عام شہری اور پانچ جنگجو ہلاک‘‘

جنوبی ضلع کولگام کے چوگام قاضی گنڈ علاقے میں خونین معرکہ آرائی حزب کمانڈر سمیت 5مقامی عسکریت پسند جاں بحق 
سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی ایک شہری گولیاں لگنے سے ہلاک درجنوں زخمی 
جاں بحق پانچ عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، جنگجوؤں نے سلامی دینے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی 
سرینگر؍؍جے کے این ایس؍؍جنوبی ضلع کولگام کے چوگام قاضی گنڈ گاؤں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید تصادم کے دوران حزب کمانڈر سمیت 5مقامی عسکریت پسند جاں بحق دو رہائشی مکان زمین بوس۔جنگجوؤں کے ابتدائی حملے میں 2فوجی اہلکار مضروب نازک حالت میں اسپتال منتقل ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آزادانہ طورپر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار مظاہرین گولیاں لگنے سے مضروب ہوئے جبکہ پلیٹ چھروں سے 30کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک نوجوان کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ پولیس چیف کے مطابق جاں بحق عسکریت پسند پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے اور اُن کی ہلاکت سے جنوبی کشمیر میں جنگجو تنظیم کو دھچکا لگا ہے۔ اس بیچ مقامی جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران جنگجوؤں کے ایک گروپ نے اپنے ساتھیوں کو سلامی دینے کی غرض سے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے خلاف کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس ، پیرا ملٹری فورسز اور فوج نے مشترکہ طورپر قاضی گنڈ کے چوگام گاؤں کو محاصرے میں لے کر جونہی گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران رہائشی مکان میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں دو فوجی زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران دو گھنٹے تک دو بدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی مکان میں موجود عسکریت پسندوں کو مار گرانے کیلئے سیکورٹی فورسز نے آئی ای ڈی کا استعمال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رہائشی مکان زمین بوس ہو گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ جونہی سیکورٹی فورسز نے رہائشی مکان کے ملبے کو اُٹھانے کی کوشش کی اس دوران پاس ہی موجود ایک اور مکان سے فائرنگ ہوئی جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے اُس رہائشی مکان کو بھی مارٹر گولوں سے زمین بوس کیا۔ نمائندے کے مطابق درمیانی رات کو سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا اور رات کے دوران ہی حفاظتی عملے نے دو رہائشی مکانوں میں محصور عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا۔ سنیچر صبح جے سی بی کے ذریعے رہائشی مکان کے ملبے کو صاف کیا گیا جس دوران پانچ مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی گئی ۔ جنگجوؤں کی شناخت گلزار احمد پڈر عرف سیف ساکنہ آڈی جن کولگام، فیصل احمد راتھر عرف داود ساکنہ یمرچھ کولگام، زاہد احمد میر عرف ہاشم ساکنہ اوقے کولگام ، مسرور مولوی عرف ابو دردا ساکنہ فتح پورہ اننت ناگ اور ظہور احمد لون عرف رحمان بھائی ساکنہ ناگنڈ نور آ باد دمہال ہانجی پورہ کے بطور ہوئی ہے۔نمائندے کے مطابق سنیچر صبح جونہی قاضی گنڈ اور کولگام میں پانچ عسکریت پسندوں کو جاں بحق کرنے کی خبر پھیل گئی تو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے چوگام قاضی گنڈ کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران جگہ جگہ سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نمائندے کے مطابق نوجوانوں کی ایک ٹولی جھڑپ کی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہوئی جس دوران سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد گولیاں لگنے سے شدید طورپر زخمی ہوئے جنہیں ضلع اسپتال اننت ناگ منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے حالت نازک قرار دے کر سرینگر منتقل کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ قاضی گنڈ اور کولگام میں کئی مقامات پر شدید جھڑپوں میں 30سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے خشت باری کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پلیٹ چھروں کا بے تحاشہ استعمال کیا جس کی وجہ سے درجنوں زخمی ہوئے جن میں سے تین کی آنکھوں میں پلیٹ چھرے پیوست ہوئے اور انہیں علاج ومعالجہ کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے روف احمد ساکنہ آنچی ڈورہ اننت ناگ کو مردہ قرار دیا۔ نمائندے کے مطابق اننت ناگ اور کولگام میں عام شہری کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی لوگ مزید مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر جگہ جگہ پتھراو کرنا شروع کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کولگام ، اننت ناگ میں شدید جھڑپوں کے باعث کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا بھی استعمال کیا گیا۔ پولیس چیف دلباغ سنگھ نے اس سلسلے میں بتایا کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلا ع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جونہی چوگام قاضی گنڈ گاؤں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا اس دوران عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران پانچ عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا۔ پولیس چیف کے مطابق مارے گئے عسکریت پسند پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے ۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق قاضی گنڈ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ سے وابستہ پانچ عسکریت پسند جاں بحق ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق گلزار پڈر نامی ملی ٹینٹ لطاف کاچرو کا قریبی ساتھی رہا ہے اور اُس کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجودہے ۔گلزار پڈر نے ہی گزشتہ سال پمبائے کولگام میں پانچ پولیس اہلکاروں اور دو بینک ملازمین کا قتل کیا۔ چڈر کولگام میں ایس پی او کی ہلاکت میں بھی یہ عسکریت پسند ملوث رہا ہے جبکہ ضلع کولگام میں ہتھیار چھیننے اور بینک ڈاکہ ذنی میں بھی گلزار پڈر نامی دہشت گردملوث تھا۔ جھڑپ کے دوران ہلاک شدہ ایک اور عسکریت پسند زاہد ساکنہ اوکے کولگام نے عید کے روز زینہ پورہ شوپیاں میں فیاض احمد نامی پولیس اہلکارکوقتل کیا۔ فیصل نے گزشتہ سال گوہر احمد نامی پولیس اہلکار جو کہ شوپیاں میں فرائض انجام دے رہا تھا کو جاں بحق کیا۔ ظہور عرف رحمن اور منصور کئی دحملوں میں پولیس کو مطلوب تھے جبکہ نوجوانوں کو عسکریت کی اور آمادہ کرنے میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔ مارے گئے عسکریت پسند لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھے۔ جھڑپ کی جگہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرکے ضبط کیا گیا ۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ ادھر سہ پہر کے بعد انتظامیہ نے پانچ عسکریت پسندوں کی نعشیں اُن کے ورثا کے حوالے کی ۔ نمائندے کے مطابق جونہی جاں بحق جنگجوؤں کی نعشیں اُن کے آبائی گاؤں پہنچائی گئیں تو وہاں کہرام مچ گیا، خواتین سینہ کوبی کرنے لگیں۔ نمائندے کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے امتناعی احکامات نافذ کرنے کے باوجود بھی کولگام ،پلوامہ ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ کولگام پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں پر عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا تھا کہ عسکریت پسندوں کی کئی مرتبہ آخری نماز جنازہ ادا کی گئی جس دوران لوگوں کا سمندر دیکھنے کو ملا۔ ذرائع نے بتایا کہ نماز جنازہ کے دوران ہی عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اپنے ساتھیوں کو سلامی دینے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی ۔ ادھر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق مقامی نوجوان روف احمد ساکنہ آنچی ڈوروہ کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کوملے۔ نمائندے کے مطابق ہلاکتوں کے خلاف کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کررہ گئیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل رہی۔ 

شہدا کا خون انتہائی قیمتی: صحرائی

سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍چیرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی نے کولگام قاضی گنڈ کے خونین معرکے میں جام شہادت نوش کرنے والے مجاہدین اور ایک عام شہری کوبراہ راست گولی مار کر شہید کرنے پر انہیں زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی سرزمین جوانوں کے خون سے لالہ زار بنی ہوئی ہے۔ آئے روز بھارتی فورسز کی طرف سے جوانوں کا بے دریغ خون بہایا جارہا ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی سرزمین پر بھارت کا جبری فوجی تسلط ہے جس کا بھارت کے پاس کوئی قانونی، سیاسی یا اخلاقی جواز نہیں ہے اور جموں کشمیر کے عوام بھارت کی طرف سے چھینے گئے حقِ آزادی کے حصول کے لیے گزشتہ 70برسوں سے برسرِ جدوجہد ہیں، لیکن بھارت نے جموں کشمیر کے عوام کی جائز اور مبنی برحق آزادی کی تحریک کو بزور طاقت کچلنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے، لیکن یہاں کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دے کر تحریک آزادی کی آبیاری کی۔ انہوں نے کہا ہمارے جوانوں نے بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنا گرم گرم خون پیش کیا۔ صحرائی نے کہا ان شہدا کا خون انتہائی قیمتی ہے اور ایسے سرفروش قوم کے لیے ایک عظیم سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صحرائی نے کہا کہ قوم کو ان سرفروشوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ قوم یکسوئی کے ساتھ تحریک آزادی کا ساتھ دیں۔ 

چوگام قاضی گنڈ میں جاں بحق نوجوانوں کوحریت (ع) کا خراج عقیدت

قربانیاں تحریک کا انمول اثاثہ، فراموش کرنا ناممکن
سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍حریت کانفرنس (ع) نے چوگام قاضی گنڈ میں جاں بحق عسکریت پسندوں اور عام شہری کو خراج عقیدت اداکرتے ہوئے کہا کہ قوم کو غلامی اور محکومیت کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے ایثار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں پولیس کی طرف سے نوجوانوں کی ہراساں اور گرفتار کرنے کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کرکے نہتے لوگوں کو تشدد اور بربریت کا نشانہ بنارہی ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس (ع) نے جنوبی کشمیر کے چوگام قاضی گنڈ میں فوج اور فورسز کے ساتھ ایک عسکری معرکے کے دوران شہید کئے گئے پانچ عسکریت پسندوں شہید گلزار احمد پڈر،شہید فاضل راتھر، شہید زاہد احمد میر، شہید مسرور بٹ، شہید ظہور احمد اور فوج کی بلا جواز فائرنگ کے نتیجے میں شہید کئے گئے نہتے نوجوان رؤف احمد ساکنہ آنچی ڈورہ اسلام آباد کو اُنکی قربانی پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قوم کوغلامی اور محکومیت کے شکنجے سے آزاد کرانے کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے ایثار اور قربانی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان کی قربانیاں ہر لحاظ سے تحریک آزادی کشمیر کیلئے انمول اثاثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کولگام ،شوپیاں اور دیگر مقامات پر فوج اور سرکاری فورسز کی جانب سے نہتے مظاہرین پر پیلٹ اور بلٹ کے بے تحاشہ استعمال کے نتیجے میں درجنوں افراد کو شدید زخمی کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس پورے علاقے کو فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور سرکاری دہشت گردی کا بے تحاشہ مظاہرہ ہو رہا ہے۔بیان میں پلوامہ کے متعدد علاقوں سے درجنوں افراد کی گرفتاری اور شبانہ چھاپوں کے دوران لوگوں کو ہراساں کرنے کو ایک مذموم عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کرکے نہتے لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکومت ہندوستان اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے فوجی قوت کے بل پر کشمیری عوام کے احساسات اور جذبات کو دبانے کیلئے کسی بھی غیر جمہوری اور غیر انسانی حربے کو بروئے کار لانے سے گریز نہیں کررہی ۔ یہاں مزاحمتی قیادت کے قدم قدم پر پہرے اور قدغن ہے ، حریت پسند قائدین قید خانوں اور عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہیں اور کالے قوانین کے بل پر یہاں کی نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے جبر و قہر سے عبارت پالیسیاں گویا سرکار نے اپنے فرائض میں شامل کرلیا ہے ۔ جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں تلاشی آپریشنوں کی آڑ میں پکڑ دھکڑ، ہراسانیوں اور شبانہ چھاپوں کے ذریعے نوجوانوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ حقوق بشر کی بدترین پامالیوں کی عکاس ہے ۔ سرکاری فوج اور فورسز کی عام لوگوں کیخلاف اختیار کی گئی جارحانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے انتقام گیرانہ طرز عمل سے یہاں کے حریت پسند عوام کو نہ تو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں اپنے جائز اور پر امن جدوجہد سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔کے این ایس کو موصولہ بیان میں حکومت ترکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر اصرار اور کشمیر کاز کی حمایت پر حکومت ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ او آئی سی کے ممبر ممالک کے ساتھ ساتھ حق و انصاف پر یقین رکھنے والے بین الاقوامی برادری اس دیرینہ تنازعہ کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام پر ہو رہے مظالم کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔بیان میں سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ کی گرفتاری اور انہیں شیرباغ تھانے اسلام آباد میں مقید رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ موصوف کو آئے رو زگرفتار کرکے اس کی پر امن سرگرمیوں کو مسدود کیا جارہا ہے اور یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ضلعی انتظامیہ موصوف کو کن جرائم کی پاداش میں بار بار گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیتی ہے۔

سونہ مرگ اور زوجلا پاس میں موسم کی پہلی برف باری

وادی میں موسم سرما کی دستک ،درجہ حرات میں نمایاں کمی 
سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍وسطی کشمیر کے گاندربل اور مشہور صحت افزا مقام سونہ مرگ میں رواں سال کی پہلی برف باری ریکاڑ کی گئی ہے جس کی وجہ سے وادی میں گرمی کا زور ٹوٹنے کے علاوہ سردی کے موسم نے باضابطہ طور دستک دے دی ۔کشمیر نیوز دسروس ( کے این ایس )کے مطابق وادی کشمیر میں سخت گرمی کے بعد جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو شدید بارشوں کے بعد گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔جس دوران لوگوں نے راحت کی سانس لینے کے ساتھ ساتھ وادی میں سردی نے اپنا دستک دے دیا ہے ۔اس دوران مشہور سیاحتی مقام سونہ مرگ ،زوجلا پا س،مین مرگ،گمری گگن گیرپہاڑیوں پر امسال کی پہلی برف باری ہوئی ہے جس کے ساتھ ہی درجہ حرار ت میں میں نمایا کمی واقع ہوئی ہے 

کولگام میں ہلاکت خیز کارروائی، ریاست مستقل میدان جنگ میں تبدیل

17ستمبر کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی جائے: مشترکہ مزاحمتی قیادت
16ستمبر کو بعد نماز ظہر جاں بحق نوجوانوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جائے
سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے کولگام معرکے میں پانچ عسکریت پسندوں اور ایک عام شہری کو جاں بحق جبکہ بیسیوں افراد کوشدید زخمی کرنے کے خلاف17ستمبر سوموار کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے جبکہ 16ستمبراتوار کو بعد نما زظہر شہدائے قاضی گنڈ کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی عوام سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کو مستقل میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں عام لوگوں کی زندگی کو اجیرن بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے بتایا کہ حق خودارادیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے لہٰذا مسئلہ کشمیر کو طاقت کے بل پر دبانا ناممکن العمل ہے۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے معرکہ کولگام قاضی گنڈمیں پانچ عسکریت پسندوں اور ایک عام شہری کو جاں بحق کرنے اور بیسیوں افراد کو شدید زخمی کئے جانے کی ہلاکت خیز کارروائی کے خلاف سوموار مورخہ 17؍ستمبر کو مکمل ہڑتال کرنے اور 16؍ستمبر اتوار بعد نماز ظہر شہدائے قاضی گنڈ کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر کو ایک مستقل میدانِ جنگ میں تبدیل کیا گیا ہے، جہاں عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِسے فوجی طاقت کے بل پر دبا دینا ایک ناممکن عمل ہے۔انہوں نے حق خودارادیت کو عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ جمہوری فارمولے کو مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفئیے کے لیے ایک قابل عمل حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جمہوری فارمولے سے راہِ فرار حاصل کرنا جنگی جنون اور فوجی غرور کا عکاس ہے۔ مزاحمتی قیادت نے شہداء قاضی گنڈ کے علاوہ جملہ شہدائے کشمیر کی عظیم قربانیوں کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک غیرت مند اور امن پسند قوم کی صورت میں ان قربانیوں کے امین ہیں۔ دریں اثنا مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ریاست کے اطراف واکناف میں حریت پسند سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس ٹاسک فورس کی طرف سے کیمپوں پر بُلائے جانے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز کو استعمال کئے جانے کی سفاکانہ کارروائی پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بھارت کی قابض انتظامیہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو آہنی ہاتھوں سے دبانے کی ضد پر اُتر آیا ہے۔انہوں نے کارگو سرینگر، اسلام آباد، بارہ مولہ، بڈگام، بانڈی پورہ، کولگام، شوپیان وغیرہ اضلاع میں پولیس ٹاسک فورس اور ملٹری انٹلی جنس کی طرف سے سیاسی کارکنوں کو خوف زدہ کئے جانے کی بزدلانہ کارروائیوں سے یہ عندیہ اخذ کرنا چندان مشکل نہیں کہ بھارت کی فاشسٹ نظریہ رکھنے والی قابض انتظامیہ سیاسی کارکنوں اور راہنماؤں کو محض سیاسی اختلافات کی بنا پر عدمِ برداشت کی آمرانہ پالیسی اپناتے ہوئے حریت پسند سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ پہنچانے کا ارتکاب کررہی ہے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق مزاحمتی قیادت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ نے پولیس ٹاسک فورس اور ملٹری انٹلی جنس کو حریت راہنماؤں کی پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے استعمال میں لارہی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے پُرامن سیاسی سرگرمیوں کے خلاف دھونس، دباؤ اور فوجی طاقت کو استعمال کئے جانے کے حوالے سے قابض انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر ان جابرانہ کارروائیوں پر فوری طور روک نہیں لگائی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری قابض انتظامیہ پر عائد ہوگی۔انہوں نے اقوامِ متحدہ اور اس کے ساتھ منسلک انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ دیگر انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل حریت پسند تنظیموں سے وابستہ راہنما اور ارکان کی زندگیوں کو قابض افواج اور پولیس ٹاسک فورس کی طرف سے خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر بروقت اقدامات اُٹھائیں، تاکہ ان کے حقِ زندگی کو محفوظ رکھا جاسکے۔