All posts by wadikiawaz2016

شبانہ چھاپے اور گرفتاریاں قابلِ مذمت:صحرائی

سرینگر؍؍کے این این ؍؍چیرمین تحریک حریت جموں کشمیر محمد اشرف صحرائی نے آرونی اسلام آباد میں گزشتہ رات فوج اور پولیس کی طرف سے شبانہ چھاپے ڈالنے اور طلباء و نوجوانوں کو گرفتار کرنے اور مکینوں کو بلا لحاظ عمر وجنس مارپیٹ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان کے مطابق فوج اور پولیس نے آرونی میں دوران شب قیامت صغرایٰ بپا کرتے ہوئے صدام حسین ملک، مدثر احمد ملک، محمد رفیق نجار، ناصر حسین چاڈورہ، یاسر احمد ڈار، زاہد شفیع، حسن البناء اور حسن پورہ آرونی کے عامر احمد، یامین احمد گنائی کو گرفتار کیا۔ چھاپہ کے دوران مکینوں کی شدید مارپیٹ اور گھروں کی توڑ پھوڑ کرکے لاکھوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ فورسز نے محمد امین نجار کی والدہ شدید زخمی ہوئی اور دیگر خواتین کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک کیا گیا۔ بیان کے مطابق رات بھر آرونی میں فورسز کی زیادتیوں کی وجہ سے آہ و فغان جاری تھی، مگر بے رحم اور انسانیت سے عاری فورسز اور پولیس نے صنف نازک پر بھی رحم نہیں کھایا اور مکینوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے رہے۔ صحرائی صاحب نے فورسز کی اس ننگی جارحیت اور بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان کے احترام کی دہائی دینے والے حکمرانوں کی ایما پر فورسز نے آرونی میں کس طرح ظلم کا بازار گرم کیا کہ انسانیت کو بھی شرمسار کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ناگپوری حکومت کے جنگ بندی اعلان کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی ہے کہ گرفتاریوں، محاصروں، تلاشیوں، توڑ پھوڑ کا سلسلہ تیز سے تیز تر کردیا گیا ہے۔ وادی کے طول وعرض میں گرفتاریاں تسلسل سے جاری ہیں۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ جنگ بندی محض دکھاوا ہے، عوام کو کوئی بھی راحت نہیں ملی۔ لوگوں کا سکون فوج اور پولیس نے چھین لیا ہے اور ماہ رمضان میں لوگوں کو سحری کھانے سے بھی محروم کردیا گیا۔ادھرتحریک حریت جموں کشمیر کے لیڈروں محمد یوسف مکرو نے جامع مسجد نوپورہ کولگام، غلام محمد ہرہ نے جامع مسجد گلہ بگ کاکپورہ اور ماسٹر عملی محمد نے مسجد ابراہیم حاجن میں عوامی اجتماعات سے خطابات کئے۔ انہوں نے ماہ رمضان کی فضیلت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ماہ مقدس رحمت ومغفرت کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے جہنم سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ماہ رمضان اللہ تعالیٰ سے قربت کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ قرآن مقدس کے نزول کی سالگرہ ہے۔ اسی مہینے میں انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کی کتاب نازل کی گئی۔ انہوں نے جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام بدترین مظالم کے دور سے گزررہے ہیں۔ عوام پر ڈھائے جانے والا ظلم وستم میں کوئی کمی نہیں ہے۔ گرفتاریاں، چھاپے، تلاشیاں جاری ہیں۔ ماہ صیام میں بھی لوگوں کو کسی قسم کی راحت میسر نہیں ہے۔ گھروں پر چھاپے ڈال کر نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقررین نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال کو ہر ذی حس اور ہوشیار ذہن کے مالک افراد واشخاص کی نگاہوں میں قابل غور بھی ہے اور قابل مذمت بھی ۔ 

تہار جیل کشمیری قیدیوں کیلئے گانتانا مو ثابت ہورہا ہے: فریڈم پارٹی

سرینگر؍؍کے این این ؍؍فریڈم پارٹی نے مختلف جیلوں کے اندر مقید کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ۔ترجمان نے کہا کہ تہار جیل کشمیری قیدیوں کیلئے گانتانا مو ثابت ہورہا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مختلف جیلوں کے اندر مقید کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر اپنا تشویش دہراتے ہوئے فریڈم پارٹی نے کہا ہے کہ جو کشمیری قیدی ،بشمول فریڈم پارٹی سربراہ شبیر شاہ دلی کے تہار جیل میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیں،وہ سخت ترین ایام سے گذر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں نفسیاتی طور پر ناقابل برداشت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان قیدیوں کو یا تو چھوٹی سیلز کے اندر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یا بڑے وارڈس میں اُن اخلاقی مجرموں کے ساتھ ، جن کی حرکتیں غیر مہذب ہیں اور جن کے ساتھ و ہ خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں، میں مقید رکھا گیا ہے۔صاف محسوس ہورہا ہے کہ تہار جیل کشمیری قیدیوں کیلئے گانتا نامو بے ثابت ہورہا ہے۔ دلی کے ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات کے نام تہار جیل میں مقید کشمیری قیدیوں کی ایک درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے فریڈم پارٹی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں مذکورہ ڈائریکٹر جنرل پر زور دیا کہ وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر کشمیری قیدیوں، بشمول جناب شبیر شاہ کی حفاظت نیز مناسب طبی امدادکے اقدامات کریں۔ذرائع ابلاغ میں شائع ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا این اے آئی کے ہاتھوں گرفتار شدہ کشمیری قیدی، جو تہار جیل دلی میں مقید ہیں، نے ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات دلی کو ایک مشترکہ درخواست بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنہیں ایک ساتھ کسی کمپارٹمنٹ میں منتقل کیا جائے ۔ درخواست میں ان قیدیوں نے جیل میں بنداخلاقی مجرموں سے علیحدگی پر بھی زور دیا ہے کیونکہ وہ ان مجرموں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ فریڈم پارٹی سربراہ شبیر شاہ تہار جیل کی ایک چھوٹی سی سیل کے ااندر قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں جہاں ایک کھلا کمونڈ اُ ن کے مصائب میں اضافہ کررہا ہے۔ شبیر شاہ، کئی امراض میں مبتلاء ہیں اور جیل حکام بھی اُن کی خرابی صحت سے واقف ہیں۔ یہی وقت ہے جب ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات، دلی کو چاہئے کہ وہ کشمیری قیدیوں کی درخواست پر عمل کریں۔فریڈم پارٹی ترجمان نے کہا ہے کہ تہار جیل حکام کو چاہئے کہ وہ سیاست کا شکار نہ بنیں جو شبیر شاہ اور دیگر کشمیری قیدیوں کے ساتھ عدلیہ کی طرف سے بھی کھیلی جارہی ہے۔بھارتی عدلیہ کے سیاست کے سامنے سرنڈر کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک بھی کشمیری قیدی کے حق میں ضمانتی درخواست پاس کرنے کی ہمت نہیں جٹاسکتی حالانکہ وہ جانتی ہے کہ ای ڈی یا این اے آئی ابھی تک اُن کیخلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکے ہیں۔ اُور تو اُور شبیر شاہ 2005کے ایک ایسیمن گھڑت اور بے بنیاد کیس میں پھنسائے گئے ہیں جس کا فیصلہ بھارتی عدلیہ کی طرف سے کب کا سامنے آیا ہے ۔قانونی ماہرین بھی کشمیری قیدیوں کیخلاف بھارتی عدلیہ کے کردار پر انگشت بدندان ہیں۔دریں اثناء فریڈم پارٹی ترجمان نے نوہٹہ سرینگر میں قائم جامع مسجد کے اندر نمازیوں پر آنسو گیس کے گولے داغنے اور پیلٹ فائر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وردی پوش اہلکاربات بات پر پیلٹ فائر کرکے حالات کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جامع مسجد احاطے میں پولیس کی طرف سے پیلٹ فائر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وردی پوش اہلکاروں کو عام لوگوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کیلئے کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ ترجمان نے زخمیوں کی فوری صحتیابی کی دعا کی۔

اتحاد و اتفاق ہماری کامیابی کی واحد ضمانت:ملک 

بھارت نے کشمیریوں کے حق آزادی کو دبانے کیلئے ہمیشہ تعمیر و ترقی اور امن کے نعرے بلند کئے۔
سرینگر؍؍کے این این ؍؍لبریشن فر نٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ اتحاد و اتفاق ہماری کامیابی کی واحد ضمانت ہے اور یہی ہتھیار ہے کہ جس سے ہم باطل پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خودارادیت کو دبانے کیلئے ہمیشہ تعمیر و ترقی اور امن کے نعرے بلند کئے۔ مذہب سے دُوری اور زرپرستی نے ہمارے سماج کوخراب کرکے اس کے تانے بانے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو موصولہ بیان کے مطابق مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کو مضبوط تر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ ہم سب ایک اللہ،ایک رسول آخر زمان ﷺ،ایک کعبے، ایک کلمے اور ایک قرآن میں ایقان و ایمان رکھتے ہیں اور اسی لئے ہم سبھی پر لازم ہے کہ اپنے جملہ امور حیات میں ایک بن کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہماری صفوں کے اندر مسلک اور مشرب کے نام پر انتشار و افتراق پھیلانا چاہتا ہے اور ہمارے علماء ، مذہبی دانشوروں اور سماجی راہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں کے اندراتحاد کو قائم رکھنے اور مضبوط بنانے کیلئے کاوشیں تیز کریں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے کشمیر آکر دئے گئے بیان کہ جس میں موصوف نے کشمیر کی تعمیر و ترقی کی باتیں کی تھیں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہر قابض و جابر اپنے مفتوحہ اور مقبوضہ اقوام اور زمینوں کیلئے تعمیر، ترقی، امن و استحکام کی باتیں بناتا رہتا ہے اور مقبوضین کو ایسے ہی خوشمنا نعروں سے فریب دے کر انکے حق آزادی کو دبائے رکھتا ہے۔ بھارت بھی پچھلے ۷۰ برس سے جموں کشمیر کے لوگوں کی آزادی اور حق خود اداریت کی مانگ کو درکنار کرنے ، لوگوں کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے اور ہمارے حق کی نفی کرنے کی نیت سے تعمیر ،ترقی، سڑک پانی بجلی،نوکریوں اور ایسے ہی دوسرے استعماری حربوں کا استعمال کرتا آرہا ہے لیکن فریب اور کرپشن کے ان سبھی حربوں کے باوجود اسے مسئلہ جموں کشمیر کو دبانے یا یہاں کے لوگوں کے دلوں سے آزادی اور حق خود رادیت کے ولولے کو نکال باہر کرنے میں ناکامی ہی نصیب ہوئی ہے ۔حق یہ ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کو حل کرنے سے بھاگنے کیلئے کئے جانے والے ان تاخیری حربوں نے بھارت کو سوائے رسوائی کے کچھ نہیں دلایا اور جموں کشمیر کے لوگ اور خاص طور پر جوان آزادی کے حصول کیلئے مذید بہادر، مذید پرجوش اور جوان عزم بن چکے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ بنیادی مسئلہ جموں کشمیر کو حل کئے بغیرتعمیر و ترقی اور امن و استحکام کی باتیں کرنا خواب ہی رہیں گی اسلئے حق کی نفی اور لیپا پوتی صرف اور صرف مذید عدم استحکام اور خرابی ہی پیدا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور پرفریب نعروں سے اس کو معدوم کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے اسلئے ضروری ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور قربانیاں دینے والے جموں کشمیر کے باسیوں کی امنگوں، آرزؤں اور مطالبات کے عین مطابق اس کو حل کرنے کی جانب توجہ مبذول کی جائے تاکہ جنوبی ایشیاء کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکیں۔انہوں نے مودی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ کشمیری خوشحال رہیں لیکن وہ لوگ کیسے اور کیونکر خوشحال رہ سکتے ہیں کہ جنہیں روزانہ کی بنیاد پر آپ کی فوج ،پولیس اور فورسزا نکے جوان بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں تھمادیتے ہیں اور انکا ابدی قرار لوٹ لیتے ہیں۔سرمایہ داری نظام کی مذمت کرتے ہوئے جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ اس نظام نے ہمارے بنیادی سماجی تانے بانے کو درہم برہم کردیا ہے اور آج دنیاوی معاملات ہم پر اس قدر غالب آچکے ہیں کہ اخلاقیات،انسانیت اور دین داری کے سبھی مظاہر ہماری زندگی سے مفقود ہوچکے ہیں۔زیادہ مال و منال کی حرص اور آسائشوں کی تمنا نے ہماری زندگیوں سے شرم و حیاء اور حلیمی کو نکال باہر کردیا ہے اور آج ہم اپنے معاشرے اور سماج میں انارکی اور بے حیائی کا دور دورہ دیکھتے ہیں جودلوں کو مضمحل و مضطرب کردیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء، سماجی لیڈران ،اماموں اور سول سوسائٹی کو ترجیحی بنیادوں پر اس صورت حال کو اکٹھے مل بیٹھ کردرست کرنے کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہئے۔

گرفتاریوں کے خلاف بجبہاڑہ میں احتجاج

سرینگر ۔بانہال کے درمیان ریل سروس معطل
سرینگر؍؍کے این این ؍؍احتجاجی مظاہروں کے خد شات کے پیش نظر سرینگر ۔بانہال کے درمیان جمعہ کے روز ریل سروس معطل رہی ۔اس دوران آر ونی بجبہاڑہ میں گرفتاریوں کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حراست میں لئے گئے نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق آر ونی بجبہاڑہ میں جمعہ کی صبح پھوٹ پرے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر ۔بانہال کے درمیان معمول کی ریل سروس معطل رہی ۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سرینگر ۔بانہال کے درمیان ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بنا پر معطل رکھی گئی ۔انہوں نے کہنا تھا کہ جمعہ کو سرینگر سے بانہال تک کوئی بھی ریل پٹری پر نہیں دوڑی ،تاہم سرینگر اور بارہمولہ کے درمیان ریل سروس معمول کے مطابق جاری رہی ۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو آر ونی بجبہاڑہ میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس معطل رہی ۔اس دوران بجبہاڑہ میں جمعہ کی صبح چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف لوگوں نے آر ونی کے مقام پر دھر نا ۔معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کی صبح آر ونی بجبہاڑہ کے مقام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی ،جہاں نے متعدد نوجوانوں کو حراست میں لینے کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے آر ونی کے مقام پر ریل پٹری پر دھرنا اور مطالبہ کیا کہ ایس او جی اہلکاروں کے ہاتھوں حراست میں لئے گئے نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس افسر نے کہا کہ15مئی کے فائرنگ واقعہ اور23مئی کے گرینیڈ حملے کے سلسلے میں بعض نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ۔یاد رہے کہ جنگجوؤں کے ایک مسلح حملے میں 15مئی کو پازلپورہ بجبہاڑہ میں ایک ایس پی او ہلاک اور اسکا ساتھی زخمی ہوا تھا ۔23مئی کو گرینیڈ دھماکے میں 10افراد زخمی ہوئے تھے ۔

ہند پاک ممالک کے درمیان مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ

جموں، لداخ، گلگت، بلتستان اور آر پار کشمیر کی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کیاجائے:میر واعظ 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍میر واعظ عمر فاروق نے آر پار کشمیرکی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہند پاک کے درمیان موجودہ مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ برصغیر ہندوپاک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ور ک کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت(ع) چیرمین نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایل او سی کے اوڑی ، سانبا اور کٹھوعہ سیکٹر میں جو جنگی صورتحال پیدا ہو چکی ہیں اس میں آر پار گولہ باری سے دونوں اطراف قیمتی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے فوجی بھی از جان ہو رہے ہیں اور یہ پہلی بار ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ بار بار اور ہر سال سرحدوں پر اس قسم کی افسوناک صورتحال سامنے آتی ہے۔جموں وکشمیر میں ایل او سی پر موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدوں پر جاری خونریز گولہ باری کو فوراً بند کرکے مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مخاصمانہ صورتحال مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے اور جب تک اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاتا دونوں ممالک اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ہندوستان ضد اور ہٹ دھرمی سے عبارت رویہ ترک نہیں کرتی تب تک حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے اس لئے موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کریں۔میرواعظ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت آر پار کشمیر جس میں جموں، لداخ، گلگت، بلتستان ، آزاد کشمیر ، اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو ملنے کا موقعہ فراہم کریں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اس طرح کا اقدام ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اور حریت پسند قیادت ہر اُس عمل میں تعاون دینے کیلئے تیار ہیں جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کا یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ایک دیرپا حل تلاش کرنا اور امن کا قیام ہو۔انہوں نے کہا کہ برصغیر ہندوپاک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت ہندوستان یہ حقیقت تسلیم کریگی کہ آج نہیں تو کل انہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا پڑے گا۔میرواعظ نے بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز سے وابستہ بدنام زمانہ آفیسر میجر گگوئی جس نے کچھ عرصہ پہلے بڈگام میں نام نہاد انتخابات کے دوران ایک نہتے شہری فاروق احمد ڈار کو انسانی ڈھال بنا کر اپنی جیپ کے ساتھ باندھ کر تقریباً ۲۰ دیہاتوں میں گھمایا تھا کے حالیہ واقعہ کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ میجر کو ماضی میں اس کے کئے کی سزا دی گئی ہوتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج افسپا اور دیگر کالے قوانین کے بل پر حاصل اختیارات کا ناجائز استعمال کررہی ہے اور اس ضمن میں جواب دہی کا کوئی عمل موجود نہیں ہے اور فوج کھلے عام جرائم کا ارتکاب کرتی پھر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ فوجی آفیسر کی جانب سے ایک کشمیری دوشیزہ کو ڈرا دھمکا کر ( جیسا کہ مذکورہ لڑکی کی والدہ نے کہا ہے کہ یہ فوجی انکے گھر آتے جاتے تھے اور انہیں اکثر و بیشتر ڈراتے اور دھمکاتے تھے ) کا جنسی استحصال کرنے کی کارروائی انتہائی شرم کی بات ہے اور حد یہ ہے کہ ریاستی پولیس نے مذکورہ فوجی آفیسر کے ساتھ کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اُسے اس کے یونٹ کے حوالے کردیا۔انہوں نے کہا کہ جس فوج کو سرحدوں اور بارکوں میں ہونا چاہئے تھا وہ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں دندناتی پھر رہی ہے اور ان کی شہری علاقوں میں موجودگی کئی سماجی مسائل پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے ۔انہوں نے اس واقعہ کی فوری تحقیقات اور مذکورہ فوجی آفیسر کو اُس کے جرم کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ میرواعظ نے کشمیری سماج میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری سماج میں جو خرابی اور برائیاں سرایت کرگئی ہیں ان کا سدباب نہیں کیا گیا تو ہمارا سماج اور معاشرہ بربادی کی نذر ہوگا اور یہ یہاں کے والدین کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچوں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ انکی روزانہ کی سرگرمیوں پر نظر گذر رکھیں۔ میرواعظ نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک میں مجالس وعظ و تبلیغ کے سلسلے میں ان ایام میں بعد نماز ظہر یعنی۱۰؍ رمضان بروز سنیچر آستانہ عالیہ دستگیر صاحبؒ خانیار میں، ۱۱؍ رمضان المبارک بروز اتوار کرالہ مسجد حول، ۱۳؍رمضان المبارک بروز منگلوار مسجد شریف ٹینگہ پورہ زونی مر، ۱۴؍رمضان المبارک بروز بدھوار مسجد شریف لکھری پورہ نوشہرہ،۱۵؍رمضان المبارک بروز جمعرات مسجد شریف نرورہ میں وعظ و تبلیغ کی مجالس آراستہ ہونگی۔

حاجن کا لاپتہ نوجوان جنگجو بن گیا 

بندوق ہاتھ میں لئے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی
سرینگر؍؍کے این این ؍؍کشمیری نوجوانوں میں بڑھتے جنگجوئیت کے رجحان کے بیچ حاجن کا لاپتہ نوجوان مبینہ طور جنگجوؤں کے صف میں شامل ہوگیا ہے جبکہ اسکی بندوق ہاتھ میں اٹھائے تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہوگئی ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شمالی قصبہ حاجن میں گزشتہ دنوں پُراسرار طور پر لاپتہ نوجوان مبینہ طور جنگجو ؤں کے صف میں شامل ہوگیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ نوجوان نے غالباً لشکر طیبہ عسکری تنظیم میں شامل ہوگیا ہے ۔نثار احمد ڈار ساکنہ وحب پرے محلہ حاجن بانڈی پورہ نوجوان تین روز قبل لاپتہ ہوگیا تھا ،کی اے کے 47رائفل ہاتھ میں لئے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی شب اچانک سوشل میڈیا کی ویب سائٹس جن میں فیس بک ،وٹس ایپ اور ٹویٹر وغیر ہ شامل ہے ،یہ تصویر وائر ل ہوگئی ۔بتایا جاتا ہے کہ نثار کی گمشدگی کی ایک رپورٹ اہلخانہ نے پولیس تھا نہ حاجن میں درج کرائی ہے ۔رپورٹس کے مطابق نثار ڈار کو اس سے قبل پی ایس اے کے تحت حراست میں بھی لیا گیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ برس نثار احمد ڈار نامی نوجوان کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کرکے جیل میں مقید رکھا گیا اور چند ماہ قبل اِسے رہا کردیا گیا تھا ۔نثار کے ساتھیوں اور اہلخانہ کا الزام ہے کہ ڈار کو بندوق اٹھانے پر مجبور کیا گیا ،کیو نکہ پولیس نے اس نوجوان کو فرضی کیسوں کے تحت ہراساں کررہی تھی ۔

حاجن میں شہری کی زبح شدہ نعش برآمد 

عسکر یت پسندوں نے اغوا کرکے قتل کیا :پولیس 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍شمالی ضلع بانڈی پورہ کے قصبہ حاجن میں اپنی نوعیت کے تیسرے واقعہ میں نامعلوم افراد نے ایک شخص کو اغوا کیا اور زبح کرکے موت کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سلا دیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب عسکریت پسندوں نے محمد یعقوب وگے کو اغوا کیا اور بعد میں اُسکی زبح شدہ نعش کو گھر کے باہر پھینک دیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق حاجن میں جمعہ کی صبح اُس وقت سرا سیمگی پھیل گئی جب یہاں زبح شدہ شخص کی نعش برآمد کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ38سالہ محمد یعقوب وگے ساکنہ گنڈ پرنگ جو کہ پیشہ سے قصائی ہے ،کو نامعلوم افراد نے جمعرات کی شب اغوا کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ4افراد پر مشتمل ایک گروپ میں مذکورہ شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور وگے کو اپنے ساتھ لے گئے ۔مذکورہ شہری کے اہلخانہ نے پولیس کو مطلع کیا اور اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچ گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے اغوا کی شکایت پر تلاشی کارروائی شروع کردی اور جمعہ کی الصبح زبح شدہ نعش گھر کے قریب ہی برآمد کی ۔پولیس کا واقعہ سے متعلق ردِ عمل :حاجن بانڈی پورہ میں ملی ٹینٹوں نے مقامی نوجوان کا وحشیانہ طریقے سے قتل کیا۔ پولیس نے طلوع آفتاب سے قبل محمد یعقوب وگے ولد غلام محمد جس کو ملی ٹینٹوں نے بے دردی کے ساتھ قتل کیاکی گلا کٹی نعش اْس کے آبائی گاؤں گنڈ پرنگ حاجن سے برآمد کی۔پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ لشکر طیبہ سے وابستہ مقامی ملی ٹینٹ سلیم پرے نوجوان کے قتل میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی ہلال احمد پرے نامی نوجوان کا اغوا کرنے کے بعد اْس کو قتل کیا گیا تھابعد میں اْس کی نعش نرسری سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔

جموں میں جنگجو ؤں کی دستک 

بس اسٹینڈ میں خوفناک گرینیڈ دھماکہ، پولیس افسر سمیت 4افراد زخمی 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍جموں شہر میں مبینہ طور پر جنگجوؤں نے دستک دیتے ہوئے بس اسٹینڈ کے قریب پولیس گاڑی پر ایک گرینیڈ داغا ،جو سڑک پر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جسکے نتیجے میں پولیس افسر سمیت4افراد زخمی ہوئے۔جموں شہر میں گرینیڈ دھماکے فوراً بعد سیکورٹی الرٹ جاری کیا گیا اور حملہ آؤروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں شہر میں جمعرات کی شب اُس وقت افراتفری اور خوف ودہشت کی لہر دوڑ جب جنرل بس اسٹینڈ کے قریب ایک گرینیڈ دھماکہ ہوا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ جموں کے نزدیک جمعرات کی شب نامعلوم گرینیڈ بردار نمودار ،جنہوں نے یہاں پولیس کی جپسی کو نشانہ بنا نے کی غرض سے ہتھ گولہ پھینکا ۔ذرائع نے بتایا کہ گرینیڈ پولیس جپسی کے نزدیک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا ،جسکے نتیجے میں پولیس افسر سمیت4افراد زخمی ہوئے ،جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر اسپتال منتقل کیا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو یانہ کارروائی تھی ۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کی سب 11بجے کے قریب جموں جنرل بس اسٹینڈ کے قریب گرینیڈ داغا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا ۔گرینیڈ دھماکے میں ایس ایچ او جسر تھیا ،ڈرائیو ر ارجن کمار ،کانسٹیبل شاہ اسرار اور عام شہری جگ دیو راج آہنی ریزوں کی زد میں آکر زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو فوری طور پر علاج ومعالجہ کی خاطر جموں اسپتال منتقل کیا گیا ۔گرینیڈ بردار جنگجو حملہ انجام دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ،جنہیں تلاش کرنے کی غرض سے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔اس دوران جموں شہر میں گرینیڈ دھماکے کے فوراً بعد سیکورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا ۔

ممنوعہ عوامی مقامات پرسگریٹ نوشی اورتمباکومصنوعات کابے لگام دھندہ 

COTPAپرعمل آوری کافقدان
4ماہ میں5453 افرادکیخلاف کارروائی:2لاکھ28ہزار750روپے جرمانہ وصول
سرینگر؍؍کے این این ؍؍گرچہ عوامی مقامات بشمول بازاروں ،اسپتالوں ،سرکاری ونجی دفتروں ،تعلیمی اداروں،مسافرگاڑیوں اورہوٹلوں وریستوراں میں سگریٹ ودیگرتمباکومصنوعات کے استعمال اورایسی سبھی مصنوعات کے کاروباروتشہیرپرپابندی سے متعلق مرکزی قانونCOPTAکااطلاق ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ15برس قبل یعنی سال2003میں عمل میں لایاگیاتھا،اور انسدادسگریٹ وتمباکونوشی وفروشی کے سیکشن 4اور5میں اسبات کی وضاحت اورنشاندہی کی گئی کہ کن مقامات پرسگریٹ نوشی قابل سزاوجرمانہ عمل ہوگا،اوریہ کہ ریاست میں کوٹپاکے تحت سگریٹ وتمام اقسام کی تمباکومصنوعات کے تیارکرنے نیزان کی تشہیرممنوعہ قرارپاتی ہے،کے باوجودسرعام اورسرکاری دفتروں ،تعلیمی اداروں ،اسپتالوں اورمسافرگاڑیوں میں سگریٹ نوشی پرکوئی خاطرخواہ روک نہیں لگ پائی ہے۔کے این این کے مطابق سگریٹ ودیگرتمباکومصنوعات کے استعمال اوران چیزوں کے کاروبارپرپابندی سے متعلق لاگوکردہ قانون COTPAکازمینی سطح پرکوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمدنہیں ہواہے کیونکہ ا بھی بیشترممنوعہ مقامات بشمول تعلیمی اداروں کی حدودمیں غیرقانونی طورپرسگریٹ نوشی اوراس ذہرکاکاروبارکھلے عام جاری ہے ۔تاہم ریاستی پولیس اوراسکی کرائم برانچ ونگ کی جانب سے کشمیروادی اورصوبہ جموں میں گاہے بے گاہے ممنوعہ مقامات پرسگریٹ نوشی کرنے والے والوں اورتمباکومصنوعات کی تشہیر،تیاری وکاروبارکرنے والوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ریاستی کرائم برانچ کی ویب سائٹ پردستیاب معلومات یااعدادوشمارکے مطابق رواں برس یعنی سال2018کے اولین چارمہینوں کے دوران صوبہ جموں اورکشمیروادی کے 20اضلاع بشمول شہرسری نگروجموں شہرمیں ممنوعہ مقامات پرسگریٹ نوشی کے مرتکب ہوئے 5453افرادکیخلاف کوٹپاکے سیکشن 4کے تحت چالان کاٹے گئے ،اورکوٹپاکی خلاف ورزی کے مرتکب ان شہریوں سے زائداز2لاکھ 28ہزارروپے کاجرمانہ وصول کیاگیا۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ سال2013میں اُسوقت کی ریاستی سرکارنے جموں وکشمیرمیں عوامی مقامات پرسگریٹ نوشی کی بُری لت وعادت پرقابوپانے کیلئے ایک زوردارمہم چھیڑدی ،اوراس مقصدکیلئے محکمہ صحت ،سیول اورپولیس حکام کی مشترکہ چیکینگ ٹیموں کومتحرک کیاگیا۔اس سخت اقدام کایہ نتیجہ برآمدہواکہ مئی 2013سے مئی2015تک ریاست میں عوامی مقامات نیزممنوعہ جگہوں پرسگریٹ نوشی اورتمباکومصنوعات کاغیرقانونی کاروبارکرنے والے 23ہزار754افرادکیخلاف کارروائی عمل میں لاکراُن کیخلاف چالان کاٹے گئے ،اورکوٹپاکے مختلف سیکشنوں کی خلاف ورزی کی پاداش میں ان افرادسے 21لاکھ 50ہزارروپے جرمانہ وصول کیاگیا۔ریاستی کرائم برانچ کی ویب سائٹ پردستیاب معلومات یااعدادوشمارکے مطابق جنوری2018سے اپریل2018تک صوبہ جموں میں کوٹپاکے سیکشن 4اور5کے تحت3691افرادکیخلاف کارروائی کرکے اُن کیخلاف چالان کاٹے گئے ،اوران افرادسے جرمانہ وصول کیاگیاجبکہ اس دوران کشمیروادی میں 1562افرادکیخلاف ممنوعہ مقامات پرسگریٹ نوشی کاارتکاب کرنے کی پاداش میں ہزاروں روپے بطورجرمانہ وصول کیاگیا۔کل ملاکرجموں اورکشمیرصوبوں کے20اضلاع میں کوٹپاکے سیکشن 4اور5کی خلاف ورزی کرنے والے 5453افرادکیخلاف کارروائی عمل میں لاکراُن سے 2لاکھ28ہزاراور750روپے بطورجرمانہ وصول کیاگیا۔

میجرلتل گگوئے کومجرم پایاگیاتو

مثالی سزادی جائیگی:جنرل راوت
سرینگر؍؍کے این این ؍؍آرمی چیف جنرل بپن راوت نے جمعہ کوواضح کیاکہ فوجی افسرمیجرلتل گگوئے کوحال ہی میں منظرعام پرآئے واقعے میں ملوث پایاگیاتواُسکوسخت سزادی جائیگی ۔کے این این کے مطابق خبررساں ایجنسی اے این آئی نے جنرل راوت کے حوالہ دیتے ہوئے ایک نیوزرپورٹ میں بتایاہے کہ آرمی چیف کاکہناتھا’فوج میں تعینات کسی بھی رینک کاکوئی اہلکاریاافسرکسی غلطی کامرتکب ہوجائے اورایساکوئی معاملہ اعلیٰ فوجی افسروں کی نوٹس میں آئے توایسے اہلکاریاافسرکیخلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے‘‘۔آرمی چیف نے میڈیاکوبتایاکہ اگرمیجرلتل گگوئے کوحالیہ واقعے میں ملوث پایاگیایعنی اُس پرجرم ثابت ہواتواُس کیخلاف سخت وعبرتناک سزاد جائیگی۔جنرل بپن راوت نے کہا’اگرمیجرگگوئے نے کسی جرم کاارتکاب کیاہے تومیں کہتاہوں کہ اُس کوایسی سزادی جائیگی جومثالی اورسبق آموزہوگی‘۔انہوں نے کہا ’اگر میجر گوگوئی نے کوئی غلط کام کیا ہے ، میں آپ کو یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جلد سے جلد اس کو سزا دی جائے گی۔ آرمی چیف نے ’’میں ایسی سزا دوں گا کہ وہ ایک مثال بن کر رہ جائے گی‘‘۔