برفباری کے باعث وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی 

مواصلاتی اور بجلی نظام درہم برہم پینے کے پانی کی شدید قلت ،غذائی اجناس اور رسوئی گیس نایاب منافع خوروں کے حوصلے بلند 
سرینگر؍؍ جے کے این ایس؍؍ وادی کشمیر میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں آمدورفت کیلئے بند کر دی گئی ہیں آر اینڈ بی کی جانب سے اگر چہ اہم شاہراؤں پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کیا گیا ہے تاہم اندرونی علاقوں کی سڑکیں برف سے ڈھکی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا نا ممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔ شدید برفباری کے باعث وادی کشمیر کے 40فیصد علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم پینے کے پانی کی شدید قلت راشن گھاٹ خالی ،رسوئی گیس کی عدم دستیابی ،کیروسین اوئل نایاب ،منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ دراز حکام ٹس سے مس نہیں جس کے نتیجے میں عوام کو گونا گوں مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق کشمیر وادی میں موسلا دھار بارشوں اور شدید برفباری کے باعث جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے سڑکیں برف سے ڈھکی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کا عبور و مرور ناممکن ہو کر رہ گیا ہے آر اینڈ بی محکمہ کی جانب سے اگر چہ برف ہٹانے کی مشینوں کو کام پر لگا دیا گیا ہے تاہم جنوبی اور شمالی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں شدید برفباری کے باعث سڑکوں سے برف ہٹانے کے کام میں دشواریاں پیش آتی ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ آری زال ،دودھ پتھری ،بسنت وڈر اور دوسرے علاقوں میں 2سے ڈھائی فٹ برف ریکارڈ کیا گیا ہے اور لگاتار برفباری کے باعث محکمہ آر اینڈ بی کے اہلکاروں کو سڑکوں سے برف ہٹانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تاہم کئی سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام مکمل کر دیا گیا ہے اور انہیں ضلع بڈگام کے ساتھ سڑک رابط بحال کیا گیا ہے۔ ادھر کپواڑہ ،ہندواڑہ ،کیرن ،مژھل ،کنگن ،گنڈ ،سونہ مرگ ،کلن ،پھراو ،ہکنار ،وانگتھ ،پہلگام ،عیشمقام ،اہر بل ،منز گام ،وٹو ،آسنور ،چوگل پورہ ،لاسی پورہ ،اویل ،کھر بٹہ پورہ ،شوپیاں ،کیلر ،شر پورہ اور دوسرے علاقوں میں شدید برفباری کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں کئی علاقوں میں تین سے چار فٹ برف گرنے کا ریکارڈ درج کیا گیا ہے جبکہ لگاتار برفباری کے باعث محکمہ آر اینڈ بی کو سڑکوں سے برف ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نمائندے کے مطابق مسلسل برفباری سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی مواصلاتی اوربجلی نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو چکا ہے سینکڑوں کی تعداد میں درخت ،بجلی کے کھمبے ،ہائی ٹینشن لائنیں گر گئی ہیں پانی کی پائپیں منجمند ہونے کے ساتھ ساتھ بند ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو بجلی اور پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نمائندے کے مطابق برفباری سے جہاں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں وہی حکام کی جانب سے عوام کو راحت دلانے کے سلسلے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے دور دراز علاقوں کے راشن گھاٹ خالی پڑے ہوئے ہیں رسوئی گیس ،کیروسین اوئل ڈیلروں کے پاس دستیاب نہیں ہیں غذائی اجناس کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ برف ہٹانے کے سلسلے میں بھی محکمہ آر اینڈ بی اور صوبائی انتظامیہ کی پول کھل گئی ہے شدید برفباری کی وجہ سے عوام کو گونا گوں مصائب ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نمائندے کے مطابق شدید برفباری سے نمٹنے کیلئے صوبائی انتظامیہ نے پہلے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو بے پناہ مصائب ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وادی کے دوردراز علاقے شہر سرینگر سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور ان علاقوں میں غذائی اجناس ،رسوئی گیس ،کیروسین اوئل دستیاب رکھنے کیلئے موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں اور عوام کو گونا گوں مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ادھر شہر سرینگر اور دوسرے قصبوں میں برفباری کی وجہ سے سڑکیں ایک دفعہ پھر زیر آب آ گئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو عبور ومرور مشکل بن گیا ہے شہر خاص کے کئی علاقوں میں ناصاف پانی رہائشی مکانوں میں بنیادوں میں گھس جانے کی وجہ سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں اور مکین رہائشی مکانوں سے دوسری جگہوں پر منتقل ہونے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ شہر سرینگراور دوسرے قصبوں میں ناقص ڈرنیج سسٹم کے باعث لاکھوں رہائش پذیر لوگ کئی برسوں سے پانی کے نکاس نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا کر دئے گئے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سرکار نے ابھی تک سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو برفباری اور بارش کے دوران مشکلات پیش آ رہے ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial