تشدد اوربندوق کشمیری عوام کیلئے سود مند نہیں ؍جنرل بپن راوت

سرحد پار سے عناصر آکر امن وامان میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ کشمیری طالبات اعلیٰ تعلیم کیلئے فوج کے سپر 30کوچنگ سہولیات کا فائدہ اٹھائیں 
سرینگر؍؍ الفا نیوز سروس ؍؍ فوجی سربراہ جنرل پبن راوت نے آج خبردار کیا کہ کشمیر میں سرحد پار سے عناصر آکر کشمیر میں حالات خراب کررہے ہیں لہذا کشمیری عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بندوق ان کیلئے سود مند نہیں ،انہوں نے دلی دورے پر گئی کشمیر طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور فوج کی جانب سے شروع کر دہ سپر 30پروگرام کا حصہ بن کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوجائیں ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق فوجی سربراہ جنرل پبن راوت نے بھارت درشن کے سلسلے میں کشمیر کی طالبات کیساتھ نئی دلی میں بات چیت کے دوران کہا کہ کشمیری عوام کو بھی امن سے رہنے کا حق حاصل ہے ،آپ یہاں بنکر نہیں دیکھ رہے ہوں،فوج کی گشتی پارٹیاں بندوق لئے نہیں دیکھ سکتی ہیں لہذا ایسا کشمیرمیں بھی ہوسکتا ہے اور اس کیلئے کشمیری عوام کو امن کیلئے تعاون پیش کرنا ہوگا ۔انہوں نے طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں سرحد پار سے عناصر آکر امن کو درہم برہم کرنے میں لگ گئے ہیں اور فوج ان کیساتھ نمٹ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرحد جنگجوئیت کی وجہ سے کشمیر مین گڑ بڑھ ہے لہذا کشمیری عوام کویہ سوچنا ہی ہوگا کہ بندوق ان کیلئے سود مند نہیں ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ فوج کی سپر 30 کوچنگ پروگرام کا حصہ بن کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی امن کا دور دورہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنا ہوگا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں ایسی کوئی خوبصور ت جگہ نہیں جیسے کشمیر ہے لیکن دہشت گردی اور دراندازی نے اس خوبصورت خطے کوتباہ کر دیا ہے ۔ان کا طالبات سے کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح دلی میں بھی آپ کھل کر گھوم سکتے ہیں اور یہاں نائٹ کلب ہیں ،سینما ہیں ،دیکھ سکتے ہیں لیکن کشمیر میں یہ سب کچھ بند کر کے رکھ دیا گیا ہے ،انہوں نے مزید کہاکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ چیزیں دوبارہ واپس آئیں اور امن کاایک نیا دور شروع ہوگیا لیکن اس کیلئے کشمیری عوام کو امن وامان کی بحالی میں مدد دینا ہوگا اور اس کے علاوہ انہیں جنگجوئیت اور تشدد کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا ، جنرت راوت کا مزید کہنا تھا کہ فوج کو کشمیر میں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن جب وہاں جنگجو عام شہریوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں تو پھر عام لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے فوج کو پہرہ داری کرنا ہی پڑتی ہے ۔انہوں نے طالبات سے کہاکہ آپ بھی ڈاکٹر بن سکتے ہو،وکیل بن سکتے ہیں ،آئی اے ایس ،اور آئی پی ایس بن سکتے ہیں لیکن اس کیلئے آپ کو بھر پور محنت کرنا ہوگی ،انہوں نے کہاکہ کچھ ایک آل روانڈ ہوسکتے ہیں لیکن اصل میں جان بوجھ کر محنت کرنا ہی ہوگی جس کیلئے فوج نے سپر 30کا پروگرام شروع کر دیا ہے لہذا طالبات بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکتی ہیں۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوں نے مزید کہاکہ اس طرح کے مواقعے ضائع کرنے سے آپ کا ہی نقصان ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ طلباء کیلئے پہلے ہی سپر 30کلاسیں شروع کی گئی ہیں اوراگر لڑکیاں بھی چاہیں گی تو فوج کی جانب سے یہ سہولیات پیش کش رہیگی ۔انہوں نے کہاکہ فوج کشمیر کے اندر امن وقانون کیاتھ ساتھ خیر سگالی پروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عام لوگوں کے قریب جایا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقوں میں طبی کیمپوں کا بھی انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جس کے سبب لوگوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ایسے میں کسی بھی ناگہانی آفت کے وقت بھی فوج ہر دم تیار رہتی ہے تاکہ عام لوگوں کو مشکلات کو کم کیا جا سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial