جموںوکشمیر میں امن بحالی فوج کی پہلی ترجیح جنگجو مخالف کاروائیوں میں بھاری کامیابیاں بپن راوت

بھارت پاکستان اور چین کےساتھ بیک وقت جنگ لڑنے کےلئے تیار پاکستان دراندازی سے باز نہیں آیا تو فیصلہ کن کاروائی ہوگی
سرینگر الفانیوز سروس کشمیر میںامن بحالی کو فوج کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل بپن روات نے آج کہا کہ کشمیر میں حالات کے عین مطابق فوجی حکمت جاری ہے جس کو دیکھتے ہوئے جنگجومخالف کاروائیوںمیں فوج کو کافی حد تک کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔انہوںنے واضح کر دیا کہ بھارت چین اور پاکستان دونوںممالک کےساتھ بیک وقت جنگ کےلئے تیار ہے اور اس سلسلے میں بھارت کی دفاعی صلاحیت پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے نئی دلی میں ایک انٹرویو کے دوران چین اور پاکستان دونوں ممالک کو خبردار کیا ہے کہ بھارت دونوں ممالک کےساتھ بیک وقت جنگ لڑنے کےلئے تیار ہے اوراس سلسلے میںبھارت کے پاس نیوکلیائی صلاحیت بھی موجود ہے اور اس میں شبہ والی کوئی بات نہیں ہے۔انہوںنے کشمیر کی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر میں امن بحالی فوج کی پہلی ترجیح رہی ہے اور رہے گی۔انہوںنے کہا کہ فوج نے کافی قربانیاں دی ہیں اور دیگر فورسز اور پولیس نے بہتر انداز میں جنگجو مخالف کاروائیوں میں فوج کی مدد دی ہے جس کے باعث اس قدر جنگجو کمانڈر مارے گئے ہیں۔تاہم انہوںنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جموںوکشمیر کے اندر کچھ ایک جگہیں ابھی بھی حساس ہیں جبکہ کئی ایک مقامات پر امن بحال ہو گیا ہے ۔پر فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر یں جنگجووں کےخلاف جو حکمت عملی اختیار کرلی گئی ہے وہ حالات کے عین مطابق ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کے کچھ ایک حصوںمیںملی ٹینسی موجود ہے اور ان حصوں میں بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے ۔جنوبی کشمیر کے کئی علاقے انتہائی سطح پر حساس ہیں جہاں فوج کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران عوامی مزاحمت کا سامنا رہتا ہے جس کے باعث کئی بار آپریشن روک دیئے جاتے ہیں۔فوجی سربراہ کاکہنا تھا کہ جموںوکشمیر میں تعینا ت فوجی کمانڈروں کےساتھ انہوںنے از خود ایک میٹنگ کی ہے جس میں جنگجو مخالف نئی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد فوجی سربراہ نے فوجی کمانڈروںپر زور دیا کہ وہ جنگجو مخالف آپریشوں کے دوران زمینی حالات کے عین مطابق ہی حکمت عملی مرتب کریں اور جس طرح سے انہیں یہ لگے کہ انہیں کامیابی حاصل ہوگی ۔انہوںنے کہا کہ سنگبازی سے نمٹنے کےلئے بھی فوج کو عین موقعے پر جس طرح کی حکمت عملی اختیار کرنی پڑےگی وہ کر سکتی ہے تاہم انہوںنے فوج کو احتیاط برتنے کی صلاح دیتے ہوئے کہاکہ اس طرز کے معاملات سر نہ ابھاریں جس میں فوج کی شبہ عام لوگوں کے اندر خراب ہو جائے ۔انہوںنے سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جنگجو وں کی نقل وحرکت پر نظر رکھیں اور ان کے عزائم سے متعلق قبل از وقت ہی پتہ دیں تاکہ ان کےخلاف فوج کاروائی عمل میں لاسکے ۔ سرحد پار دراندازی کے حوالے سے بھی بات کی گئی جس پر انہیں کہا گیاہے کہ سرحد پار دراندازی بند نہیں ہوئی ہے تاہم اس میںضرور کمی آئی ہے لیکن پھر بھی فوج اور سرحدی حفاظتی فورس پوری طرح سے دراندازی روکنے کےلئے تیار کھڑی ہے ۔فوجی سربراہ نے کنٹرول لائن پر آر پار گولہ باری کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج سرحد پار سے گولہ باری کا دندان شکن جواب دے اور اس ضمن میں ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنے کےلئے فیصلے لے سکتی ہے ۔ فوجی سربراہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو باعث تشویش قرار دیا ہے کہ اس صورت میں فوج کو جہاں عام لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا وہیں انہیں عام لوگوں کےساتھ بہتر رشتوں کے حوالے سے بھی خیال رکھناہوگا ۔جس میں خیر سگالی کے پروگراموںکو جاری رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ فوجی کمانڈروںکو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان حساس علاقوں میںجائیں جہاں فوجی اہلکاروں کو سرگرم جنگجووں کےخلاف زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور ان کا مورال بلند کرنے کےلئے ان کیمپوں کا دورہ کریں ۔انہوںنے سیکورٹی ایجنسیوں ،فوج اور پولیس کے درمیان بہتر تال میل کی ہدایت دی ہے اور فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگجووں کےخلاف کاروائی جاری رکھیںساتھ ہی ان سے کہا گیا ہے کہ فوج جنگجومخالف آپریشن تیز کریں تاکہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے ۔انہوںنے کہاکہ چین نے لائن آف ایکچول کنٹرول پر کئی بار خلاف ورزی کی ہے جس کا بھارتی فوج نے منہ توڑ جواب بھی دیا ہے ۔ انہوںنے پاکستان نے بھی چین کےساتھ بھارت کے تنازعے پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اور لائن آف کنٹرول پر زبردست گولہ باری کی لیکن ایسے ماحول میں بھارت کو کسی بھی طریقے پر اپنی صلاحیت پر سمجھوتہ کرنے کےلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ معاملات کو دیکھتے ہوئے چین کو بھارت کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے اور پاکستان ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے اگر دہشت گردی مخالف جنگ میں خلوص کا مظاہرہ کرےگا تو بھارت بھی اس کےساتھ پڑوسی جیسا ملک بن کر رہےگا جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ اگر چہ تینوں ممالک نیوکلیائی طاقتیں ہیں اور نیوکلیائی طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے جنگ ٹل سکتی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ایک طاقت ہوتی ہے جس میں سرحدیں محفوظ رکھی جاسکتی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial