شوپیان میں جنگجوؤں اور فورسز کے مابین معرکہ آرائی میں دو جیش جنگجو جاں بحق

قصبہ میں پر تشدد جھڑ پیں۔دودرجن زخمی۔ جنگجوؤں کی تدفین میں ہزاروں لوگ شریک۔ گن سلیویٹ پیش
سرینگر 13اپریل /سی این ایس / شوپیان میں سنیچر کی صبح جنگجوؤں اور فورسز کے مابین مختصر معرکہ آرائی کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہوگئے ہیں۔ جنگجو ؤں کی ہلاکت کے خلاف نوجوانوں اور فورسز کے مابین پر تشدد جھڑ پیں ہوئیں جن میں دو درجن کے قریب مظا ہرین کو چوٹیں آ ئیں حا لانکہ حکام نے یہاں پہلے ہی امن وقانون کی صورتحا ل کو برقرار رکھنے کے مد نظر قصبہ میں انٹرنیٹ خدمات احتیاطی اقدام کے طور پر منقطع کردی تھی۔ اس دوران مارے گئے جنگجو ؤں کو اپنے اپنے آ بائی علاقوں میں سپر د لحدکیا گیا جس دوران جنگجوؤں نے سلامی کے بطور ہوائی فائر نگ کی۔سی این ایس کے مطابق فوج، ریاستی پولیس کے ایس او جی اور سی آر پی ایف نے ہفتہ کی صبح شوپیاں کے گہند نامی علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع جس کے بعد جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی شروع کی گئی۔ جنگجو ؤں کی ایک میو ے باغ میں موجودگی کا پتہ چلتے ہی اگر چہ فورسز نے انہیں سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم انہوں نے اپنے چاروں طرف فوجی محاصرہ تنگ ہوتے دیکھ کر فوج پر زبردست فائرنگ شروع کردی۔ جنگجوؤں کے ابتدائی حملے کے ساتھ ہی فوج نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی شروع کی اور اس طرح طرفین کے مابین دوبدو جھڑپ شروع ہوئی۔جس کے دوران طرفین نے ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کیلئے جدید اسلحہ اور گولہ بارود کا استعمال کیا اور یوں پورا علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اٹھا ۔ ایک گھنٹے تک جا ری رہنے واکی جھڑ پ میں فوج کی فائرنگ سے دو جنگجو مارے گئے۔ مہلوک جنگجوؤں کی شناخت شاہجان ساکن امشی پورہ اور عابد لون ساکن روالپور ہ شوپیاں کے بطور کی گئی ہے۔ دونوں کا تعلق جیش محمد سے بتا یا جارہا ہے۔پولیس نے عوام سے پْرزور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اْسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اْس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔اس دوران جنگجو ؤں کے جاں بحق ہونے کی خبرپھیلتے ہی بڑی تعدادمیں گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے زوردار احتجاجی مظاہرے شروع کر کے جھڑ پ کی جگہ کی جا نب مارچ کیا ۔ بٹہ پورہ بس اسٹینڈ شوپیان کے علاوہ کئی جگہوں پر فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپوں کے درمیان پتھراؤاور جوابی پتھراؤ کا تبادلہ بھی ہو جس دوران سنگباری کر رہے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کی گئی جس میں 25 کے قریب نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر دونوں جنگجوؤں کی شناخت سامنے کے بعد انہیں اپنے اپنے آ بائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ضلع شوپیان کے کئی دیہات سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ مہلوک جنگجووں کے آبائی گاوں اومشی پورہ اور روالپورہ ،پہنچے اور آزادی کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔ جہاں ہر منٹ لوگوں کی تعداد میں سینکڑوں کا اضافہ ہوتا گیا اور یوں ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوگیا اور کئی لوگ پیڑوں پر،کئی کھمبوں پراورکئی مکانوں کی چھت پر چڑ گئے تھے۔ ان کے جنازہ کے پیچھے چلنے والے جلوس میں اسلام آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی گئی جبکہ خواتین سینہ کوبی کرتی ہوئیں نظر آ ئیں۔ بعد ازاں دونوں کو اپنے اپنے آ بائی علاقوں میں پْر نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔ عابد احمد لون کی نماز جنازہ میں جنگجو نمودار ہوئے اور انہوں نے خراج عقیدت کے بطور ہوائی فائر نگ کی۔ دونوں ہلاکتوں کے خلاف شوپیاں میں مکمل تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بری طرح مفلوج ہو گر رہ گئی ، ۔ بھڑک اٹھنے والے امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل رکھا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے مواصلاتی کمپنیوں کو قصبہ میں تیز رفتار والی فورجی اور تھری جی انٹرنیٹ خدمات معطل رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial