شوپیان میں مارے گئے جنگجو خاتوں سمیت دس افراد کے قتل میں ملوث تھے۔

دونوں تخریبی سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔پولیس
سرینگر 13اپریل /سی این ایس / پولیس نے شوپیان جھڑ پ میں مارے گئے دو جنگجوؤں کو ایک خاتوں سمیت دس افراد کے قتل میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ و ہ فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے اور اْن کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔سی این ایس کوپولیس کی طر ف سے موصولہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز اور پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت عابد وگے ساکنہ راولپورہ شوپیاں اور شاہجہان میر ساکنہ آمشی پورہ شوپیاں کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک جنگجو کالعدم تنظیم جیش کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھے اور اْن کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔مذکورہ جنگجوؤں نے گزشتہ سال دو عام شہری جن کی شناخت فردوس احمد ساکنہ بٹہ گنڈ ،نثار احمد ساکنہ کاپرن اور پولیس اہلکار بلونت سنگھ ساکنہ بٹہ گنڈ کے بطور ہوئی ہے کا اغوا کرنے کے بعد اْنہیں بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔ مہلوک جنگجوؤں نے وہیل شوپیاں علاقے میں ایک خاتون خوشبو جان کو بھی مار ڈالا تھا۔ علاوہ ازیں مارے گئے جنگجوؤں نے ہی تنویر احمد ساکنہ بمنی پورہ نامی ایک عام شہری پر کاچڈورہ کے نزدیک فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اْس کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی تھی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں نے کانجی اولر اور رام نگری علاقوں میں پنچایت گھروں کو نذر آتش کیاتھا۔ سال 2018کے دوران شاہجہان نامی جنگجوؤں نے آرہامہ شوپیاں میں پیٹرول پمپ کے نزدیک چار پولیس اہلکاروں کا قتل کیا اور بعد میں اْن کے ہتھیار بھی چھین لئے تھے۔ مذکورہ نے ہی پولیس اسٹیشن شوپیاں پر حملہ کیا جس دوران ایک پولیس اہلکار ثاقب محی الدین ماروگیاتھا اور اْس کی رائفل اْڑا کر فرار کی راہ اختیار کی تھی۔ شاہجہان نامی جنگجونے ایک جواں سال لڑکے حذیف اشرف کْٹے ساکنہ منز گام دمہال ہانجی پورہ کا اغوا کرنے کے بعد اْس کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔مارے گئے جنگجو فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اْنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھی براہ راست ملوث رہ چکے ہیں اور اْن کے خلاف سیکورٹی فورسز پر حملوں عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے سلسلے میں متعدد ایف آئی آر درج ہیں۔ حفاظتی عملے نے جائے جھڑپ پر اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا۔مہلوک شدت جنگجوؤں کی دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بھی جانچ پڑتال ہور ہی ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial