لبریشن فرنٹ اور جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن حکمرانوں کی بوکھلاہٹ: جے آر ایل

۔35کے خلاف رچائی جارہی سازشوں کے ردعمل میں آج مکمل ہڑتال کی جائے
سرینگر؍؍کے این ایس ؍ ؍مشترکہ مزاحمتی قیادت نے فرنٹ چیرمین اور جماعت اسلامی کے ارکان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا ہے۔قائدین نے اندھا دھند گرفتاریوں، ظلم و تشدد، شبانہ چھاپوں، ہراسانیوں اور35A کیخلاف رچائی جا رہی سازشوں کے ردعمل میںآج 24 فروری2019 بروز اتوار کو مکمل احتجاجی ہڑتال کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی حریت پسند عوام نے از خوداحتجاجی ہڑتال کرکے اپنے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ عوام 35Aکیخلاف کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی اور جارحیت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق نے سینئر مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک اور جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی گرفتار ی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے اس طرح کے حربے یہاں کی مزاحمتی قیادت کو اپنے جائز مطالبے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد سے باز رکھنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔قائدین نے وادی کے طول و عرض میں تحریک پسند کارکنوں اور موقرسیاسی و مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کے عہدیداروں اور کارکنوں سمیت 200 سے زیادہ افراد کیخلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کے مسلسل عمل کو حکمرانوں کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوششوں کا مقصدعوام میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے ان کے جذبہ مزاحمت کو کمزور کرنا ہے تاہم یہاں کے عوام اس طرح کے حربوں کیخلاف پہلے بھی سینہ سپر رہے ہیں اور آئندہ بھی وہ اس طرح کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔قائدین نے اندھا دھند گرفتاریوں، ظلم و تشدد، شبانہ چھاپوں، ہراسانیوں اور35A کیخلاف رچائی جا رہی سازشوں کے ردعمل میںآج 24 فروری2019 ء بروز اتوار کو مکمل احتجاجی ہڑتال کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی حریت پسند عوام نے از خوداحتجاجی ہڑتال کرکے اپنے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ عوام 35Aکیخلاف کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی اور جارحیت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محبوس رہنما محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں ر یاست جموں کشمیر کے مستقل اور پشتینی باشندگی قانون35A کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ خوانی یا اس قانون کو عدالتی ذرائع سے کالعدم قرار دینے کے کسی بھی عمل کے شدید نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ریاست کے تینوں خطوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی صورتحال کیخلاف بھر پور اور منظم احتجاج کیلئے تیار رہیں۔قائدین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے یا اس کی متنازعہ حیثیت کو زک پہنچانے کی کوششوں کیخلاف یہاں کے مزاحمت پسند عوام نے ماضی میں بھی اپنے بھر پور ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اب کی بار بھی وہ اس طرح کی کسی بھی کوشش کو بار آور ثابت نہیں ہونے دیں گے ۔قائدین نے کہا کہ درحقیقت یہاں مستقل باشندگی کے قانون کو ختم کرنے کی شرارت آمیز کوشش کے پیچھے ریاست جموں کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرکے یہاں کے آبادی کے تناسب کوبگاڑنے کا مقصد کار فرما ہے تاکہ مسئلہ کشمیر کی متنازعہ ہیئت و حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑکس بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائیگی کیونکہ یہ قانون ہم سب کیلئے بحثیت قوم کے ہماری بقاء کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔قائدین نے کہا ہے کہ یہ قانون ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کیساتھ براہ راست وابستہ ہے کیونکہ ریاست کا اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے پیدائشی حق یعنی حق خود ارادیت کا استعمال ابھی باقی ہے اور اقوام متحدہ نے ریاست کے عوام کو بحثیت قوم کے اپنا مستقبل طے کرنے کیلئے اس حق کی گارنٹی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اور قیادت اپنی شناخت اور مسئلہ کشمیر کے کسی حتمی حل تک اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھر پور مزاحمت کرینگے اور اس کیلئے اپنی جان دینے اور عوامی سطح پر ایک بھر پور سیاسی تحریک چلانے کیلئے تیار ہے۔قائدین نے کہا دھونس ، دباؤ، گرفتاریوں، قدغنوں، ہراسانیوں سے نہ یہاں کی حریت پسند قیادت اور نہ حریت پسند عوام کے حوصلوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور ہندوستان کے ارباب سیاست کو اس مسئلہ سے جڑے تلخ سیاسی حقائق کا احساس و ادراک کرنا چاہئے اور برصغیر ہندوپاک میں جنگی جنون کو ہوا دینے کی مذموم کوششوں کے بجائے اس مسئلہ کو اس کے تاریخی پس منظر میں حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ خطے کے کروڑوں عوام کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے۔قائدین نے کہا کہ کشمیر میں سات لاکھ مسلح فورسز کی موجودگی کے باوجود مزید 100 کمپنیوں پر مشتمل سرکاری فورسز کو تعینات کرنے کے تازہ اقدام کسی بہت بڑے واقعہ کا پیش خیمہ لگتا ہے اور اس کا ایک مقصد یہاں کے عوام کیخلاف جاری سرکاری جارحیت اور بربریت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ حکومت ہندوستان یہاں اپنے خاکوں میں رنگ بھرنے کے راستے ہموار کرسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial