مسئلہ کشمیر پر سمجھوتہ خارج ازمکان ؍بھارت پر کشمیر کو لیکر عالمی دباؤ میں اضافہ ؍ پاکستان 

کرتا رپور راہدی سے کشمیر کاز اثر انداز نہیں ہوگا ، ہم کشمیر ،سرکریک اور آبی تنازعات پر بات چیت کا منتظر ؍ چین کشمیر کے حل طلب ہونے کے موقف پر قائم
سرینگر؍؍ الفا نیوز سروس ؍؍ کشمیر مسئلے پر سمجھوتہ یا بھارت کو کسی بھی قسم کی کوئی رعایت دینے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے پاکستان نے آج واضح کر دیا کہ وہ کشمیر پر بھارت کی جانب سے بات چیت کی بحالی کا منتظر ہے لیکن کسی بھی قیمت پر کشمیر پر سمجھوتے کیلئے پاکستان تیار نہیں ہے ۔کشمیر کی ہیئت اور اس کے تاریخی تناظر میں اس کاحل ناگزیر ہے ۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری سے کشمیر کاز کو نقصان ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کرتار پور راہداری سے کشمیر کاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ایسے میں ہم بھارت کیساتھ کشمیر سمیت سرکریک اور سیاچن کیساتھ ساتھ آبی تنازعات پر بھی با ت چیت کے حق میں ہیں ،پاکستانی وزرات خارجہ کے ترجمان کے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہاکہ پاکستان کشمیر میں جاری قتل وغارت گری کو روکنے کیلئے عالمی برادری سے رجوع کر رہا ہے اور بھارت پر اتنا دباو بڑھایا جائیگا کہ وہ کشمیر پر مذاکرات کیلئے آمادہ ہوجائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کشمیر مسئلے کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے کہ تنازعہ حل طلب ہے : ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کریں گے اور یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ کرتار پورکی وجہ سے کشمیر کا معاملہ پیچھے چلا جائے گا۔ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چینی سرکاری ٹی وی پر کشمیرکو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں، چین نے معاملے پر پاکستان کو تفصیلات سے آگاہ کیا، چین نے مقبوضہ کشمیر کو سفید رنگ میں ظاہرکیا جب کہ چینی سرکاری ٹی وی نے تسلیم شدہ نقشہ استعمال کیا۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم اوروزیرخارجہ سے ملاقاتیں کیں، افغانستان میں مفاہمتی عمل پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، زلمے خلیل زاد کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی، بات چیت کچھ لینے اورکچھ دینے پر انحصار کرتی ہے، پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل آگے بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری ابھی پوری طرح کھلا نہیں، پاکستان تو بھارت سے بات چیت چاہتا ہے، پاکستان سرکریک، کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر ڈائیلاگ چاہتا ہے، چین کو پاک بھارت بات چیت پرکوئی اعتراض نہیں اور بھارت سے مثبت ردعمل کی امید رکھتے ہیں۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ کشمیرمیں بھارتی افواج کی زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے، سیکڑوں معصوم اورنہتے کشمیری پیلٹ گنز کے استعمال سے زخمی کئے گئے۔ ممبئی کیس سے متعلق ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ کیس عدالت میں ہے تبصرہ نہیں کرسکتا، حملہ کیس میں قانون کے مطابق انصاف ہوگا، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہورہی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں اورکشمیرکا معاملہ پس پشت نہیں ڈالنے دیں گے، کرتارپورراہداری کھلنے سے کشمیرکا زہراثر اندازنہیں ہوگا، کرتارپورراہداری آئندہ سال نومبرسے قبل مکمل ہو جائے گی، مسئلہ کشمیرپرہرگزسمجھوتہ نہیں کریں گے جب کہ ذہن سے نکال دیں کہ کرتارپورکی وجہ سے جموں کشمیر کا معاملہ پیچھے چلا جائے گا۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو۱۹۸۰ سے تباہ کن حالات کا سامنا رہا ہے تاہم کوئی اور ملک ایسے حالات کا شکار ہوتا تو اس کا بچ نکلنا مشکل تھا۔لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جسے دنیا پوری طرح جان نہیں سکی، پاکستان کو ۱۹۸۰سے تباہ کن حالات کا سامنا رہا، کوئی اور ملک ایسے حالات کا شکار ہوتا تو اس کا بچ نکلنا مشکل تھا، پاکستان ان تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہو کر مسلم ممالک اور تیسری دنیا میں جدید ملک بن کر سامنے آیا۔الفا نیوز سروس کے مطابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کا قیام پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی کا مظہر ہے، پاکستان تحریک انصاف کا اقتدار میں آنا معاشرے کے متوسط طبقے کا بدعنوانی اور اسٹیٹس کو کے خلاف انقلاب ہے۔ عمران خان کی ترجیح عوام کو غربت سے نجات دلانا ہے، موجودہ حکومت کی پالیسیاں اسی مقصد کے حصول کے لئے ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام ادارے فعال اور اپنی ذمہ داریاں احسن انداز سے انجام دے رہے ہیں، سول اور عسکری اداروں میں شاندار ہم آہنگی ہے، پہلی بار طاقتور افراد قانون کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔مسئلہ کشمیر سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ خطہ اراضی کا نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے، ہم انتظار میں ہیں کہ بھارت کشمیر پر اپنے نقطہ نظر کا دوبارہ جائزہ لے، کرتار پور راہداری کے افتتاح سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی، امید ہے کہ ایک دن پاکستانی مسلمانوں کو اجمیر شریف کی درگاہ پر جانے کی اجازت ملے گی۔پاک امریکا تعلقات پر وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکا عالمی طاقت ہے اور ہم امریکا کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، امریکی صدر کا وزیراعظم عمران خان کو خط اور افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی وزیراعظم سے ملاقات اس کا ثبوت ہے، وزیراعظم پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بہترین تجویز پیش کی۔پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ سی پیک ایک اہم ترین اقتصادی منصوبہ ہے، یورپی یونین سمیت دیگر ممالک سی پیک کے نتیجے میں سامنے آنے والے اقتصادی مواقع سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے منصب سنبھالنے کے بعد سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندی اور وسعت ملی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial