کشمیریوں کو نشانہ بنانے کیخلاف نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

دفعہ35اے کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑآگ سے کھیلنے کے مترادف ثابت ہوگا: علی محمد ساگر
سرینگر؍؍کے این ایس ؍ ؍نیشنل کانفرنس نے پارٹی جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے جموں اور بیرونِ ریاست کشمیری تاجروں، نوجوانوں، طلباء و طالبات کو نشانہ بنانے،گرفتاریوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور آزاد صحافت پر حملوں کیخلاف زبردست احتجاج کیا جس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے ، جن کشمیریوں کو نشانہ بنانے ، کالجوں سے کشمیری طلاب کی بے دخلی، دفعہ35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کیخلاف نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ادھر پولیس کی بھاری جمعیت نے احتجاجی ریلی کو شیر کشمیر پارک کے نزدیک پیش قدمی کرنے سے روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں اور بیرونِ ریاست کشمیری تاجروں، نوجوانوں، طلبا و طالبات کو نشانہ بنانے،گرفتاریوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور آزاد صحافت پر حملوں کیخلاف نیشنل کانفرنس کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی،جس کی قیادت پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کررہے تھے۔احتجاجی شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے ، جن کشمیریوں کو نشانہ بنانے ، کالجوں سے کشمیری طلاب کی بے دخلی، دفعہ35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کیخلاف نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری جمعیت نے احتجاجی ریلی کو شیر کشمیر پارک کے نزدیک پیش قدمی کرنے سے روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ اس ریلی کا مقصد جموں اور بیرونِ ریاست قیام پذیر کشمیریوں کیخلاف جاری تشدد کیخلاف اپنا احتجاج درج کرنا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، کشمیری طلاب کو مختلف دانشگاہوں سے بے دخل کرنے اور کشمیری نوجوانوں کیخلاف کیس درج کرنے کے سلسلے کو فوری بریک لگائی جائے اور کشمیریوں کو امن و سکون کیساتھ اپنی زندگی بسر کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو نشانہ بنانے سے بھارت کی جمہوریت اور سیکولر کردار پر سوالیہ نشان لگ گیا اور پوری دنیا میں ان واقعات کی مذمت اور ملامت کی جارہی ہے۔ جنرل سکریٹری نے کہاکہ کشمیریوں کیخلاف ان مظالم کیخلاف اگرچہ دنیا بھر سے آوازیں اُٹھیں لیکن افسوس اس بات ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نے ایک بار بھی اس معاملے پر لب کشائی نہیں کی اور نہ ہی کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی پر روک لگانے کی کوشش کی۔ نئی دلی کے رویہ سے یہ بات صاف ہوگئی کہ مرکز مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آگیا ہے اور حکومت میں کشمیریوں کاکوئی ہمدرد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کیخلاف جنگ کا سماں ہے،گرفتاریوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ انتہا کو پہنچ گیا، کشمیریوں کو طاقت کے بلبوتے پر زیر کیا جارہا ہے، ہماری حق کی آواز دبائی جارہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب ذرائع ابلاغ پر بھی مختلف حربوں کے ذریعے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے روزنامہ گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کو سرکاری اشتہارات بند کئے جانے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام آزادی صحافت اور جمہوریت پر کاری ضرب ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ35Aپر حملہ ریاست کی شناخت اور انفرادیت پر حملہ ہے یہی وجہ ہے کہ سماج کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں نے اس دفعہ سے متعلق ایک ہی مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ35اے کیخلاف کسی بھی قسم کا اقدام آگ سے سے کھیلنے کے مترادف ثابت ہوگا۔ ساگر نے کہا کہ عظیم قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت ہی جموں وکشمیر کو ایک منفرد شناخت حاصل ہوئی اور ہم کسی کو بھی اپنی اس پہنچان اور سیاسی حقوق پر ڈاکہ زنی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کے بعد جموں وکشمیر کے رہنماؤں اور نئی دلی کے درمیان مذاکرات چلے اور اس عمل میں جموں وکشمیر اور بھارت کے رشتے کے خدوخال اور آئینی و جمہوری طریقہ کار اختیار کیا گیا، جس کے بعد 1952میں جموں وکشمیر اور نئی دلی کے درمیان ایک سمجھوتہ پایا گیا اور آئین ہند میں دفعہ370کا اندراج عمل میں لایاگا ، جس سے یہ مشروط الحاق طے پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی پوزیشن کے نہ رہنے سے مشروط الحاق بھی خود بہ بخود ختم ہوجائیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial