کشمیر مسئلے کے حل میں تاخیر بھارت کےلئے گھاٹے کا سودا شاہ محمود قریشی

پاکستان کی سرحدیں محفوظ امن کی خواہش کمزوری نہیں بات چیت کےلئے جھکنے کےلئے تیار نہیں بلکہ برابری کی سطح پر مذاکرات متوقع
سرینگر الفانیوز سروس سرحدی کشیدگی اور کشمیر پر بھارت کےساتھ کسی بھی وقت اور مقام پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج خبردار کیا کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور امن کی خواہش پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ بھڑکپن ہے جس کےلئے وہ دنیا میںممتاز ہے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان ہمسائیہ ممالک کےساتھ پر امن تعلقات چاہتا ہے لیکن اس کےلئے ملکی سلامتی کو گروی نہیں رکھا جا سکتا ہے بلکہ برداری کی سطح پر بات چیت کےلئے پاکستان تیار ہے کسی کے آگے بات چیت کے جھکنے کےلئے تیار نہیں ہے وہ چاہئے بھارت ہو یا امریکہ۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے کے حل میں تاخیر بھارت کےلئے گھاٹے کا سودا ہے ارو ایسے میں پاکستان کی سرحدیں محفوظ بن گئی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں پاکستان اپنے ہمسائیہ ممالک کےساتھ بہتر تعلقات کو یقینی بنائے اور اس کےلئے اس کی سراہنا ہو لیکن بھارت کسی بھی اعتبار سے آگے آنے کےلئے تیار نہیں ہے لہذا برابری کی سطح پر ہی مذاکرات ممکن ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات رکھنا چاہتا ہے لیکن قیام امن کے لیے پاکستان کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملکوں سے پرامن بقائے باہمی پریقین رکھتا ہے جب کہ قیام امن کے لیے پاکستان کی کوشش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان نیوی سی پیک سمیت ملک کے تمام بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پر عزم اور پوری طرح چوکنا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں بحری سیکورٹی مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔.ادھرڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں لیکن ہم برائے فروخت نہیں، ہمیں امریکا سے امداد نہیں اعتماد چاہیے جب کہ اتحادی فوج کو افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے۔اس دوران ایس پی آ ر نے کہا کہ افغانستان میں جنگ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لڑنی ہے پاکستان اور امریکا کے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن ہم برائے فروخت نہیں، ہمیں امریکا سے امداد نہیں اعتماد چاہیے کیونکہ اعتماد کی بنیاد پر ہی تعلقات سب سے بہتر ہوتے ہیں جب کہ امریکا کی جانب سے جس طرح کے بیانات آرہے ہیں یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمیں امریکا سے پیسے نہیں بھروسہ چاہیے، یہ کہنا کہ پیسے دیے ہیں تو تعاون کریں یہ بات صحیح نہیں، پاکستان پیسوں کے لیے نہیں لڑ رہا، افغانستان کے اندر کی جنگ امریکی اور اتحادی فورسز کو لڑنا ہوگی اور اتحادی فوج کو افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے افغان سرحدوں سے داخل ہونے والی جنگ کا مقابلہ بھی کیا اور امریکا کے ساتھ مکمل معاونت کی حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری نہیں تھی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی، کیا القاعدہ کے خلاف آپریشنز پاکستان اور پاکستانی فورسز کے تعاون کے بغیر ممکن تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ چل رہی ہے کیا وہ پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی ہے بھارت کشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے ساتھ ہی ایل او سی پر بھی فائرنگ جاری ہے، سال میں بھارت نے سب سے زیادہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیڈٹس کا اعتماد ملک کے مضبوط دفاع کی علامت ہے۔ پاکستان کے نظریے اورسرحدوں کا دفاع کرنا ہے، ملکی دفاع میں پاک بحریہ انتہائی موثرکردارادا کررہی ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، سمندروں کے محافظ کے طورپرآپ کوقوم کی توقعات پرپورا اترنا ہوگا اورپاک بحریہ کومزید مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل فراہم کریں گے پاک بحریہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہردم تیارہے، ضرب عضب، آپریشن ردالفساد دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کااعادہ ہے جب کہ خطے کےعوام ترقی اورخوشحالی چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial