کپوارہ سے اوڑی تک سرحدی کشیدگی وتناؤ 

آر پار آتشی گولہ باری کا تبادلہ ،فوجی اہلکار ہلاک
کئی ڈھانچوں کو نقصان ،صورتحال دھماکہ خیز ،آر پار تجارت معطل 
’بھارت نے اس سال سیز فائر کی خلاف ورزیاں زیادہ کیں‘،پاکستان کا الزام 
کپوارہ،اوڑی؍؍کے این این ؍؍حد متارکہ پر ہند پاک افواج کے درمیان بدھ سے وقفے وقفے سے جاری آتشی گولہ باری نے شدت اختیار کی ،جس دوران طرفین کے مابین یہ جمعرات کو کپوارہ سے اوڑی تک جاری رہا جسکے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوا جبکہ کئی رہائشی وغیر رہائشی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ۔آر پار آتشی گولہ بازی اور سرحدی کشیدگی وتناؤ کے باعث جمعرات کو آر پار تجارت معطل کی گئی جبکہ سرحدی آبادی میں خوف وہراس اور اضطراب پایا جارہا ہے ۔اس دوران دونوں ممالک کے دفاعی ترجمان نے ایکدوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ اس سال بھارت نے سیز فائر کی خلاف ورزیاں زیادہ کیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق لائن آف کنٹرول پر کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے اور برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج حد متارکہ پر آمنے سامنے آگئیں ۔سرحدی کشیدہ صورتحال کے سبب بدھ سے وقفے وقفے سے جاری آر پار فائرنگ اور ماٹر شلنگ نے اب سنگین رُخ اختیار کیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر اوڑی سیکٹر میں ہند پاک افواج کے مابین شبانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔اطلاعات کے مطابق اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات بھارت اور پاکستان کی افواج نے شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر گولیوں کا تبادلہ کیا۔یہ واقعہ اْوڑی کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا جہاں گذشتہ روز بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے 2 فوجی زخمی ہوگئے تھے۔دونوں زخمی اہلکاروں دیپو وشوناتھ اور نایک ایم ولیم کا تعلق فوج کی 8آر آر سے ہے ۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز شام کو دونوں طرف کی بندوقیں خاموش ہوئی تھیں، تاہم دوران شب طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ پھر ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ بدھ کی صبح طرفین کے مابین اوڑی سیکٹر میں گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا ،جو جمعرات کی صبح11بجے جاری رہا ۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج نے ایکدوسرے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کے علاوہ ماٹر گولے بھی داغے ۔اطلاعات کے مطابق اوڑی میں ایک ماٹر شل حلیم علی میر ولد عطا محمد ساکنہ بتھارڈ کنڈی برجلا کمل کوٹ نامی شہر کے مکان پر گرا ،جسکی وجہ سے یہ مکان تباہ ہوگیا ۔تاہم اس میں رہائش پذ یر افراد معجز اتی طور پر بچ گئے ۔سب ضلع مجسٹریٹ اوڑی بصیر الحق کا کہنا ہے کہ ماٹر شل اور فائرنگ سے متاثر ہ کنبے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی صورتحال کو ملحوظ نظر رکھ کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے ۔ادھر اطلاعات کے مطابق شمالی سرحدی ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔تفصیلات کے مطابق بھارت اور پاکستان کی افواج نے جمعرات کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں کنٹرول لائن پر گولیوں کا تبادلہ کیا۔یہ واقعہ ضلع کے مڑھل علاقے میں پیش آگیا۔سرکاری حکام نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بھارتی افواج نے بھی اس کا جواب دیا۔مقامی ذرائع نے کہا کہ دونوں طرف کی افواج نے مژھل علاقے میں رنگ پائین،تانترے اور خان بستی مقامات پر ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا ،جسکی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی ترجمان نے اسکی تصدیق کی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستانی فوج کی خلاف ورزیوں کا موثر جواب دیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ یہاں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔آر پار آتشی گولہ باری کے سبب اْوڑی سے آر پارتجارت معطل کردی گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن پر ہند۔پاک افواج کے مابین گولی باری کے بعد جمعرات کو آر پار تجارت معطل رہی۔حکام کے مطابق اْنہوں نے کراس ایل او سی فائرنگ کے بعد اْوڑی مرکز سے تجارت معطل کردی ہے۔ایس ڈی ایم اْوڑی بصیر الحق نے کہا کہ فائرنگ کا علاقہ کمان پوسٹ کے قریب ہے اس لئے آج کیلئے آر پار تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہند پاک کی افواج کے درمیان حد متارکہ پر جاری آتشی گولہ باری کے سبب سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ خوف محسوس کررہے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ وہ اس وقت سخت ترین ذہنی اضطراب میں مبتلاء ہیں ،کیونکہ آر پار کی گولہ باری کی سبب عام لوگ ہی متاثر ہوتے ہیں ،لہٰذا سرحدی کشیدگی کا مستقل حل نکالا جا نا چاہئے ۔سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ،جن کا موثر جواب دیا جارہا ہے ۔تاہم پاکستان کا الزام ہے کہ ’بھارت نے اس سال سیز فائر کی خلاف ورزیاں زیادہ کیں‘۔پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی اس سال سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں زیادہ ہوئیں۔ شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے رواں سال بہت تیزی کے ساتھ سیز فائر کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، جن میں عام شہریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی جانب سے عام شہریوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم پاکستان ایسی جوابی کارروائی نہیں کرتا جس میں عام شہریوں کا قتل عام ہو۔واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جب بھی لائن آف کنٹرول یا بین الاقوامی سرحد پر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو دونوں ممالک ایک دوسرے پر2003کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial