گورنر کی طرف سے آئینی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول: سجاد غنی لون

سرینگر؍؍کے این ایس ؍ ؍پیپلز کانفرنس نے ریاست جموں و کشمیر میں نافذ آئینی دفعات کے ساتھ گورنر کے چھیڑ چھاڑ پرسخت اعتراض جتایا ہے اور انہیں کسی بھی قسم کے ایسے فیصلے لینے سے خبردار کیا جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا کہ گورنر یا صدر کا حکم حکومت کے روز مرہ معمول کی کارروائیوں کو آگے بڑھانے کا ایک عارضی اقدام ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سے پالیسی سازی کے بڑے فیصلے لینے کی توقع نہیں کی جاتی ہے، جو کہ منتخب شدہ حکومت کا اکیلا استحقاق ہے۔ کسی بھی طور پر، گورنر یا صدر آئینی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا اور کرنا بھی نہیں چاہیے، جس سے یونین کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کے آئینی تعلقات متاثر ہوتے ہوں۔واضح رہے کہ گورنر ستی پال ملک نے حال ہی میں ریاست جموں وکشمیر کے نہ صرف آئین 103 ترمیم ایکٹ، 2019 بلکہ آئین 77 ترمیم ایکٹ، 1995 کو نافذ کرنے کی سفارش پیش کی۔ گورنر کی سفارشات پر صدر نے دو روز قبل آئین نافذ کرنے کے اوامر صادر کئے۔سجاد نے مزید کہا کہ گورنر کے انتظامیہ کے ذریعہ کی جانے والی ریاست میں نافذ آئینی دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ایک خطرناک رجحان ہے، جس کے یونین کے ساتھ ریاست کے آئینی تعلقات کے سلسلے میں سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial