Category Archives: main news

نازنین پورہ ترال میں جھڑپ کا آغاز ، ایک فوجی اہلکار زخمی 

نوجوانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بیچ ہوائی فائرنگ،لوگوں کی کثیر تعداد نے گاؤں کی طرف پیش قدمی شروع کی 
سری نگر:۱۹،جون//سیکورٹی فورسز نے ترال کے نازنین پورہ گاؤں میں بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیاجس دوران عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان آمنا سامنا ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ابتدائی حملے میں ایک فوجی شدید طورپر زخمی ہوا اور اُس کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ 2سے 3عسکریت پسند گاؤں میں پھنس کر رہ گئے ہیں جنہیں مار گرانے کیلئے سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو بھی محاصرے میں لیا ۔ تلاشی آپریشن شروع ہوتے ہی لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے شروع کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ۔ جے کے این ایس کے مطابق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد 42آر آر ، 180بٹالین سی آر پی ایف نے ترال کے نازین پورہ گاؤں کو محاصرے میں لے کر جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ نمائندے کے مطابق فوج ، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے ہائینہ ترال اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو بھی محاصرے میں لے کر فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے جس دوران جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کے ابتدائی حملے میں فوجی اہلکار شدید طورپر زخمی ہوا اور اُس کو فوری طورپر سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق ترال اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں خبر پھیلتے ہی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور ہائینہ گاؤں کی طرف پیش قدمی شروع کی اس دوران پہلے سے ہی تعینات سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو شروع کیا ۔ نمائندے کے مطابق نوجوانوں نے فوج پر چاروں طرف سے پتھراو جاری رکھا جس دوران جوابی کارروائی کے بعد سیکورٹی فورسز نے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ بے تحاشہ ساونڈ شیل اور ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ترال اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ نمائندے کے مطابق مساجد کے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے جار ہے ہیں کہ لوگ گھروں سے باہر آئیں۔ دفاعی ذرائع نے اس سلسلے میں بتایا کہ ہائینہ گاؤں میں 2سے 3ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد جونہی سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق تین کے قریب عسکریت پسند گاؤں میں پھنس کر رہ گئے ہیں جنہیں مار گرانے کیلئے فوج کی اضافی کمک کو طلب کیا گیا ہے۔دفاعی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ گھروں سے باہر نہ آئے تاہم اس کے باوجود بھی تلاشی آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں پر پتھراو کیا گیا ۔ دفاعی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کیلئے بھاگنے کے تمام راستے سیل کئے گئے ہیں۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک گاؤں میں شدید پتھراو کا سلسلہ جاری تھا۔

بھارتی جیل سے رہائی پانے والے 6 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے

واگہ سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے ، رہائی پر کیا خوشی کا اظہار 
سری نگر:۱۹،جون//بھارت نے خیرسگالی طورپر ایک خاتون سمیت 6 پاکستانی شہریوں کو رہا کردیا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق بھارت کی طرف سے سزائیں مکمل کرنے والے 6 پاکستانی شہریوں کو واہگہ بارڈرپرپاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا، بھارت سے رہا ہوکر آنے والوں میں اللہ دتہ، نسرین اختر، ہارون علی، محمدندیم، اختراسلام اور محمدیاسین شامل ہیں۔بھارت سے رہائی پانے والی لاہورکی رہائشی نسرین اختر 2006 میں عرس میں شرکت کیلئے بھارت گئی تھیں تاہم اٹاری اسٹیشن پر انہیں منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، نسرین اخترکی والدہ نے پاکستانی اوربھارتی حکومت سے اپنی بیٹی کی رہائی کی اپیل کی تھی، نسرین اختر کو عائدکیا گیا جرمانہ پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے اداکیا گیا ہے۔نسرین اخترکا کہنا ہے کہ وہ اپنی رہائی پر اللہ تعالی کی شکرگزارہیں، انہوں نے دونوں ملکوں کے حکام سے اپیل کی ہے کہ ایک دوسرے کی جیلوں میں قید سزائیں مکمل کرنے والے قیدیوں کو رہائی ملنی چاہئے۔دوسری جانب رہائی پانے والوں میں ایک نوجوان ہارون علی بھی شامل ہے جس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے، ہارون علی کو دوسال پہلے غلطی سے سرحد پار کرنے کے الزام میں گرفتارکیا گیا اور اسے امرتسرسنٹرل جیل میں رکھا گیا تھا۔نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفارتخانے کے مطابق ابھی بھی چاربچوں سمیت 52 پاکستانی سویلین قیدی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

بانڈی پورہ آپریشن بارہویں روز میں داخل 

جنگلات میں ممکنہ طور مزید عساکر کو دھونڈ نکالنے کیلئے آپریشن وسیع 
سری نگر:۱۹،جون//وادی کشمیر میں دراندازی کے بڑھتے واقعات کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد جنوبی اور شمالی کشمیر میں سرگرم جنگجووں کے خلاف فوج نے بڑے پیمانے پر تلاش آپریشن شروع کیا ہے۔ اس آپریشن میں ایس او جی کے ساتھ ساتھ دوسرے نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ ادھر بانڈی پورہ کے جنگلات میں گیارویں روز بھی فوج کا تلاشی آپریشن جاری رہا۔ ان کے مطابق پورے جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر میں فوج و دوسری سیکورٹی فورسز نے سرگرم جنگجووں کے خلاف ایک بڑا تلاشی آپریشن شروع کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سرحد پار سے در اندازی کی کوششوں میں ہوئے اضافے کے مدنظر فوج نے تلاشی آپریشن شروع کیا ہے ۔مقامی نوجوانوں کی جنگجووں کی صفوں میں شامل ہونے سے جنوبی کشمیر میں جنگجووں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے تشویشناک ہے۔اطلاعات کے مطابق اننت ناگ، پلوامہ ، شوپیان اور کولگام کے جنگلات جن میں جنگجووں کے چھپے ہونے کی مسلسل اطلاع مل رہی ہے کو فوج نے گھیرے میں لیکر تلاش کاروائی شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں بھی جنگجووں کو ڈھونڈا جارہا ہے۔ ای دوران معلوم ہوا ہے کہ بانڈی پورہ کے جنگلات میں مسلسل گیارویں روز بھی جنگجوؤں مخالف آپریشن جاری رہا جس دوران جنگلات میں ممکنہ طور موجود جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکلانے کیلئے فورسز نے خصوصی کمانڈوز کا بھی استعمال کیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے پورے جنگلات میں محاصرہ وسیع کر دیا ہے اور جنگجوؤں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے گئے ہیں جبکہ آپریشن میں بھی تیزی لائی گئی ۔