کشمیری اسیروں کی حالت زار قابل مذمت

اپنے مخالفین کے خاندانوں اور رشتہ داروں کو ایذا رسانی کا شکار بنانا محض بزدلی
جیلوں میں مقید سیاسی مخالفین کو تکالیف اور تشدد کا شکار بنانا محض مطلق العنانیت ہی کہلا سکتا ہے:مشترکہ مزاحمتی قیادت
سری نگر؍؍کے این این؍؍اپنے مخالفین کے خاندانوں اور رشتہ داروں کو ایذا رسانی کا شکار بنانا محض بزدلی اور جیلوں میں مقید سیاسی مخالفین کو تکالیف اور تشدد کا شکار بنانا محض مطلق العنانیت ہی کہلا سکتا ہے۔ان باتوں کا اظہار مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی،میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ایک بیان میں کیا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق وادی میں جاری گرفتاریوں کے تسلسل اور شبانہ چھاپوں کو ہر لحاظ سے غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ کشمیر کے جنوبی اضلاع سے لیکر شمال و وسط میں گرفتاریوں کا سلسلہ دراز تر کیا گیا ہے اور ہزاروں پیر و جوان جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئے گئے ہیں جبکہ جیلوں اور پولیس تھانوں میں ان پر بدترین جسمانی اور ذہنی جبر و تشدد ڈھائے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔قائدین نے کہا کہ کچھ ماہ قبل کشمیر کے پولیس سربراہ نے ایک عدد بیان دیا تھا کہ متحارب جمعیتوں کو ایک دوسرے کے خاندانوں کو جنگ اور لڑائی میں نہیں لانا چاہئے ۔ اسوقت مشترکہ مزاحمتی خیمے نے بھی انہی خیالات کی تائید کی تھی اور سبھی متحارب لوگوں پر زور دیا تھا کہ آپسی لڑائی میں خاندانوں کو نہ دھکیلا جائے۔لیکن آج کشمیر کے دیہات،گاؤں جات، قصبے اور محلہ جات خاص طور پر جنوبی کشمیر ایک نئے جبر اور گرفتاریوں کے سلسلے کو دیکھ رہے ہیں اور یہاں پولیس ،ایس او جی اور دوسری قابض فورسز اپنے سیاسی یا عسکری مخالفین کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کو گرفتار کررہی ہے،ان کا ٹارچر کیا جارہا ہے اور انہیں ہتک آمیز سلوک سے دوچار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام کے دوران پولیس، ایس او جی اور دوسری قابض افواج و فورسز کی جانب سے ترال، پلوامہ،اسلام آباد، شوپیان،کولگام،سوناواری اور دوسرے علاقوں کے اندر بیسیوں افراد کو جن کا تعلق سیاسی یا عسکری مزاحمت کے ساتھ ہے کو گرفتار کیا ہے جو پولیس سربراہ کے بیان کردہ بیان کے بالکل برعکس اور ہر لحاظ سے قابل مذمت و قابل نفرین ہیں۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ وہ کشمیری جنہیں این آئی اے نے کشمیر سے اغوا کرکے تہاڑ جیل میں مقید کیا ہوا ہے بھی بدترین قسم کے ٹارچر اور تعذیب سے دوچار کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں وہاں منتقل کی گئیں خاتون اسیرسیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو اس جیل میں الگ الگ سیلوں میں رکھا جارہا ہے جہاں انہیں پالیتھین لفافوں میں کھانا دیا جاتا ہے اور انکی پلاسٹک گلاس یا پلیٹ کی درخواست بھی رد کی گئی ہے۔اُنہیں مسلسل سیلوں میں ہی رکھا جارہا ہے اور کچھ منٹ چہل قدمی کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔ اسی طرح اس جیل میں مقید دوسرے اَسیروں سید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ میرج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار(بٹہ)، ظہور احمد وٹالی، شاہد یوسف شاہ، محمد اسلم وانی، مظفر احمد ڈار اور دوسرے لوگوں کو بھی مختلف بارکوں میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں ناقابل تناول کھانا، غلیظ پانی دیا جاتا ہے اور اَدویات نیزموجودہ گرم موسم کے باوجود بجلی کی عدم دستیابی سے دوچار کیا جارہا ہے جس سے ان اسیروں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔اسی طرح کی صورت حال جموں کشمیر کی جیلوں جن میں کٹھوعہ جیل، ادھمپور جیل، ہیرا نگر جیل، جموں امپھالہ جیل، کور ٹ بلوال جیل ،سرینگر سینٹرل جیل وغیرہ قابل ذکر ہیں میں بھی روا ہے اور ان جیلوں کو بدترین حراستی مراکز میں تبدیل کردیا گیا ہے اور جہاں قیدیوں کو قید تنہائی والی سیلوں کے اندر ڈال کر ٹارچر کیا جاتا ہے،ان کی تذلیل و تحقیر کی جاتی ہے اذیتیں دی جارہی ہیں۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ کشمیر ایک پولیس ریاست ہے جہاں ہر قسم کے سیاسی اختلاف ہے کو فوجی طاقت کے بل پر دبانے کا چلن جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ۲۰۱۰ ؁ء سے اسیر چیئرمین مسلم لیگ مسرت عالم بٹ کے چاچا جان وفات پاگئے جبکہ ۲۰۱۶ ؁ء سے اَسیر مولانا سرجان برکاتی کے ماموں جان کی بھی وفات ہوئی لیکن ان دونوں اسیروں کو اپنے پیاروں کے جنازے اور تدفین میں شرکت سے بھی روکا گیاحالانکہ نارمل حالات میں اگر کوئی سزا یافتہ بھی ہو تو اُسے بھی جنازے اور تدفین و تعزیت میں شامل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن کشمیر وہ جگہ ہے جہاں اسیروں کو ان بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے جو دراصل جموں کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اور جابرانہ رویے کا عکاس ہے اور اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ بھارت اور اسکے ریاستی حاشیہ بردار کشمیر میں ظلم کے سو ا کسی اور چیز کے روادار نہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ بھارت اسیروں سے متعلق جینوا کنونشن پر دستخظ کرنے والے ممالک میں شامل ہیں اور اسطرح سے اس ملک پر لازم تھا کہ یہ اسیروں سے متعلق اپنے عالمی عہد و پیمان کی پاسداری کرتا لیکن کشمیریوں کے حق میں دوسرے انسانی حقوق کی ہی مانند ا س معاملے میں بھی بھارت جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے اور اسیروں پر بدترین مظالم ڈھانے میں مصروف ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ آج یوم آزادی کے نام پر ہزاروں کشمیریوں کو تھانوں پر بلانے، انہیں قید کرنے،اور انہیں تذلیل کا نشانہ بنانے سلسلہ دراز کیا گیا ہے۔ حد یہ ہے کہ یہ غیر جمہوری عمل آزادی کا جشن منانے کے نام پر جاری ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ عید الاضحی قریب آنے کے ساتھ ساتھ قید و بند کا یہ بدترین سلسلہ اور بھی تیز تر ہورہا ہے اور ایک ایسے وقت کہ جب اسیروں کے رشتہ دار اپنے عزیزوں کی رہائی اور گھر واپسی کے منتظر ہوتے ہیں مذید لوگوں کو اسیر بناکر جیلوں کے اندر ڈالا جارہا ہے ۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ اپنے مخالفین کے خاندانوں اور رشتہ داروں کو ایذا رسانی کا شکار بنانا محض بزدلی اور جیلوں میں مقید سیاسی مخالفین کو تکالیف اور تشدد کا شکار بنانا محض مطلق العنانیت ہی کہلا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کے کہاکہ کشمیری ان معصوم سیاسی اسیروں اور متاثرین کی جلد رہائی کے متمنی ہیں تاکہ وہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ ہمارے یہ اسیر ہماری آزادی اور حق خودارادیت کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں اور ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت میں رائیگان نہیں جانے دی جائیں گی اور حو خودارادیت کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ عالمی برادری ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل،آئی سی آر سی،اور اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن قابل ذکر ہیں کو بھی کشمیری اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور معصوم اسیروں کی جانیں محفوظ بنانے کیلئے اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن مشترکہ قیادت جلد ہی عالمی برادری اور انسانی حقوق اداروں کو ایک خط لکھے گی جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ کشمیری اسیروں کے تئیں اپنا رول ادا کریں۔

حریت کانفرنس (ع) نے 15اگست کو بھارت کی یوم آزادی کے موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئے گئے ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال

سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍حریت کانفرنس (ع) نے 15اگست کو بھارت کی یوم آزادی کے موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئے گئے ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال اور اسے یوم سیاہ کے طور پر منانے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام کسی ملک کے جشن آزادی منانے کے خلاف نہیں لیکن بھارت کے ساتھ ساتھ اس خطے کے کروڑوں عوام ترقی اور امن کے خواہاں ہیں مگر یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اس راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے موثر اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس(ع) نے 15 اگست کو بھارت کی یوم آزادی کے موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیئے گئے ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کشمیر کے حریت پسند عوام پر زور دیاہے کہ بھارت کی جانب سے یہاں کے عوام کی پرُ امن اور مبنی برحق سیاسی جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے کے جو غیر انسانی حربے گزشتہ سات دہائیوں سے جاری ہیں اس کے خلاف بھر پور احتجاج رواں تحریک آزادی کے تئیں مکمل وابستگی کا ناگزیر تقاضہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کسی ملک کے جشن آزادی منانے کے خلاف نہیں لیکن بھارت کے ساتھ ساتھ اس خطے کے کروڑوں عوام ترقی اور امن کے خواہاں ہیں مگر یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب اس راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے موثر اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں۔بیان میں کہاگیا کہ خود بھارت کے عوام نے حصول آزادی کیلئے بیشمار قربانیاں دی ہیں اور چاہئے تو یہ تھا کہ وہ دوسروں کی حق آزادی کو تسلیم کرتے مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنی آزادی کا جشن منانے والوں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداروں نے کشمیری عوام کی سیاسی مذہبی اور اقتصادی آزادی کو طاقت اور فوجی جماؤ کے بل پر سلب کرلیا ہے اور کشمیریوں کی مستند سیاسی قیادت اور یہاں کی حریت پسند عوام کے جذبے مزاحمت کو توڑنے کیلئے آئے روز غیر انسانی حربے آزمانے کا عمل جار ی ہے جو حد درجہ افسوسناک ہے۔بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کی سیاسی اور تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کرنے کے بجائے بھارت کی سیاسی قیادت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے کہ وہ زیادہ دیر تک طاقت اور دھونس دباؤ کی پالیسی سے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دبا نہیں سکتی ۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا تعین صرف یہاں کے عوام کی مرضی سے ہی ہو سکتا ہے ۔کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے بتایا کہ 15 اگست کی تاریخ نزدیک آنے کے ساتھ ہی وادی کے طول وعرض میں فورسز اور پولیس کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے عام لوگوں کی جامہ تلاشی اور ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ جشن آزادی منانے کی آڑ میں حسب سابق پورے کشمیر کو یرغمال بناکر رکھ دیا گیا ہے ۔ بیان میں توسہ میدان بڈگام میں ایک پر اسرار دھماکے کے نتیجے میں ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے اور کئی دوسرے شدید طور زخمی ہونے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس پورے علاقے کو ابھی بارودی شل کی موجودگی سے پاک کرنے کے ضمن میں ریاستی حکمرانوں کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھایا گیا اور آئے روز یہاں آنے والے لوگ حادثاتی طور پر یہ شل پھٹ جانے کے نتیجے میں اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔بیان میں کہا گیا کہ حکمرانوں کی جانب سے یہاں آنے والے لوگوں کے نام Advisory تو جاری کی جاتی ہے لیکن عملاً فوج کے استعمال میں رہے اس پورے علاقے کو ابھی بارودی شلوں سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا گیا ہے جو حکمرانوں کی غیر ذمہ داری اور انسانی جانوں کے تئیں بے احتیاطی کے عمل کو ظاہر کرتی ہے۔

نل کے آرپارموسلاداربارشیں:کشمیروادی کاجموں اورلداخ سے سڑک رابطہ منقطع

پونچھ کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال 
معمرمیاں بیوی اورایک نوجوان لقمہ اجل ، متعددرہائشی اورغیرہائشی عمارات کونقصان
سری نگر؍؍کے این این؍؍اتوارکوشام سے ہی خطہ پیرپنچال اورخطہ چناب میں موسلاداربارشوں کاسلسلہ شروع ہواجسکے نتیجے میں سرحدی ضلع پونچھ کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیداہوگئی کیونکہ ندی نالوں میں طغیانی آئی ۔اس دوران ضلع پونچھ میں دوالگ الگ مقامات پربجلی کرنٹ لگنے اورسیلابی ریلے کی زدمیں آکرمعمرمیاں بیوی اورایک نوجوان لقمہ اجل بن گیاجبکہ متعددرہائشی اورغیرہائشی عمارات کونقصان پہنچنے کی اطلاعات ملیں ۔موسلاداربارشوں کے نتیجے میں کئی مقامات پرمٹی کے تودے اورچٹانیں گرآنے کے بعدسری نگرجموں شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکردیاگیاجسکے نتیجے میں شاہراہ پرلگ بھگ500مسافربرداراورمال بردارگاڑیاں درماندہ ہوکررہ گئیں ۔کے این این کے مطابق موسمیاتی ماہرین کی اس قبل ازوقت پیشگوئی کہ 12اگست تک جموں وکشمیرکے تینوں خطوں میں موسلاداربارشیں ہونے کاامکان ہے ،اتوارکی شام کشمیروادی کے کچھ علاقوں کیساتھ ساتھ خطہ پیرنچال اورخطہ چناب کے تحت آنے والے اضلاع بشمول پونچھ ،راجوری ،رام بن ،اودھم پور،ڈوڈہ اورکشتوا ڑکے کئی علاقوں میں بونداباندھی اوربارشوں کاسلسلہ شروع ہوا ،اوررات دیرگئے بارشوں میں شدت پیداہوئی ۔رات بھربیشترعلاقوں میں بارشوں کاسلسلہ جاری رہنے کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیداہوگئی ۔رام بن کے سری علاقہ کے ساتھ ساتھ ضلع اودھم پور میں کھیری کے مقام پرپسیاں ،مٹی کے تودے اورچٹانیں گرآنے کے نتیجے میں سری نگرجموں شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا۔حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ پسیاں اورمٹی کے تودے گرآنے کی وجہ سے کئی مقامات پریہ اہم شاہراہ ناقابل آمدورفت بن گئی ۔انہوں نے کہاکہ بارشوں کی وجہ سے شاہراہ پرپھسلن بھی پیداہوگئی ،اسلئے سوموارکوعلی الصبح سے ہی سری نگرجموں شاہراہ پرگاڑیوں کی آواجاہی روک دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ لگ بھگ300گاڑیاں مختلف مقامات پردرماندہ ہوکررہ گئیں جسکے نتیجے میں ان میں سواردرجنوں مسافربھی درماندہ ہوکررہ گئے۔حکام نے بتایاکہ اودھم پورہ اوررام بن اضلاع کی حدودمیں بیکن نے قومی شاہراہ پرجمع مٹی کے تودے اورچٹانیں ہٹانے کاکام شروع کردیاہے اوراگرموسمی صورتحال بہتررہی توسوموارکوہی شام دیرگئے تک شاہراہ پردرماندہ پڑی گاڑیوں کواپنی اپنی منزل کی طرف جانے کی اجازت دی جائیگی ۔اس دوران سری نگرلیہہ شاہراہ کوبھی گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے جزوی طورپربندکردیاگیاہے ۔معلوم ہواکہ سونہ مرگ ،دراس روڑپرزوجیلادرے کے نزدیک باجری نالہ کے مقام پرنزدیکی پہاڑیوں سے مٹی کے تودے گرآئے جبکہ پسیاں بھی گرآئیں ۔حکام نے بتایاکہ سوموارکوصبح کے وقت پسیاں اورمٹی کے تودے گرآنے کے بعدسری نگرلیہہ شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکردیاگیا۔تاہم حکام نے یہ جانکاری فراہم کی کہ مغل روڑپرٹریفک کی آواجاہی میں کوئی خلل نہیں پڑا۔ ادھر صوبہ جموں کے سرحدی ضلع پونچھ میں اتوارکورات دیرگئے موسلاداربارش کے دوران رہائشی مکان کوممکنہ سیلابی ریلے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے معمرمیاں بیوی ازجان ہوگئے۔کے این این کے مطابق اتوارکوشام سے ہی ضلع پونچھ کے بیشترعلاقوں میں موسلاداربارشوں کاسلسلہ شروع ہوا،جسکے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیداہوجانے کااندیشہ لاحق ہوا۔ضلع پونچھ کے سرنکوٹ علاقہ کے چھتی بھٹی گاؤں میں جب بارشوں کاپانی کافی مقدارمیں رہائشی مکانات کے گردونواح میں جمع ہونے لگا،اورسیلابی ریلوں کے گھروں میں داخل ہونے کاخطرہ لاحق ہواتومقامی لوگوں نے اپنے مکانات کواس پانی سے بچانے کی کوشش شروع کی ۔اس دوران چھتی بھٹی سرنکوٹ میں 58سالہ مریدحسین اوراُنکی اہلیہ55سالہ نجمہ بی بی بھی اپنے مکان کے باہربارشوں کے پانی کوروکنے میں مصروف تھے ۔پولیس ذرائع کے مطابق گرج چمک کیساتھ بارشیں ہونے کے بیچ جب معمرمیاں بیوی گھرکے باہرسیلابی پانی کوروکنے کی کوششوں میں مصروف عمل تھے تواس دوران ایک بڑادرخت نزدیک سے گزرنے والی ہائی ٹیشن بجلی تارپرگرگیاجسکے نتیجے میں پانی میں بھی بجلی کرنٹ پہنچ گئی ۔پانی میں کرنٹ ہونے سے میاں بیوی بے ہوش ہوکرگرپڑے ۔ایس ایچ اؤسرنکوٹ محمدانظرمیر نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم وہاں روانہ کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ معمرمیاں بیوی کونزدیکی صحت مرکزپہنچایاتاہم یہاں تعینات ڈاکٹروں نے دونوں کومردہ قراردے دیا۔ ایس ایچ اؤنے کہاکہ ضروری لوازمات مکمل کرنے کے بعددونوں کی میتیں آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے لواحقین کے سپردکیاگیا۔اس دوران ضلع پونچھ کے ایک29سالہ نوجوان جاویداقبال ولدعبدالاسلام ساکنہ پاسین لورن جب ڈوباواش کے مقام پرایک نالہ عبورکررہاتھاتوپانی کاتیزبہاؤاس نوجوان کواپنے ساتھ بہالے گیا،جسکی نتیجے میں اُسکی موت واقعہ ہوئی ۔جاویداقبال کی نعش کوبعدازاں گورین علاقہ کے نزدیک الے سے برآمدکیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مہلوک نوجوان کی نعش ضروری لوازمات کے بعدآخری رسومات کی انجام دہی کیلئے لواحقین کے سپردکی گئی۔

ریاست میں نئے گورنر کی تعینات اگلے چند ہفتوں میں عمل میں لائی جارہی ہے۔

سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍ریاست میں نئے گورنر کی تعینات اگلے چند ہفتوں میں عمل میں لائی جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آر ایس ایس کے کٹر لیڈرمانے جانے والے مہاراشٹر کے گورنر سی ودیاساگر راؤ اور سابق داخلہ سیکرٹری راجیو مہریشی میں سے کسی کوبھی ممکنہ طور پر ریاستی گورنر کے عہدے پر فائز کیا جائے گا۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں نئے گورنر کی تعینات اگلے چند ہفتوں میں ممکنہ طور پر عملائی جارہی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی کے موجودہ گورنر این این ووہرا کی دس سالہ مدت کار آنے والے دنوں میں اختتام پذیر ہونے جارہی ہے جس کے ساتھ ہی ریاست میں نئے گورنر کے لیے باضابطہ طور پر نئے چہرے کو سامنے لایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں آر ایس آیس کے کٹر مانے جانے والے اور مہاراشٹر کے گورنر سی ودیا ساگر اور سابق داخلہ سیکرٹری راجیو مہریشی میں سے کسی ایک کو ممکنہ طور پر ریاستی گورنر کے عہدے پر براجمان کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور کشمیر امور کے انچارج رام مادھو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست جموں وکشمیر کے لیے نئے گورنر کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی موجودہ حکومت مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دے سکتی ہے اور انہیں جو بھی ریاست جموں وکشمیر کی بہتری کے حوالے سے مثبت لگے گا وہ ایسے اقدام اٹھائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ اگر چہ ریاست کے موجودہ گورنر این این ووہرا اپنے مدت کار پہلے ہی مکمل کرچکے ہیں تاہم ریاست میں پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کے ٹوٹنے کے بعد نئی دہلی نے ہنگامی طور پر گورنر کی مدت میں تین سال کی توسیع کی جو آنے والے دنوں میں اختتام پذیر ہونے جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اگر چہ مختلف نام نئی دہلی کے سامنے زیر غور تھے تاہم ممکنہ طور پر یہی معلوم ہورہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں نئے گورنر کے لیے آر ایس آیس کے کٹر مانے جانے والے اور مہاراشٹر کے گورنر سی ودیا ساگر اور سابق داخلہ سیکرٹری راجیو مہریشی کے ناموں پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاست کے موجودہ گورنر این این ووہرا اوربھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان کچھ وقت سے ریاست میں کئی معاملات پر اختلاف رائے پیدا ہوا ہے جس کے تناظر میں بی جے پی موجودہ گورنر کی مدت کار میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر این این ووہرا نے مخلوط حکومت کے ٹوٹ جانے کے بعد سے ریاستی اسمبلی کو بحال نہ کرنے اور آرٹیکل 35Aکے حوالے سے الگ مؤقف اختیار کیا ہوا جس کی وجہ سے بی جے پی کے اندر ایک اضطراب پید اہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 35Aجو کہ ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند میں ایک خصوصی پوزیشن فراہم کرتا ہے کے حوالے سے بی جے پی الگ مؤقف رکھتی ہے اوراسی لیے پارٹی گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو مسخ اور مٹانے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں تاہم گورنر این این ووہرا اس سے الگ رائے پر قائم ہے۔ ادھر رام مادھو نے ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ریاست میں گورنر راج ہی فی الحال ریاست کے کام کوج کو سنبھالے ۔رام مادھو نے بتایا کہ اگر نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس متحد بھی ہوجائے تاہم ہم چاہیں گے کہ یہاں گورنر راج ہی کی حمایت کریں گے اور اس کے بعد صدر راج کی بھی حمایت کریں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کی 87نشست والی اسمبلی میں پی ڈی پی کو 28، بی جے پی کو 25، نیشنل کانفرنس کو 15اور کانگریس کو 12نشستیں حاصل ہیں۔ادھر دوسری طرف سیاسی و غیر سیاسی گلیاری میں یہ چہ مگوئیاں گشت کرتی نظر آرہی ہے کہ بی جے پی ریاست جموں وکشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ناراض ممبران کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی جن میں پی ڈی پی کے ناراض ممبران سر فہرست شامل ہیں۔

حالیہ جنگجویانہ حملوں کے نتیجے میں سنگین سیکورٹی خدشات 

۔15اگست کے پیش نظرسیکورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ
سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍حالیہ جنگجویانہ حملوں کے نتیجے میں سنگین سیکورٹی خدشات کے بیچ ’15اگست کے پیش نظرسیکورٹی ایجنسیاں ہائی الرٹ‘ پرہیں جبکہ سخت سیکورٹی حصار اور عرش تا فرش سیکورٹی بندوبست و مزاحمتی لیڈران کی ہڑتال کال کے بیچ بدھوار کے روز سب سے بڑی تقریب بخشی اسٹیڈیم سرینگرمیں منعقدہوگی جہاں صوبائی کمشنر بصیر احمد خان مارچ پاسٹ پرسلامی لینے کے علاوہ جھنڈابھی لہرائیں گے ۔ اس دوران سوموار کو شہر سرینگر میں کئی مقامات پرپولیس اور فورسز کے خصوصی دستوں نے گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ راہگیروں کی تلاشی بھی لی۔ ادھرٹنل کے آرپارجموں سمیت تما م ضلعی صدرمقامات پربھی 15 اگست کی مناسبت سے خصوصی تقاریب کااہتمام کیا جائیگا جہاں سیول انتظامیہ سے وابستہ کئی اعلیٰ افسران پولیس وفورسزکے چاک وچوبنددستوں کے ساتھ ساتھ نجی وسرکاری اسکولوں کے طلباء اورطالبات کے مارچ پاسٹ پرسلامی لینے کے ساتھ ساتھ ترنگا بھی لہرائیں گے ۔ اس دوران بخشی اسٹیڈیم سرینگر اورمولاناآزاد اسٹیڈیم جموں کے علاوہ ضلعی ہیڈکوارٹروں پرمنعقدہونے والی تقاریب کے دوران اسکول وکالج طلبہ کے علاوہ مختلف سرکاری وغیرسرکاری اداروں سے وابستہ فنکاربھی رنگارنگ کلچرل پروگرام پیش کرکے حاضرین کومحظوظ کریں گے ۔ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے 15اگست کی مناسبت سے وادی کے طول و عرض میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امسال 15اگست کی تقریبات کو پرامن اور تشدد سے پاک ماحول میں منایا جائے گا۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق بھارت کے72ویں یوم آزادی کے موقعہ پر سب سے بڑی تقریب نئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقد ہو گی جہاں وزیر اعظم نریندرا مودی ترنگا لہرانے اور مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے علاوہ لال قلعہ کی فصیل سے حاضرین کو خطاب کریں گے ۔جموں و کشمیر میں15اگست کی مناسبت سے سرکاری سطح کی سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہو گی جہاں صوبائی کمشنر بصیر احمد خان مہمان خصوصی کی حیثیت سے پریڈ پر سلامی لینے کے علاوہ ترنگا بھی لہرائیں گے ۔بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی 15اگست کی اس بڑی تقریب کیلئے اسٹیڈیم کے گرد و نواح کے ساتھ ساتھ پورے شہر سرینگر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں سوموار کو پوری وادی میں جگہ جگہ گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ راہگیروں کی تلاشی کارروائی کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔شہر میں تمام حساس مقامات پر حساس کیمروں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے خصوصی دستے بھی متحرک رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی جنگجویانہ حملے یا نا خوشگوار واقعہ کا فوری اور بر وقت سدباب کیا جا سکے ۔بخشی اسٹیڈیم سرینگر کے گردونواح کے لوگوں نے بتایا کہ 15اگست کے پیش نظر حسب روایت انہیں اپنی رہائش گاہوں اور تجارتی مراکز کی بالائی منزلوں کو خالی کرنے کیلئے کہا گیا ہے کیونکہ عمومی طور 15اگست کی تقریب کے پیش نظر اس علاقہ میں سرکاری اور نجی عمارات کی اُوپری منزلوں میں پولیس اور فورسز کے خصوصی دستوں کے ساتھ ساتھ ماہر نشانہ بازوں ’شاپ شوٹرس ‘کو تعینات کردیا جاتا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا کہ 15اگست کی تقریب کے پیش نظر بخشی اسٹیڈیم کے نزدیک سے گذرنے والے راستوں پر سیکورٹی کے سخت بندوبست عمل میں لائے گئے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ہونے والی 15اگست کی تقریب کے موقعہ پر ہونے والے خصوصی پریڈ میں ریاستی پولیس ، سی آر پی ایف ، این سی سی اور دیگر کچھ سیکورٹی ایجنسیوں کے علاوہ مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں زیرتعلیم طلباء و طالبات بھی حصہ لیں گے ۔ اس حوالے سے سرینگر کے شہر خاص میں اور مضافات میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور سنگ باری کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر آج سے ہی سیکورٹی کے کڑے انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں جبکہ شہر میں جگہ جگہ فورسز نے ناکے لگاتے ہوئے گاڑیوں اور راہ گیروں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ اُدھر وادی کے دیگر ضلعی و تحاصیل صدر مقامات پر بھی 15اگست کی تقاریب کے پیش نظر سیکورٹی قبل از وقت مزید سخت کردی گئی ہے اور تمام اضلاع میں مشکوک افراد کی سرگرمیوں پر نظر گذر رکھی جارہی ہے ۔ کے این ایس کے مطابق 15اگست کے پیش نظر سرینگر شہر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر کو مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراؤں پر پولیس اور سی آر پی ایف کے علاوہ فوج بھی گاڑیوں کی تلاشی لے رہی ہے اور نجی یا مسافر بردارگاڑیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی پوچھ تاچھ کے ساتھ ساتھ ان کے شناختی کارڈ بھی چک کئے جارہے ہیں۔جنوبی اورشمالی کشمیر سے بھی نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ15اگست کے پیش نظر سیکورٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ حساس قصبوں اور علاقوں میں فورسز سخت متحرک اور الرٹ ہے جبکہ انہیں کسی بھی طرح کی ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس دوران کے این ایس کو معلوم ہوا کہ سوموار کو پولیس اور فورسزنے اعلیٰ سطحی سیکورٹی میٹنگوں کے دوران 15اگست کیلئے کشمیر اور جموں بالخصوص بخشی اسٹیڈیم سرینگراور مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں کے اندر اور گرد و نواح میں کئے گئے حفاظتی ا نتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دریں اثناء جموں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں مولانا آزاد اسٹیڈیم میں 15اگست کے موقعہ پر بڑی تقریب کا انعقاد ہوگا ۔ کے این ایس کے مطابق 15اگست کی تقاریب کے پیش نظر ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کے علاوہ دیگر تمام سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہیں کیونکہ مختلف سراغرساں ایجنسیوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ 15اگست کی تقاریب کو نشانہ بنانے کیلئے جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ طور حملے ہوسکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ سرینگر شہر میں حساس مقامات پر خفیہ کیمرے پہلے ہی متحرک کردئیے گئے ہیں جبکہ پولیس اور سی آر پی ایف نے اہم مقامات اور مشکوک افراد کی سرگرمیوں پر نظر گذر رکھنے کیلئے خصوصی اسکارڈ تشکیل دئیے ہیں۔ ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے 15اگست کی مناسبت سے وادی کے طول و عرض میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امسال 15اگست کی تقریبات کو پرامن اور تشدد سے پاک ماحول میں منایا جائے گا۔پولیس سربراہ نے بتایا کہ امسال یوم آزادی کی تقریب کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کو قبل از وقت ہی متحریک کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں شہر کے بتہ مالو علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران کچھ جنگجوؤں زخمی حالت میں فرار ہوگئے تاہم سیکورٹی فورسز نے گنجان آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 15اگست کی تقریب کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیاہے۔

Back to Conversion Tool

اسٹیٹ سبجیکٹ قانون

حق خودارایت کے ساتھ جڑا ہوا معاملہ 
چھیڑ چھاڑ سے ہماری قومی و ملی زندگی پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے:ملک
سری نگر؍؍کے این این؍؍لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون براہ راست ہماری حق خودارایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس پر حملے کے ہماری قومی و ملی زندگی پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔جموی مسلمانوں کو مذہبی نفرت کا نشانہ بنانے پر فکر و تشویش ہے۔کے این کے مطابق جموں کشمیر میں نافذ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف کشمیری ہمہ گیر اور بھرپور احتجاجی ایجی ٹیشن شروع کردیں گے۔ جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب میں کوئی بھی ردّوبدل یہاں کے سبھی مکینوں کیلئے نقصان دہ ہے اور جموں کشمیر کے لوگ اپنا لہو بہا کر اپنی خصوصیت اور انفرادیت کا دفاع کریں گے۔ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون براہ راست ہماری حق خودارایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس پر حملے کے ہماری قومی و ملی زندگی پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ ان باتوں کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے امیرا کدل لال چوک پرمنعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ امیرا کدل سے متصل پارک میں موجود احتجاجیوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں اِسٹیٹ سبجکٹ قانون کی مجوزہ منسوخی کے خلاف نیز آزادی کے حق میں پلے کارڈ اُٹھائے تھے اور جو فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے سے خطاب کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ اسٹیٹ سبجکٹ قانون اور اس کا تحفظ کشمیریوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اس قانون ک منسوخی یا اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم کوئی بھی کشمیری خاموش تماشائی بنا نہیں بیٹھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس قانون کی منسوخی یا اس میں کسی بھی قسم کے ردو بدل کے خلاف یک آواز ہیں کیونکہ اس کی منسوخی یا اس میں کسی قسم کی ترمیم ہم سبھوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ کچھ ہند نواز سیاست کار جن کی ذات اور جماعتیں اقتدار و طاقت کی لالچ اور ہوس میں بھارتی ظلم اور ناجائز تسلط کیلئے سہولت کار کا رول نبھاتے آئے ہیں آج مزاحمتی خیمے کی اس مسئلے میں مداخلت پر نالاں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس قانون کا دفاع کرنا دراصل بھارتی آئین کا دفاع ہے۔ہم ان منافقین کو بتانا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر کے لوگ پچھلے ۷۰ برس سے زائد عرصے سے قتل و غارت اور بربادی کا شکار ہیں جس کیلئے خود یہی لوگ اورا نکی جماعتیں ذمہ دار ہیں کیونکہ طاقت کے حصول کیلئے انہوں نے ہی ظالموں اور قابضوں کے سبھی مسلم و کشمیر دشمن منصوبوں کو جموں کشمیر میں نافذ کروایاہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی اور حق خودارادیت کیلئے برسر جدوجہد ہیں اور اسٹیٹ سبجیکٹ قانون براہ راست اس حق اور جدوجہد سے جڑا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون براہ راست ہماری حق خودارایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس پر حملے کے ہماری قومی و ملی زندگی پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اسلئے اس حوالے سے جدوجہد کرنا ہر لحاظ سے ضروری اور اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ۳۵؍ اے منسوخی کی آڑ میں آر ایس ایس کی پشت پناہی والی بی جے پی اور اسکی ذیلی تنظیمیں اسٹیٹ سبجیکٹ قانون جو جموں کشمیر میں ۱۹۲۷ ؁ء سے نافذ ہے کی بیخ کنی کرنے کے متمنی ہیں تاکہ وہ جموں کشمیر میں غیر ریاستیوں بساکر یہاں آبادی کے تناسب کو بدل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح اسرائیلی صیہونیوں نے فلسطین میں زمینوں پر قبضہ کرکے وہاں کے اصل مکینوں کو بے دخل کیا اور اپنا غلام بنالیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نواز سیاست کار دراصل جموں کشمیر بھر میں پونچھ سے لیکر کرگل اور سرینگر سے لیکر ڈوڈہ تک کے لوگوں کے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک سے بوکھلا گئے ہیں لیکن اب لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جموں کشمیر کے لوگ اپنی خصوصی شناخت اور امتیازی حیثیت کے دفاع کیلئے کسی بھی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس راہ میں اپنا لہو بھی بہانے کیلئے تیار ہیں۔جموں کشمیر کے عوا م کو ایک بھرپور اور ہمہ گیر عوامی ایجی ٹیشن کیلئے تیار رہنے اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کا کہتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ ۳۵؍ اے معاملے کو اچھالنے کا مقصد بھی کشمیریو ں کی عزت کو زک پہنچانا، اس سرزمین کی انفرادیت کو زک پہنچانا، کشمیریوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف میں مبتلا کرنااور اس سرزمین پر آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے تاکہ ناجائز تسلط کے خلاف جاری کشمیریوں کی مزاحمت مکمل خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زندہ و جاوید قوم ملت ہونے کے سبب کشمیری مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ اپنے عزت و وقار اور ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کوکیسے محفوظ و مامون رکھا جاتا ہے اور اس ضمن میں کوئی بھی کشمیری کسی بھی قسم کا تساہل نہیں دکھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ سے کوئی بھی ایسا فیصلہ آیا جس سے کشمیریوں کی شناخت مجروح ہوتی ہو یا جو کشمیریوں کے جذبات و احساسات کے منافی ہو گا تو سارا کشمیر سڑکوں پر آکر اس کے خلاف صف آرا ہوجائے گا اوراپنے موروثی اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ جموں میں معروف سماجی قائد ایڈوکیٹ طالب حسین کی مشکوک الزامات کے تحت گرفتاری اور دوران حراست انہیں ذدوکوب کرنے ،بٹھنڈی جموں میں سید مراد شاہ نامی جوان کو براہ راست گولی مار شہید کرنے اور گول رام بن میں گھات لگاکر مکیونوں پر فائرنگ کرنے جس سے ایک اور معصوم محمد شفیع گجر شہید ہوگئے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سبھی ایک منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت جموں میں مذہبی تناؤ پید اکرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں آج ایک بار پھر مذہبی جنونیوں کے نشانے پر ہے جو اپنے حقیر سیاسی مفادات کی رکھوالی کیلئے انسانوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جموی مسلمانوں کے خلاف یہ منصوبے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتے اور ہم جموں کے مظلوم مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ کشمیر کا بچہ بچہ انکی پشت پر ہے اور ان کے مفادات کی رکھوالی کیلئے ہم سے جو بھی بن پڑے گا کیا جائے گا۔

آئینی تحفظ کوکوئی عدالت کیسے تبدیل کرسکتی ہے؟ 

تنازعہ کی ہیئت کو اس کے حتمی حل تک مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی:میرواعظ 
سری نگر؍؍کے این این؍؍ میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی عدالت کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ 1927 کے پشتینی سٹیٹ سبجیکٹ قانون میں کوئی تبدیلی لاسکے کونکہ اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صرف جموں کشمیر کے باشندے بحثیت ایک قوم کے بذریعہ حق خود ارادیت اپنے مستقبل کاتعین کرسکتے ہیں اور جموں کشمیر کے باشندوں نے تاہنوز اس حق کا استعمال نہیں کیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ استعمال حق خود ارادیت کا یہ وعدہ خود ہندوستان کے ویزاعظم نے ریاست کے باشندوں کے ساتھ دنیا کے ساتھ کیا تھا۔ میرواعظ نے پوچھاکہ ایسے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور حکومت ہندوستان کی طرف سے کئے گئے وعدے جس کو اس کی عمل درآمد تک ایک آئینی تحفظ کی شکل دی گئی کوئی عدالت کیسے تبدیل کرسکتی ہے؟ ۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہاں کے عوام کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر اس تنازعہ کی ہیئت کو اس کے حتمی حل تک تبدیل یا مسخ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کیساتھ کھلواڑ ریاست کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرریاست کے پشتینی باشندوں کواقلیت میں تبدیل کرکے بنیادی مسئلے کی ہیت کو بگاڑنے کی نیت سے کیا جارہا ہے جیسا کہ اسرائیل نے فلسطین میں کیاہے۔میرواعظ نے کہا کہ5 اور 6 اگست کو عوام کی طرف سے کی گئی مکمل اور مثالی ہڑتال سے یہ بات واضح ہوگی ہے کہ یہاں کے عوام ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ میرواعظ نے کہا کہ قیادت ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلہ پر صلاح مشورہ کر رہی ہے اور سماج کے تمام طبقوں کو ساتھ لیکر اس جارحیت کیخلاف ایک ہمہ گیر عوامی احتجاج شروع کیا جائیگا۔میرواعظ نے کہا کہ جہاں ہندوستان کی مختلف سرکاروں نے مشروط الحاق کے شرائط کو لگاتار پامال کیا جن پر ریاست میں رائے شماری تک عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہیں یہ المیہ ہے کہ اُن ہند نواز رقائدین اور جماعتوں جنہوں نے حکومت ہندوستان کے ساتھ یہ شرائط طے کی تھیں اِن کا تحفظ کرنے یا حکومت ہندوستان کو ان پر عمل کرانے میں قطعی نام رہیں بلکہ اس کے برعکس یہ جماعتیں اور قائدین ذاتی اقتدار کیلئے ان شرائط کی پامالی میں حکومت ہندوستان کے آلہ کار بن گئے اور آج صورتحال یہ ہے کہ ہمارے وجود کو ہی زبردست خطرہ لاحق ہوگیا۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کے مفادات اور تنازعہ کی بنیادی ہیت کے تحفظ کیلئے کوئی بھی ممکنہ اقدام کرنے سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی سی قوم جو ایک انتہائی طاقتور مد مقابل کے سامنے اپنے حق کے حصول کیلئے ڈٹی ہوئی ہے کی بے مثال اور بے انتہا قربانیاں اس قوم کے عزم واستقلال اور ہمت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔

جموں میں ایک شخص کو دیسی پستول سمیت گرفتار

منڈی تحصیل پونچھ میں اسلحہ وگولی بارود کی بھاری کھیپ ضبط
سری نگر؍؍کے این این؍؍جموں پولیس نے دعویٰ کیا کہ چوبترا چوک جموں میں ایک شخص کو دیسی پستول سمیت گرفتار کیا گیا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ۔ادھر فوج وفورسز نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران منڈی تحصیل پونچھ میں اسلحہ وگولی بارود کی بھاری کھیپ ضبط کی۔کے این این کو ملی تفصیلات کے مطابق جموں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران شہر کے مضافاتی علاقے سے ایک شخص کو دیسی پستول سمیت گرفتار کیا گیا ۔جموں پولیس نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ چوبترا چوک جموں میں ایک شخص کو دیسی پستول(روالور)اور سات راؤنڈ سمیت گرفتار کیا۔گرفتار شخص کی شناخت گوپال داس ولد دھرم چند ساکنہ سرکیولر روڑ لور مست گڑھ کے بطور ہوئی ۔پولیس کے مطابق پولیس پوسٹ چوک چوبترا جموں نے یہ کارروائی عمل میں لائی ۔اس سلسلے میں پولیس ایف آئی آر119/2018زیر دفعہ 25/3آرمز ایکٹ کے تحت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔اس دوران فورسز نے دعویٰ کیا کہ منڈی تحصیل پونچھ میں اسلحہ وگولی بارود ضبط کیا ۔پونچھ میں فوج وفورسز نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران اسلحہ وگولی بارود ضبط کیا گیا۔فورسز کا دعویٰ ہے کہ ضبط اسلحہ وگولی بارود میں ایک9 ایم ایم پستول،میگزین،راؤنڈس،ایک اے کے56 رائفل ،ایک روالور،14 ہینڈ گرینیڈ اور 7.62ایم ایم رائفل شامل ہے۔

کھریو میں بنک سیکیورٹی گارڈ پر حملہ 

اسلحہ چھینے کی کوشش ناکام ،علاقے کا محاصرہ 
سری نگر؍؍کے این این؍؍جنوبی زعفرانی قصبہ پانپور کے کھریو علاقے میں نامعلوم افراد نے اسلحہ چھینے کی کوشش کی ،جس میں وہ ناکام رہے ،تاہم اس دوران جموں وکشمیر بنک شاخ کی حفاظت پر تعینات سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوا۔واقعہ کے فوراً بعد فوج وفورسز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی قصبہ پانپور کے کھریو علاقے میں جمعہ کو اُس وقت سراسیمگی پھیل گئی ،جب یہاں نا معلوم افراد نمودار ہوئے ،جنہوں نے جموں وکشمیر کی بنک شاخ کی حفاظت پر تعینات سیکیورٹی گارڈ پر دھا وابول کر اسلحہ چھینے کی کوشش کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ حملہ آؤروں نے جموں وکشمیر بنک شاخ کھریو کی حفاظت پر تعینات سیکیورٹی گارڈ کی رائفل چھینے کی کوشش کی ،جسدوران سیکیوورٹی گارڈ نے مزاحمت کی ۔معلوم ہوا ہے کہ حملہ آؤروں نے اْسکی رائفک چھینے کی کوشش کی ،تاہم حملہ آؤروں کو سیکیورٹی گارڈ کی زبردست مزاحمت کا سامنا رہا اور وہ رائفل چھینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔اس دوران حملہ آؤرگھبراہٹ کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئے ۔بتایا جاتا ہے کہ حملہ آؤروں اور سیکیورٹی گارڈ کے درمیان مزاحمت کے دوران بنک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ،جسے فوری طو رپر اسپتال منتقل کیا گیا ۔اس دوران سیکیورتٰ فورسز اہلکاروں نے علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی۔تاہم آخری اطلاعات ملنے تک یہاں حملہ آؤروں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔جنوبی کشمیر میں اسلحہ چھینے کی کئی وارداتیں رونما ہوئیں جبکہ یہاں بنک ڈکیتی کی بھی وارداتیں رونما ہوئیں ۔ریاستی پولیس اِ ن حملوں کیلئے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے ۔

معاملہ آرٹیکل 35اے کا 

مشترکہ مزاحمتی قیادت کا طے شدہ پروگرام
حیدر پورہ ،نوہٹہ اور امیراکدل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں 
سری نگر؍؍کے این این؍؍مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اعلان کردہ پروگرام پر جمعہ کوحیدر پورہ ،نوہٹہ اور امیراکدل میں مزاحمتی لیڈران وکارکنان کی جانب سے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے حق میں دفاعی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ۔اس دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آرٹیکل 35اے کا دفاع ہر صورت میں کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنی سرزمین کی خصوصیت اور امتیازی حیثیت کے دفاع کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔کے این این کو ملی تفصلات کے مطابق دفعہ35اے کی منسوخی کی کوششوں کے خلاف بعد نماز جمعہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کیطے شدہ پروگرام کے تحت حیدر پورہ ،نوہٹہ اور امیراکدل میں احتجاج کیا گیا ۔حریت کانفرنس نے ریاست جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں اور مکروہ سازشوں کے خلاف حیدرپورہ چوک میں ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں حریت اکائیوں کے سربراہوں یا نمائندوں بشمول سیکریٹری رابطہ عامہ مولوی بشیر احمد عرفانی، نثار حسین راتھر، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، حکیم عبدالرشید، خواجہ فردوس وانی، سید محمد شفیع، حاجی قدوس، سید امتیاز حیدر، شکیل احمد بٹ، عمران احمد بٹ، عبدالرشید ڈار، محمد حنیف ڈار، محمد شفیع پیر، عبدالحمید اِلٰہی اور ارشد حسین بٹ کے علاوہ حریت پسند نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ احتجاجی مظاہرہ سے قبل حریت کے سینئر راہنماؤں بشیر احمد عرفانی اور نثار حسین راتھر نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دفعہ 35-Aکو ختم کرنے کے لیے بھارت اپنی عدالت عظمیٰ کے ذریعے ریاست کی غالب اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے، یہاں کی زرخیز زمینوں پر غیر ریاستی باشندوں کو فروخت کرنے اور انہیں یہاں ہر محکمے میں ملازمتیں فراہم کرنے جیسی مکروہ سازشوں کے خلاف صف آراء ہونے کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ حریت راہنماؤں نے دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کی منسوخی کو تحریک حقِ خودارادیت کی ہئیت تبدیل کرنے کی ایک گہری چال قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حریت کانفرنس بھارت کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی جارحیت کے ان مذموم ہتھکنڈوں کو ناکام ونامراد بنانے کے لیے ایک مضبوط ومربوط عوامی اتحاد کے ساتھ ہر سطح پر مزاحمت اور مدافعت کرنے کی وعدہ بند ہے اور ہم اپنے حریت پسند عوام کو اس ضمن میں نااُمید ہونے نہیں دیں گے۔ادھر نماز جمعہ کے بعد عوامی مجلس عمل سے وابستہ قائدین اور کارکنوں نے جامع مسجد کے باہر اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے حق میں دفاعی احتجاجی ریلی نکالی۔ادھر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اعلان کردہ پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آج لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین امیرا کدل لال چوک پر جمع ہوئے جہاں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک کی سربراہی میں انہوں نے ۳۵؍اے کی آڑ میں جموں کشمیر میں نافذ اسٹیٹ سبجکٹ قانون کی مجوزہ منسوخی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں فرنٹ قائدین، طلاء، جاون اور بزرگوں اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ زندگی کے کئی دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے والہانہ شرکت کی۔ ماقبل لبریشن فرنٹ کے چیئرمین نے کوکر بازار بنڈ پر قائم مسجد حمزہ میں بھی عوام الناس سے خطاب کیا اور انہیں اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی منسوخی کے مضمرات سے آگاہ کیا۔ فرنٹ چیئرمین نے موروثی اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی مجوزہ منسوخی اور اسکے دفاع کو کشمیریوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری اپنی سرزمین کی خصوصیت اور امتیازی حیثیت کے دفاع کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔