جموں کشمیر میں جاری مزاحمت بھی کربلا کا ہی تسلسل 

حق خودرادیت کے حصول تک کوئی الیکشن عمل قابل قبول نہیں:محمد یاسین ملک کا کاٹھی دروازہ میں حسینی مجلس سے خطاب
سرینگر؍؍کے این این ؍؍کربلا کے بے آب و گیاہ ریگزار میں نواسۂ رسول انور ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے خانوادے کی لازوال قربانی تاریخِ اسلام کا وہ زریں باب ہے جس کی روشنی عالم انسانیت کو ظلم اور ظالم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا پیغام دیتی رہے گی۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق جموں کشمیر میں جاری مظلوموں کی مزاحمت بھی کربلا کا ہی تسلسل ہے جس کابنیادی سبق ق اور سچائی کے موقف پر ڈٹ کر ظالم کے خلاف سرنگوں ہوجانے کے بجائے سر کٹادینا اور اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اس کے ہاتھوں کو روکنا ہے ۔ ان باتوں کا اظہارلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کاٹھی دروازہ سرینگر میں منعقدہ ایک پروقار حسینی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔محمد یاسین ملک ایک وفد کے ہمراہ اس پروقار حسینی مجلس میں پہنچے جہاں انہوں نے جم غفیر سے خطاب بھی کیا۔ مجلس میں شریک لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ کربلا تاریخ عالم میں ایک اہم باب ہے جو ہمیں ازل سے تاابد جاری حق و باطل کے درمیان ستیزہ کاری کی یاد دلاتا ہے جس میں حتمی جیت باالآخر حق کی ہی ہوا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خانوادے نے میدان کربلا میں بھوک پیاس اور تھکان کی انتہا کے باوجود جبر و ظلم کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کرکے جو تاریخ رقم کی ہے وہ تاروز قیامت انسانوں کیلئے مشعل راہ بنی رہے گی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اورانکے مٹھی بھر ساتھیوں نے نہ بھوک کی شکایت کی اور نا ہی پیاس کی شدت میں بے قراری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نا ہی اپنی قلت نفری اور کوتاہ سامانی کا رونا رویا اور نا ہی مصلحتوں اور منفعتوں کے حصول کا سوچ کر مزاحمت ترک کی۔ یاسین ملک نے کہا کہ خانوادۂ رسول ﷺ کے سامنے دو راستے تھے جن میں سے ایک ظالم و جابر کی بالادستی قبول کرکے جان بچانے کا راستہ تھا اور دوسرا جان کی بازی لگاکر ظالم وجابر کے سامنے ڈٹ کر عالم انسانیت کو سرخرو کرنے کا تھا ۔ امام رضی اللہ عنہ نے جان کی بازی لگادینے کے راستے کا انتخاب کرلیا اور یوں اپنے سر دھڑ کی بازی لگاکر ایک ایسی لازوال تاریخ رقم کردی جس کی روشنی قیامت کے دن تک مظلوموں کی راہوں کو منور کرتی رہے گی۔لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ کشمیرجیسے انسانی المیے بھی داستان کربلا کا ہی تسلسل ہیں جہاں ظالم طاقت کے نشے میں چور ہوکر مظلوموں اور مقہوروں پر چڑھائی کررہا ہے اور انکی آزادی ،انکی زندگیوں اور املاک کو سلب کررہا ہے۔آج بھی شمر اور ابن زیاد جیسے لوگ موجود ہیں جن کے سامنے مظلوموں کی آہیں کوئی معنی نہیں رکھتیں اور جن کا واحد مقصد حق پرست مظلوموں کے سر کاٹ دینا ، انکی زبان بندی کرنا اور ہر اُبھرنے والی آہ وفغان کو دبادینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالم مجبور و مقہور کشمیریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کررہا ہے، زخمی کررہا ہے، انکی آنکھیں سلب کررہا ہے، انہیں جیلوں اوت تعذیب گاہوں کے اندر ڈال رہا ہے، انکے جمہوری اور جائز آواز کو فوجی طاقت سے دبارہا ہے یہاں تک کہ عزاداریوں اور ماتم پرسیوں تک بھی پابندیاں عاید کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو مذید ابتلاء و اامتحان میں ڈالنے کیلئے ظالموں نے ایک اور ظالمانہ ڈرامے جسیبلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کا نام دیا جارہا ہے کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر جل رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے معصوم جوانوں کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھ رہی ہیں لیکن ظالم حکمران اس قتل عام اور خون خرابے پر کچھ نادم ہونے یا غم ظاہر کرنے کے بجائے اس سرزمین کو مذید خون سے نہلانے کے درپے نظر آرہے ہیں اور حد یہ ہے کہ یہ سب کچھ جمہوریت اور عوام الناس کو بااختیار بنانے کے نام پر ہورہا ہے۔یاسین ملک نے کہا کہ ۲۰۱۶ ؁ء میں جب عوامی تحریک عروج پر تھی، یہی بھارتی حکمران عوامی احتجاج کی وجہ سے تعلیمی میدان پر پڑنے والے منفی اثرات کا رونا روتے تھے اور بچوں کے سالانہ امتحانات کرانے کیلئے اتاولے لگتے تھے ۔ حد یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے اپنے مقامی گماشتوں کی مدد سے جبری امتحانات بھی کرائے لیکن اس بار معاملہ الٹا ہے اور بھارت کے حکمران اور انکے کشمیری گماشتے بچوں کی تعلیم کے ساتھ کھیلتے ہوئے عین تب جب کہ سالانہ امتحانات منعقد ہوتے ہیں نام نہاد پنچائتی اور بلدیاتی الیکشن ڈرامہ کھیل رہے ہیں اور یوں کشمیری طالب علموں کے مستقبل کے ساتھ بھی کھلواڑ کررہے ہیں۔ یاسین صاحب نے کہا کہ اس عمل نے ایک بار پھر ہمارے سامنے بھارت کے مکروہ اور ظالم چہرے کو عیاں کردیا ہے جس کا واحد کام کشمیریوں پر مظالم توڑنا، انہیں قتل و غارت کا نشانہ بنانا، انہیں تعذیب و ترہیب سے دوچار کرنا اور اس سرزمین پر اپنے ناجائز تسلط اور جبر کو دوام دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں الیکشن ڈرامے رچ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرتا ہے۔ یہ ملک اس عمل کو مذید کشمیریوں کو قتل کرنے، مذید انسانوں کو زخمی کرنے اور انکی بینائی سلب کرنے، ، انکی آواز کو دبانے اور اپنے غیر قانونی قبضے کو قانونی جواز بخشنے کیلئے استعمال کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان کلمہ گو جو امام حسین رضی اللہ عنہ کا سچا عاشق ہو پر لازم ہے کہ اس ڈرامے سے دور اورالگ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک حسینی کیونکر اور کیسے ظالموں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے عمل کا حصہ بن سکتا ہے ،ایک حسینی کیسے اور کیونکر ووٹ ڈال کر قاتلوں اور جابروں کا پشت پناہ بن جانا گوارا کرسکتا ہے کیونکہ ایسا کرکے وہ حسین مظلومؓ کی صف چھوڑ کر ظالموں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔یاسین ملک نے کہا کہ کشمیریوں نے ایک نعرے اور اصول پر کاربند ہوجانے کا عہد کیا ہے اور وہ نعرہ اور اصول یہ ہے کہ حق خودرادیت کے حصول تک کوئی الیکشن عمل ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ اس اصول او رنعرے پر مکمل طور کاربند رہتے ہوئے ان نام نہاد الیکشنوں سے ہمیشہ الگ اور دور رہیں اور دنیا پر واضح کردیں کہ ہم اپنے حق خودارادیت کے حصول کی راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس موقع پر مجلس اسلام ،آزادی، شہداء اور مزاحمتی نعروں سے گونج اٹھی۔درایں اثناء فرنٹ چیئرمین نے ضلع صدر گاندربل کے صدر بشیر احمد راتھر (بویا) کی پولیس کے ہاتھو ں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پولیس نے کل رات بشیر احمد کو چھاپہ ڈال کر گرفتار کیا اور انہیں پولیس اسٹیشن میں مقید کردیا گیا ہے۔

گرفتاریاں کا تازہ چکر نا قابل برداشت 

مزاحمتی ،سیاسی کارکنان اور ہمدردوں کو خوفزدہ کرنا غیر انسانی:میر واعظ 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍حریت کانفرنس(ع) کا اجلاس زیر صدارت حریت کانفرنس چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق حریت صدر دفتر راجباغ سرینگر میں منعقد ہوا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق اجلاس میں جملہ اکائیوں کے سربراہان یا پھر خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ریاست جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیاسی اور تحریکی صورتحال پر تفصیل کے ساتھ غو و خو ض کیا گیا ۔اجلاس میں آئے روز وادی بھر خصوصاً جنوبی کشمیر میں بدنام زمانہ CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ، ہراسانیوں، مار دھاڑ، اور ہزاروں کی آبادی کو محصور کئے جانے کی کارروائیوں پر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی اور اس طرح کی کارروائیوں کو کھلی سرکاری دہشت گردی قرار دیا گیا۔اجلاس میں کشمیر کے طول و عرض میں نہتے عوام کیخلاف طاقت اور تشدد کے استعمال اور قتل و غارت گری کے پے در پے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ ریاستی عوام کی تحریک مزاحمت کے تئیں وابستگی اور بھارت کے جارحانہ اور عوام کُش عزائم کیخلاف کھلی مزاحمت سے حکومت ہندوستان شدید بوکھلاہٹ کے عالم میں اب نہتے عوام کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رہی ہے اور پُر امن مظاہرین کو طاقت کے بل پر کچلنے کی انتقام گیرانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جو عالمی برادری کیلئے چشم کشاء ہونا چاہئے۔اجلاس میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس شوشے کی آڑ میں مزاحمتی ،سیاسی کارکنان اور ہمدردوں کو خوفزدہ کرنے ،انہیں تھانوں میں بلا کر ہراساں کرنے ، گھروں پر چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کے چکر کو غیر جمہوری ، غیر اخلاقی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے یہ بات واضح کی گئی کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کسی قوم کی اجتماعی جدوجہد اور قوت مزاحمت کو طاقت کے بل پر نہ تو دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کو اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار کیا جاسکتا ہے اورنہ لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج اور فورسز کو نہتے کشمیریوں پر مسلط کرکے یہاں کی مزاحمتی قیادت اور حریت پسند عوام کو اپنی مبنی برحق تحریک حق خودارادیت کے تئیں ان کی غیر متزلزل وابستگی ختم کی جاسکتی ہے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کی ہائی کمشنر Michelle Bachelet کے حکومت ہند کی جانب سے کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں پر دیئے گئے بیان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ UNO کے انسانی حقوق کے اجلاس میں شرکت کیلئے حریت کانفرنس کی اس وقت جنیوا میں موجود ٹیم اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائے اور حکومت ہند اور اسکی قابض افواج کی جانب سے کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔

حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا غیر معمولی

تقسیم ہند کے موقعہ پر ریاستی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا:گیلانی
سرینگر؍؍کے این این ؍؍حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک غیر معمولی اجلاس زیرِ صدارت حریت چیرمین سید علی گیلانی حیدرپورہ سرینگر میں منعقد ہوا جس میں حقِ خودارادیت کے حوالے سے تازہ ترین سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔کے این این کو موصولہ ایک بیان کے مطابق اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کے میز پر سب سے دیرینہ حل طلب سیاسی اور انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے پُرامن تصفیے کے لیے ریاست کے عوام کو استصواب رائے کا موقعہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مجلس شوریٰ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1947 ؁ء میں تقسیم ہند کے موقعہ پر ریاستی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کرتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارت کو ریاست کی سرزمین پر فوجی قبضہ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا جس کا کوئی سیاسی اور اخلاقی جواز موجود نہیں تھا۔ حریت چیرمین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت بھی ریاست کے چند مفاد خصوصی رکھنے والے سیاسی قائدین کو بھارت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور تب سے اب تک یہی ہندنواز سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں روڑے اٹکانے میں استعمال کی جارہی ہیں۔ حریت راہنما نے قرآانی ہدایات کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو اپنی مدد فراہم کرتا ہے، جو راہ حق میں اپنے اعلیٰ کردار کے ساتھ جدوجہد کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہوں۔ شرک، حسد، بدعات، دنیا پرستی اور شخص پرستی کی بیماریوں کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرکے علاج کرنے کا استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ حریت راہنما نے امت مسلمہ کے زوال کا سبب قرآنی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں قرآنی تعلیمات سے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حریت راہنما نے بالخصوص نوجوانوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو بے حیائی، منشیات، آوارہ گردی اور دیگر سماجی برائیوں سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ مذہبی اور جدید علوم سے متعلق تعلیم حاصل کرکے نیکی اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے۔ حریت راہنما نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے اندر مجوزہ میونسپل اور پنچائتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کئے جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے اپنی تحریک حقِ خودارادیت کے لیے اتنی عظیم قربانیاں پیش کی ہوں وہ قوم غاصب حکمرانوں کی الیکشن عمل جیسی فریب کاریوں سے بار بار دھوکہ کھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ حریت راہنما نے ریاست جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار اور اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرنے کے لیے سبھی ہندنواز جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایسی پارٹیوں نے اپنے حقیر مفادات کے لیے ریاستی عوام کو دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ حریت راہنما نے حریت پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کسی بھی الیکشن عمل میں حصہ لینا اپنی بے مثال قربانیوں کے ساتھ وفاداری کا شیوہ نہیں ہوسکتا، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مکمل الیکشن بائیکاٹ کو ہر سطح پر عملانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ حریت راہنما نے جملہ شہدائے کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان شہداء کے لہو سے سینچی ہوئی تحریک مزاحمت کی امین ہے اور اِسے اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہم سب کی ملی ذمہ داری ہے۔حریت راہنما نے ریاست اور ریاست سے باہر سبھی جیل خانوں میں مقید حریت راہنماؤں اور کارکنوں کے جذبۂ آزادی اور بلند حوصلوں کو عقیدت کا سلام ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان محبوسین کے ساتھ جیل حکام کی طرف سے غیر انسانی سلوک روا رکھنا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اجلاس میں مجلس شوریٰ کے ارکان غلام نبی سمجھی، شاہد سلیم، سید محمد شفیع، محمد یٰسین عطائی، بلال احمد صدیقی، مولوی بشیر احمد، گلزار احمد، نثار حسین راتھر، یاسمین راجہ، زمرودہ حبیب، امیر حمزہ شاہ، خواجہ فردوس وانی، امتیاز احمد شاہ اور غلام احمد گلزار نے شرکت کی۔

نوجوان کی ہلاکت ،اننت ناگ قصبہ میں ہڑتال 

قصبے میں شبانہ چھاپہ ماری ،تحریک حریت تحصیل صدر سمیت کئی گرفتار
سرینگر؍؍کے این این ؍؍جنوبی قصبہ اننت ناگ میں منگل کو آنچی ڈورہ کی ہلاکت کے خلاف منگل کو تعزیتی ہڑتال رہی ،جسکی وجہ سے یہاں روزمرہ معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔اس دوران قصبے میں پولیس وفورسز نے چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران تحریک حریت کے تحصیل صدر سمیت کئی افراد کو حراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا گیا ۔کے این این کے مطابق جنوبی قصبہ اننت ناگ میں منگل کو آنچی ڈورہ کے نوجوان کی ہلاکت پر ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔اطلاعات کے مطابق قصبہ اننت ناگ میں منگل کو دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔ہڑتال کے باعث قصبہ میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھا ۔روف احمد گنائی ساکنہ الفاروق کالونی آنچی ڈورہ اننت ناگ 15 ستمبر کو احتجاجی مظاہروں کے دوران فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تھا۔اس دوران مہلوک نوجوان کے حق میں تعزیتی ودعائیہ مجلس منعقد ہوئی جس میں لوگوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی ۔اس تعزیتی تقریب میں مرحوم کے حق میں فاتحہ خوانی کے علاوہ اہلخانہ کے ساتھ تعزیت پرسی کی گئی ۔اس دوران اننت ناگ میں دوران شب چھاپہ مار کارروائیوں کے تحریک حریت کے تحصیل صدر سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جنوبی قصبہ اننت ناگ میں 17 اور18 ستمبر کی درمیانی رات کو مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران تحریک حریت کے تحصیل صدر سمیت کئی افراد کوحراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران کئی نوجوانوں کو بھی حراست میں لیا گیا ،جن میں تحریک حریت کے تحصیل صدر عاشق حسین بھی شامل ہے۔

پنچایتی انتخابات اور جنوبی کشمیر 

تین روز میں چار پنچایت گھر وں کو نذر آتش کیا گیا 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍پنچایتی انتخابات کا بگل بجنے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر میں پُراسرار طور پر پنچایت گھروں کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ،جس دوران گزشتہ تین روز کے دوران جنوبی کشمیر کے2اضلاع پلوامہ اور شوپیان کے مختلف دیہات میں4پنچایت گھروں کو شعلوں کی نذر کیاگیا ۔پولیس نے پنچایت گھروں کی آتشزدگی واقعات کے حوالے سے الگ الگ مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔کے این این کے مطابق پنچایتی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر میں پنچایت گھروں کو پُراسرار طور پر آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق سیرجاگیر ترال کے بعد جنوبی کشمیر میں مزید تین پنچایتی گھروں کو نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں شعلوں کی نذر کیا ۔پولیس نے ان واقعات کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔معلوم ہوا ہے کہ پیر اور منگل کی شب نامعلوم افراد نے جنوبی کشمیر کے دو اضلاع پلوامہ اور شوپیان میں بیک وقت تین پنچایت گھروں کو نذرآتش کیا ۔اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے نازنین پورہ شوپیان میں پنچایت گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ،جسکی وجہ سے اسکی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ پولیس ترجمان نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فائر اینڈ ایمرجنسی عملے کی بروقت کارروائی سے عمارت کو خاکستر ہونے سے بچالیا گیا ۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔اس دوران شوپیان کے قریبی ضلع پلوامہ کے ناگ بل ترال گاؤں میں زیر تعمیر پنچایت گھر کو شعلوں کی نذر کیا۔اس دوران دربگام پلوامہ میں بھی اطلاعات کے مطابق پنچایت گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔اس عمارت کوآگ کی واردات میں جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔اس سے قبل سیرجاگیر ترال میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو نامعلوم افراد نے پنچایت گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی ،جسکی وجہ سے عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا ۔پنچایت گھروں کو پْراسرار طور پر شعلوں کی نذر کرنے کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں وکشمیر میں ماہ نامبر سے پنچایتی انتخابات نو مرحلوں میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ گزشتہ تین روز کے دوران جنوبی کشمیر کے2اضلاع پلوامہ اور شوپیان کے مختلف دیہات میں4پنچایت گھروں کو نذر آتش کرنے کے واقعات کا پولیس سنجیدہ نوٹس لیا اور الگ الگ مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔پو لیس کا کہنا ہے کہ یہ شرپسندوں کی کارستانی ہوسکتی ہے ،تاہم ملی ٹنسی کے عنصر کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کا آف انڈیا میں ریاست میں 17نومبر سے 11دسمبر تک 9مرحلوں میں پنچایتی انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔یہ اعلان ریاست جموں وکشمیر کی دو اہم علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود کیا گیا۔

نیوہ پلوامہ میں فورسز کیمپ پر شبانہ مسلح حملہ

ایک فورسز اہلکار زخمی 
کیمپ پر داغا گیا ہتھ گولہ پھٹنے سے رہ گیا ،جنگجو فرار 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍سیکیورٹی ہائی الرٹ کے بیچ جنوبی ضلع پلوامہ کا نیوہ علاقہ اُس وقت پیر اور منگل کی رات کو گولیوں کی گن گرج سے لرز اٹھا جب مسلح جنگجوؤں نے یہاں قائم ایس اوجی اور سی آر پی ایف کے مشترکہ کیمپ پر گرینیڈ داغے اور فائرنگ کی ۔طرفین کے مابین مختصر گولیوں کے تبادلے کے دوران ایک فورسز اہلکار زخمی ہوا ،جسکی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے جبکہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کرفرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔اس دوران فورسز نے حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد جنوبی کشمیر کے تین انتہائی حساس اضلاع شوپیان ،کولگام اور پلوامہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کئے جانے کے بیچ پیر کی شب مسلح جنگجوؤں نے نیوہ پلوامہ میں قائم ایس او جی اور سی آر پی ایف کے مشترکہ کیمپ پر مسلح حملہ کیا ۔اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق جنگجوؤں نے 17اور18ستمبر کی درمیانی رات قریب ایک بجے نیوہ پلوامہ میں قائم ایس او جی اور 183 بٹالین سی آر پی ایف کے مشترکہ کیمپ کو اڑانے کی غرض سے گرینیڈ داغے اور فائرنگ کی ۔اندھا فائرنگ کے جواب میں کیمپ میں موجود فورسز اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی میں فائرنگ کی جسکی وجہ سے یہ پورا علاقہ رات کے سناٹے میں لرز اٹھا اور انکاؤنٹر کے خد شات کے پیش نظر لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فورسز اہلکار زخمی ہوا ،جسکی بعد میں شناخت منظور احمد کے بطور ہوئی ۔زخمی اہلکار کو پہلے نزدیکی طبی صحت مرکز پہنچایا گیا ،جہاں سے اُسے بادامی باغ سرینگر کی فوجی چھاؤنی میں واقع 92بیس اسپتال منتقل کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ اہلکار کے کندھے میں گولی لگی اور اُسکی حالت مستحکم ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے فورسز کیمپ پر رائفل گرینیڈ بھی داغے اور وہ پھٹنے سے رہے ۔جنگجوؤں نے گوریلا طرز پر کیمپ پر حملہ کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔حملہ کے بعد علاقے کا محاصرہ کیا اور حملہ آؤر جنگجوؤں کی تلاش شروع کردی ،جو منگل کی صبح بھی جاری رہی ،تاہم اس دوران حملہ آؤر جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں وکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کر رکھا ہے ۔بلدیاتی چناؤ کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے 3 حساس اضلاع پلوامہ ،کولگام اور شوپیان میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا اور حملے سے محفوظ رہنے کیلئے فورسز تنصیبات کے ارد گرد سیکیورٹی کو مزید چوکس رہنے کی پیشگی ہدایت دی گئی ہے ۔

سیول لائنز میں8اور10محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کی برآمد گی پر عائد پابندی برقرار 

بندشیں ،پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ 
شہر کے 8پولیس تھانوں میں آج حکم امتناعی نافذ رہے گا،کاٹھی دروازہ میں ساتویں محرم الحرام کا ماتمی جلوس برآمد
سرینگر؍؍کے این این ؍؍گور نر انتظامیہ نے سیول لائنز میں8اور10محر م الحرام کے ماتمی جلوسوں کی برآمد گی پر تین دہائیوں سے عائد پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ لیا ہے،جسکے تحت آج یعنی بدھ کے روز شہر کے8پولیس تھانوں اور ایک پولیس چوکی کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہے گا ۔حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں محرم الحرام کے جلوسوں کی برآمد گی پر کسی طرح کی پابندی عائد نہیں ہے ،تاہم سیول لائنز میں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ایسے جلو سوں کی برآمدگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ادھر اتحاد المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ 8محرم الحرام کاجلوس عزاء ہر صور ت میں نکالا جائے گا۔اس دوران کاٹھی در وازہ رعناواری میں ساتویں محرم الحرام کے سلسلے میں شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری کا جلوس برآمد ہوا جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے لاکھوں عقیدتمندوں کے علاوہ مزاحمتی لیڈران محمد یاسین ملک ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور مولانا مسرور عباس انصاری نے شرکت کی ۔کے این این کے مطابق گور نر انتظامیہ نے سیول لائنز میں8اور10محرم الحرام کے ماتمی جلو سوں کی برآمد گی پر تین دہائیوں سے عائد پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ لیا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اٹھائے جارہے ہیں ،تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو ۔یاد رہے کہ وادی کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے کے ساتھ ہی90کی دہائی میں سیول لائنز میں8اور10محرم الحرام کے ماتمی جلو سوں کی برآمد گی پر پابندی عائد کی گئی ،جو ہنوز برقرار ہے ۔8محرم الحرام کو حبہ کدل سے ڈل گیٹ تک ایک ماتمی جلوس برآمد ہوا کرتا تھا جبکہ10محرم الحرام کو آبی گزر سرینگر سے ایک ماتمی جلوس برآمد ہوا کرتا تھا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 8اور10محرم الحرام کے ماتمی جلو سوں کی سیول لائنز میں عائد پابندی کو ہٹانے کیلئے شیعہ نمائندوں نے انتظامیہ کے ساتھ گفت وشنید کے کئی ادوار ہوئے ،تاہم گور نر اور صوبائی انتظامیہ نے سیول لائنز میں ان جلو سوں کی برآمد گی پر عائد پابندی کو ہٹانے سے انکار کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ حکام نے شیعہ نمائندوں کو بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات اور کئی خدشات کے پیش نظر انتظامیہ ان جلو سوں کی برآمد گی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے جبکہ انتظامیہ شیعہ نمائندوں سے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے جہاں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوتے ہیں ،اُ نکی برآمد گی کیلئے انتظامیہ ہر ممکن تعاؤن دینے کیلئے تیار ہے جبکہ اس سلسلے میں سیکیورٹی سے لیکر دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی تک انتظامیہ ہر سطح پر اقدامات اٹھائے گی اور بنیادی سہولیت فراہم کرنے کیلئے وعدہ بند ہے ۔ذرائع نے بتایا گور نر انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سیول لائنز میں8اور10محرم الحرام کے ماتمی جلو سوں کی برآمد گی پر تین دہائیوں سے عائد پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ لیا ۔ذرائع نے بتایا کہ8اور10محرم الحرام یعنی بدھ اور جمعہ کو انتظامیہ نے شہر سرینگر کے 8پولیس تھانوں اور ایک پولیس چوکی کے تحت آنے والے علاقوں میں حکم امتناعی نافذ کرنے کا فیصلہ لیا اور پولیس حکام کو اس ضمن میں ضروری ہدایت بھی دی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ ماتمی جلوسوں کو روکنے کیلئے سیول لائنز کے بیشتر علاقوں میں بدھ اور جمعہ کو دفعہ 144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہے گا ۔ذرائع نے بتایا کہ 19اور21ستمبر کو پولیس تھانہ شہید گنج ،بٹہ مالو ،شیر گڈھی ،کرن نگر ،کوٹھی باغ ،مائسمہ ،کرالہ کھڈ ،رام منشی باغ اور نہرو پارک پولیس چوکی کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہے گا ۔ان دونوں ایام کے دوران سیول لائنز میں ٹریفک کی نقل وحمل کو جاری رکھنے کیلئے نیا روٹ پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ ریڈ یو کشمیر کراسنگ ،ڈلگیٹ ،ریگل چوک ،فائر اینڈ ایمرجنسی کراسنگ وغیر ہ سے ٹریفک کو دوسرے روٹوں کی جانب موڑ دیا جائیگا ۔ادھر حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں محرم الحرام کے جلوسوں کی برآمد گی پر کسی طرح کی پابندی عائد نہیں ہے ،تاہم سیول لائنز میں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ایسے جلو سوں کی برآمدگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔اس دوران اتحاد المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ 8محرم الحرام کاجلوس عزاء ہر صور ت میں نکالا جائے گا۔ادھر کاٹھی در وازہ رعناواری میں ساتویں محرم الحرام کے سلسلے میں شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری کا جلوس برآمد ہوا جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے لاکھوں عقیدتمندوں کے علاوہ مزاحمتی لیڈران محمد یاسین ملک ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور مولانا مسرور عباس انصاری نے شرکت کی ۔ایک موصولہ بیان کے مطابق شہدائے کربلا کی یاد میں جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے اہتمام سے اندرونی کاٹھی دروازہ رعناواری سے ایک عظیم الشان عزاداری کا جلوس برآمد ہوا جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے لاکھوں عقیدتمندوں نے شرکت کی ۔جلوس عزاء میں اتحاد المسلمین کے صدر وسینئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مسرور عباس انصاری کے علاوہ متحدہ مزاحمتی قیادت کے رکن اعلیٰ محمد یاسین ملک اور دیگر حریت زعماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی ۔عظیم الشان جلوس عزاء کے افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مولانا مسرور عباس ا نصاری اور محمد یاسین ملک نے ایمان افروز خطابات کرتے ہوئے شہدائے کربلا و اسیران کربلا کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔عزاداروں کے جم غفیر سے مولانا مسرور عباس انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام کی شہادت امت اسلامیہ کیلئے ایک بیش بہا اور گرانقدر سرمایہ ہے اور شہادت کا یہ عظیم سرمایہ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کیلئے چشمہ ہدایت بن گیا۔انہوں نے کہا کہ معرکہ کربلا حق و باطل کا آئینہ ہے جو حق کے طلبگاروں اور باطل پرستاروں کے درمیان لکیر کھینچ رہا ہے ۔مولانا مسرور عباس انصاری نے کہا امام عالی مقام حضرت ابا عبد اﷲ الحسین ؑ کے سیرت طیبہ کی پیروی ان کے تئیں بہترین خراج عقیدت ہے اور وہی فرد اصل عزاداراورشفاعت کا حقدار ہے جو امام عالی مقام کے نقش قدم پر عمل پیرا ہو۔انہوں نے ملت اسلامیہ کشمیر سے اپیل کی کہ مسلک وملت کو بالائے طاق رکھ کر باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ عزاداری کے جلوسوں میں شرکت کرکے یزیدیت کے خلاف بھر پور احتجاج درج کریں۔مولانا نے بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کابھی مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ۔محمد یاسین ملک ،مولانا مسرور عباس انصاری اور دیگر رہنماؤں نے یک زبان ہوکر کہا کہ سرکاری قدغنوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 8محرم الحرام کا جلوس ہر صورت میں نکالا جائیگا ۔ انہوں نے عزاداروں سے تلقین کی کہ اس جلوس کوشان و شوکت کے ساتھ برآمد کرنے کیلئے جوق در جوق سرینگر کا رُخ کریں۔اس دوران انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے ساتویں محرم کو بھی وادی کے طول و عرض میں مجالس اور جلوس ہائے عزا کا سلسلہ جاری رہا۔ علم شریف کا سب سے بڑا جلوس اندروں کاٹھی دروازہ رعناواری سرینگر سے تنظیم کے سربراہ اور سیئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد ہوکر قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں اختتام پذیر ہوا۔ جلوس عزا میں دسیوں ہزار عزاداروں نے شرکت کی اور نوحہ خوانی و مرثیہ خوانی کی صورت میں شہدائے کربلا کو گلہائے عقیدت نذر کئے۔ جن دیگر مقامات پر ساتویں محرم کو علم شریف کے جلوس برآمد کئے گئے ان میں گذرگنڈ، پاٹواو،جہامہ، کری پورہ، وتہ ماگام بیروہ، آستان پورہ چھترگام، سنزی پورہ چاڈورہ، سوٹھ کٹر باغ،یاگی پورہ ماگام، سونہ پاہ ،میرگنڈ، پارس آباد،بٹہ چک راجہ محلہ دندوسہ، گریند کلان، شالنہ، پائین محلہ گریند، لبرتل، علی پورہ چاڈورہ، ریشی پورہ بڈگام، گلشن علی شالیمار، کرالہ پورہ جڈی بل،جے کے پی سی سی ایگرو باغ سرینگر، آباد پورہ گامدو، بنہ محلہ نوگام، کاوپورہ اندرکوٹ، بونہ محلہ اندرکوٹ، گگلو محلہ زالپورہ، اوڑینہ، چھانہ محلہ پائین نوگام سوناواری، دیور ملہ پورہ دسلی پورہ پٹن بارہمولہ، وکھرون پلوامہ شامل ہیں۔ کاٹھی دروازہ رعناواری سے برآمد کئے گئے جلوس علم شریف میں متحدہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے لبریشن فرنٹ کے سربراہ حاجی محمد یاسین ملک،عوامی ایکشن کمیٹی کے مشتاق احمد صوفی و دیگر مزاحمتی تنظیموں کے نمایندوں اور شیعہ سنی کارڈینیشن کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ اس موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے شہادت عظمیٰ حضرت امام حسینؑ کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔اس موقعہ پر آغا حسن نے انجمن شرعی شیعیان کے اراکین اور نوجوان رضاکاروں کا پرخلوص شکریہ ادا کیا جنہوں نے جلوس میں نظم و نسق قائم و دائم رکھنے میں اپنا گرانقدر خدمات انجام دیں۔ 

کشمیر میں سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں ؍راجناتھ سنگھ 

35A کو سپریم کورٹ میں چلینج کیا گیا اور عدالتی فیصلے کا سب کو انتظار ؍ نئے اور بدلے پاکستان کیلئے پر امید ہیں ؍سمارٹ فینسنگ پروجیکٹ کا افتتاح کے موقعے پر جموں میں وزیر داخلہ کا اظہار خیال 
سرینگر؍؍الفا نیوز سروس ؍؍ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیرکی سبھی سیاسی جماعتوں کو آنے والے بلدیاتی اور پنچائتی چناؤ میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ یہی ایک راستہ ہے جس سے ان کا عوام کیساتھ براہ راست رابط یقینی بن سکتا ہے لہذا وہ بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کریں ۔اس دوران انہوں نے واضح کر دیا کہ 35Aکا معاملہ سپریم کورٹ میں چلینج کیا گیا ہے اور عدالتی فیصلے کا سب کو انتظار ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت میں پاکستان کا بھارت کے تئیں رجحان بدل جائیگا اور وہ سمجھ پائیگا کہ کس طرح سے اچھے ہمسائیہ کے طور پر تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں حالانکہ بھارتی وزیراعظم نے پروٹوکال کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کیساتھ تعلقات کو قائم کرنے کی ایک بڑی پہل کی تھی ۔الفا نیوز سروس کے مطابق جموں میں کنٹرول لائن پر چوکسی کیلئے سمارٹ فنسنگ پائیلاٹ پروجیکٹ کا افتتا ح کرتے ہوئے نامہ نگاروں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرحد پار دراندازی بھارت کیلئے شروع سے ہی درد سر بنی ہوئی ہے اوراس کو ختم کرنے اور اس پر روک لگانے کیلئے جدید سے جدید نظام کی ضرورت ہے تاکہ افرادی طور پر فوج پر دباو کو کم کیا جاسکے اور اس فینسنگ پروجیکٹ کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکیں گے اور کشمیر میں سرحد پار کی دراندازی پر بھی روک لگائی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس نظام کی وجہ سے حقیقی معنوں میں اب فوج کو کنٹرول لائن پر زیادہ محنت نہیں کرنا پڑیگی کیونکہ یہ پائیلاٹ پروجیکٹ کنٹرول لائن کی نگرانی کرنے میں کافی کارآمد ثابت ہوگی ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوں نے اس پروجیکٹ کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے کہاکہ جب انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تب انہیں یہ سمارٹ فینسنگ پروجیکٹ نظر آیاتھا اور واپسی کے فورا بعد اس پر کام کیا گیا اور اس کو بھی کنٹرول لائن کے نزدیک نصب کیا جائیگا جس سے ہماری دشمن پر نظر بنی رہیگی ۔ اس دوران انہوں نے مزید کہاکہ یہ ایک مکمل انٹیگریٹنڈ بارڈر منیجمنٹ نظام ہوگا جس کی وجہ سے بہت سارے فوائد حاصل ہونگے اور دشمن سے ہماری سرحدیں کسی حد تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق اس موقعے پر نامہ نگاروں نے انہیں کشمیر میں بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کے حوالے سے پوچھا کہ کچھ ایک جماعتوں نے وہاں بائیکاٹ کی کال دی ہے تو ایسے میں پنچائتی انتخابات کیسے ہوسکتے ہیں اور ان کا ان سیاسی جماعتوں سے کیا کہنا ہے کہ تو راجناتھ سنگھ نے جواب میں کہاکہ میں جموں وکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات میں شرکت کریں اور بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ یہی ایک راستہ ہے جس سے وہ عوام کیساتھ براہ راست رابط قائم کر سکتے ہیں یارکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ عوام کے رابطے میں رہیں ۔ اس دوران پاکستان میں نئی سرکار کے حوالے اور اس ملک کیساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ پاکستان میں نئی حکومت آگئی ہے اور عمران خان کی صورت میں ملک کو وزیراعظم بھی ملا ہے لہذا اوہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان بدل جائے اور وہ سمجھ جائے کہ کس طرح سے ہمسائیہ ممالک کیساتھ رہنا ہے اور اور تعلقات کو کس طرح سے بہتر بنانا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بہت بار یہ کوشش کی ہے کہ پاکستان بدل جائے لیکن وہ ملک بدلنے کیلئے تیار نہیں ہے تو اس میں ہماری کیا خطا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مجھے خود بدلنا ہے اور اگر میں نہ بدلو تو کوئی اور مجھے آکر بدل دے یہ تو ناممکن والی بات ہے ۔ پاکستان کیساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہاکہ ہم نے اچھے ہمسائیگی اور تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بہت کچھ کہا ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنا پروٹوکال بھی داو پر لگا دیا تاکہ پاکستان کیساتھ رشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اپنا وطیرہ تبدیل کرنا ہی ہوگا اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ پاکستان بدل جائے تاکہ خطے میں امن وآشتی کا نیا دور شروع ہوجائے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق اس دوران انہوں نے 35Aکے معاملے پر کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کا سب کو انتظار ہے لہذا اس کو بنیاد بنا کر بائیکاٹ بلا جواز ہے ۔لہذا میری جموں وکشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات میں حصہ لیں تاکہ ریاست میں جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے ۔مرکزی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کیساتھ بہتر تعلقات کیلئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان بھی اپنے وعدوں کو پورا کرے اور اپنے آپ کو بدل دے جس میں دونوں ممالک بہتر ہمسائیہ کی طرح رہ سکیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی اچھے ہمسائیہ ہونے کا فرض نبھانے کیلئے تیار ہیں جس کو دیکھتے ہوئے بھارت نے کئی بار پہل بھی کی ۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے حق میں ہیں اور ایک مستحکم پاکستان بھی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی نئی حکومت عمران خان سے امید کرتے ہیں کہ وہ بھی بھارت کیساتھ بہتر تعلقات کو یقینی بنانے کی پہل کریں گے تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور خوشگوار فضا کو قائم کیا جا سکے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق لہذا ہم دعا کریں گے ایک بدلا ہوا پاکستان مل جائے اور جو پہلے تھا اس سے بھی بہتر ہو نہ کہ بدتر ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں نئی بہار آئے اور خوشیاں اور امن لوٹ آئے ۔انہوں نے سمارٹ فینسنگ کے حوالے سے کہاکہ یہ کنٹرول لائن پر اس جگہ نصب کی جائیگی جہاں خار دار تار نصب کرنا ممکن نہیں تاکہ سرحد پار کی دراندازی کو روکا جا سکے اور کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحدوں کی نگرانی کا عمل یقینی بنایا جا سکے تاکہ دشمن پر بھی ہماری کڑی نگاہ رہ سکے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ادھر آج دو پائلٹ پروجیکٹوں کی لانچنگ ہوئی ہے جبکہ نومبر کے مہینے میں آسام میں بھی ۶۰ کلو میٹر طویل پائلٹ پروجیکٹ کی لانچنگ ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا ’آج ہمارے وزیر اعظم کا بھی جنم دن ہے۔ آج اس موقع پر اس سی آئی بی ایم ایس کو بھارت کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے سبھی بھارت کے بہادر جوانوں کے نام کرتا ہوں‘۔ اس موقع پر وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، ڈی جی بی ایس ایف کے کے شرما اور وزارت داخلہ کے متعدد عہدیدار بھی موجود تھے۔ بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ جموں میں بین الاقوامی سرحد پر سمارٹ باڑ کے دو پروجیکٹوں پر کام مکمل کیا جاچکا ہے جن کا آج وزیر داخلہ کے ہاتھوں افتتاح ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں سمارٹ باڑ پروجیکٹوں کی کچھ روز قبل کامیاب آزمائش بھی کی گئی تھی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ سمارٹ باڑ کے پروجیکٹوں میں جدید ٹیکنالوجی اور گیجٹریری کا استعمال کیا گیا ہے۔ 

کولگام میں فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت 

16 ستمبرکو غائبانہ نماز جنازہ ،17ستمبر کو مکمل ہڑتال :مزاحمتی قیادت 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے معرکہ کولگام قاضی گنڈمیں پانچ جنگجوؤں اور ایک عام شہری کو جاں بحق اور بیسیوں افراد کو شدید زخمی کئے جانے کی ہلاکت خیز کارروائی کے خلاف سوموار مورخہ 17؍ستمبر کو مکمل ہڑتال کرنے اور 16؍ستمبر اتوار بعد نماز ظہر شہدائے قاضی گنڈ کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر کو ایک مستقل میدانِ جنگ میں تبدیل کیا گیا ہے، جہاں عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِسے فوجی طاقت کے بل پر دبا دینا ایک ناممکن عمل ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت نے حقِ خودارادیت کو عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ جمہوری فارمولے کو مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفئیے کے لیے ایک قابل عمل حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جمہوری فارمولے سے راہِ فرار حاصل کرنا جنگی جنون اور فوجی غرور کا عکاس ہے۔ مزاحمتی قیادت نے شہداء قاضی گنڈ کے علاوہ جملہ شہدائے کشمیر کی عظیم قربانیوں کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک غیرت مند اور امن پسند قوم کی صورت میں ان قربانیوں کے امین ہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت جناب سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ریاست کے اطراف واکناف میں حریت پسند سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس ٹاسک فورس کی طرف سے کیمپوں پر بُلائے جانے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز کو استعمال کئے جانے کی سفاکانہ کارروائی پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بھارت کی قابض انتظامیہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو آہنی ہاتھوں سے دبانے کی ضد پر اُتر آیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کارگو سرینگر، اسلام آباد، بارہ مولہ، بڈگام، بانڈی پورہ، کولگام، شوپیان وغیرہ اضلاع میں پولیس ٹاسک فورس اور ملٹری انٹلی جنس کی طرف سے سیاسی کارکنوں کو خوف زدہ کئے جانے کی بزدلانہ کارروائیوں سے یہ عندیہ اخذ کرنا چندان مشکل نہیں کہ بھارت کی فاشسٹ نظریہ رکھنے والی قابض انتظامیہ سیاسی کارکنوں اور راہنماؤں کو محض سیاسی اختلافات کی بنا پر عدمِ برداشت کی آمرانہ پالیسی اپناتے ہوئے حریت پسند سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ پہنچانے کا ارتکاب کررہی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ نے پولیس ٹاسک فورس اور ملٹری انٹلی جنس کو حریت راہنماؤں کی پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے استعمال میں لارہی ہے۔ قابض انتظامیہ کی طرف سے پُرامن سیاسی سرگرمیوں کے خلاف دھونس، دباؤ اور فوجی طاقت کو استعمال کئے جانے کے حوالے سے قابض انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر ان جابرانہ کارروائیوں پر فوری طور روک نہیں لگائی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری قابض انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ مزاحمتی قیادت نے اقوامِ متحدہ اور اس کے ساتھ منسلک انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ دیگر انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر میں پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل حریت پسند تنظیموں سے وابستہ راہنما اور ارکان کی زندگیوں کو قابض افواج اور پولیس ٹاسک فورس کی طرف سے خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر بروقت اقدامات اُٹھائیں، تاکہ ان کے حقِ زندگی کو محفوظ رکھا جاسکے۔

چیو گام قاضی گنڈ کولگام میں شبانہ معرکہ آرائی 

5مقامی جنگجو،24سالہ نوجوان جاں بحق 
کئی مکانات تباہ ،شدیدجھڑپیں میں بیسیوں زخمی،متعدد کی حالت نازک ،ریل وانٹر نیٹ سروس بند
مہلوک جنگجو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت، بنک ڈکیتی اور اسلحہ چھینے کی وارداتوں میں ملوث تھے :پولیس ترجمان
قاضی گنڈ؍؍کے این این ؍؍ چیو گام قاضی گنڈ کولگام میں جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو شروع ہوئی خونین معرکہ آرائی11گھنٹوں کے بعد اختتام پذیر ہوئی ،جس میں لشکر طیبہ جنگجو کمانڈر گلزار احمد پڈر عرف سیف سمیت 5مقامی جنگجو ،24 سالہ نوجوان جاں بحق اور 2فورسز اہلکا زخمی ہوئے جبکہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں 2رہائشی مکان زمین بوس اور دیگر کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ۔پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جبکہ ریاستی پولیس نے دعویٰ کیا کہ مہلوک جنگجو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت، بنک ڈکیتی اور اسلحہ چھینے کی وارداتوں کے علاوہ مختلف جنگجویانہ کارروائیوں میں ملوث تھے ۔ اس دوران جھڑپ کے مقام پر اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب فورسز کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ،جس دوران فورسز کی ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں بیسیوں مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے کئی مظاہرین گولیاں اورچھرنے لگنے سے شدید زخمی ہوئے جن میں سے متعدد کی حالت اسپتالوں میں نازک بنی ہوئی ہے ۔کولگام اور اننت ناگ میں احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر موبائیل انٹر نیٹ سروس منقطع اور ریل سروس بند کردی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع کوگام کا چیوگام قاضی گنڈ گاؤں اُس وقت گولیوں کی گن گرج اور دھماکوں سے لرز اٹھا جب یہاں موجود جنگجوؤں کے ایک مسلح گروپ اور فوج وفورسز کے درمیان تصادم آرائی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز نے 14اور15ستمبر کی درمیانی رات کو چیوگام قاضی کنڈ کولگام میں جنگجوؤں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملنے کی بنیاد پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ چیوگام قاضی گنڈ کولگام میں ایک تلاشی کارروائی کے دوران یہاں موجود جنگجوؤں نے فوج وفورسز اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔جوابی کارروائی میں فورسز اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی جس کے ساتھ طرفین کے مابین شدید جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ۔چیوگام قاضی گنڈ میں رات 12سے ایک بجے سے شروع ہوئی ،خونین معرکہ آرائی کے دوران پورا گاؤں گولیوں کی گن گرج اور دھماکوں سے لرز اٹھا ۔جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان قریب11گھنٹوں تک جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی میں لشکر طیبہ جنگجو کمانڈر گلزار احمد پڈر عرف سیف سمیت 5مقامی جنگجو نوجوان جاں بحق اور 2فورسز اہلکا زخمی ہوئے ۔جھڑپ کے دوران2رہائشی مکان زمین بوس ہوگئے جبکہ دیگر کئی مکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔پولیس ترجمان نے جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت گلزار احمد پڈر عرف سیف ساکنہ آڈیجن کولگام ،فیصل احمد راتھر عرف داؤد ساکنہ یامرچ کولگام ،زاہد احمد میر عرف ہاشم ساکنہ او کے کولگام ،مسرور مولوی عرف ابو دردا ساکنہ فتح پورہ اننت ناگ اور ظہور احمد لون عرف رحمان بھائی ساکنہ ناگ ناڈ نور آباد ہانجی پورہ کے بطور کی۔پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جبکہ ریاستی پولیس نے دعویٰ کیا کہ مہلوک جنگجو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت، بنک ڈکیتی اور اسلحہ چھینے کی وارداتوں کے علاوہ مختلف جنگجویانہ کارروائیوں میں ملوث تھے ۔اس سلسلے میں پولیس ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس کے مطابق چو گام قاضی گنڈ کولگام علاقے میں فوج وفورسز نے ایک خفیہ اطلاع ملنے کی بنیاد پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو محاصرہ کیا ۔ان کا کہناتھا کہ فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں جنگجوؤں کا ایک مسلح گروہ موجود ہے ،جس کے بعد یہاں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ دوران تلاشی کارروائی گاؤں میں موجود جنگجوؤں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی ابتدائی مرحلے میں عام لوگوں کو جائے جھڑپ سے دور محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان دوبدو جھڑپ شروع ہوئی،جس دوران فورسز کی جوابی کارروائی میں5 جنگجو جن کا تعلق عسکری تنظیم لشکر طیبہ اور حزب المجادہین سے تھا ،جاں بحق ہوگئے ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ گلزار پڈر ،الطاف کاچرو کا قریبی ساتھی تھا اور وہ بقول انکے پامبائے میں پانچ پولیس اہلکاروں اور دو بنک سیکیورٹی گاڈوں کی ہلاکت میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ مہلوک جنگجو ایس پی او ساکنہ کریون چڈر کولگام کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا جبکہ اس کے علاوہ وہ کولگام میں ہتھیار چھینے اور کئی بنک ڈکیتی کیسوں کی کوششوں میں بھی ملوث تھا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ زاہد ساکنہ اوکے پولیس اہلکار فیاض احمد ساکنہ زینہ پورہ کی ہلاکت میں مطلوب تھا جسے عید کے روز ہلاک کیا گیا تھا۔فیصل پولیس اہلکار گوہر احمد کی ہلاکت میں ملوث تھا ،جسے گزشتہ برس شوپیان میں ہلاک کیا گیا۔ظہور عرف رحمان اورمسرور نوجوانوں کو ملی ٹنسی کی جانب راغب کرنے اور مختلف جنگجویانہ کارروائیوں میں مطلوب تھے ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ مہلوک جنگجوؤں کا تعلق عسکری تنظیم لشکرطیبہ اور حزب المجاہدین سے تھا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ جائے جھڑپ سے مہلوک جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں جبکہ اس کے علاوہ جائے جھڑپ کے مقام سے مہلوک جنگجوؤں کی پانچ رائفلیں اور دیگر گولی بارود بھی برآمد کیا گیا ۔فوج نے بھی جھڑپ میں پانچ جنگجوؤں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔دفاعی ترجمان لفٹنٹ کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ ملی ٹنٹوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کیلئے بڑی کامیابی ہے ۔اس دوران جھڑپ کے مقام پر اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب فورسز کو معرکہ آرائی کے دوران عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز محاصرے میں پھنسے جنگجونوجوانوں کو بچانے کی مختلف اطراف سے نوجوانوں کی ٹولیاں نمودار ہوئیں ،جس دوران انہوں نے فورسز پر خشت باری کی ۔فورسز نے مشتعل مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں شرو ع ہوئیں ۔مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے بعد ازاں فورسز پیلٹ اور بلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی افراد گولیاں اور کئی افراد چھرے لگے ۔دو نوجوانوں کو گولیاں لگی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ ایک پیٹ اور ایک کی گردن میں گولی لگی ہے،جنہیں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کیا گیا ۔دو زخمیوں کو بون اینڈ جوائنتس اسپتال برزلہ سرینگر منتقل کیا گیا ۔اننت ناگ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں جاوید احمد ولد محمد یوسف ساکنہ چیوگام ،کی آنکھ میں پیلٹ لگا ہے ۔عمر ولد غلام محمد ساکنہ پانزتھ کو بھی آنکھ میں چھرا لگا ہے ،جسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔عادل احمد والد غلام محمد ساکنہ قاضی گنڈ کی ٹانگ میں گولی لگی ہے ،جسے برزلہ اسپتال منتقل کیا گیا ۔سہیل احمد ولد محمد حسین ساکنہ باپورہ جسکی ٹانگ میں گولی لگی ہے ،کو بھی برزلہ اسپتال منتقل کیا گیا ۔محمد امین ولد بشیر احمد ساکنہ قاضی گنڈ چھرے لگنے سے زخمی ہوا ۔اعجاز احمد ولد محمد یعقوب ساکنہ چراٹھ کی آنکھ میں چھرا لگا ہے ۔منیر ولد غلام حسن ساکنہ قاضی گنڈ کے گردن میں چھرے لگے ہیں ۔سالب ولد غلام حسن ساکنہ چیوگام پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا۔عمران ولد عبدالمجید ساکنہ چیوگام بھی پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا۔مظفر احمد ولد غلام حسن ساکنہ کولگام کے پیٹ میں گولی لگی ہے ،کو سکمز صورہ سرینگر منتقل کیا گیا ۔آصف احمد ولد محمد جبار ساکنہ کولگام دیوسربھی پیلٹ سے زخمی ہوا۔روف احمد ولد محمد سلیم ساکنہ آنچی ڈورہ اننت ناگ کے گردن میں گولی لگی ہے ۔معلوم ہوا 24سالہ روف احمد خان ساکنہ الفاروق کالونی آنچی ڈورہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کی ہلاکت خبر پھیلتے ہی کئی علاقوں میں کشیدگی کی لہر دوڑ جبکہ احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آئی ۔ادھر انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش جنوبی کشمیر کے دو اضلاع کولگام اور اننت ناگ میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردیں جبکہ احتیاطی اقدامات کے تحت وسطی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے درمیان بانہال ۔بارہمولہ ریل سروس بھی معطل کی گئی ۔آخری اطلاعات ملنے تک جنوبی کشمیر میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی تھی ۔