کولگام:اسلحہ چھینے کی کوشش ناکام،پولیس کا دعویٰ 

فوجی کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ ،دھماکے میں کھوجی کتا ہلاک ،حملہ آؤروں کی تلاش شروع 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍پولیس نے جنوبی کشمیر میں اسلحہ چھینے کی ایک کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ۔اس دوران کولگام میں فوجی کیمپ پر ہوئے گرینیڈ حملے میں فو جا کا کھوجی کتا ہلاک ہوگیا ۔دونوں حملوں کے سلسلے میں پولیس نے حملہ آؤروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع کولگام میں جنگجوؤں نے ہتھیار چھینے کی ایک کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا ۔پولیس حکام نے بتایا کہ ونپو پاؤر گریڈ اسٹیشن پر جمعہ کے روز جنگجو ؤں نے حملہ کیا ۔پولیس حکام نے بتایا کہ جنگجوؤں کا یہاں آنے مقصد اسلحہ چھینے کا منصوبہ رکھتے تھے ۔پولیس حکام کے مطابق تاہم الرٹ فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کو دیکھ ہوائی فائرنگ کی ،جسکے نتیجے میں جنگجو فرار ہوگئے ۔حملے کے فوراً بعد علاقے کا محاصرہ کیا گیا ۔ایس ایس پی کولگام ہرمیت سنگھ نے بتایا کہ جنگجوؤں کا پاؤر گریڈ اسٹیشن پر حملہ کرنے کا واحد مقصد ہتھیار چھینا تھا ۔انہوں نے حملہ آؤروں کو تلاش کرنے کی غرض سے علاقے کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی شروع کردی گئی ۔15دنوں میں ضلع سرینگر میں ہتھیار چھینے کی 3بڑی وارداتیں رونما ہوئیں ۔حیدر پورہ میں پولیس پوسٹ سے 4رائفلیں اڑالی گئیں۔ وزیراعظم ہندنریندرامودی کی19مئی کوآمدسے کچھ روزقبل سری نگرمیں محض دودنوں میں ہتھیاراُڑالینے کے دوواقعات پیش آئے ۔16مئی کونامعلوم موٹرسائیکل سواروں جن کی تعداد2بتائی جاتی ہے ،نے کشمیرونیورسٹی کے رومی گیٹ پرتعینات ایک پولیس اہلکارسے اُسکی سروس رائفل چھین لی ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ اس واقعے کے سلسلے میں متعلقہ پولیس اہلکارسے پوچھ تاچھ کی گئی ۔اس دوران اگلے ہی روزشہرکے سیاحتی علاقہ ڈلگیٹ میں واقع ایک ہوٹل میں تعینات پولیس اہلکاروں کے ہتھیارچھین لینے کاواقعہ رونماہوا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ ڈلگیٹ میں واقع ہوٹل ’ہل اسکرٹ‘میں دربارمؤسے وابستہ ملازمین کورہائش فراہم کی گئی ہے ،اورانکی حفاظت کیلئے یہاں پولیس کاایک دستہ تعینات رکھاگیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ پولیس کے اس دستے کوالاٹ 4سروس رائفلوں کوغائب پایاگیا۔نوجوانوں میں پائی جانے والے ملی ٹنسی کے رُجحان کے چلتے پولیس اہلکاروں سے ہتھیارچھین لینے کے واقعات بھی سیکورٹی حکام کیلئے ایک نیاچیلنج بن چکے ہیں ،کیونکہ گزشتہ3برسوں کے دوران جنگجوؤں اورنامعلوم افرادنے کشمیروادی میں مختلف مقامات پرایسی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے 271سروس رائفلیں دوران ڈیوٹی چھین لئے ۔پولیس ذرائع نے ایسے واقعات کوایک نیاچیلنج مانتے ہوئے بتایاکہ چھینے گئے ہتھیاروں میں اے کے47،ایس ایل آر،انساس،کاربائین اورگیس گن بھی شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ یہ خطرناک رُجحان 8جولائی 2016کوحزب کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعدرونماہونے والے مظاہروں کے دوران سامنے آیاجب ایک ہجوم نے پولیس تھانہ دمہال ہانجی پور ہ کولگام میں دھاؤابولکریہاں سے متعددہتھیاراُڑالئے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ سال2016سے چھینی گئی رائفلوں میں سے بہت سی سروس رائفلوں کوبرآمدکرلیاگیا۔اس دوران گزشتہ تین دنوں میں شہرسری نگراورہمہامہ بڈگام میں پولیس اہلکاروں سے ہتھیارچھین لینے کے تین واقعات رونماہوئے ۔ ریاستی پولیس نے جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیارچھین لینے کے واقعات پرروک لگانے کی ایک حکمت عملی کے تحت دوران ڈیوٹی سنتریوں کے اسمارٹ فون استعمال کرنے پرپابندی عائدکردی ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل آرمڈپولیس اے کے چودھری کی جانب سے جاری ایک حکمنامہ میں پولیس اہلکاروں کویہ واضح ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ کسی جگہ بطورسنتری یامحافظ ڈیوٹی انجام دے رہے ہوں ،وہ اس دوران اسمارٹ فون کااستعمال نہ کیاکریں ۔ادھر کولگام میں فوجی کیمپ پر جنگجوؤں نے گرینیڈ سے حملہ کیا جسکے نتیجے میں کھوجی کتا ہلاک ہوا ۔رپورٹس کے مطابق نیہا مہ کولگام میں واقع 34آر آر کیمپ پر جمعہ کو جنگجوؤں نے گرینیڈ سے حملہ کیا ۔ذرائع کے مطابق گرینیڈ فوجی کیمپ کے اندر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جسکے نتیجے میں کھوجی کتا آہنی ریزوں کی زد میں آکر ہلاک ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ واقعہ کے فوراً بعد فوجی اہلکار کیمپ سے باہر آئے اور یہاں سے گزر نے والی کئی گاڑیوں اور دکانوں کے شیشے چکنا چور کئے جبکہ راہگیروں کی بھی مار پیٹ کی ۔

شہر خاص میں بعد نماز جمعہ تشدد بھڑک اٹھا 

پتھراؤ ،ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ ،درجنوں مضروب،میر واعظ برہم 
سرینگر؍؍کے این این ؍؍شہر خاص میں بعد نماز جمعہ شدید تشدد بھڑک اٹھا جس دوران پولیس کی ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں کئی اہلکار وں کو بھی چوٹیں آئیں ۔ادھر میر واعظ عمر فاروق نے الزام عائد کیا کہ جا مع مسجد کے گرد ونواح میں فورسز کی تعیناتی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے جبکہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال قابلِ مذمت ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شہر خاص میں اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا ،جب بعد نما زجمعہ لوگوں نے مرکزی جا مع مسجد سرینگر سے ایک احتجاجی مارچ نکا لا ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہرین اور پولیس وفورسز اہلکار نوہٹہ چوک میں ایکدوسرے سے اُلجھ پڑے ۔سٹی رپورٹر کے مطابق احتجاجی مظاہرین جونہی نوہٹہ چوک میں پہنچ گئے ،جہاں پہلے سے تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے اُنہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔اس دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان مزاحمت بھی ہوئی جس دوران پولیس نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہرین مشتعل ہوئے ،جنہوں نے پولیس و فورسز شدید خشت باری کی ۔اس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ در از ہوا ۔عینی شاہد ین نے بتایا کہ پولیس نے مرکزی جامع مسجد کے اندر ٹیر شل پھینکے اور پیلٹ فائر نگ کی جسکے نتیجے میں درجنوں افراد مضروب ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ بعد نمازجمعہ نوجوانوں اور فورسز کے درمیان نوہٹہ میں پھوٹ پڑے پُرتشدد احتجاجی کی لہر گوجوارہ ،راجوری کدل ،کاروڈارہ اور اسکے ملحقہ علاقوں تک پھیل گئی ۔شہر خاص میں مقیم لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی اور مرچی گیس کا استعمال کیا جسکے نتیجے میں روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ادھر روزہ داروں نے الزام عائد کیا کہ پولیس وفورسز اہلکاروں نے جامع مسجد کے اندر بھی ٹیر گیس کے شل پھینکے اور پیلٹ فائرنگ بھی کی ،جسکی وجہ سے یہاں درجنوں افراد مضروب ہوئے جبکہ پتھراؤ کے باعث کئی اہلکاروں کو بھی چوٹیں آئیں۔شہر خاص میں بعد نماز جمعہ پھوٹ پڑے پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔معلوم ہوا ہے کہ نوہٹہ ،جامع مسجد مارکیٹ اور اسکے گرد نواح میں دکانیں وکاروباری ادارے بند ہوئے جبکہ مشتعل مظاہرین اور پولیس وفورس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ادھر میر واعظ عمر فاروق نے الزام عائد کیا کہ جا مع مسجد کے گرد ونواح میں فورسز کی تعیناتی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے جبکہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔ایک بیان میں حریت(ع)نے ماہ مقدس کے بابرکت ایام بالخصوص جمعتہ المبارک کے موقعہ پر مسلمانان کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر جہاں جمعہ کے موقعہ پر وادی کے اطراف و اکناف سے لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی اور میرواعظ کشمیر کے وعظ و تبلیغ سے استفادے کی غرض سے آتے ہیں کے ارد گرد بڑے پیمانے پر بلا جواز فورسز کی تعیناتی پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعتہ المبارک کے موقعہ پر اس پورے علاقے کو جس طرح فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا جاتا ہے وہ وہاں حالات کو کشیدہ بنانے کا موجب بنتے ہیں ۔بیان میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ جان بوجھ کر جامع مسجد کے ارد گرد فورسز کو تعینات کرکے جامع مسجد کی مرکزیت کو زک پہنچانے کے ساتھ ساتھ امن عامہ کو درہم برہم کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔بیان میں نماز جمعہ کے بعد فورسزکی طرف سے پیلٹ اور ٹیئر گیش شیلنگ کے استعمال جس سے درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے اور بہت سے شل مرکزی جامع مسجد کے اندر جاکر گرے جس سے وہاں نمازیوں میں خوف اور ہراسانیوں کا ماحول پیدا ہوا کو فورسز کی اشتعال انگیز حرکت قرار دیتے ہوئے اسکی پر زور مذمت کی گئی۔

آرمی چیف نے دیارمضان جنگ بندی میں توسیع کئے جانے کااشارہ

جنگجومخالف آپریشنوں کی معطلی عوام کیلئے راحت بخش
کہاپاکستان امن کاخواہاں تو دراندازی اورسیزفائرکی خلاف ورزیاں بندکرے
سرینگر؍؍کے این این ؍؍آرمی چیف جنرل بپن راؤ ت نے’’رمضان جنگ بندی میں توسیع کئے جانے کااشارہ‘‘دیتے ہوئے جمعہ کویہاں واضح کیاکہ جنگجومخالف آپریشنوں کومعطل کئے جانے سے کشمیری عوام کوراحت ملی ہے۔تاہم انہوں نے اس کیساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اگرجنگجوئیانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں توہمارے لئے جنگجومخالف آپریشن معطل رکھناممکن نہیں رہے گا۔کے این این کے مطابق ریاست جموں وکشمیرکی اندرونی اورسرحدی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے سرینگرکادرہ کرنے کے دوران فوج کے سربراہ جنرل بپن راؤت نے یہاں اعلیٰ فوجی حکام کیساتھ مجموعی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔دفاعی ذرائع ن بتایاکہ جمعرات کی شام یہاں پہنچنے کے بعدآرمی چیف نے بادامی باغ فوجی کنٹونمنٹ میں واقع فوج کی پندرہویں کورکے ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ فوجی حکام سے کشمیرکی تازہ سیکورٹی صورتحال ،جنگجوئیانہ سرگرمیوں اوراول ماہ مبارک سے ریاست میں لاگوجنگ بندی کے دوران ابتک یہاں رہے حالات کے بارے میں تفصیلی جانکاری حاصل کی ۔ذرائع کے مطابق فوج کی پندرہویں کورکے سربراہ اوردیگراعلیٰ فوجی حکام نے آرمی چیف جنرل بپن راؤت کوکشمیرکی تازہ صورتحال کے بارے میں مکمل جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ مرکزی سرکارکی جانب سے ریاست میں ماہ مبارک کے پیش نظرلاگوکی گئی جنگ بندی کے بعدسے کشمیروادی میں مجموعی امن وقانون کی صورتحال بہتررہی تاہم فوجی حکام نے جنرل راؤت کوبتایاکہ حالیہ دنوں میں جنگجوگروپوں نے مختلف مقامات پراپنی موجودگی کااحساس دلانے کیلئے کچھ پُرتشددسرگرمیاں انجام دیں ۔فوجی حکام نے آرمی چیف کویہ بھی بتایاکہ سرگرم جنگجوؤں کیخلاف گرچہ کاروائیاں روک دی گئی ہیں تاہم اُنکی سرگرمیوں پرکڑی نظرکھی جارہی ہے ۔انہوں نے فوج کے سربراہ کویہ بھی بتایاکہ شمالی اورجنوبی کشمیرمیں سرگرم جنگجواکادُکاکارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔دفاعی ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے فوجی حکام سے کہاکہ وہ اپنی جانب سے سیزفائرکااحترام یقینی بنائیں تاہم اگراُن پرکوئی حملہ کیاجاتاہے تواس کابروقت اورسخت جواب دیاجائے ۔انہوں نے فوجی حکام کوہدایت دی کہ خفیہ معلوماتی نیٹ ورک کوہمہ وقت متحرک رکھاجائے تاکہ جنگجوگروپوں کی سرگرمیوں کے بارے میں پل پل کی جانکاری بہم رہ سکے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیاحتی مقام پہلگام میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشیے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل راوت نے جموں وکشمیرمیں ماہ مبارک کیلئے لاگوکردہ جنگ بندی میں توسیع کئے جانے کااشارہ دیتے ہوئے بتایا’ہم نے لوگوں کوماہ رمضان کے دوران پُرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے جنگجومخالف آپریشن معطل کئے اورمجھے اسبات کایقین ہے کہ عام لوگ اسے خوش ہیں ‘‘۔جنرل بپن راوت نے واضح کیاکہ اگرسلامتی کی صورتحال ایسی ہی رہی توہم اپنی جانب سے جنگجومخالف آپریشن دوبارہ شروع نہیں کریں گے ۔تاہم انہوں نے اس کیساتھ ہی یہ بھی کہاکہ اگرجنگجوئیانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں توہمارے لئے جنگجومخالف آپریشن معطل رکھناممکن نہیں رہے گا۔فوج کے سربراہ کاکہناتھاکہ اگرپاکستان امن چاہتاہے تواُس کواپنی سرزمین سے جنگجوؤں کوجموں وکشمیربھیجنابندکرناہوگا۔انہوں نے کہا’ہم سرحدوں پرامن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے چونکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جسکے نتیجے میں جانی ومالی نقصان ہورہاہے تواس صورتحال میں ہمیں پاکستان کوجواب دیناپڑتاہے۔آرمی چیف کامزیدکہناتھاکہ اگرپاکستان امن کاخواہاں ہوتواُسکوپہل کرنی ہوگی ،اوراس کیلئے دراندازی اورسیزفائرکی خلاف ورزیاں ہمسایہ ملک کوبندکرناہونگی ۔

کشمیر میں حالات اطمینان بخش ؍راجناتھ سنگھ 

سیز فائر پر کشمیری عوام کا رد عمل مثبت ؍ مرکز نے کشمیری عوام کی راحت کیلئے یہ مشکل فیصلہ لے لیا 
سرینگر؍؍ الفا نیوز سروس ؍؍یکطرفہ جنگ بندی کے بعد کشمیر کی صورتحال کو اطمیان بخش قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے آج نئی دلی میں کشمیر کی صورتحال کا ہنگامی جائزہ لیا جس کے دوران وزارت داخلہ ،دفاع اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران موجود تھے ۔نئی دلی میں آج کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کو لیکر وزیرداخلہ نے ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں اعلیٰ فوجی ،سیکورٹی ایجنسیوں نے شرکت کی ۔اس موقعے پر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کشمیر میںیکطرفہ سیز فائر کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں حالات کو اطمینان بخش قرار دیا ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں امن اور خاموشی بہتر صورتحال کا پتہ دے رہی ہے اور اس سے واضح ہورہا ہے کہ سیز فائر کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں کشمیر کی مجموعی صورتحال پر اطمینان ظاہر کیا گیا اور کہا گیا کہ کچھ امن دشمن عناصر ابھی بھی حالات خراب کرنے کے درپے ہیں جن پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزرات داخلہ تک جو جانکاری پہنچی ہے اس کے مطابق سنگ بازی کے واقعات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور ایسے میں تشدد کا گراف بھی کم ہورہاہے ۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے سیز فائر کشمیریوں کو راحت پہنچانے کیلئے عمل میں لائی ہے اور اب راہ سے بھٹکے نوجوانوں کو واپس قومی دھارے میں آنے کیلئے راہیں آسان ہوسکتی ہیں ۔،میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بھی جنگ بندی کو ایک بہترین موقع قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام نے جنگ بندی کا مثبت رد عمل دکھایا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ یہ سیز فائر جاری رہیگا اور لوگ امن کیلئے اپنا تعاون دیتے رہیں گے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرایع کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ کشمیر میں موجودہ صورتحال سے کافی مطمئن ہیں اور مرکزی حکومت اعتماد سازی کے دیگر اقدمات بھی اٹھانے پر سوچ وچار کر رہا ہے جس میں سرحدی راستوں کو کھولنے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ تاہم ابھی تک ماہ رمضان کے آخیر تک انتظار کیا جائیگا ۔ واضح رہے کہ کشمیر میں سیز فائر کے حوالے سے محبوبہ مفتی نے براہ راست ان کیساتھ با ت کی تھی او ر ملاقات میں انہوں نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے جس کے بعد وزیر داخلہ نے ہی ریاستی وزیراعلیٰ کو ریاست میں یکطرفہ سیز فائر پر مرکز کی نوید سنائی ۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہ بپن راوت بھی فوجی کمانڈروں کو زمینی سطح پرآنے والی تبدیلیوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کریں گے جس کے بعد وہ واپس جاکر اپنی رپورٹ مرکزی وزیر داخلہ کو پیش کریں گے جس کے بعد سیز فائر میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ لیا جائیگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ سیز فائر کو لیکر کشمیر کے اندر عام لوگوں میں بھی بہتر رجحان کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت اس عمل کو آگے بڑھانے کے حق میں ہے اور چاہتی ہے کہ کشمیر میں امن وامان کی بحالی اور مذاکرات کیلئے ماحول کو یقینی بنانے کیلئے سیز فائر میں توسیع ایک بہترین خیر سگالی اعتمادسازی اقدام ہو سکتا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے ریاستی پولیس سربراہ کے بیان کا بھی نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے جنگنبدی کے حوالے سے تشدد میں کمی کا ذکر کیا تھا اور انہوں نے اسے نادر موقعہ قرار دیکر مقامی جنگجو نوجوانوں کو گھر واپسی کی صلاح دی ہے ایسے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ راجناتھ سنگھ آنے والے دنوں میں وزیراعظم مودی کیساتھ اس معاملے میں اہم میٹنگ کریں گے جس میں مرکزی وزار ت داخلہ کے علاوہ دفاع اور فوج کے تینوں کمانوں کے سربراہان اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ کمانڈر بھی ہونگے ۔چنار کارپس کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے فوجی سربراہ کی سرینگر آمد کی تصدیق کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ دو روزہ دورے پر پہلے جموں اور پھر کشمیر پہنچ جائیں گے جہاں انہیں فوجی کمانڈر حالات سے متعلق جانکاری فراہم کریں گے ۔