با با گنڈ پلوامہ میں شبانہ خونین معرکہ آرائی ، مقامی حزب جنگجو جاں بحق ، دوسرا شدید زخمی ، رہائشی مکان تباہ 

ہڑتال اور مظاہروں کے بیچ جنگجو کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، جلوس جنازہ میں جنگجو بھی نمودار ، سلامی دی 
زخمی جنگجو کی اسپتال میں حالت انتہائی نازک ، معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی /پولیس 
سرینگر/13اکتوبر/سی این آئی جنوبی ضلع پلوامہ کے با با گنڈ علاقے میں فورسز اور جنگجوؤں کے مابین شبانہ تصادم آرائی میں مقامی جنگجو جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک جنگجو شدید زخمی ہو گیا جو سرینگر کے صدر اسپتال سرینگر میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ اسی دوران جاں بحق مقامی جنگجوؤں کو ہڑتال اور مظاہروں کے بیچ اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ اپنے آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیاجبکہ ان کے نمازجنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔اسی دوران ایک مرتبہ پھر جلوس جنازہ میں کئی جنگجو ؤں نمودار ہوئی جنہوں نے ساتھی کو سلامی دی اور ہوائی میں فائرنگ کی ۔ سی این آئی کے مطابق ضلع پلوامہ کے با با گند علاقے میں سنیچروار کی اعلیٰ صبح اس وقت گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب جنگجوؤں نے علاقے سے گزار رہی فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی ۔پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج کی 55آر آر سے وابستہ ایک گاڑی علاقے سے گزر رہی تھی جس دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے گاڑی پر فائرنگ کی اور جائے مقام سے فرار ہونے کی کوشش کے ساتھ ہی ایک نزدیکی مکان میں پناہ لی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران فورسز نے علاقے کو محاصرہ میں لیا ۔ جبکہ فورسز کی اضافی نفری طلب کی گئی اور جس کے ساتھ باضابطہ طور جھڑپ کا آغاز ہوا ۔ ذرائع نے بتایا فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا۔ ذرائع کے مطابق گولیوں کی گھن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا ۔ ذرائع کے مطابق طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان کو بارودی مواد سے اڑا دیا اور تلاشی کارروائی کے بعد جھڑپ کے مقام سے ایک جنگجو جس کی شناخت شبیر احمد ڈار عرف مسلوی ساکنہ سامبورہ پانپور کے بطور ہوئی جبکہ ایک اور جنگجو اپنے زخمی ساتھی کو جائے وارادات سے اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔مذکورہ جنگجو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حزب المجاہدین سے وابستہ تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلح تصادم کے مقام سے ایک اے کے 47 رائفلیں برآمد کی گئیں۔ اسی دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلح تصادم آرائی میں زخمی ہونے والا ایک اور جنگجو شوکت احمد عرف بدشاہ خان ساکنہ مرون پلوامہ کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے صدر اسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ جنگجو کا آپریشن بھی کیاگیا تاہم اس کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے ۔پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کی 55آر آر سے وابستہ ایک کیکیسپرگاڑی با با گنڈ علاقے سے گزر رہی تھی جس دوران جنگجوؤں نے فوج کی گاڑی پر حملہ کرکے فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی جوائی کارروائی کی اور اس دوران ایک جنگجو ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا جس کو کچھ مقامی افراد نے علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے صدر اسپتال داخل کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کچھ مقامی افراد نے جھڑپ کے مقام سے دوسرے زخمی جنگجو کو اٹھا کر اسے سرینگر کے صدر اسپتال داخل کیا گیا ہے جہاں اس کاڈاکٹروں نے ہنگامی آپریشن کیا تاہم اس کی حالت انتہائی نازک بنی ہوئی ہے ۔ پولیس افسر کے مطابق اس معاملے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔ اسی دوران جونہی جھڑپ میں مقامی جنگجو کی ہلاکت کی خبر ان کے آبائی علاقے میں پھیل گئی تو وہاں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی حزب جنگجو کی نعش کوان کے لواحقین کے حوالہ کیا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جنگجو کے نماز جنازوں میں شرکت کیلئے ان کے آبائی علاقوں کا رخ کیا ۔ اسی دوران جاں بحق جنگجو کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ ان کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔ اسی دوران انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات کے طور پر پلوامہ ضلع کے تمام تعلیمی اداروں میں آج تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جلوس جنازہ میں حزب سے وابستہ کئی جنگجو نمودار ہوئی جنہوں نے ساتھی کو سلامی دی اور ہوائی فائرنگ بھی کی ، تاہم پولیس ذرائع نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔

شدید عوامی تنقید کے بعد گورنر وقف بورڈ کے ضابطے کا دوبارہ جائزہ لیں گے

خصوصی مشیروں میں سے کسی کو آنے والے دنوں میں چیرمین تعینات کیا جائے گا
سری نگر 13،اکتوبر ؍وقف بورڈ کے ضابطے میں حال ہی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بعد مختلف طبقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد ریاستی گورنر ستیہ پال ملک ضابطے میں کی گئی اصلاحات کا دوبارہ جائزہ لینے جارہے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ فی الوقت وقف بورڈ چیرمین کے عہدے پر تعینات گورنرنئی اصلاحات کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اپنے خصوصی مشیروں میں سے کسی ایک کو وقف بورڈ کا چارج دیں گے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ریاستی وقف بورڈ کے ضابطے میں گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے حال ہی میں کی گئی بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بعد انہیں سماج کے مختلف طبقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ وقف بورڈ کا چیرمین ریاست کا سربراہ ہوتا ہے جو آج تک مسلم طبقے سے تعلق رکھتا تھا تاہم ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد گورنر ستیہ پال ملک ہی وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگئے ہیں۔ اسی طرح ریاست میں قائم شری امرناتھ شرائن بورڈ جو کہ ہندو کے مذہبی معاملات کی دیکھ ریکھ کے لیے قائم کیا گیا ہے کی سربراہی کے لیے صرف غیر مسلم افراد کو تعینات کیا جاتا ہے ۔ ادھر ذرائع نے کے این ایس کے بتایا کہ وقف بورڈ کے ضابطے میں کی گئی اصلاحات کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد ہی آنے والے دنوں میں وقف بورڈ کے لیے نئے چیرمین کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔کے این ایس کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گورنر کی طرف سے وقف بورڈ کے چیرمین کے عہدے پر براجمان رہنے کو عوامی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے بعد گورنر کے مشیروں اور بیوروکریسی میں شامل چند افسران نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ فوراً اس عہدے سے فراغت حاصل کریں۔گورنر کے ارد گرد ذرائع نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ وقف بورڈ کے ضابطے میں کی گئی اصلاحات کو واپس لے کر ان کا از سرنو جائزہ لیں اور اپنے ماتحت مشیروں میں سے کسی مسلم مشیر کو ہی اس عہدے پر تعینات کریں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وقف بورڈ کا چیرمین ریاست کا سربراہ ہوتا ہے جو آج تک مسلم طبقے سے تعلق رکھتا تھا تاہم ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد گورنر ستیہ پال ملک ہی وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگئے ہیں۔اسی طرح ٖغیر مسلم اُمور سے تعلق رکھنے والے شعبہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کا سربراہ ضابطے کے مطابق ایک غیر مسلم ہوا کرتا ہے جہاں کسی مسلم فرد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔کے این ایس کو ذرائع سے معلوم ہوا کہ شرائن بورڈ نے جموں خطے میں اپنی آمدن سے کئی کالجز اورہستپال تعمیر کئے تاہم وادی کشمیر میں وقف بورڈ نے آج کوئی نہ ہی کوئی کالجز تعمیر کیا اور نہ ہی طبی شعبہ میں کوئی کارنامہ انجام دیا۔وقف بورڑ میں حاصل ہونے والی امداد کو بہتر ڈھنگ پر استعمال کرنے کے لیے سیول سوسائٹی نے بھی متعدد بار ادارہ کے چیرمین پر کسی غیر سیاسی شخص کوتعینات کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بورڈ کو حاصل آمدن کا صحیح استعمال کیا جاسکے۔ادھر بورڈ کے سابق چیرمین اور دیگر ممبران کو عوامی سطح پر آمدن کو صحیح استعمال نہ کرنے اور فنڈس کا خرد برد کرنے کے نتیجے میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے تاہم اتنا عرصہ گذرنے کے بعد بھی آمدن کے جائز استعمال اور فنڈس میں خرد برد کے حوالے سے عوام صحیح صورتحال جاننے سے قاصر ہیں۔
ہیں اور ان 5 ملازمین کے فائلوں کو چیف سیکرٹری کو دوبارہ پیش کرنے کے لئے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں تاکہ ان فائلوں کو دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جاسکے۔

نماز جنازہ میں لوگوں کی باری شرکت سے سرکار بوکھلاہٹ کی شکار:صحرائی

سری نگر 13،اکتوبر ؍کے این ایس ؍ تحریک حریت کے چیرمیں محمد اشرف صحرائی نے وادی کی موجودہ تکیلف دہ اور اذیت ناک صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ ہندوارہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازے میں لوگوں کی باری شرکت سے فورسز بوکھلاہٹ کی شکار ہوئی۔جس کے بعد انہوں نے جنازے میں شرکت کرنے والینوجوانوں کی گرفاری اور توڑ پھوڑ کی پالسی اپنائی ہے ۔کشمیر نیوزسروس کو موصولہ بیان میں تحریک حریت کے ترجمان نے بتایا کہ چیرمین تحریک حریت محمد اشرف صحرائی نے کشمیر کی موجودہ تکلیف دہ اور اذیت ناک صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاٹھ ہندوارہ جھڑپ میں شہادت پانے والے ڈاکٹر عبد المان وانی اور ساتھی کے جنازے میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی ہے جس سے حکومت بوکھلاہٹ کی شکار ہوئی ہے ۔اس لئے جنازے کے دوران ہی فورسز نے عوام پر آنسوں گیس اورپلیٹ سے بارش کی ہے جس دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔جبکہ فورسز نے جگہ جگہ ناکے بٹھا کر نوجوانوں کو تھانوں میں ن نظر بند کیا ہے ۔جبکہ فورسز نے چھاپوں گرفتاریوں کے علاوہ برے مکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے ۔جس دوران خواتین کو مارپیٹ کیا گیا ۔صحرائی نے بتایا کہدوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوجنازے کے واپسی پر گرفتار کیا گیا ہے تحریک حریت چیرمین نے بتایاکہ ٹکی پورہ لولاب میں فورسز نے مکانوں کی توڑپھوڑ کر کے علاقے میں قیامت صغری بپا کی ہے ۔صحرائی نے اس ساری صورت حال اور حریت کارکنان اور اور لیڈان کے ساتھ ساتھ دیگر نوجوانوں کو پی ایس اے کے تحت وادی سے باہر کے جیلوں میں نظر بند رکرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

جبری رٹائر کئے گئے ملازمیں کی بحالی میں بھی کشمیریوں کے ساتھ امتیازسلوک

چیف سیکر ٹری نے جموں کے 2ملازمین کو بحال کر دیا،5کشمیریوں کی فائلیں واپس کیں 
سری نگر 13،اکتوبر ؍کے این ایس ؍ ریاست جموں کشمیر میں سابق سرکار کے دور اقتدار میں الگ الگ وجوہات کی بناپرجبری سبکدوش افسران اور اہلکاروں کی بحالی میں میں بھی امتیازی سلوک برتا گیا جہاں جموں کشمیر ہائی کوٹ ڈبل بینچ نے چند ملازمین کی دوبارہ بحالی کے احکامات صادرکئے۔اس دوران ذرائع نے بتایاکہ ریاست کے چیف سیکرٹری نے عدالتی احکامات کے باجود جموں کے 2 ملازمین کو بحال کردیا البتہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے5ملازمین کی فائلوں کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پرواپس کیا گیا جس پرملازمین نے کشمیر کے ساتھ برتے گئے امتیازی سلوک پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق سابق سرکار محبوبہ مفتی کے دوراقتدار میں مختلف وجوہات کی بنا پرجموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے جبری طور رٹائر کئے گئے افسران اور اہلکاروں کو بعد میں ہائی کوٹ سرینگر کے ڈبل بینچ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کرتے ہوئے انہیں بحال کرنے کی ہدایت جاری کردیں۔ اس دوران ملازمین نے بتایا چیف سیکرٹری نے جموں سے تعلق رکھنے والے 2ملازمین کو اگر چہ بحال کردیا البتہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 5ملازمین کی فائلیں نامعلوم وجوہات کی بناپر واپس کردیں۔ملازمین نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ اسی طرح کے دوسرے ایک اور واقعے میں جموں کشمیر ہائی کورٹ نے 63جبری رٹائر کئے گئے افسران اور اہلکاروں کی دوبارہ بحالی کے احکامات صادر کئے جس کے بعد سرکار نے جموں کے38میں سے32جبکہ وادی سے تعلق رکھنے والے 25میں سے صرف2کو بحال کیا گیا ہے ۔ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کو بتایا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے5جبری سبکدوش ملازمین کی فائلیں سیول سیکرٹریٹ میں بحالی کے لئے مختلف سرکاری محکموں کے ایک ٹیبل سے دوسری ٹیبل تک سفر کررہی

مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈ نکالنے کیلئے خلوص نیت کیساتھ مذاکرات شروع کے جائیں

پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد کی کشمیر دشمن اور نوجوان کُش پالیسیوں سے لوگ مشکلات میں / ڈاکٹر کمال 
سرینگر/13اکتوبر/سی این آئی جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کا دیرپا اور پُرامن حل ڈھونڈ نکالنے کیلئے خلوص نیت کیساتھ مذاکراتی عمل شروع کریں۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے مذاکرات کو تمام مسائل کا حل جتلاتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کو مسئلہ کشمیر کے تمام متعلقین کیساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کیلئے پہلے سازگار ماحول پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے ، مذاکرات سے قبل ایک ایسی فضاء قائم ہونی چاہئے جہاں بنا ہچکچاہٹ کے تمام متعلقین اس عمل میں شریک ہوجائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس کیلئے پہلے اندرانی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔کالے قوانین کی منسوخی، قیدیوں کی رہائی، آبادی والے علاقوں سے فوجی انخلاء اور خصوصی پوزیشن کی ضمانت لوگوں میں اعتماد اور بھرسہ بحال کرنے میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ موجودہ الیکشن عمل پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے دیئے گئے زخموں پر مرحم لگانا پہلی ترجیح ہونی چاہئے کہ الیکشن کا انعقاد کروانا تصور سے باہر ہے۔ سابق پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد کی کشمیر دشمن اور نوجوان کُش پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان اپنی پڑھائی اور نوکریاں چھوڑ کر بندوق کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ 13برس تک روکے گئے بلدیاتی انتخابات مزید کچھ وقت کیلئے ٹالے جاسکتے تھے۔ حکومت اُس وقت تک انتظار کرسکتی تھی جب تک نہ یہاں حالات سازگار اور پُرامن ہوجاتے، لیکن موجودہ گورنر انتظامیہ صورتحال کو اَن دیکھا کرتے ہوئے ریاست پر انتخابات ٹھونس دیئے۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں ووٹنگ شرح لوگوں کی عدم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت کی دین ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کی وحدت، انفرادیت، عزت اور وقار کو ہمیشہ قائم و دائم رکھنے کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں اور تاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ رہے گی۔ اس موقعے پر صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر بھی موجود تھے۔ 

انجینئر رشید کا شارٹھ گنڈ اور ملحقہ دیہات کا دورہ ، فورسز زیادتیوں کی شدید مذمت 

طلباء کوہراساں کئے جانے کے خلاف پارٹی سرینگر میں کرے گی احتجاج (AMU)
سرینگر/13اکتوبر/ آئی پی سربراہ انجینئر رشید نے آج شاٹھ گنڈ بالا اور ملحقہ دیہات کا دورہ کرکے وہاں گذشتہ دنوں پیش آئے انکاؤنٹر کے دوران جس میں منان وانی اور اُن کا ساتھی عاشق حسین زرگر جانبحق ہوا تھا فورسز کی توڑ پھوڑ سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا ۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق انجینئر رشید نے اس موقعہ پر انکاؤنٹر کے دوران مکانوں اور دیگر جائیداد کو ہوئے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا اور لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ متاثرین کی ہر طرح سے معاونت کی جائے گی۔ اس موقعہ پربات کرتے ہوئے انہوں نے پولیس کے سربراہ اور فوجی اعلیٰ عہدیداروں سے پوچھا کہ جس طرح جہامہ کے رہنے والے مدثر احمد بیگ ولد ثنا اللہ بیگ کو درجنوں لوگوں کے سامنے پکڑ کر اُن کی ٹانگ میں گولی مار دی گئی وہ بد ترین سرکاری دہشتگردی کی مثال ہے اور اس شرمناک واقعہ نے ریاستی پولیس اور فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے تحمل برتنے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ۔ انہوں نے گائے ماتا کو انسانوں سے زیادہ متبرک اور مکرم ماننے والو ں سے کہا کہ جس طرح بے لگام فورسز نے بغیر کسی جواز کے تیرنہ میں انکاؤنٹر کی جگہ سے ایک کلو میٹر دور بے زبان گائے کو گولی مار کر مار دیا اس کے خلاف وہ خاموش کیوں ہیں۔ انجینئر رشید نے گاؤ رکھشکوں سے کہا کہ وہ اتنا تو بتا دیں کہ کیا کشمیر کی گائے اُن کیلئے ماتا نہیں اور کیا وہ اُن وردی پوش اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے جنہوں نے بے زبان گائے کو بلا وجہ مار دیا ۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے اس دیرنہ موقف کو دہرایا کہ جموں کشمیر مسئلہ کا کوئی درمیانی حل نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف سرحد کے دونوں طرف رائے شماری کے ذریعے ہی پورے خطہ میں امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔انجینئر رشید نے اس موقعہ پر بات کرتے ہوئے ہندوستان کی دیگر ریاستوں خاص طور سے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری طلباء کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کل سرینگر میں AMUطباء کے ساتھ یکجہتی کیلئے احتجاجی مارچ کا اہتمام کرے گی ۔ 

چار بڑے شہروں میں ڈیزل کی قیمتوں میں ہوا اضافہ

اگلے چار دنوں تک خام تیل کے دام میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے 
سرینگر/13اکتوبر/سی این آئی پٹرول کی قیمت میںآج مسلسل تیسرے دن اور ڈیزل کی قیمت میں مسلسل نوے دن بھی اضافہ جاری ہے۔ملک میں آج پٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے دن اور ڈیزل کی قیمت میں مسلسل نوے دن بھی اضافہ جاری ہے۔ چار اہم بڑے شہروں دہلی،کولکاتہ، ممبئی،چنئی میں پٹرول 17سے 19پیسے اور ڈیزل 29سے 31پیسے فی لیٹر تک مہنگا ہوگیا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ملک کی سب سے بڑی تیل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آیل کارپوریشن سے موصول اطلاع کے مطابق،ہفتے کو قومی دارالحکومت دہلی اور اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں پٹرول 18۔18پیسے مہنگا ہوکر 82.66روپے اور 88.12روپے فی لیٹر فروخت ہوا۔ وہیں کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت 17پیسے سے بڑھکر 84.88روپے اور چنئی میں 19پیسے بڑھکر 85.92روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی۔دہلی اور کولکاتہ میں ڈیزل 29۔29پیسے مہنگا ہوکر 75.19روپے اور 77.4روپے فی لیٹر پررہا۔ممبئی اور چنئی میں اس کی قیمت 31۔31پیسے بڑھکر 78.82روپے اور 79.51روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی۔

ہندوستان میں انٹرنیٹ بند نہیں ہوگا۔ سائر کا دعویٰ 

انٹرنیٹ بند ہونے سے بھارت میں کوئی دقت نہیں ہو گی
سرینگر/13اکتوبر اگلے 2 دنوں تک یوزرس کو نیٹ ورک کنکشن فیلیور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ مین ڈومین سرور اور اس سے جڑے نیٹ ورک انفراسٹرکچر کے کچھ وقت کیلئے بند رہنے کو بتایا جا رہا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق اگلے 78 گھنٹوں تک انٹرنیٹ سروسز ٹھپ رہنے کی خبر کو لیکر دنیا بھر میں ہلچل مچی ہے۔ حالانکہ ہندستان میں انٹرنیٹ سکیورٹی سے جڑے افسران نے انٹرنیٹ بند ہونے کی خبروں کو خارج کیا ہے۔نیشنل سائبر سکیورٹی کے کو۔ آرڈینیٹر گلشن رائے کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیں شٹ ڈاؤن ہونے پر بھی ہندستان میں آسانی سے کام ہوتے رہیں گے۔ اس کیلئے پہلے سے انتظام کر لئے گئے ہیں ایسے میں لوگوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔نیشنل سائبر سکیورٹی کو۔ آرڈینیٹر گلشن رائے کے حوالے سے این ڈی ٹی وی نے بتایا ، ” دنیا بھر کے انٹرنیٹ یوزرس کو اگلے 48 گھنتوں کے دوران نیٹ ورک کنکشن فیلیور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ہم نے اس کی پوری تیاری کر لی ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے ہندستان میں کوئی دقت نہیں آئے گی ۔