مشترکہ مزاحمتی قیادت کشمیرمسئلے اورکشمیری عوام کے جذبات کی ترجمان 

مسئلہ کشمیرمیں عالمی طاقتوں کی دلچسپی توجہ طلب!
دونوں ملکوں کومجبورکرنے کیلئے کشمیرکی جملہ سیاسی لیڈرشپ کویکجاہوناپڑے گا:پروفیسرغنی
سری نگر؍؍کے این این؍؍سینئرمزاحمتی لیڈرپروفیسرعبدالغنی بٹ نے مرتے دم تک حریت کانفرنس کیساتھ رہنے کاعہدکرتے ہوئے واضح کیاکہ سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت یعنیJRLکسی جماعت یافور م نہیں بلکہ کشمیرمسئلے اورکشمیری عوام کے جذبات کی ترجمان ہے ۔انہوں نے کشمیرمذاکرات میں مزاحمتی لیڈرشپ کے رول کومحض مشاورانہ قراردیتے ہوئے یہ بھی واضح کیاکہ جب بھارت اورپاکستان دوطرفہ مذاکرات میں کشمیرمسئلے کے کسی حل پرتیارہونگے تووہ کشمیری لیڈرشپ کواعتمادمیں لینے کیلئے اُن سے ضرورمشاورت کریں گے ۔کے این این کے مطابق ایک انٹرویوکے دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین اورمسلم کانفرنس کے سربراہ پروفیسر عبدالغنی بٹ کاکہناتھاکہ انسانی زندگی انفرادی ہویاکہ اجتماعی اورتہذیبی ہویاکہ نظریاتی ،اس میں وقتاًفوقتاًتبدیلی وقوع پذیرہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی انسان،جماعت ،لیڈریاملک تبدیلی کے عنصرکوفراموش یاصرفِ نظرنہیں کرسکتاہے ۔پروفیسرغنی نے کہاکہ تبدیلی کوقبول کیاجاناچاہئے کیونکہ تبدیلی کارُخ سمجھ کرہی ایک انسان منزل کی راہ پرگامزن ہوسکتاہے ۔ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ دنیامیں تیزی کیساتھ سیاسی اوراقتصادی محاذپرتبدیلیاں وقوع پذیرہوئی اورہورہی ہیں،اوراب مملکتوں کے درمیان تعلقات کی بنیاداقتصادی اورتجارتی بنیادوں پربگڑتے اوربنتے نظرآرہے ہیں ۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ کل تک پاکستان امریکہ کااہم ترین اتحادی تھالیکن اب واشنگٹن نئی دہلی کے زیادہ نزدیک ہوگیاہے کیونکہ امریکہ کے بھارت کیساتھ اقتصادی مفادات ہیں جن کووہ نظراندازنہیں کرسکتا۔ایک اورسوال کاجواب دیتے ہوئے سینئرمزاحمتی لیڈرپروفیسرعبدالغنی بٹ کاکہناتھاکہ کشمیربھارت اورپاکستان کے درمیان 7دہائیوں سے چلاآرہاہے ایک جھگڑااورایک تنازعہ ہے ۔تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کشمیرمسئلے یاتنازعے کاایک تاریخی پس منظرہے جسکودونوں ملک یاکشمیری عوام کبھی بھول نہیں سکتے ۔لیکن اس مسئلے سے جڑے سبھی فریقین یامتعلقین کویہ بات ذہن نشین رکھناہوگی کہ عالمی اورعلاقائی سطح پررونماہونے والی تبدیلیوں کونظراندازنہیں کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیربلاشبہ بھارت اورپاکستان کے درمیان ایک دیرینہ تنازعہ ہے لیکن اب اس تنازعے میں امریکہ ،چین اورروس جیسے طاقتورممالک کاعمل دخل یادلچسپی بڑھ چکی ہے جوکئی اعتبارسے پریشان کن اورکئی اعتبارسے حوصلہ بخش قراردی جاسکتی ہے ۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ دنیامیں حالیہ کچھ برسوں یادہائیوں کے دوران آنے والی تبدیلی نے ایکدوسرے پرانحصاریعنی Inter-Dependenceکے نظریہ کوتقوت پہنچائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب انفرادیت یاہم ہستی کے بجائے اجتماعیت کانظریہ فروغ پارہاہے ،اسلئے بھارت اورپاکستان کی قیادت کوبھی چاہئے کہ وہ اس تبدیلی کاحصہ بنے ۔ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے مسلم کانفرنس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک انفرادی حیثیت میں حریت کے دوالگ الگ دھڑوں اورلبریشن فرنٹ کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن جب یہ تینوں JRLمیں شامل ہیں تویہ ملکرکشمیر،کشمیرمسئلے اورکشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں اعتدال پسندہوں کہ نہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن میں ایک حقیقت پسندہوں کیونکہ میں جوجانتااورسمجھتاہوں ،وہی بات کہتاہوں ،اورمجھے یہ بات کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتی کہ کشمیرمسئلے کادائمی حل ہی بھارت اورپاکستان کی سا لمیت اورسلامتی کی ضمانت ہے ۔مسلم کانفرنس چیئرمین کاکہناتھاکہ وہ بھارت اورنہ پاکستان کے مخالف ہیں بلکہ اپنی کشمیری قوم کے حامی اورطرفدارہیں ۔پروفیسرغنی نے کہاکہ میں جس تبدیلی کی بات کرتاہوں ،وہ آچکی ہے ،اوراُسی تبدیلی کے تناظرمیں مجھے اسبات کایقین ہے کہ بھارت اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کاعمل بحال ہوگا،جس میں کشمیرمسئلے کے حل پربھی بات چیت ہوگی ۔تاہم انہوں نے کہاکہ ہندوپاک دوآزاداوخودمختارمملکتیں ہیں ،اسلئے اُن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کشمیری قیادت کوبراہ راست شامل کرنامشکل ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب دونوں ملک کشمیرمسئلے کے کسی حل پرتیارہونگے تووہ کشمیری قیادت کیساتھ ضرورمشاورت کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں مسلم کانفرنس کے چیئرمین نے واضح کیاکہ وہ عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس کیساتھ ہیں ،اورمرتے دم تک اسی فورم کیساتھ وابستہ رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ میری ذاتی خواہش ہے کہ کشمیرکی سبھی سیاسی جماعتیں اوران سے وابستہ سبھی لیڈرذاتی یاپارٹی نظریات کوبالائے طاق رکھ کریکجاہوں تاکہ وہ ملکربھارت اورپاکستان پرکشمیرمسئلے کے حل اوراپنی قوم کودہائیوں کی تباہی اورکشت وخون سے نجات دلانے کیلئے مجبورکرسکیں ۔

عدل و انصاف کے تمام تقاضے بالائے طاق

جیل خانے کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل :جے آر ایل
سری نگر؍؍کے این این؍؍مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ جیل خانوں کو کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ان قیدیوں کو انتہائی بدترین حالت میں رکھا جارہا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کورٹ بلوال جیل جموں میں معروف محبوس آزادی پسند کارکن ۶۶ سالہ غلام حسن ملک عرف نور خان ساکن پیلی پورہ اوڑی کے انتقال کو ایک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر ہمارے ان خدشات کو تقویت بخشی ہے کہ جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند قیدیوں کی زندگیاں کس درجہ غیر محفوظ ہیں اور کس طرح جیلوں میں مقید ان قیدیوں کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جارہا ہے ۔مرحوم نور خان کی تحریک آزادی کے تئیں خدمات ، قربانیوں اور اس کے صبر استقامت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو جو کہ پہلے سے بہت علیل تھے بدنام زمانہ PSA کے تحت گرفتار کرکے گھر سے دور کورٹ بلوال جیل میں منتقل کرنا اور وہاں انہیں مناسب طبی امداد سے محروم رکھنے کا عمل بجائے خود حکمرانوں کی کشمیری سیاسی نظر بندوں کے تئیں انتہا پسندانہ سوچ اور شقاوت قلبی کو ظاہر کرتی ہے ۔قائدین نے کہا کہ مرحوم نور خان کو بروقت طبی امداد کی عدم فراہم اور جیل حکام کا انکی صحت کے تئیں غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کی موت کا سبب بنا ہے اور اسی طرح بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور ان کی کسمپرسی کی حالت اور جیل حکام کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی رویے نے ان قیدیوں کی زندگیوں کے حوالے سے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔قائدین نے کہا کہ سرینگر سینٹرل جیل، کورٹ بلوال، کٹھوعہ، تہاڑ جیل دہلی، ہیرا نگر، سنگرور، ادھمپور،اور دیگر جیل خانوں کو کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ان قیدیوں کو انتہائی بدترین حالت میں رکھا جارہا ہے اور ان جیلوں میں مقید سینکڑوں کشمیری سیاسی نظر بند نہ صرف مناسب طبی سہولیات اور دیگر لازمی ضرورتوں سے محروم ہیں بلکہ ان اذیت خانوں میں مقید نظر بندوں کو جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ رکھ کر ان کی زندگیوں کو جان بوجھ کر خطرات سے دوچار کیا جارہا ہے ۔ ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے اور جیلوں میں ان لوگوں کو شدید ذہنی اور جسمانی عذا ب و عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت ان لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے ۔قائدین نے حقوق بشر کے عالمی اداروں IICRC, Asia Watch, Ammenesty International وغیرہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جیلوں میں مقید کشمیری نظر بندوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کیلئے اپنی ٹیمیں روانہ کریں اور حکومت ہندوستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان قیدیوں کو جنیوا کنونشن کے تحت طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرے۔قائدین نے فوج اور فورسز کی جانب سے موچھواڑہ شوپیاں میں نہتے عوام کی مارپیٹ ، ان کو تشدد کا نشانہ بنانے، مال و اسباب کی توڑ پھوڑ اور پوری بستی کو بندوق کی نوک پر عذاب و عتاب کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موچھواڑہ میں فوج اور فورسز کی جانب سے نہتے عوام کیخلاف دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز کسی بھی جوابدہی کے عمل سے مبرا ہے اور جب چاہے اور جہاں چاہیں لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تعینات بھارتی افواج اور فورسز نے پوری کشمیری قوم کیخلاف ایک طرح کی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور آئے روز مختلف علاقوں میں مختلف بہانوں سے نہتے عوام کو تشدد کا نشانہ بنانا ان کا معمول بن چکا ہے جو اقوام عالم کیلئے چشم کشا ہے۔

ہندوستان میں مذہبی آزادی اور یکساں شہری حقوق قصۂ پارینہ 

کانپتی انسانیت کے دلدل میں پھنسے کشمیری 
کشمیر میں خونی کھیل جاری ،ہند پاک دوستی کے مخالف عناصر کی کوئی کمی نہیں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ 
سری نگر؍؍کے این این؍؍نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے اور کشمیری اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے اورفرقہ پرستوں کے غلبے کے بعدمذہبی آزادی کے اصول تہس نہس ہوگئے ۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بھارت کی موجودہ حالات میں فوری بدلاؤ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج کپوارہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پارٹی لیڈران سردار شمی سنگھ اوبرائے، تنویر صادق کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، جو ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ طرہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے، ہم اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔ اکثر اوقات تو بے گناہ اور معصوم لوگوں کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اُن کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اور مارنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کسی کی جان لے رہے ہیں۔ کشمیر میں خون کا یہ کھیل فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور یہاں کے لوگوں کو امن، سکون اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ اہل کشمیر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے مشکلات اور مسائل اُسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب ہم متحد ، یکسو اور یک زبان ہونگے۔ اتحاد میں ہی ہم منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر ہم اب بھی ٹولیوں میں بنٹتے گئے تو ہم ہماری شناخت، انفرادیت ، اجتماعیت اور وحدت داؤ پر لگ جائیگی۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ اسی صورت میں جموں وکشمیر اور خطے میں مکمل اور دیگر پا امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں، ایسے عناصر کے مذموم ارادوں اور سازشوں کو ناکام بنا کر خطے میں دیر پا امن کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کو آگے آکر نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ دریں اثناء انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون میر سیف اللہ کے برادرِ غلام محی الدین میر کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے۔ اس موقعے پر پارٹی کے مقامی لیڈران قیصر جمشید لون، ناصر خان، حاجی محمد سلطان وانی، یوتھ ضلع صدر زاہد مغل بھی موجو دتھے۔