رفیع آباد میں 2بالائی ورکر گرفتار ،اسلحہ اور گولہ بارود ضبط

دیدہ کوٹ جنگل میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری 
سری نگر:۱۹،جون//پانزالہ رفیع آباد میں فورسز نے عسکریت پسندوں کے دو با لائی ورکروں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ اور گو لہ با رود بر آ مد کرنے کا دعو یٰ کیا ،سر حدی ضلع کپوارہ کے جنگل میں عسکریت پسندوں اور فورسز کے ما بین گو لیوں کاتبا دلہ ہو نے کے بعد پولیس و فورسز نے وسیع علاقے کو محا صرے میں لے کر عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیما نے پر تلا شی کاروا ئی شروع کی۔ 32راشٹر یہ رائفلز کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ پانزلہ رفع آ باد کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے با لا ئی ورکر سر گرم ہو گئے ہے اطلاع ملنے کے بعد پولس و فورسز نے علاقے کا محا صرہ کیا اور تلا شی کاروا ئی شروع کی جسکے دوران پولس و فورسز نے عسکر یت پسندوں کے با لا ئی ورکروں عارف احمد ملہ سا کنہ شتلو رفیع آ باد اور ان کے سا تھی رئیس احمدساکنہ دمحال ہانجی پورہ کولگام کی گرفتاریاں عمل میں لاکر ان کے قبضے سے ایک پستول،ایک ہینڈ گر یننڈ ،گولوں کے تین راؤند بر آ مد کرنے کا دعویٰ کر تے ہو ئے کہا کہ دونوں با لا ئی ورکروں کو پوچھ تا چھ کیلئے جموں کشمیر پولیس کے حوالے کردیا گیا ۔پولیس کے مطابق پانزلہ رفیع آباد میں گرفتار کئے گئے دونوں بالائی ورکروں کا تعلق لشکریہ طیبہ سے ہے اور عارف احمد ملہ نامی بالائی ورکر ایس پی اؤ سے اسلحہ چھیننے میں پولیس کو مطلوب تھا ۔ پولیس کے مطابق گرفتار کئے گئے بالائی ورکروں کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 48/2018زیر فعہ 2/25 IA ACT 13 UAE ACT درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ۔ادھرسر حدی ضلع دیدہ کوٹ کپوارہ کے علاقے میں 18جون کو عسکریت پسندوں نے 47راشٹریہ رائفلز کی گشتی پارٹی پر گولیاں چلا ئی پولیس و فورسز نے بھی جوابی کاروائی کی فر قین کے درمیان گو لیوں کاتبا دلہ کا فی دیرتک جاری رہا اس دوران فورسز کی مز یدکمک روانہ کر دی گئی دیدہ کوٹ جنگل کے وسع علاقے کو محا صرے میں لینے کے بعد فرار ہو ئے عسکر یت پسندوں کی تلا ش بڑے پیما نے پر شروع کردی گئی تا ہم ابھی تک عسکر یت پسندوں اور پولیس و فورسز کے مابین آ منا سامنا نہیں ہوا ۔ 

نازنین پورہ ترال میں عسکریت پسندوں اور پولیس و فورسز کے درمیان جھڑپ

فورسز اہلکار زخمی ،آخری اطلاعات موصول ہونے تک جھڑپ جاری 
سری نگر:۱۹،جون//ترال قصبے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب پولیس وفورسز نے نازنین پورہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ،عسکریت پسندوں کے ابتدائی حملے میں فورسز اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ نوجوانوں کی کثیر تعداد نے پولیس و فورسز پر سنگباری شروع کی اور تصادم آرائی کی جگہ کی طرف پیش قدمی شروع کی ،پولیس و فورسز نے تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا استعما ل کیا ،علاقے میں 2سے 3عسکریت پسند چھپے بیٹھے ہیں ۔ اے پی آئی کے مطابق ترال قصبے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب پولیس و فورسز کو نازنین پورہ ترال کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی اطلاع ملی اور علاقے کا محاصرہ کر کے رہائشی مکان میں چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی ۔ عسکریت پسندوں نے پولیس و فورسز کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے بندوقوں کے دہانے کھول دئیے اور پولیس و فورسز پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں فورسز کا ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہواجسے علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہونے کی خبر علاقے میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی ،سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جھڑپ کی جگہ کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ پولیس و فورسز نے پیش قدمی کرنے والے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے سنگباری شروع کی ۔ پولیس و فورسز نے تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے ٹائیر گیس شلنگ ،اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا استعمال کیاجس سے علاقے میں افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا۔ پولیس و فورسز نے مزید کمک طلب کر کے عسکریت پسندوں کے فرار ہونے کے تمام راستوں کو سیل کر دیا ۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک عسکریت پسندوں اورپولیس و فورسز کے درمیان جھڑپ جاری تھی ۔

پی ڈی پی کیساتھ حکومت سازی کا سوال ہی نہیں/ آزاد 

بی جے پی کشمیر کو جہنم بنا کر چھوڑ گئی ملکی عوام سے معافی مانگنا ہوگی /کانگریس،کشمیر کو جھلستا چھوڑ کر بھاجپابھاگ گئی/ کیجروال 
سری نگر:۱۹،جون//کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ریاستی وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے آج کہاکہ حکومت سازی کیلئے پی ڈی پی کی حمایت کا سوال ہی نہیں جبکہ بھاجپا نے جموں وکشمیر کو برباد کرکے راہ فرار اختیار کرلیا لیکن اسے اسکا حساب دینا ہی ہوگا کیونکہ جموں وکشمیر کو برباد اور تباہ کرکے بی جے پی سارا گناہ پی ڈی پی کے سر تھونپ کر بھاگ نہیں سکتی۔اس دوران دلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال نے بھی بھاجپا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بھاجپا نے کشمیر کو جلا دیا اور اب بھاگ رہی ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے بھاجپا پی ڈی پی سرکار گرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ان سرکار نے کشمیر میں ہمالیائی غلطیاں کیں ہیں اور لوگ اس سے نجات چاہتے تھے لہذا ب ایک راحت کشمیری عوام کو مل گئی کہ سرکار چلی گئی تاہم انہوں نے حکومت سازی کیلئے پی ڈی پی کی حمایت پر کہا کہ ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے اور پی ڈی پی کو حمایت دینے کا سوال ہی نہیں ،کانگریس ایسا کسی قیمت پر نہیں کر سکتی ہے ۔تاہم انہوں نے بھاجپا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس جماعت نے پی ڈی پی کیساتھ مل کر کشمیر کو جہنم بنا دیا ہے اور سرحدوں کو قبرستانوں میں تبدیل کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس جماعت نے جموں وکشمیر کو تباہ وبرباد کردیا اور اب اس کا سارا گناہ پی ڈی پی کے سر تھوپ کر راہ فرار اختیا کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا ہونے نہیں دیا جائیگا انہیں عوام سے معافی مانگنی ہوگی اور پورے ملک میں اس کا اعتراف کرنا ہوگا کہ وہ جموں وکشمیر میں ناکام ہوگئی ہے لہذا بھاگ کھڑی ہوئی ہے ۔ غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ یہ الائنس ہی کشمیری عوام کے خلاف تھا اور کشمیری عوام اس اتحاد کے خلاف شروع سے ہی رہے ہیں لیکن پی ڈی پی نے بھاجپا کو گلے لگا کر خود کشی کی حالانکہ اس کو بچانے کیلئے پہلے پہل کانگریس سامنے آئی تھی لیکن پی ڈی پی نے نہیں مانا لیکن آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے اس کا حشر بھی دیکھ لیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں بھاجپا کے قدم پڑتے ہی میں نے کشمیر کی بربادی کی پیش گوئی کی تھی اور یہ صحیح ثابت ہوئی ۔ ایسے میں اس مخلوط سرکار کے دور میں سب سے زیادہ سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی ۔ سب سے زیادہ سیکورٹی فورسز اہلکار مارے گئے ، پولیس کے اہکار مارے گئے ،سب سے زیادہ سویلین مارے گئے ۔ زخمی بھی ہوئے ۔ سب سے زیادہ اعداد وشمار جو بربادی کے ہیں وہ بربادی کے کوٹا پی ڈی ی اور بی جے پی کے کھاتے میں چلا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی اور بھاجپا حکومت کی وجہ سے عوام پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے اور ریاست کو آگ کے حوالے کر دیا گیا لیکن اب بھاجپا اس آگ سے اپنا پلو چھڑانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اب ملک کے عوام اس کو معاف نہیں کریں گے بلکہ اسے جواب دینا ہی ہوگا اور ملک کے عوام کے سامنے جموں وکشمیر میں ناکامی پر معافی مانگنی ہوگی ۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ جموں وکشمیر کو تباہ کرکے وہ راہ فرار اختیار نہیں کر سکتی ہے لیکن اسے ملک کے عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ آخر اب تک وہ کیوں حکومت میں رہی اور آج بیچ منجدھار پورے کشمیر کو آگ میں جلتا چھوڑ کر چلے گئے ۔ادھر دلی کے وزیراعلیٰ کیجریول نے بھی بی جے پی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا بھاجپا نے کشمیر کو جھلستا ہوا چھوڑ دیا ہے اور اس کو جواب دینا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ جس طرح سے بھاجپا نے کشمیر میں حالات خراب کئے اور اب راہ فرار اختیار کرلیا اس کیلئے اسے اعتراف گناہ کرنا ہی ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ یہ جماعت ہمیشہ سے ہی یہی کرتی آئی ہے ۔

ریاست سیاسی بحران سے دوچار،وزیراعلیٰ مستعفی ’’گورنر راج زیر غور‘‘اعلان کسی بھی وقت متوقع‘‘

دلی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مشاورت جاری، بھاجپا پی ڈی پی سرکار کا خاتمہ،پی ڈی پی کیساتھ حکومت سازی اب مشکل تھی/ رام مادھو
سری نگر:۱۹،جون//ریاست جموں وکشمیر سیاسی بحران سے دوچار ہوگئی اورپی ڈی پی بھاجپا سرکار کے خاتمے کے بعد ریاست میں کسی بھی وقت گورنر راج لاگو ہوگا اور اس سلسلے محض اعلان باقی ہے ۔ادھر بھاجپا پی ڈی پی اتحاد آج اس وقت ٹوٹ گیا جب بھاجپا نے غیر متوقع اور ڈرامائی فیصلے میں حمایت واپس لیتے ہوئے جموں وکشمیر میں محبوبہ مفتی کی سربراہی والی سرکار گرا دی جس کے فورابعد محبوبہ مفتی نے گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا جس کیساتھ ہی ریاست میں گورنر راج کیلئے راستہ ہموار ہوگیا ۔ اس دوران بھاجپا نے سرکار سے حمایت واپس لینے کیلئے پی ڈی پی کی جنگجوئیت کے تئیں نرم پالیسی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔اس دوران ریاست میں گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کیلئے دلی میں مرکزی وزیر داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی گئی جس میں قومی سلامتی کے مشیر سمیت سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران موجود ہیں ۔ ریاست میں غیر متوقع اور ڈرامائی سیاسی پیش رفت کے تحت بالآخر چار سال سے جاری پی ڈی پی بی جے پی سرکار کا خاتمہ ہوگیا جب ایک ڈرامائی فیصلے میں بی جے پی نے پی ڈی پی کی سربراہی والی سرکار سے حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا ۔اگر چہ اس سلسلے میں ایک روز قبل ہی کچھ ایک قیاس آرائیاں ہورہی تھی کہ سرکار کو خطرہ ہے تاہم آج صبح بھاجپا صدر امت شاہ نے بھاجپا کے تمام وزراء کو نئی دلی طلب کر لیا اور وہاں ان کیساتھ مشاورت کی جس کے بعد بھاجپا کے قومی جنرل سیکریڑی اور مخلوط سرکار کے خالق رام مادھو نے نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایہ اعلان کر دیا کہ بھاجپا کیلئے اب مشکل ہے کہ وہ پی ڈی پی کیساتھ اپنا ناطہ برقرار رکھے جس کو دیکھتے ہوئے وہ پی ڈی پی کی قیادت والی سرکار سے اپنی حمایت واپس لے رہے ہیں ۔ رام مادھو کا کہنا تھا کہ کشمیر میں پی ڈی پی کیساتھ بھاجپا آگے حکومت نہیں چلا سکتی ہے کیونکہ ایسے حالات پیدا ہورہ ہیں جس میں مخلوط سرکار چل نہیں سکتی ہے لہذا ہم نے اس سے ناطہ توڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جنرل سیکریٹری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پی ڈی پی کی سربراہی میں مخلوط حکومت ریاست میں امن و امان بحال کرنے ،لوگوں کے مشکلات کا ازالہ کرنے ،ملی ٹینسی کو کچلنے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہوگئی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزراء کو جموں اور لداخ صوبوں میں کام کرنے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ رام مادھو نے کہا کہ رمضان المبارک کے متبرک ایام کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے میں سنجیدہ نہیں تھی تاہم ریاست کی سا بق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے مطالبے پر مرکزی حکومت نے ریاست کے لوگوں کو راحت پہنچا نے کیلئے یکطرفہ جنگ بندی کا بھی اعلان کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا اور ریاست میں بات چیت کے بھی مرکزی وزیر داخلہ نے پیشکش کی ۔ جنرل سیکریٹری نے کہا کہ جنگ بندی اعلان کے دوران نہ صرف ریاست میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا بلکہ پولیس و فورسز پر حملوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ۔ علیحدگی پسند قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزاحمتی قیادت بھی ریاست میں امن و امان نہیں چاہتی ہے اور نہ ہی انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے بات چیت کی دعوت کا مثبت جواب دیا جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کو ریاست میں جنگ بندی میں مزید اضافہ کرنے کے فیصلے کو واپس لینا پڑا ۔ مخلوط حکومت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزراء کو تبدیل کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے قومی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی چاہتی تھی کہ ریاست میں مخلوط حکومت اپنی مدت پورا کریں تاہم محبوبہ مفتی کی سربراہی میں سرکار لوگوں کے توقعات پر کھرا نہیں اتری جس کے نتیجے میں ملک کے عوام میں بھی ناراضگی بڑھ گئی ۔بھارتیہ جنتا پارتی ملک کے عوام کو مایوس نہیں دیکھنا چاہتی ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ مخلوط حکومت سے حمایت واپس لینے کے بارے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور مرکزی حکومت نے کافی غور و خوض کے بعد مخلوط حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان بحال کرنے اور ریاست کے لوگوں کے مسائل کا ازالہ کرنے میں مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی خدمات جاری رکھے گی اور اس سلسلے میں کسی بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جائیگا ۔ نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل دینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے رام مادھو نے کہا کہ فی الحال ایک مخلوط حکومت سے بی جے پی نے اپنی حمایت واپس لی ہے اور ریاست میں آئندہ اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں پارٹی جلد ہی میٹنگ کر کے لئے جانے والے فیصلوں کو منظر عام پر لائے گی ۔چنانچہ رام مادھو کے اس غیر متوقع اعلان کیساتھ ہی ریاست میں مخلوط سرکار کا خاتمہ ہوگیا اور اس اعلان کے فورا بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنا استعفیٰ گورنر این این ووہرا کو پیش کر دیا جس کے ساتھ ہی عملی طور پر ریاست میں محبوبہ مفتی والی سرکار ختم ہوگئی ۔ چنانچہ سرکار گرنے کے ساتھ ہی اب ریاست میں گورنر راج کیلئے راستہ ہموار ہوگیا ہے کیونکہ پہلے سے ہی دیگر سیاسی جماعتوں نے پی ڈی پی یا بھاجپا کو حماتی دینے سے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے ۔ ایسے میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے پہلے ہی یہ صاف کر دیا ہے کہ وہ پی ڈی پی کو سرکار میں رکھنے کیلئے کسی بھی قیمت پر اپنا تعاون پیش نہیں کریں گے چنانچہ ان دوجماعتوں کی حمایت کیساتھ بھاجپا یا پی ڈی پی اقتدار میں رہ سکتے ہیں ۔تاہم اب ریاست گورنر راج کی جانب بڑھ رہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے نئی دلی میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج وزرات داخلہ ،فوجی سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوئل کیساتھ ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے اور یہ میٹنگ دیگر گئے تھے جاری رہیگی ۔معلوم ہو اہے کہ اس میٹنگ میں مرکزی حکومت ریاست میں گورنر راج کے امکانات اور اسسے لاگو کرنے پر حتمی فیصلہ لیں گے اور اس سلسلے میں اس کے سیاسی معاملات پر پڑنے والے اثرات پر بھی خصوصی طور پر بحث ہوگی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں گورنر راج لاگو کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے عملی طور پر من بنالیا ہے کیونکہ پی ڈی پی نے کشمیر میں طاقت کی پالیسی کو نکار دیا ہے اور ایسے میں پی ڈی پی نے جنگجوئیت کے خلاف آپریشنوں کی بحالی پر کافی زیادہ تحفظات ظاہر کئے ہیں اور محبوبہ مفتی نے راجناتھ سنگھ کیساتھ بھی کافی طور پر رابطہ کیا تھا کہ رمضان جنگ بندی کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ریاست میں مذاکرات کیلئے ماحول کو تیار کیا جاسکے جس پر بھاجپا نے محبوبہ مفتی کی یہ تجویز خاطر میں نہیں لائی اور غیر متوقع طور پر پی ڈی پی سے ہی ناطہ توڑ دیا جس کے ساتھ ہی ریاست میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اپنا استعفیٰ ریاست گورنر کو بھیج دیا ہے اور ایسے میں سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ریاستی گورنر کیساتھ ملاقات کی ہے چنانچہ مرکزی حکومت نے یہ داو کھیل کر پی ڈی پی کیلئے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑ دیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے اب ریاست میں سیاسی بحران پر قابو پانے کیلئے بہت جلد گورنر راج لاگو ہوگا ۔تاہم ذرائع کے مطابق ریاست میں گورنر کی بھی مدت کار ختم ہورہی ہے اور ایسے میں بھاجپا ریاست جموں وکشمیر کیلئے نئے گورنر کی تلاش میں بھی جٹ گئی ہے اور بخشی کا نام بھی سرفہرست آرہا ہے اور قوی امکان ہے کہ بھاجپا ریاست میں گورنر کو بھی بدل دے گی ۔تاہم یہ طے ہے کہ اب ریاست میں گورنر راج کچھ ہی گھنٹوں کے اندر ہوسکتا ہے اور دلی میں منعقداس میٹنگ کے بعد اعلان متوقع ہے ۔گورنر راج کا حتمی اعلان راجناتھ سنگھ اور وزیراعظم مودی کیساتھ ملاقات کے فورابعد کیا جائیگا ۔

پلوامہ میں آرمی ،فورسزوپولیس کے مشترکہ شبانہ چھاپے

سنگباری اورگرینیڈحملوں کی پاداش میں14نوجوان گرفتار
سری نگر:۱۹،جون//جنوبی قصبہ پلوامہ اوراسکے کچھ مضافاتی علاقوں میں منگل وارکواحتجاجی ہڑتال کی گئی کیونکہ دوران شب فوج ،فورسزاورپولیس کی مشترکہ ٹیموں نے ایک درجن سے زیادہ نوجوانوں کوچھاپوں کے دوران گرفتارکرلیا۔کے این این کومعلوم ہواکہ راشٹریہ رائفلز،سی آر پی ایف اورپولیس وٹاسک فورس اہلکاروں نے سوموارکورات دیرگئے ضلع پلوامہ کے کئی دیہات بشمول چھاتہ پورہ ،ڈولی پورہ ،نیوکالونی اورپرچھومیں واقع متعددگھروں میں چھاپے ڈالے ،اوران شبانہ چھاپوں کے دوران 14نوجوانوں کوگرفتارکیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ گرفتارکئے گئے سبھی نوجوانوں کیخلاف مختلف پولیس تھانو ں میں سنگباری اورگرینیڈحملوں جیسی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی پاداش میں پہلے ہی کیس درج کئے گئے ہیں ،اوران نوجوانوں کومطلوب فہرست میں رکھاگیاتھا۔ایس ایس پی پوامہ محمداسلم چودھری نے شبانہ گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ حراست میں لئے گئے نوجوان سنگباری اورگرینیڈپھینکنے جیسے واقعات میں ملوث رہے ہیں ۔ایک درجن سے زیادہ نوجوانوں کی شبانہ گرفتاری کیخلاف جنوبی قصبہ پلوامہ اوراسکے کچھ مضافاتی علاقوں میں منگل وارکواحتجاجی ہڑتال رہی تاہم کوئی ناخوشگوارواقعہ رونمانہیں ہوا۔