سانحہ کٹھوعہ 

وادی بھر میں برستی بارش میں بھی احتجاج بلند
علماء اور واعظین نے شرمناک سانحہ کی مذمت کی، پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس معطل
سری نگر20، اپریل //برستی بارشوں کے بیچ کٹھوعہ معاملے پر لوگوں کا پرامن احتجاج جمعہ کو بھی جاری رہا۔ اس دوران جمعہ اجتماعات کے دوران علماء اور واعظین نے اس شرمناک سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مجرمین کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ ادھر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے بعد نماز جمعہ پرامن احتجاجی مظاہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کردئی گئی تھی۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق جمعہ کو شدید بارشوں کے نتیجہ میں اگر چہ گزشتہ ہفتوں کی طرح کٹھوعہ واقعہ کے خلاف عوامی احتجاج کا اثر کم ہی رہا لیکن جمعہ اجتماعات پر واعظین اور علماء نے اس شرمناک سانحہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقعہ پر خطبا اور واعظین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے ملوث افراد کو سزائے موت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ جمعہ کی صبح سے ہی وادی بھر میں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران زندگی کی معمول کی سرگرمیاں مجموعی طور پر متاثر رہی۔ بارشوں نے کٹھوعہ معاملے پرجاری عوامی احتجاج کو بھی خاصا متاثر کردیا۔ شمالی،وسطی اور جنوبی کشمیر میں جمعہ کے روز اگر چہ سڑکوں کو عوامی یا طلبائی احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا مگر جمعہ کے عوامی احتماعات کے پیش نظر وادی بھر کی مساجد میں علماء اور واعظین نے اس انسانیت سوز واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقعہ پر علماء نے فرقہ پرستوں کی جانب سے 8سالہ معصوم بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کو ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی کڑی الفاظ میں مذمت کی۔ علماء نے عوام سے متحد ہوکر رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس شرمناک سانحہ کے خلاف متحد ہوکر صدائے احتجاج بلند کریں۔ ادھر شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپواڑہ، سوپور، بانڈی پورہ میں بھی جمعہ اجتماعا ت کے دوران علماء اور واعظین نے کٹھوعہ میں پیش آئے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کیا۔ انہوں نے حکومت اور واقعہ سے متعلق کمیشن پر زور دیا کہ وہ کیس کی کارروائی کو شفاف اور آزادانہ بنیادوں پر اپنے منطقی انجام تک پہنچائے نیز ملوث افراد کو سرعام پھانسی پر لٹکائے۔ انہوں نے کٹھوعہ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے عدالت میں چالان پیش کرتے وقت غیر قانونی حرکت کا ارتکاب کرنے اور مجرموں کے حق میں نعرہ بازی کرنے کی بھی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ ایسے نام نہاد وکلا کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے۔ ادھر اوڑی میں واقعہ کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران قصبہ میں تمام تعلیمی، تجارتی اور دیگر کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ ہڑتال کے دوران سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور مسدود رہی۔ ہڑتال کے دوران عوام نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ادھر وسطی کشمیر کے سرینگر، بڈگام اور گاندربل میں بھی اگر چہ تیز تر بارشوں کی وجہ سے عوامی یا طلبائی احتجاج نہیں ہوا مگر جمعہ کے موقعہ پر مختلف مساجد میں ائمہ حضرات نے اس واقعہ کی مذمت کی اور حکومتی اہلکاروں سے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں گزشتہ ایام کے برعکس احتجاجی مظاہروں میں کمی دیکھنے کو ملی۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر میں بھی جمعہ اجتماعات کے دوران ائمہ حضرات نے آصفہ آبروریزی اور قتل معاملے کو لے کر احتجاج کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ اس موقعہ پر واعظین اور مقررین حضرات نے واقعہ میں ملوث افراد کو پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کی۔ انہوں نے کٹھوعہ میں مجرموں کے خلاف عدالت میں چالان پیش کرتے ہوئے فرقہ پرست عناصر کی جانب سے روڑے اٹکانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف واقعہ میں ملوث مجرموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کردیا گیا ہے وہیں اُن وکلا کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جانا چاہیے جو علی الاعلان مجرموں کی پشت پناہی انجام دے رہے ہیں۔ اسی دوران جمعہ کی صبح سے ہی صوبائی انتظامیہ کی ہدایت پر وادی بھر میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کرکے رکھ دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے عوام کو بعد نماز جمعہ پرامن احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل پر صوبائی انتظامیہ نے جمعہ کی صبح کو ہی وادی بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔ انتظامیہ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ نماز کی ادائیگی کے بعد وادی میں شرپسند عناصر احتجاج کو بھڑکانے کی کوششیں کرسکتے ہیں جس کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا گیا تھا۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ راجوری نے بھی جمعہ کو ضلع بھر میں انٹرنیٹ سروس اُس وقت معطل کردی جب ایک مقامی لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ اطلاعات کے مطابق چندر پرکاش نامی نوجوان گزشتہ روز سے لاپتہ ہوا تھا جسے ایک روز بعد بے ہوشی کی حالت میں نزدیکی علاقہ سے برآمد کیا گیا۔ اس موقعہ پر جونہی چندرپرکاش کو سندربنی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل چندرپرکاش کا ایک مقامی لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا جس دوران ہاتھا پائی کی وجہ سے لڑکے کو چوٹ آئی۔ چندرپرکاش کی پرکاش کی ہلاک ہونے کی خبر جونہی علاقہ میں پھیل گئی تو انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو زک نہ پہنچنے کے لیے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کردی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہ ہو۔ دریں اثناء خطہ چناب کے بھدرواہ ، رام بن اور کشتواڑ میں بھی کٹھوعہ واقعہ کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس دوران لوگوں نے واقعہ کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر انکوائری مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجلس شوریٰ کشتواڑ اور انجمن اسلامیہ بھدرواہ کی مشترکہ کال پر جمعہ کو آصفہ نامی بچی کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے علاوہ واقعہ میں ملوث افراد کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس موقعہ پر دونوں انجمنوں کے سربراہان نے مرکزی و ریاستی حکومت پر فرقہ پرستوں کے خلاف کڑا مؤقف اپنانے پر زور دیا۔ہڑتال کے دوران اگر چہ دوکانیں اور دیگر کاروباری سرگرمیاں پوری طرح معطل رہیں مگر سرکاری و غیر سرکاری دفاتر ہڑتال کال سے مستثنیٰ رکھے گئے تھے اور ٹریفک کی آوا جاہی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس موقعہ پر انجمن اسلامیہ بھدرواہ کے صدر پرویز احمد شیخ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آصفہ آبروریزی اور قتل معاملے کے خلاف پرامن ہڑتال کی ہوئی ہے تاکہ واقعہ کی شفاف اور آزادانہ بنیادوں پر سرعت کے ساتھ تحقیقات مکمل کی جائے اور ملوثین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سماج میں ایک مثال قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج حکومت اس معاملے میں قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے تو ممکن ہے کہ آئندہ اس قسم کے شرمناک سانحات رونما نہیں ہوں گے اور سماج میں مزید آصفہ جیسے پھول مسلیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے جموں اور کٹوعہ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے مجرموں کے حق میں مظاہرے کرنے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی جانب سے اس طرح کا اقدام تاریخ کا سیاہ ترین باب کہلائے گا۔اس دوران بانہال، کھاری، رامسو، مگرکوٹ اور اکھرہال میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران لوگوں نے واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مجرمین کو پھانسی دینے کی مانگ کی۔

موسلادھار بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا

سری نگر20، اپریل //ٹنل کے آرپارمتواتر بارشوں اوربالائی علاقوں جن میں گلمرگ،سونہ مرگ،راز دھان ٹاپ ،سادھنا ٹاپ اورفر کیاں پاس شامل ہیں میں تازہ برف ہو ئی ہے ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کئی دیہات میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں درجنوں میوہ درخت اور دیگر درختوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ان طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں شانگس ،رتی پورہ اچھہ بل اور ککر ناگ میں ایک درجن کے قریب رہائشی ڈھانچوں کو جزوی نقصان پہنچا ۔ادھرمحکمہ موسمیات نے سنیچر کی صبح تک مطلع ابروآلودرہنے اوربارشوں کاسلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کردی ہے ۔اس دوران متواتربارشیں ہونے کے باعث شہرسری نگراوروادی کے سبھی ضلعی وتحاصیل صدرمقامات پرسڑکیں ،چواراہے،گلی کوچے ،بازاراورفت پاتھ زیرآب آجانے کے راہگیروں کوعبورومرورمیں سخت مشکلات درپیش ہیں ،جبکہ گاڑیوں کی آواجاہی میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔اس دوران زوجیلااورسونمرگ میں برف باری ہونے کے بعدسری نگرلیہہ شاہراہ اور تواریخی مغل روڈکوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے جزوی طورپربندکردیاگیا،تاہم سرینگرجموں شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں پڑا۔ ادھر دوران صو بائی انتظامیہ نے وادی اور خطہ لداخ کے لئے پسیاں گر آنے کا انتباہ جاری کرتے ہو ئے کہا کہ کپوارہ،بانڈی پورہ،بارہمولہ،اننت ناگ ،کلگام،بڈ گام،گاندر بل اور لداخ اور لیہ کے بالائی علاقوں اور ان علاقوں میں جہاں تودے گر آنے کا خطرہ لاحق ہو وہاں پر لوگ احتیاط برتے ۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق بارشوں کاسلسلہ جمعہ کے روزبھی جاری رہااور اس دوران سری نگرشہرسمیت وادی کے شمال وجنوب ،خطہ چناب اورخطہ پیرپنچال کے تحت آنے والے علاقوں میں موسلاداربارشیں جاری رہیں جبکہ گلمرگ ،پہلگام اورسونمرگ ،فکریاں،پاس ،زیڈ گلی،کے بالائی مقامات کے علاوہ زوجیلامیں بھی برف باری ہوئی ۔محکمہ موسمیات نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ دوران شب بھی پوری وادی میں بارشوں کاسلسلہ جاری رہاجبکہ کئی بالائی مقامات میں 2سے3انچ تک برف باری ریکارڈکی گئی ۔سری نگرمیں قائم محکمہ موسمیات کے علاقائی دفترکے ترجمان نے بتایاکہ کشمیروادی کے ساتھ ساتھ خطہ چناب اورخطہ پیرپنچال کے تحت آنے والے میدانی اوربالائی علاقوں میں بھی بارشوں کاتازہ سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے ٹنل کے آرپاروقفہ وقفہ سے بارشیں ہورہی ہیں ۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کاکہناتھاچونکہ ابھی اس پورے خطے میں مغربی ہواؤں کااثرونفوذپایاجاتاہے ،اسلئے بارشوں کایہ سلسلہ سنیچر کی صبح تک جاری رہنے کاامکان ہے ۔اس دوران جمعرات کی سہ پہر سے شروع ہوئی تازہ بارشوں کے نتیجے میں سری نگرشہرمیں سیول لائنز،شہرخاص اورنواحی علاقوں میں جگہ جگہ بیچ بازار،سڑکوں ،چوراہوں اورگلی کوچوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے پیدل چلنے والے لوگوں کوعبورومرورمیں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے جبکہ گاڑیوں کی آواجاہی میں بھی خلل پڑرہاہے ۔لالچوک اورسیول لائنزکے دوسرے علاقوں نیزسرائے بالا،مہاراج گنج ،بتہ مالو،قمرواری اوردیگرعلاقوں کے لوگوں اورتاجروں نے ڈرنیج سسٹم کی ناکارگی کوجگہ جگہ پانی جمع ہونے کی وجہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بارشوں کے پانی کی نکاسی کیلئے شہرمیں کہیں کوئی پختہ یاپائیدارسسٹم نظرنہیں آتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرکہیں کوئی بڑی ڈرین یانالی موجودہے تووہ گندگی سے بھری پڑی ہے اوران ڈرینوں یانالیوں سے پانی کی نکاسی نہیں ہوپارہی ہے ۔عام شہریوں اوردکانداروں نے محکمہ یوای ای ڈی ،سری نگرمیونسپل کارپوریشن اوردیگرمتعلقہ محکموں کی کارکردگی کوغیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے سوال کیاکہ کچھ ایک واٹرپمپ نصب کرانے سے کوئی افسریاحاکم اپنی ناکامیوں کوچھپانہیں سکتابلکہ ایک رسم خانہ پوری کے اقدام حکام کی نااہلیت اورغلط منصوبہ بندی کوبارباربے نقاب کردیتے ہیں ۔اُدھر بارہمولہ ،سوپور،سنگرامہ ،وترگام ،بانڈی پورہ،کپوارہ ،ہندوارہ ،سمبل ،لنگیٹ ،گاندربل ،کنگن ،بڈگام ،چاڈورہ ،بیروہ ،ماگام ،چرارشریف ،پلوامہ ،ترال ،اونتی پورہ ،پانپور،شوپیان ،امام صاحب ،کولگا م ،قاضی گنڈ،اسلام آباد،بجبہاڑہ ،مٹن اوردوسرے قصبہ جات میں بھی سڑکیں ،بازار،گلی کوچے اورنکڑوچوراہے زیرآب آجانے کی وجہ سے عام لوگوں بشمول دکانداروں ،ملازمین ،طلباء اورطالبات کوآنے جانے میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔لوگوں نے جگہ جگہ بارشوں کاپانی جمع ہوجانے کومتعلقہ افسروں اورانجینئروں کی ناقص حکمت عملی کامنہ بولتاثبوت قراردیتے ہوئے کہاکہ پانی کی نکاسی کیلئے کروڑوں اربوں روپے خرچ کرکے تعمیرکی گئیں بیشترڈرینیں اورنالیاں گندگی غلاظت سے بھری پڑی ہیں اوران کی صفائی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔اس دوران زوجیلااورسونمرگ میں برف باری ہونے کے بعد 434کلومیٹر طویل سری نگرلیہہ شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے جزوی طورپربندکردیاگیا،جبکہ شوپیاں سے پونچ اور راجوری کو جانے والی تواریخی مغل روڈ کو بھی احتیاطی طور ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند کر دیا گیا،تاہم سرینگرجموں شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں پڑا۔معلوم ہواکہ زوجیلااورسونمرگ میں تازہ برف باری ہوجانے کے بعدسری نگرلیہہ شاہراہ پرپھسلن بڑھ گئی اورحکام نے اس شاہراہ کواحتیاطی بنیادوں پرجزوی طورگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بندکردیا۔اس دوران شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع کے بالائی علاقوں جن میں راز دھان ،پاس زیڈ گلی،سادھنا تاپ اور فر کیاں پاس میں بھی تازہ بر ف باری ہو ئی ہے ۔محکمہ مو سمیات کے تر جمان نے بتایا کہ سرینگر میں دن کا کم سے کم درجہ حرارت 18.5ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔اس دوران صو بائی انتظامیہ نے وادی اور خطہ لداخ کے لئے پسیاں گر آنے کا انتباہ جاری کرتے ہو ئے کہا کہ کپوارہ،بانڈی پورہ،بارہمولہ،اننت ناگ ،کلگام،بڈ گام،گاندر بل اور لداخ اور لیہ کے بالائی علاقوں اور ان علاقوں میں جہاں تودے گر آنے کا خطرہ لاحق ہو وہاں پر لوگ احتیاط برتے ۔صو بائی انتظامیہ نے کہا کہ یہ انتباہ کسی بھی نا خو شگوار حادثے کو ٹالنے کے لئے جاری کیا گیا ہے لہذا لوگ ان علاقوں میں نقل و حمل کے دوران احتیاط برتیں۔

منصوبہ بند سازش کے تحت آبروریزی کے واقعات انجام دئیے گئے

کٹھوعہ ،کنن پوشہ پورہ ، شوپیاں اور دوسرے ایسے واقعات کی از سر نو تحقیقات کی جائے /میر واعظ 
سر ینگر 20 اپریل//بندشوں اور غیر اعلانیہ کرفیو کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حریت (ع) کے چیئر مین نے کہا کہ سازش کے تحت ریاست میں آبروریزی اور عصمت دری کے واقعات انجام دے کر ایک بڑا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،کٹھوعہ سانحہ کو عبرتناک ، شرمناک قرار دیتے ہوئے ملوث افراد کو سخت سزا دینے ، کنن پوشہ پورہ ،شوپیاں ،پہلی پورہ اور دوسرے علاقوں میں پیش آئے ایسے واقعات کی از سر نو تحقیقات کرنے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا نے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو ظلم و بربریت سے نجات دلانے کیلئے آگے آئے ۔ 2جمعہ اور کئی دنوں کی خانہ نظر بندی کے بعد معراج عالم کے جمعتہ الوداع کے موقعے پر تاریخی جامع مسجد میں جمہ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے حریت (ع) کے چیئر مین میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کٹھوعہ سانحہ کو عبرتناک ،شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقع نے ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے زخموں پر نم پاشی کی ہے اور اس سانحہ کے پیچھے جو محرکات چھپے ہوئے ہیں ان کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ میر واعظ نے کہا کہ ایک منصوبہ بند ساز ش کے تحت ریاست میں بالعموم اور وادی کشمیر میں بالخصوصی اجتماعی آبروریزی کے واقعات انجام دئیے گئے اور ایسے واقعات کے پیچھے کیا منصوبے تھے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ حریت( ع) کے چیئر مین نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8سالہ لڑکی کی آبروریزی اور قتل کے معاملے پر جس طرح سے ہندوستان کے دانشوروں ،اداکاروں ،صحافیوں ، سیول سوسائٹیز نے آواز اٹھائی اسی طرح انہیں شوپیاں ،کنن پوشہ پورہ ، پہلی پورہ اور ریاست کے دوسرے علاقوں میں پیش آئے والے ایسے واقعات کے بارے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے ۔ حرکت (ع) کے چیئر مین نے کہا کہ ریاست کے لوگ کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے ،پاک بھارت فوجی سربراہاں بھی مسئلے کے حل کیلئے بات چیت کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ بات چیت شرو ع کرنے اور مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے تاہم بھارت ریاست میں ظلم و بربریت ڈھانے پر تلا ہوا ہے اور ریاست کے لوگوں کو اپنے پیدائشی حق سے دور رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے ۔ میر واعظ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ظلم و بربریت سے باہر نکالنے کیلئے آگے آئیں ۔

ریاست کی تازہ ترین حفاظتی صورتحال 

نئی دلّی میں وزارت داخلہ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد
ریاست کے چیف سیکریٹری نے بھی امن و قانون کی صورتحال کالیا جائزہ 
سر ینگر 20 اپریل//موسم گرما کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں امن و امان کو بحال رکھنے ،حفاظتی صورتحال کو بہتر بنانے ، عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ٹھوس جواب دینے کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقدہوئی جس میں ریاست کی تازہ ترین صورتحال کو زیر بحث لایا گیا اورعام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ،ادھر ریاست کے چیف سیکریٹری نے بھی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران پولیس کے اعلیٰ افسران سے ریاست کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ خفیہ اداروں کی جانب سے موسم گرما کے دوران بڑے پیمانے پر عسکریت پسندوں کی دراندازی ،حد متارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور ریاست جموں و کشمیر میں امن کو درہم برہم کرنے کی جانکاری ملنے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی سربرا ہی میں منعقد ہوئی ۔ میٹنگ میں امور داخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام اہر ،وزارت داخلہ کے سیکریٹری ،فوج ،نیم فوجی دستوں ،خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی ۔ میٹنگ کے دوران موسم گرما میں ریاست میں بالعموم اور وادی کشمیری میں بالخصوص امن و امان کو قائم رکھنے ،صورتحال کو مزید بہتر بنانے ، سیاحتی سیزن کو کامیاب بنانے اور عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے اور پاکستان کی جانب سے حد متارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلا ف ورزی کا موثر جواب دینے کے معاملات پر تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نیم فوجی دستوں ،پولیس کے اعلیٰ افسران اور خفیہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں حالات کو مزید بہتر بنانے کیلئے اپنی خدمات بہتر طریقے سے انجام دے کر ریاست کے لوگوں کو راحت پہنچانے کے سلسلے میں بھی اپنے فرائض منصبی سے کام لیں ۔ وزیر داخلہ نے عسکریت پسندوں سے نمٹتے وقت لوگوں کی امڑنے اورسنگباری کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ عام شہریوں کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائیں اور عسکریت پسندوں سے نمٹتے وقت لوگوں کو جھڑپ کی جگہ سے دور رکھنے کی بھر پور کوشش کریں ۔ وزیر داخلہ نے افسران پر زور دیا کہ وہ طاقت کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ لوگوں کی جانیں ضائع نہ ہو سکیں ۔میٹنگ میں سیاحتی سیزن کو کامیاب بنانے کیلئے بہتر اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے تحفظ کو ہر حال میں بہتر بنانا ہو گا تاکہ موسم گرما کے دوران بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سیاحوں کی کثیر تعداد سیرو تفریح کیلئے ریاست کا رخ کریں ۔ وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران کہا کہ لوگوں میں اعتماد بحال کرنے کیلئے مرکزی حکومت مزید کئی اقدامات ا ٹھانے جا رہی ہیں اور مسئلے کے مستقل حل کیلئے جلد ہی شروعات کی جائیگی تاہم وزیر داخلہ نے یہ کہنے سے انکار کیا کہ مرکزی حکومت مزید کیا اقدامات اٹھانے جا رہی ہیں ۔ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے افسران پر زور دیا کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت رویہ اختیار کیا جائے جو ریاست جموں و کشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرکے عام لوگوں کو یرغما ل بنانے کی کوشش کریں انہیں نہ بخشا جائیں ۔ ادھر ریاست کے چیف سیکریٹری بی بی ویاس کی سربراہی میں بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں امن و قانون اور حفاظتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ چیف سیکریٹری نے تمام پولیس افسروں سے ریاست کی تازہ ترین حفاظتی صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔

عصمت دری کیسوں سے متعلق سنسنی خیز انکشاف

۔505سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کیخلا ف عصمت ریزی کے کیس عدالتوں میں زیر سماعت 
بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایسے سب سے زیادہ افرادموجود،جنہیں انتخابات کیلئے ٹکٹیں اجراء کی گئیں
سر ینگر 20 اپریل//اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے 5برسوں کے دوران ملک کی تسلیم شدہ تین بڑی سیاسی پارٹیوں نے 505ایسے افراد کو پارلیمنٹ ،اسمبلی اور الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹیں اجراء کی ہے جو عصمت ریزی ،چھیڑ چھاڑ کے کیسوں میں ملوث قرار دئیے گئے ہیں اور ان کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں ،خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور عصمت ریزی میں ملوث ایسے افراد کی تعداد کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ٹکٹیں اجراء کی گئی ہیں ۔ اے پی آئی کے مطابق ایسو سی ایشن ڈیموکریٹک ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سے کی گئی سروے کے مطابق پچھلے 5برسوں کے دوران ملک کی تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں بھارتیہ جنتاپارٹی ،کانگریس ،بہوجن سماج پارٹی ،سماج وادی پارٹی،ترینمول کانگریس کی جانب سے 505ایسے افراد کو اسمبلیوں او ر پارلیمنٹ کے الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹیں اجراء کی گئی ہیں جو عصمت ریزی ،چھیڑچھاڑ ،فقرے کسنے اور خواتین پر ظلم و تشدد ڈھانے میں ملوث قرار دئیے گئے ہیں اورا ن کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں ۔ ایسو سی ایشن ڈیموکریٹک ڈیولپمنٹ فورم کے مطابق اسمبلی اور پارلیمنٹ الیکشن کے وقت جو 4845بیان حلفی جمع کئے گئے ہیں ان کے مطابق بی جے پی ،کانگریس ،بہوجن سماج پارٹی اور دوسری علاقائی سیاسی پارٹیوں نے 327ایسے افراد کو الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹیں دی ہیں جو صنف نازک کی عصمت ریزی ، چھیڑ چھاڑ اور ظلم و تشدد بھرتنے میں ملوث قرار دئیے گئے ہیں جبکہ 178آزاد امیدوار بھی ایسے ہیں جو اس طرح کے کیسوں میں ملزم قرا ر دئیے گئے ہیں ۔ فورم کے مطابق خواتین کی عصمت ریزی اور چھیڑ چھاڑ میں ملوث بھارتیہ جنتا پارٹی کے 47افراد ،بہوجن سماج پارٹی کے 35اور آل انڈیا کانگریس کے 24ایسے افراد دکو ٹکٹیں اجراء کی ہیں جو خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ،عصمت ریزی اور تشدد ڈھانے میں ملوث قرار دئیے گئے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف نچلی اور اعلیٰ عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں ۔ فورم کے مطابق ممبئی میں 65ایسے افراد شامل ہیں جو مختلف سیاسی پارٹیوں کے سات جڑے ہوئے ہیں جن کے خلاف عصمت ریزی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ،بہار میں ایسے 62اور بنگال میں 52ایسے سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کے خلاف عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہیں ۔ فورم نے کٹھوعہ سانحہ کے سلسلے میں سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ 10دنوں تک8سالہ لڑکی کو اغواء کرنے کے بعد اسے بازیاب نہ کرنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اوراس سلسلے میں جموں و کشمیر پولیس کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے لڑکی کے لاپتہ ہونے کے بعد ایف آئی آر دردج کرنے میں تاخیر کی ۔ 

ریاستی پولس کا جموں میں ایک رُخ ہے،کشمیر میں دوسرا/انجینئر رشید

طلباء کے خلاف جاری تشدد کے خلاف 24؍گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کا اعلان
سرینگر19اپریل//جموں کشمیر پولس کو یہ حقیقت ،کہ وہ بھی کشمیری سماج کا ہی حصہ ہے،نہ بھولنے کی نصیحت دیتے ہوئے ععوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے وادی بھر میں طلباء پر تشدد کئے جانے کی مذمت کی ہے۔آج یہاں ایک تقریب کے دوران بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ کٹھوعہ کے شرمناک واقعہ نے پوری دنیا کو ہلاکے رکھ دیا ہے طلباء سمیت ہر کشمیری کا ردمل فطری اور سمجھا جاسکنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار ہر معاملے پر پرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دیتی ہے تو پھر اس صورتحال کا الٹا اور منفی نتیجہ یقینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے واقعہ کے خلاف، کہ جسے بھارتی میڈیا،سرکار اور سوسائٹی نے تین طویل مہینوں تک نظرانداز کیا،اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلباء کا احتجاج کرنا انکا حق ہے اور ایسا کرکے وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں طلباء سے پر امن رہتے ہوئے پڑھائی پر توجہ بنائے رکھنے کی اپیل کی جانی چاہیئے وہاں ایسی بے شمار مثالوں کو بھی زیر نظر رکھا جانا چاہیئے کہ جب سکیورٹی فورسز نے طلباء کو مشتعل کیا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو جوابدہ بنائے جانے اور انہیں اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد دلائے جانے کی ضرورت ہے کہ جب انہوں نے بھی سماج میں ہونے والے مظالم یا اس طرح کے واقعات کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پیلٹ گن اور دیگر نام نہاد غیر مہلک ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال سے بچیوں سمیت کئی طلباء کو زخمی یا ناکارہ بنادینے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی سکیورٹی فورسز کو کچھ بھی کرنے اور پھر اسکے لئے من مطابق تاویلات پی کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ریاستی پولس پر جموں اور کشمیر میں دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ جہاں جموں میں لال سنگھ کو ،سزا کے بطور کابینہ سے چلتا کئے جانے کے باوجود بھی،ریلیاں نکالنے اور زہر اگلنے کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے وہیں کشمیر میں پولس فقط بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بربریت اور غیر انسانی اس سلوک کی ہر سطح پر مزاحمت کئے جانے کی ضرورت ہے۔انجینئر رشید نے اعلان کیا کہ وہ20؍اپریل جمعہ کی نماز کے بعد سرینگر کے لالچوک میں طلباء پر تشدد کئے جانے کے واقعات کے خلاف 24؍گھنٹوں کی بھوک ہڑتال شروع کرکے سکیورٹی فورسز،باالخصوص جموں کشمیر پولس،کو یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کرینگے کہ وہ کشمیری طلباء پر ناحق تشدد جاری رکھ کر انہیں بدنام کرکے انکی شبیہ کو نقصان نہیں پہنچاسکتی ہیں۔

پلوامہ میں فورسز کی شبانہ چھاپہ مار کارروائی جاری

دوران شب کاکا پورہ میں چھاپے ، تین نوجوان گرفتار
سرینگر/ 19اپریل//ضلع پلوامہ میں نوجوانوں کے خلاف فورسز کی پکڑ دھکڑ جاری ہے جس دوران گزشتہ شب فورسز کی بھاری جمعیت نے ضلع کے کاکا پورہ اور بیگم باٖغ نامی علاقوں میں شبانہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے ۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے فورسز پر توڑ پھوڑ کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوانوں کی گرفتاری بلاجواز ہے اور ان کی رہائی جلد از جلد عمل میں لائی جائے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ کے کاکاپورہ اور بیگم باغ علاقوں میں بدھ اور جمعرات کی شب اس وقت سنسنی پھیل گئی جب فورسز کی بھاری جمعیت علاقے میں داخل ہوئی جس دوران انہوں نے گھر وں میں گھس کر نوجوانوں کو تلاش کرنے کی کارروائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز کی بھاری جمعیت دوران شب کاکاپورہ کے معروف آزادی پسند رہنما مسلم دینی محاذ کے سابق امیر ضلع مرحوم بلال احمد کاکاپوری کے مکان میں داخل ہوگئے اور انہوں نے ان کے جواں سال بیٹے عمر بلال لون کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ذرائع کے مطابق اگر چہ مرحوم کے اہل خانہ نے گرفتاری کے دوران مزاحمت دکھائی تاہم فورسز اس کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔عمر بلال لون کے۔بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے گھر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے اور ان کا کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ادھر کاکاپورہ میں ہی فوج نے شبانہ چھاپہ مار کاروائی کے دوران ایک اور نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس ٹاسک فورس کاکاپورہ نے دوران شب مشتاق احمد لون کے گھر میں داخل ہوکر اسکے 19سالہ بیٹے سمیر احمد لون کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔اس دوران کاکاپورہ کے ہی بیگم باغ میں فورسز نے شبانہ چھاپہ مار کاروائی کے دوران ایک طالب علم شاکر احمد بٹ ولد عبدالحمید کو گرفتار کرلیا ہے مقامی ذرائع کے مطابق شاکر بارویں جماعت کا طالب علم تھا اور انہیں یہ سمجھ نہیں آریا ہے کہ شاکر کو کس جرم میں گرفتار کرلیا گیاہے۔اسی دوران مقامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے نوجوانوں کی گرفتاری کے دوران توڑ پھوڑ بھی عمل میں لائی جس دوران کئی مکانوں کے شیشے اور کھڑکیاں توڑ ڈالی گئی ۔ ادھر سی این آئی نے جب اس ضمن میں پلوامہ پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ایسا ممکن نہیں ہو سکا ۔ 

آصفہ قتل کے خلاف بھارت اور کشمیر میں ہزاروں افراد کے مظاہرے

آصفہ قتل کے خلاف بھارت اور کشمیر میں ہزاروں افراد کے مظاہرے
سوپور ڈگری کالج میں پُر تشدد مظاہرئے ٹیر گیس شلنگ سے کئی طلبا بے ہوش ، بارہ مولہ اور پریس کالونی اور لالچوک میں دن بھر احتجاجی مظاہرے 
سرینگر؍؍جے کے این ایس؍؍کشمیر،خط چناب اور بھارت کے مختلف شہروں میں تیسرے روز بھی تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلبا، شہریوں اور فنکاروں نے ننھی ا?صفہ کے قتل کے خلاف زبردست مظاہرے کئے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔لالچوک میں طالبات کی کثیر تعداد نے آصفہ کے حق میں پُر امن احتجاجی جلوس نکالا۔ سوپور ڈگری کالج میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں، مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔ جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق ڈگری کالج سوپور میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی اس دوران کالج کے باہر پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر مظاہرین مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ ساونڈ شیلوں کا استعمال کیا جس کی وجہ سے پورے کالج احاطے میں بھگدڑ کا ماحول پھیل گیا اور طلبہ وطالبات پر غشی طاری ہوا۔ طلبہ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بے تحاشہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس کی وجہ سے کئی افراد بے ہوش ہو گئے۔لالچوک اور ریذیڈنسی روڑ پر ایس پی کالج سرینگر میں زیر تعلیم طلاب نے پُر امن احتجاج کیا اور آصفہ قتل میں ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا ۔ ادھر گورنمنٹ ڈگری کالج ڈوڈہ سمیت ہزاروں کی تعداد میں طلبا نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے۔ پریس انکلیو میں لالچوک کے تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے قصورواروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی تاجروں نے تاریخی گھنٹہ گھر سے پریس کالونی تک مارچ کیا،جس کے دوران انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے۔ٹریڈرس ایسو سی ایشن کے جھنڈے تلے تاجروں نے بھاجپا،بار ایسوسی ایشن جموں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔اس موقعہ پر ایک تاجر بشیر احمد نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے ناطے انہوں نے اس وحشت ناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔لالچوک میں اس وقت کچھ دیر تک کیلئے ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہی،جب سینٹرل کشمیر بٹوارہ کیمپس سے طلاب کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی طلاب نے بٹوارہ کیمپس سے لالچوک تک احتجاج و یکجہتی ریلی برا?مد کی ،جس کے دوران انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ بھی اٹھا رکھے تھے۔احتجاجی طلاب نے بعد میں پریس کالونی کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا۔کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے بھی احتجاج کیا،جس کے دوران انہوں نے متاثرہ کنبے کو انصاف فراہم کرنے کی وکالت کی۔کشمیر یونیورسٹی میں کئی شعبہ جات کے باہر طلاب جمع ہوئے اور مذکورہ کمسن بچی کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ سینٹرل یونیورسٹی کے نوگام کیمپس میں بھی طلاب نے احتجاج کیا۔ بیسوں طلاب یونیورسٹی کیمپس نوگام میں پیر کو جمع ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڑ لیکر احتجاج کیا۔ احتجاجی طلاب نے نعرہ بازی کے دوران واقعے میں ملوث افراد کو مثالی سزا دینے پر زور دیا۔ پریس کالونی میں پیر کی شام صحافیوں کی طرف سے بچی کے ساتھ یکجہتی کے طور پر دھرنا دیا گیا،جس دوران صحافیوں نے موم بتیاں جلا کربچی کو خراج عقیدت ادا کیا۔اس موقعہ پر صحافیوں نے بچی کے اہل خانہ کو انصاف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے قاتلوں کو ایسی سزا دینے پر زور دیا،جس سے دیگر لوگ عبرت حاصل کر سکیں۔ اس دوران بیرہ میں بھی طلاب نے پیر کی صبح احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔تاہم بعد میں طلاب پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ سوپور میں بھی تاجروں نے ریلی برآمد کی،جس دوران دھرنا بھی دیا گیا۔احتجاجی تاجروں نے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ بانڈی پورہ میں بھی بارشوں کے باوجود ٹریڈرس فیڈریشن کے جھنڈے تلے آبروریزی اور قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں ملازمین اتحاد ایجیک اور سیول سوسائٹی بانڈی پورہ کے علاوہ ٹرانسپوٹروں نے بھی شرکت کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر متاثرہ بچی کو انصاف دینے کے حق میں تحریر درج کی گئی تھی۔ادھر گورنمنٹ بائز ڈگری کالج کے طلاب نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس بھیانک جرم میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

ٹنل کے آر پار معصوم بچی کے حق میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری 

خط چناب ، جموں شہر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں طلبا کا پُر امن احتجاج 
سرینگر؍؍یو پی آئی ؍؍معصوم آصفہ کے حق میں ٹنل کے آر پار احتجاجی مظاہروں ، کینڈل لائٹ مارچ نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران وادی کے اطراف واکناف کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبا نے پُر امن طورپر احتجاجی مظاہرئے کئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی علاقے میں ناخوشگوار واقع رونما ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق خط چناب ، جموں اور وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں مسلسل تیسرے روز بھی لوگوں نے آصفہ بانو کے حق میں احتجاجی مظاہرئے کئے اور ملوثین کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا ۔ نمائندے کے مطابق شمالی کشمیر کے پلہالن پٹن، بارہ مولہ اور سوپور میں طلبا کی کثیر تعداد نے پُر امن احتجاجی جلوس نکالا جس دوران طالبات آصفہ بانو کے قتل میں ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نمائندے کے مطابق جنوبی کشمیر اور وسطی کشمیر میں بھی کینڈل لائٹ مارچ نکالے گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ خط چناب کے کشتواڑ ، ڈوڈہ ، راجوری میں بھی کینڈ ل لائٹ مارچ کے دوران لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ نمائندے کے مطابق جموں شہر میں سیول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے پُر امن احتجاجی ریلی نکالی جس دوران لوگ آصفہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سے آصفہ عصمت ریزی وقتل معاملہ کی تحقیقات کی چارج شیٹ درج کرانے میں کرائم برانچ کاراستہ روک کرروڑے اٹکانے والے اورملزمان کی حمایت کرنے والے کٹھوعہ اورجموں کے وکلاء4 کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے معاملہ کوفرقہ وارانہ رنگت دینے والے حکومت کے وزراء4 لعل سنگھ اور چندرپرکاش گنگاکی بھی تحقیقات کرنے کامطالبہ کیا۔اس دوران مظاہرین نے بارایسوسی ایشن جموں اوردیگرحمایتیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔اس دوران ٹرائبل کوآرڈی نیشن کے نائب چیئرمین نزاکت کھٹانہ نے کہاکہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کیس میں وکلاء4 ملزمان کی حمایت کرکے جموں بندکرواتے ہیں۔دیگرمقررین نے کہاکہ بارایسوسی ایشن جموں کی ہڑتال ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے کہاکہ وکلاء4 کوکم ازکم یہ خیال رکھناچاہیئے تھاکہ اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی عدالت عالیہ کررہی ہے لیکن اس کے باوجودمعاملہ کوفرقہ وارانہ بنیادپردیکھ کرتحقیقات کے عمل میں اڑچنیں پیداکرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کوکسی دباومیں نہیں آناچاہیئے اورآصفہ عصمت دری اورقتل سانحے کے ماسٹرمائنڈاوردیگرملزمان کوسزادلانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ مقررین نے متاثرہ کی وکیل کوبارایسوسی ایشن کے صدرکی دھمکیوں پربھی تشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انسانیت سوزواقعے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کیلئے ہندوایکتامنچ کاقیام عمل کرکے ملزمان کوبچانے کیلئے ترنگاجھنڈااْٹھاکر ریلیاں نکالنے والوں کے خلاف جھنڈے کی توہین کامعاملہ درج ہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ کوانصاف دلانے کی بجائے ملزمان کوبچانے کیلئے بارایسوسی ایشن اوردیگرفرقہ پرستوں کی انسانیت مخالف مہم موجودہ سماج کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

ہند و پاک فوجی سربراہان کے بیانات حوصلہ افزاء

دونوں ممالک کی حکومتیں امن و مفاہمت کی راہ اختیار کریں/نیشنل کانفرنس 
سرینگر؍؍سی این آئی؍؍نیشنل کانفرنس نے ہندوستان اور پاکستان کے فوجی سربراہوں کے اُن بیانات کا خیر مقدم کیا ہے جن میں دونوں نے امن وامان کیلئے مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے ریاستی ترجمان جنید عظیم متو نے اپنے ایک بیان میں اُمید ظاہر کی کہ دونوں پڑوسیوں کی سیاسی قیادت اور حکومتیں بنا وقت ضائع کئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ ہند و پاک فوجی سربراہان کے بیانات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ہمیشہ ہند و پاک کی مضبوط دوستی اور سود مند بات چیت کی حامی رہی ہے تاکہ جنوبی ایشیا، برصغیر خصوصاً ریاست جموں وکشمیر میں ماضی کی طرح پُرامن ماحول قائم و دائم ہوسکے۔ ترجمان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، جنگ و جدل اور دھونس و دباؤ کی پالیسی سے آج تک کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے بلکہ ایسے اقدامات سے پیچیدگیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں اور فیصلہ سازوں کو دونوں ممالک کے فوجی سربراہاں کے بیانات کو سنجیدگی سے لیکر مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکراتی عمل اُسی صورت میں سودمند اور کامیاب ہوسکتا ہے جب دونوں ممالک خلوص نیت اور کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور ایسے تمام سازشوں اور کوششوں آپسی دوستی میں حائل نہیں آنے دیں گے ، جن کا مقصد دونوں پڑوسیوں کے درمیان رنجشیں اور دشمنی بڑھانا ہو۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور دوستی کے ہر ایک اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی مذاکراتی عمل تب تک پروان نہیں چڑھے گا جبکہ نہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان سب سے پیچیدہ اور دیرینہ حل طلب معاملے مسئلہ کشمیر کو مرکزیت نہیں دی جاتی۔انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے اندر بھی بات چیت کا عمل شروع کریں اور لوگوں میں پائی جارہی بد اعتمادی کو دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔