جنرل آف پولیس کی عبوری بنیادوں پرتعیناتی کے بعدشش وپنج!

کون ہوگامستقل ڈی جی پی؟
مشرا،نوین اگروال،وی کے سنگھ،ایس ایم سہائے،یاپھردلباغ سنگھ کی مستقلی 
ویدکو کو تبدیل کرنے کی میں جلدی اوردلباغ سنگھ کوعبوری چارج کیوں:عمرعبداللہ
سری نگر؍؍کے این این ؍؍جموں وکشمیرپولیس کے نئے ڈائریکٹرجنرل کی تعیناتی کولیکرتعطل پیداہواہے کیونکہ جمعرات کورات دیرگئے ایک حکمنامے کے تحت ڈاکٹرایس پی ویدکواچانک اس ذمہ داری سے فارغ کرکے ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات دلباغ سنگھ کوپولیس چیف کااضافی چارج دیاگیا،اوراس طرح سے نئے ڈی جی پی کی تعیناتی کولیکرغیریقینی صورتحال پیداہوگئی ۔اس دوران سینئرآئی پی ایس آفیسرایس ایم سہائے کونیاڈی جی پی تعینات کرنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں تاہم اُن کامقابلہ سینئرترین آئی پی ایس آفیسرایس ایم مشرا،نوین اگروال،وی کے سنگھ اوردلباغ سنگھ سے بھی ہے ۔خیال رہے ایس کے مشرا1985بیچ کے آئی پی ایس آفیسراورنوین اگروال 1986کے آئی پی ایس آفیسرہیں جبکہ ایس ایم سہائے کے علاوہ وی کے سنگھ اوردلباغ سنگھ بھی 1987کے آئی پی ایس آفیسرزہیں ،اورخاتون آئی پی ایس آفیسرڈی آرڈولے برمن بھی1986بیچ کی آئی پی ایس آفیسرہیں ۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کے مطابق حالیہ میڈیارپورٹ کہ مرکزی وزارت داخلہ جموں وکشمیرپولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ،اسلئے پولیس چیف کوتبدیل کیاجائیگا،کے عین مطابق جمعرات کوشام یارات دیرگئے ریاستی محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کیاگیا،جسکی رؤسے ڈاکٹرشیش پال ویدکوپولیس چیف کی ذمہ داری سے فارغ کرتے ہوئے ریاستی پولیس سربراہ کااضافی چارج ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات دلباغ سنگھ کودیاگیا۔ڈاکٹر وید کو ٹرانسپورٹ کمشنر (جموں وکشمیر) تعینات کیا گیا ۔ ریاستی محکمہ داخلہ کی طرف سے گذشتہ رات دیر گئے جاری کئے گئے حکم نامہ کے مطابق1986 بیچ کے آئی پی ایس افسر ڈاکٹر ایس پی وید کو تبدیل کرکے ٹرانسپورٹ کمشنر (جموں وکشمیر) تعینات کیا گیا ہے جبکہ ڈی جی پی جیل خانہ جات دلباغ سنگھ ریاستی پولیس کے سربراہ کا اضافی چارج سنبھالیں گے تاہم اس سرکاری حکمنامہ میں یہ واضح کیاگیاکہ دلباغ سنگھ کی تعیناتی عبوری بنیادوں پرعمل میں لائی گئی ہے اوریہ کہ وہ مستقل انتظام کئے جانے تک ریاست کے عبوری پولیس سربراہ ہوں گے۔یادرہے 1986بیچ کے سینئرآئی پی ایس آفیسرڈاکٹرایس پی ویدکی بطورڈی جی پی کے تعیناتی31دسمبر2016کوعمل میں لائی گئی تھی ۔اس دوران سینئرآئی پی ایس آفیسرایس ایم سہائے کونیاڈی جی پی تعینات کرنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں تاہم اُن کامقابلہ سینئرترین آئی پی ایس آفیسرایس ایم مشرا،نوین اگروال،وی کے سنگھ اوردلباغ سنگھ سے بھی ہے ۔خیال رہے ایس کے مشرا1985بیچ کے آئی پی ایس آفیسراورنوین اگروال 1986کے آئی پی ایس آفیسرہیں جبکہ ایس ایم سہائے کے علاوہ وی کے سنگھ اوردلباغ سنگھ بھی 1987کے آئی پی ایس آفیسرزہیں ،اورخاتون آئی پی ایس آفیسرڈی آرڈولے برمن بھی1986بیچ کی آئی پی ایس آفیسرہیں ۔غورطلب ہے کہ اگست 2017میں سابق مخلوط سرکارکی کابینہ نے5سینئرترین آئی پی ایس افسروں کوڈی جی پی کے بطورترقی دی گئی تھی ،اوران آفیسرزمیں ایس ایم سہائے،ڈی آرڈولے برمن اورنوین چودھری بھی شامل تھے ۔سینارٹی کے اعتبارسے 1985بیچ کے آئی پی ایس آفیسرایس کے مشراڈی جی پی بننے کاحق رکھتے ہیں لیکن چونکہ 1959میں جنمے مشراچونکہ مستقبل قریب یااگلے سال کے دوران سبکدوش یاریٹائرہونے والے ہیں ،اسلئے اُنکوبطورڈی جی پی تعینات کرنے کاکم ہی امکان ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ ایس کے مشراکے بعدسینئرترین آئی پی ایس آفیسرزمیں ایس ایم سہائے ،ڈی آرڈولے برمن اورنوین اگروال شامل ہیں ،اوریہ تینوں فی الوقت ڈیپوٹیشن پرمرکزی سطح پراپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ادھر ڈاکٹرایس پی ویدکی تبدیلی اوراُنکی جگہ جموں وکشمیرپولیس کیلئے ڈائریکٹرجنرل کی عبوری یاعارضی بنیادوں پرتعیناتی کولیکر ایک نئی سیاسی بحث شروع ہوگئی ،کیونکہ سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے ڈاکٹر وید کی تبدیلی اور دلباغ سنگھ کی پولیس سربراہ کے عہدے پہ عبوری تعیناتی کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ ڈی جی کو تبدیل کرنا انتظامیہ کااستحقا ق ہے لیکن نئے ڈی جی کی تعیناتی عبو ری بنیادو ں پرکیوں عمل میں لائی گئی ہے؟۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابط گاہ ٹویٹرپراپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’ڈی جی کو تبدیل کرنا انتظامیہ کے حد اختیار میں ہے۔ لیکن نئے ڈی جی کی عبوری تعیناتی کیوں؟ نئے (عبوری) ڈی جی نہیں جانتے کہ وہ پولیس سربراہ بنے رہیں گے یااضافے چارج سے فارغ کئے جائیں گے‘۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ یہ جموں وکشمیر پولیس کے لئے اچھا نہیں ہے۔انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ایس پی وید کو تبدیل کرنے کی کوئی جلدی نہیں تھی، انہیں مستقل انتظام کئے جانے تک تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔اس دوران تبدیل کئے گئے پولیس سربراہ ڈاکٹر وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ’میں خدا کا شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے اپنے لوگوں اور ملک کی خدمت کرنے کا موقع دیا‘۔انہوں نے مزیدتحریرکیاکہ میں جموں وکشمیر پولیس، سیکورٹی ایجنسیوں اور اہلیان جموں وکشمیر کا بھی ان کے سپورٹ اور مجھ پر بھروسے کیلئے شکر گذار ہوں،اوریہ کہ میں نئے ڈی جی پی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں‘۔

کانگریس کا مرکزی حکومت کے خلاف سرینگر ،جموں میں احتجاج 

ضلع ترقیاتی کمشنروں کو میمورنڈم پیش ،کہاملک کے پہریدار کی بدعنوانی پوری دنیا کو پتہ 
سری نگر:۵،ستمبر:کے این این/ کانگریس نے بدھ کو ریاست جموں وکشمیر میں مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں بھی نکالی ،جس دوران ضلع ترقیاتی کمشنروں کو میمورنڈم پیش کئے گئے ۔کے این این کے مطابق کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت کے خلاف بدھ کو سرینگر اور جموں کے کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق کانگریس لیڈران ،عہدیداراں اور کارکنا ن نے کپوارہ اور بڈگام اضلاع میں مودی حکومت ،کورپشن ،اقتصادی نقصانات اور ملک کے خرمن کو درہم برہم کرنے پر احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔کپوارہ میں احتجاجی ریلی کی قیادت پارٹی کے نائب صدر غلام نبی مونگا نے کی جبکہ ضلع صدر حاجی فاروق نے بھی خطاب کیا ۔اسی طرح بڈگام میں بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جسکی قیادت پارٹی ترجمان فاروق اندرابی نے کی ۔اس احتجاج میں ضلع صدر زاہد حسین کے علاوہ دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا ۔بعد ازاں دونوں اضلاع میں صدر ہند کے نام ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ذریعے میمورنڈم پیش کئے گئے ۔جموں میں بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔اس احتجاج کی قیادت پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور جموں وکشمیر کے انچارج سیکریٹری شکیل احمد نے مشترکہ طور کیا ۔ان احتجاجی مظاہروں کے کانگریس لیڈران نے کہا ’’ملک کا سب سے بڑا دفاعی سودا اور اس میں کرپشن بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوا ہے۔مودی حکومت نے تین بار جنگی طیارے کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔‘‘ رافیل طیارے سودے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ آور ہوئی کانگریس لیڈران نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک کا چوکیدار ہونے کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بدعنوانی کے معاملے میں ملوث ہونے سے عوام حیران ہے۔انہوں کہا ’’ملک کا سب سے بڑا دفاعی سودا اور اس میں کرپشن بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوا ہے، مودی حکومت نے تین بار جنگی طیارے کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دور میں فرانس کی ڈسالٹ کمپنی سے رافیل طیارے کی قیمت 526کروڑ روپے طے ہوئی تھی لیکن اقتدار میں آتے ہی وزیر اعظم نے 2015 میں فرانس کا دورہ کیا اور اسی طیارے کو1670 کروڑ روپے میں خریدنے کا سودا کیا، 12 دسمبر،2012 کو بین الاقوامی بولی میں 126 رافیل جنگی طیارے خریدے جانے تھے اور ہر جنگی طیارے کی قیمت 526 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی۔کل 18 جنگی طیارے فرانس سے بن کر آنے تھے جبکہ 108 جنگی طیارے ہندوستان کی 70سال کی تجربہ کار کمپنی ہندوستان اییرونوٹیکس لمیٹڈ کی طرف سے ’’ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی‘‘ کے تحت ہندوستان میں بنائے جانے تھے۔کانگریس لیڈران نے کہا کہ10 اپریل 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرس، فرانس میں1670کروڑ 70 لاکھ فی جنگی طیارہ کی شرح سے 36 رافیل جنگی طیاروں کے لئے 60،145 کروڑ روپے میں ’آف دی شیلپف‘ ایمرجنسی خریداری کا اعلان 12 دن پرانی کمپنی کے حق میں کر ڈالا۔

یوم اساتذہ:رہبر تعلیم اساتذہ نے یوم سیاہ کے بطور منایا

احتجاجی ریلی نکالی ،پولیس نے بولا دھاوا ، رنگین پانی بوچھاڑ کی ،ایس ایس اے اساتذہ کی بھوک ہڑتال بھی جاری
سری نگر؍؍کے این این؍؍ رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے پر بطور احتجاج ’یوم اساتذہ ‘کو یوم سیاہ کے طور منایا جبکہ اس دوران انہوں نے طے شدہ پروگرام کے تحت ایس کے آئی سی سی گھیراؤ کرنے کی کوشش کی ،جسے پولیس نے ناکام بنادیا ۔پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے رنگین پانی کی بوچھاڑ کی ۔ادھر ایس ایس اے اساتذہ نے بھی اپنے مطالبات کو پرتاپ پارک سرینگر میں غیر معینہ عرصے کی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔ کے این این کے مطابق جموں وکشمیر میں رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے دیرینہ مطالبات پورا نہ کئے جانے پر بطور احتجاج ’یوم اساتذہ ‘کو یوم سیاہ کے طور منایا۔طے شدہ پروگرام کے تحت بدھ کے روزیعنی 5ستمبر کو سرکاری ونجی سطح پر اساتذہ کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقاریب میں شرکت نہ کرتے ہوئے اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق رہبر تعلیم اساتذہ کی ایک خاصی تعداد طے شدہ پروگرام کے تحت میونسپل پارک سرینگر میں جمع ہوئی ،جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی دھرنا ۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 40ہزار سے زائد اساتذ ہ ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جوتاحال سرکار کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا ہے۔رہبر تعلیم اساتذہ نے اپنے مطالبات کو لے کر مسلسل پانچ روز تک احتجاجی مظاہرے اور دھرنا دیا بھی دیا ہے۔فورم چیئرمین فاروق احمد تانترے کا کہنا ہے کہ وہ سرکار سے کوئی نیا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم ساتویں تنخواہ کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں جو پہلے ہی دیگر ریاستی ملازمین کو ملا ہے اور یہاں کوئی وجہ نہیں ہے کہ سرکار ساتویں تنخواہ کمیشن کو روک لے۔ایس ایس اے اور رمساکے تحت اساتذہ ، ہیڈ ٹیچرس اور ماسٹرس کے حق میں ساتویں پے کمیشن کا اطلاق کرنے، اْن کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے حق میں ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی جموں اور سرینگر میں غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیئرمین عبدالقیوام وانی کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکار اساتذہ کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے کیونکہ ساتویں پے کمیشن کا اطلاق اساتذہ کا قانونی ، آئینی اور جمہوری حق ہے جسکو ریاستی سرکار نے بلا وجہ روک کے رکھا ہے۔اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اپنے مطالبات کو مبینہ طور پر نظر انداز کئے جانے کے خلاف بدھ کو یوم اساتذہ کو یوم سیاہ کے بطور منایا ۔احتجاجی اساتذہ نے سیاہ کپڑے ملبوس کئے اور سروں وبازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں ۔طے شدہ پروگرام کے پولو ویو میونسپل پارک سے اساتذہ نے ایس کے آئی سی سی کی جانب ایک ریلی نکالی ،جہاں سرکاری سطح پر یوم اساتذہ کے حوالے سے بڑی تقریب منعقد ہورہی تھی ۔تاہم یہاں پہلے سے تعینات پولیس کی بھاری جمعیت نے ان کا راستہ روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔پولیس نے احتجاجی اساتذہ کو تتربتر کرنے کیلئے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور رنگین پانی کی دھار کا استعمال بھی کیا ۔پولیس کارروائی کے نتیجے میں احتجاجی ریلی میں افراتفری پھیل گئی ،جسکی وجہ سے کئی افراد مضروب ہوئے ۔ادھر پرتاپ پارک سرینگر میں خیمہ زن ایس ایس اے اساتذہ نے غیر معینہ عرصے کی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔ان کی یہ بھوک ہڑتال تیسرے روز میں داخل ہوگئی ۔انہوں نے بھی یوم اساتذہ کو یوم سیاہ کے بطور منایا ۔یاد رہے کہ گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی ،جو محکمہ تعلیم کے انچارج بھی ہیں، نے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال جیسے انتہائی اقدامات نہ کریں کیوں کہ حکومت نے اْن کے مسائل کا جائیزہ لینے کے لئے پرنسپل سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔مشیر موصوف نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود ریاستی حکومت اساتذہ کے جائیز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ سماج کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہیں اور اْن کی فلاح و بہبود حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ خورشید احمد گنائی نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے فرائض ادا کریں تا کہ سکولوں کے روزانہ کام کاج پر کوئی اثر نہ پڑے اور طالب علموں کو نقصانات کا سامنا نہ ہو لیکن فی الحال اساتذہ نے اپنے احتجاجی سلسلہ کو بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہ کیاہے۔

میجرگگوئی کوکشمیری دوشیزہ کیساتھ پکڑے جانے کامعاملہ 

ارتکاب جرم کے حساب سے ملے گی سزا:آرمی چیف کااعلان
سری نگر؍؍کے این این؍؍9،اپریل2017کوسری نگرلوک سبھانشست کے ضمنی چناؤکے دوران ضلع بڈگام کے ایک گاؤں میں ایک کشمیری نوجوان فاروق احمدڈارکوفوجی گاڑی کے بمپرکیساتھ باندھ کرکئی دیہات میں گھمانے والے فوجی افسرمیجرلیتل گگوئی کوفوجی قوانین کے تحت سزاملنایقینی ہے کیونکہ موصوف کوایک کشمیری لڑکی کیساتھ سرینگرکے ایک ہوٹل میں پکڑے جانے کاکیس ثابت ہوچکاہے ،اوراب آرمی چیف جنرل بپن راؤت نے بھی واضح کردیاہے کہ میجرگگوئی کوجرم کے حساب سے سزادی جائیگی۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق آرمی چیف نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے حاشیے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ میجرلیتل گگوئی پرجس قسم کاجرم یاقواعدکی خلاف ورزی کامعاملہ ثابت ہواہے ،اُسی حساب سے اُسکوسزابھی دی جائیگی۔خیال رہے کورٹ آف انکوائری کے دوران 53آرآرسے وابستہ میجرلیتل گگوئی کوفوجی قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کامرتکب پایاگیا،اورکورٹ آف انکوائری میں اُن کیخلاف کورٹ مارشل کی سفارش بھی کی گئی ہے۔آرمی چیف نے اس حوالے سے کہاکہ میں یہ واضح کردیناچاہتاہوں کہ میجرگگوئی نے جس قسم کاجرم یاخلاف ورزی کی ہوگی ،اُسی حساب سے اُسکوسزابھی ملے گی۔انہو ں نے کہاکہ اگرمیجرگگوئی پراخلاقی پستی اورکورپشن کاالزام ثابت ہوجاتاہے تواُسکواسی جرم کے تحت سزادی جائیگی۔غورطلب ہے کہ میجرگگوئی کوکچھ ماہ قبل سری نگرمیں واقع ایک ہوٹل کے باہراُسوقت خانیارپولیس نے حراست میں لے لیاجب وہ ضلع بڈگام کی ایک مقامی درشیزہ اورایک دوسرے شخص کیساتھ ہوٹل میں ٹھہرنے آئے تھے لیکن ہوٹل منتظمین نے اُنکوجگہ نہیں دی ،جس پرہوٹل کے اندراورباہرہنگامہ بپاہوا،اورپولیس نے وہاں پہنچ کرمیجرگگوئی کوکشمیری لڑکی اورایک مقامی شخص کیساتھ ساتھ حراست میں لے لیاجہاں تینوں کیخلاف کیس درج کیاگیا۔تاہم پولیس نے بعدازاں میجرگگوئی کوفوج کے سپردکردیا،اورفوج نے اس معاملے میں مذکورہ فوجی افسرکیخلاف کورٹ آف انکوائری شروع کی ،جس دوران اُنھیں قواعدوضوابط کوبالائے طاق رکھ کرایک مقامی لڑکی کیساتھ کیمپ کی حدودپھلانگ کرسرینگرجانے کامرتکب پایاگیا۔

سرجان برکاتی کی طویل نظربندی،اہل خانہ بے حال

پریس کالونی میں بیوی بچوں اوررشتہ داروں کاپُرامن احتجاج
سری نگر؍؍کے این این؍؍گرمائی ایجی ٹیشن2016کے دوران مخصوص ومنفردنعروں سے مجمعے میں جوش پیداکرنے والے مزاحمتی کارکن سرجان برکاتی کی ایام اسیری کولگ بھگ700دن مکمل ہوگئے ہیں ،اورموصوف کی مسلسل نظربندی کے نتیجے میں اُنکے اہل خانہ سخت مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔کے این این سٹی رپورٹر کے مطابق سرجان برکاتی کی رہائی کی مانگ کولیکرموصوف کی اہلیہ شبروزہ بیگم اپنی 12سالہ بیٹی صغریٰ ،7سال کے بیٹے اذان اورکچھ رشتہ داروں کیساتھ منگل کی صبح سری نگرکی پریس کالونی میں نمودارہوئیں ۔انہوں نے کہاکہ سرجان احمدوگے العروف رجان برکاتی ساکنہ ریبن زینہ پورہ شوپیان کوپولیس نے یکم اکتوبر2016میں گرفتارکیاتھا،اوراب تک اُن پرکئی بارپی ایس اے کاطلاق عمل میں لایاگیاہے جبکہ عدالت عالیہ کی احکامات کے باوجودانکی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ہاتھوں میں بینراورپلے کارڈس لئے سرجان برکاتی کے اہل خانہ اوررشتہ داروں نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ موصوف کومحض سیاسی انتقام گیری کی بنیادپرپابندسلاسل رکھاجارہاہے۔سرجان برکاتی کی اہلیہ شبروزکاکہناتھاکہ شوہرکی گرفتاری کے بعدسے اُنھیں گھرچلانے اوربچوں کی پرورش کرنے میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں شوہرکی رہائی کیلئے کورٹ کچیری کے چکرکاٹتی رہتی ہوں اوربچوں کی جانب میراکوئی دھیان ہی نہیں ۔انہوں نے افسردہ لہجے میں کہاکہ اب میرے بچے اسکول بھی نہیں جاپاتے ہیں ۔شبروزہ بیگم نے کہاکہ ہماری گھریلواورمالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے کیونکہ گھرمیں کوئی کمانے والاہی نہیں ۔انہو ں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ میں شوہرکے کیس دیکھوں ،گھرکوچلاؤں یابچوں کی دیکھ بال کرؤں ،میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا،کہ زیادہ اہم کیاہے؟۔اس موقعہ پرگزشتہ لگ بھگ23ماہ سے محبوس مزاحمتی کارکن سرجان برکاتی کی بارہ سال کی کمسن بیٹی صغریٰ نے کہاکہ ہماری ماں ہمارے والدکیخلاف درج کیسوں کے چکرمیں اُلجھی ہوئی ہیں ،اورہم دونوں بھائی بہن بھی پریشان اوراس انتظارمیں ہیں کہ کب ہمارے پاپاکوجیل سے رہائی ملے گی۔صغریٰ نے کہاکہ وہ اپنے اہل خانہ اوررشتہ داروں کے ہمراہ7ستمبرکوکولگام میں احتجاجی دھرنادینے جارہی ہیں ۔سرجان برکاتی کی اہلیہ اورکمسن بچی نے کہاکہ ہم نے بہت ظلم برداشت کیاہے ،اورہم موجودہ سرکارسے اپیل کرتے ہیں کہ محض انسانی بنیادوں پرسرجان برکاتی کی رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمیں اس مصیبت اورآزمائش سے نجات مل سکے۔ 

نوجوان کی ہلاکت کیخلاف پلوامہ میں مکمل ہڑتال

موبائیل انٹر نیٹ ا ورریل سروس معطل ، ہائرا سیکنڈری اسکول اور کالج بند
سری نگر؍؍کے این این؍؍جنوبی ضلع پلوامہ میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف منگل کو مکمل تعزیتی ہڑتال رہی ۔ہڑتال کے نتیجے میں ضلع بھر میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔اس دوران ضلعے میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردی گئیں جبکہ قصبہ سمیت تمام حساس علاقوں میں اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرپلوامہ ضلعے میں ہائر سیکنڈری اسکولوں اور کالجوں میں انتظامیہ کی ہدایت پر درس وتدریس کا عمل معطل رہا جبکہ ممکنہ سرینگر،بانہال ریل سروس بھی معطل رکھی گئی ۔کے این این کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ میں منگل کو نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال رہی ،جسکی وجہ سے یہاں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئیں۔یہاں سوموار کے روز بیک وقت18دیہات میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن مخالف مظاہروں کے دوران فورسز کی فائرنگ سے28 سالہ نوجوان فیاض احمد وانی کی موت ہوگئی تھی۔ضلعے میں تمام دکانات ،نجی دفاتر ،تجارتی وکاروباری ادارے اور پیٹرول پمپ مقفل رہے ۔ ضلع پلوامہ میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل متاثر رہا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔تعزیتی ہڑتال کے باعث سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آئے جسکی وجہ سے یہاں ہو کا عالم رہا ۔اس دوران امن وقانون کی صورتحال برقر ار رکھنے کیلئے قصبہ سمیت حساس علاقوں میں پولیس وفورسز اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رکھا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر غلام محمد ڈار کی ہدایت پرپلوامہ ،راجپورہ ،کاکاپورہ تحاصیل میں ہائر سکینڈری اسکولوں اور ڈگری کالج بائز اینڈ گرلز میں درس وتدریس معطل رکھا گیا ۔یہ اقدامات ضلعے میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر اٹھائے گئے ۔اس دوران ضلعے میں افواہوں کو روکنے کیلئے موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع کر دی گئیں جبکہ وسطی کشمیر اور جنوبی کشمیر کے درمیان ریل سروس معطل رکھی گئی۔یاد رہے کہ فیاض احمد وانی محاصرہ مخالف مظاہروں کے دوران چیو کلان پلوامہ میں پیر کے روز فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تھا ۔ضلعے میں نوے کی طرز پر بیک وقت سوموار کے روز 18دیہات کا محاصرہ کرکے وسیع پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا تھا ،جس دوران یہاں کئی مقامات پر محاصرہ مخالف مظاہرے کئے گئے ،جس دوران فورسز کارروائی میں ایک نوجوان کی موت واقعہ ہوگئی اور کئی دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔وسیع پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن اور گھر گھر تلاشی کارروائی کے دوران یہاں جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔

سنگرامہ چوک سوپورمیں سماعت شکن گرینیڈدھماکہ

۔3فورسزاہلکاراورایک عام شہری زخمی،علاقہ میں افراتفری
سری نگر؍؍کے این این؍؍شمالی قصبہ سوپور کے سنگرامہ علاقے میں اْس وقت خوف ودہشت کی لہر دوڑ گئی جب یہاں منگل کی صبح نامعلوم افرادنے سی آر پی ایف کی ایک پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے گرینیڈ داغا ،جو زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ۔دھماکے کے نتیجے میں 3فورسز اہلکار اور ایک عام شہری آہنی ریزوں کی زد میں آکر زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو فوری طور پر سب ضلع اسپتال سوپور منتقل کیا گیا ۔کے این این کوپولیس ذرائع نے بتایاکہ یہ جنگجو یانہ حملہ تھا ۔ایس ایس پی سوپور جاوید اقبال نے بتایا کہ جنگجوؤں نے سنگرامہ چوک میں سی آر پی ایف کی ایک پارٹی کو نشانہ بنایا ۔ان کا کہناتھا کہ گرینیڈ دھماکے میں تین فورسز اہلکار اور ایک عام شہری زخمی ہوا ،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔زخمیوں فورسز اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل رادھے شیام ،کانسٹیبل شکیل احمد اور کانسٹیبل دھرم داس تواری جبکہ عام شہریکی شناخت ہلال احمد کھانڈے ولد عبدالقیوم ساکنہ سوپور کے بطور ہوئی ہے۔دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ اس دوران سرینگربارہمولہ اورسرینگرسوپورشاہراہوں پرٹریفک کی آمدورفت میں بھی خلل پڑا ۔تاہم یہاں کچھ دیر بعدصورتحال معمول پرآگئی ۔اس دوران پولیس وفورسز کے اعلیٰ حکام نے دھماکہ کی جگہ کا معائینہ کیا اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ،جس دوران وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی گئی تاہم حملہ آئروروں اور فورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔دھماکے کے بعد سوپور میں سیکورٹی الرٹ جاری کیا گیا جبکہ جگہ جگہ ناکے لگائے گئے اور تلاشی کارروائی میں شدت لائی گئی ۔

بے لوث قربانیوں کو کسی بھی طور فراموش نہیں کیا جائیگا

جنوبی کشمیرمیں ہزاروں لوگوں کو یرغمال بناناقابل مذمت/حریت(ع)
سری نگر//حریت کانفرنس(ع )نے جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں فوج اور فورسز کی جانب سے CASO کی آڑ میں قتل و غارت، پکڑ دھکڑ، مار دھاڑ، تلاشی کی کارروائیوں اور راست فائرنگ سے ایک نہتے نوجوان فیاض احمد وانی ولد محمد احسن وانی ساکنہ چیوہ کلان پلوامہ کو شہید اور درجنوں افراد شدید زخمی کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی سرکاری دہشت گردی قرار دیا ہے۔کے این این کوموصولہ بیان میں معصوم فیاض احمد وانی کو اُس کی قربانی پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری عوام کی ان بے لوث قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جائیگااور حق خودارادیت کی پر امن جدوجہد کو پایہ تکمیل تک لیجانے کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔بیان میں کہاگیا کہ فوج اور سرکاری فورسز نے جنوبی کشمیر کے تقریباً ۱۸ دیہاتوں کا محاصرہ کرکے عسکریت پسندوں کی تلاشی کی آڑ میں پورے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ اور تلاشی کارروائیوں کے نام پر ہزاروں کی آبادی کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔حریت کانفرنس(ع )بیان میں کہا گیا کہ یاترا کے اختتام کے فوری بعد جس طرح پورے جنوبی کشمیر میں فوج اور فورسز نے متعدد علاقوں روہامہ، بیلو، راج پورہ، ماتری گام،پتری گام، فرسی پورہ، گاسو، کچوپورہ، چک میرگنڈسمیت درجنوں دیہات میں عسکریت پسندوں کی تلاشی کے نام پر پورے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول برپا کیا گیا ہے اور تمام مسلمہ جمہوری اور اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر نہتے لوگوں کے قتل اور طاقت اور تشدد کے بل پر عوام کو ہراساں کرنے کا مذموم عمل شروع کیا گیا ہے وہ نہتے عوام کے تئیں کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز کالے قوانین کے بل پر خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کررہی ہے اور عام لوگوں کو تختہ مشق بنانے سے گریز نہیں کررہی ہے۔حریت کانفرنس(ع )بیان میں کہاگیا کہ ایک طرف سرکاری سطح پر کشمیر کی نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں پر مائل کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف نوجوانوں کے قتل و غارت اور انہیں طاقت اور قوت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کیلئے اوچھے اور مذموم ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں جس سے حکمرانوں کی یہاں کے عوام کے تئیں جارحانہ اور انتقام گیرانہ عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔

عام شہریوں کوگولیوں کا نشانہ بنانا سرکاری دہشت گردی

چیوہ کلان پلوامہ کے فیاض احمد وانی کی ہلاکت قابل مذمت/صحرائی 
سری نگر// چیرمین تحریک حریت جموں کشمیر محمد اشرف صحرائی نے چیوہ کلان پلوامہ میں فورسز کے ہاتھوں فیاض احمد وانی ولد محمد احسن وانی کو راست فائرنگ سے شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز بے گناہ لوگوں کا خون بہارہی ہے۔ فیاض احمد ایک سیول جوان ہے، اس کو گولیوں کا نشانہ بنانا سرکاری دہشت گردی ہے۔موصولہ بیان میں محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے رُکن غلام رسول کلو چھتہ بل سرینگر اور حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کے آفس بوائے محمد امین بٹ کولگام کو کالے قانون پی ایس اے کے تحت کٹھوعہ اور کوت بھلوال جیل منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو ان کالے قوانین کے تحت جیلوں میں بند کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، لیکن یہاں قانون کے بجائے پولیس اور فوجی راج قائم ہے، جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں تمام انسانی، جمہوری اور سیاسی حقوق پامال کئے جاچُکے ہیں۔ انہوں ے کہاکہ انتظامیہ تحریک آزادی سے وابستہ سیاسی کارکنوں کو بلاوجہ انتقام کا نشانہ بنارہی ہے اور جو لوگ کئی کئی برس کالے قانون پی ایس اے کے تحت جیلوں میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے اُن کو اب بلاوجہ پھر پی ایس اے لگاکر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ غلام رسول کلو بھی بار بار پولیس حراست میں رہے اور عید سے پہلے رہا کئے گئے، جبکہ سنیچروار کو اُن کو پھر صفاکدل تھانے پر طلب کیا گیا اور اس کے لواحقین کو بتائے بغیر پی ایس اے لگا کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا۔ اسی طرح محمد امین بٹ کو بھی کولگام تھانے سے کوت بھلوال جیل شفٹ کیا گیا۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ گرفتاریوں اور کالے قوانین کے نفاذ سے تحریک آزادی سے وابستہ کارکنوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء تحریک حریت جموں کشمیر کے ذمہ داروں محمد یوسف مکرو، عاشق حسین نارچور اور یاسر احمد پر مشتمل وفد نے سبزار احمد بٹ کھنہ بل اسلام آباد کی پھوپھی جان کے انتقال پر اُن کے گھر جاکر لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر تعزیتی مجلس سے محمد یوسف مکرو نے خطاب کرتے ہوئے مرحومہ کے خاندان کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ کا لخت جگر تحریک آزادی کی جدوجہد میں شہید ہوچُکا ہے۔ انہوں نے مرحومہ کے حق میں جنت نشینی کی دُعا کی۔

میرے تحریکی کردار اور اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئیگی

NIA

کی کارروائیوں پر حزب سربراہ صلاح الدین کاردعمل
سری نگر// سید صلاح الدین نے کہاہے کہ میری جد و جہد�آزادی کی سر گرمیوں میں رخنہ ڈالنے کیلئے بھارتی ایجنسیاں میرے بچوں اور عزیز و اقارب کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ متحدہ جہاد کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین کی جانب سے کے این این کوموصولہ بیان میں حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے کہا کہ میرے بچوں اور عزیز و اقارب سے یہ انتقام لے کر اور ساتھ ساتھ میرا تحریکی کردار داغدار کرنے کی مذموم کوششوں سے نہ ہی میرے تحریکی کردار میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی وطن عزیز کے آزادی پسند لوگوں کو اپنی قیادت کے اعتماد میں کوئی کمی آئیگی۔سید صلاح الدین نے کہاکہ وہ گذشتہ تیس برسوں سے اپنی فیملی(کنبے) سے دُور ہیں اور قوم یہ جانتی ہے کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد تحریک آزادی کے مالی معاملات سے وابستہ نہیں رہا ہے اور نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا دامن الحمداللہ صاف ہے اور اس حوالے سے بھارتی ایجنسیاں جو کردار کشی کررہی ہیں، وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔حزب سربراہ نے کشمیر بار ایسو ایشن اور کشمیر سول سوسائٹی سے وابستہ لوگوں سے مخلصانہ اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بچوں کی 30 سال پہلے اور آج کی جائیداد کی آزادانہ تحقیقات کریں اور تقابلی جائزہ قوم کے سامنے رکھ کر دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی ثابت کرنے میں کردار ادا کریں۔ سید صلاح الدین نے واضح کیا کہ اپنی پوری زندگی اعلائے کلمتہ اللہ اور آزادی کشمیر کے لیے وقف رکھنے والے ،دنیا کے حقیر مفادات کو آخرت کی ابدی زندگی کے نتائج پر ترجیح نہیں دیتے۔سید صلاح الدین نے کہاکہ تاریخ نے یہ حقیقت ہمیشہ ایسے لوگوں کے حوالے سے پہلے بھی ثابت کی اور اب بھی کرے گی۔