آرٹیکل 35کے حساس معاملے پرعلاقائی مین اسٹریم جماعتوں کاسخت اپروچ

آرٹیکل 35Aکے حساس معاملے پرعلاقائی مین اسٹریم جماعتوں کاسخت اپروچ
پی ڈی پی بھی مجوزہ انتخابی عمل سے کنارہ کش
مرکزی سرکارکودفعہ35Aکے دفاع میں دلچسپی نہیں،ریاستی عوام نااُمید :محبوبہ مفتی 
سری نگر؍؍کے این این ؍؍بڑی علاقائی مین اسٹریم جماعت کی جانب سے بلدیاتی وپنچایتی انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کااعلان کئے جانے کے چندروزبعدایک اوراہم علاقائی جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے بھی آرٹیکل 35Aکی حفاظت کے معاملے پرمرکزی سرکارکی سردمہری اورموجودہ صورتحال کے تناظرمیں مجوزہ انتخابی عمل سے کنارہ کشی کرنے کافیصلہ لیا۔خیال رہے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کورگروپ کی میٹنگ کے بعداعلان گیاتھاکہ پارٹی مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات میں احتجاجاًحصہ نہیں لے گی کیونکہ دفعہ 35Aکے معاملے پرمرکزی سرکارکااپروچ ڈانوڈول ہے۔اس دوران فاروق عبداللہ نے اس معاملے پراپناموقف مزیدسخت کرتے ہوئے خبردارکیاتھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر مبینہ منصو بہ بند حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو ان کی جماعت مجوزہ بلدیاتی او رپنچایتی انتخابات کیساتھ ساتھ آئندہ اسمبلی او ر پارلیمنٹ کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرے گی۔کے این این کومعلوم ہواکہ پی ڈی پی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات کے بارے میں فیصلہ لینے کی غرض سے پارٹی کے سینرلیڈروں ،ممبران قانون سازیہ اورمرکزی ،زونل اورضلعی عہدیداروں کاایک اہم اجلاس سوموارکی صبح اپنی سرکاری رہائش گاہ واقع گپکارروڑسری نگرپرطلب کیا۔اس اہم میٹنگ میں موجودرہے پی ڈی پی کے ایک سینئرلیڈرنے بتایاکہ میٹنگ میں پارٹی کے سبھی سینئرلیڈران اور5کے بغیرتمام ممبران قانون سازیہ اورپارٹی عہدیداربھی شامل ہوئے۔انہوں نے بتایاکہ میٹنگ میں شامل سبھی لیڈروں ،ممبران قانون سازیہ اورپارٹی عہدیداراسبات پریک رائے تھے کہ پارٹی کوموجودہ سیاسی اورسیکورٹی صورتحال نیز دفعہ35Aکے معاملے پرمرکزی سرکارکی سردمہری اورڈانوڈول اپروچ کے چلتے مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی الیکشن میں شامل ہونے سے احتراض کرناچاہئے ۔پارٹی لیڈرکاکہناتھاکہ میٹنگ کے دوران محبوبہ مفتی کی بائیں جانب بیٹھے پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ رفیع احمدمیرشرکاء کے اظہارخیال میں شامل اہم نکات کوقلمبندکررہے تھے ۔اس دوران اظہارخیال کرنے والے لیڈروں کاکہناتھاکہ ہمیں صرف مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات کابائیکاٹ کرناچاہئے ،اوریہ کہ ہمیں نیشنل کانفرنس کی طرح اسی وقت آئندہ اسمبلی اورپارلیمانی انتخاؓات سے کنارہ کشی اختیارکرنے پرکوئی سوچ وچارنہیں کرناچاہئے ۔غورطلب ہے کہ اس میٹنگ میں ممبراسمبلی بارہمولہ جاویدحسن بیگ بھی موجودتھے ۔ذرائع نے بتایاکہ میٹنگ میں شامل لیڈروں ،ممبران قانون سازیہ اورعہدیداروں کی رائے لینے کے بعدکچھ سینئرلیڈروں اورممبران قانون سازیہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ،جس نے میٹنگ میں لئے گئے فیصلے کامسودہ مرتب کیا۔پارٹی لیڈروں ،ممبران قانون سازیہ اورسینئرعہدیداروں کی میٹنگ کے بعدپی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی ذرائع ابلاغ کے سامنے آئیں اورانہوں نے پارٹی میٹنگ میں لئے گئے فیصلے پرمبنی مسودہ میڈیانمائندوں کے سامنے پڑھا۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پارٹی ترجمان اعلیٰ رفیع احمدمیرکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیاکہ فی الوقت ریاست میں بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات کیلئے ماحول سازگارنہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک جانب مرکزی سرکارکودفعہ35Aکے دفاع میں کوئی دلچسپی نہیں،اوردوسرایہ کہ اس حساس معاملے پرریاستی عوام میں نااُمیدی اورمایوسی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں پی ڈی پی بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ اُنکی جماعت موجودہ ناسازگارماحول میں مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔انہوں نے کہاکہ ایک جانب حکومت دفعہ35Aکوتحفظ فراہم کرنے میں غیرسنجیدہ نظرآتی ہے اوردوسری جانب ریاستی عوام میں ریاست کوحاصل خصوصی پوزیشن اوریہاں کے پشتنی باشندوں کودی گئی منفردشہریت وحیثیت کے معاملے پرمضطرب ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکارکے اپروچ کی وجہ سے ریاستی عوام میں نااُمیدی اورمایوسی پائی جاتی ہے۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ مرکزی اورریاستی سرکارنے جس اندازمیں دفعہ35Aمعاملے کی سماعت پرسپریم کورٹ میں موقف اختیارکیا،وہ غلط تھا۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمیٰ میں دفعہ35Aمعاملے کی سماعت اورریاست میں مجوزہ بلدیاتی وپنچایتی انتخابات کوجوڑناغلط تھا،کیونکہ ا س اپروچ کی وجہ سے ریاستی عوام بالخصوص کشمیریوں میں کئی طرح کے شکوک وشبہات پیداہوگئے ،اورعام شہری عدم تحفظ کاشکارہوگئے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پنچایتی وبلدیاتی الیکشن اور سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کو لے کر چل رہے کیس کے آپسی تعلق کو لے کر جس طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں ، اس سے لوگوں کے دماغ میں کئی طرح کے شکوک و شہبات پیدا ہوگئے ہیں ، ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ماحول میں الیکشن کرانے کے فیصلہ پر ایک مرتبہ پھر سے غور کیا جائے پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے مرکزی سرکارپرزوردیاکہ اُسے ریاست میں پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کرانے کے فیصلے پرازسرنوغور کرناچاہئے ۔خیال رہے 8ستمبرکونیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر مبینہ منصو بہ بند حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو ان کی جماعت مجوزہ بلدیاتی او رپنچایتی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئندہ اسمبلی او ر پارلیمنٹ کے انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔انہو ں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس انتخابات لڑنے سے دور نہیں بھاگے گی لیکن ہمیں انصاف چاہئے۔فاروق عبد اللہ نے مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر مودی نے15، اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے جمو و کشمیر میں بلدیاتی او رپنچایتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔فاروق عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ کے یوم وصال کے سلسلہ میں سری نگر کے مضافاتی علاقہ نسیم باغ میں واقع ان کے مقبرہ پر منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کے دوران کرتے ہوئے مرکزسے سوال کیاتھا کہ ایک طرف آپ یہاں انتخابات کروانا چاہتے ہیں او ردوسری طرف دفعہ35A کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایسی صورتحال میں ہم لوگوں سے کیسے ووٹ مانگیں گے۔انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے بیان کہ جمو ں کشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی ‘‘ پر کہاکہ اگر ریاست کا آئین دفعہ35A او ردفعہ370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے ۔اسے کچھ روزقبل نیشنل کانفرنس کورگروپ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاتھاکہ پارٹی مجوزہ بلدیاتی اورپنچایتی انتخابات میں احتجاجاًحصہ نہیں لے گی کیونکہ دفعہ 35Aکے معاملے پرمرکزی سرکارکااپروچ ڈانوڈول ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *