اسیران زندان طبی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم

کردار کشی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: مزاحمتی قیادت
سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مزاحمتی تحریک سے وابستہ جملہ اسیران کو ریاست اور بیرون ریاست کی جیلوں میں طبی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے علاوہ انہیں جسمانی تشدد اور بدترین سیاسی انتقام گیری کا شکار بنانے پر اپنی گہری فکر مندی اور تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے دور جدید کے مہذب سماج میں قابل ملامت و مذمت کارروائی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کی بدنام زمانہ قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAاور EDکی طرف سے ریاست جموں کشمیر کے حریت پسند راہنماؤں کے خلاف فرضی اور من گھڑت الزامات کے تحت دہلی کے تہاڑ جیل میں ظلم وبربریت کا نشانہ بنائے جانے کی سنگین نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت قائدین کی کردار کُشی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی ان حقیر اور مذموم حربوں سے مرعوب ہوکر دہلی کے حکمرانوں کے جبرواکراہ کے سامنے جھکنے اور بِکنے کو حاشیۂ خیال میں بھی لاسکتی ہے۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے مزاحمتی تحریک سے وابستہ جملہ اسیران زندان کو ریاست اور ریاست سے باہر جیل خانوں میں طبی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے علاوہ انہیں جسمانی تشدد، تعصب، نفرت اور بدترین قسم کی سیاسی انتقام گیری کا شکار بنائے جانے کے نتیجے میں ان کی عزیز جانوں کو خطرہ لاحق ہونے پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کِسی بھی شخص کو گرفتار کرکے اپنے اہل وعیال، والدین اور بچوں سے علیحدہ کرکے جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے مقید رکھنا کیا کم سزا ہے کہ اِسے جسمانی تشدد، گالی گلوچ، تعصب، نفرت کے علاوہ تسلیم شدہ جیل مینول (jail Mannual)کو روندتے ہوئے اسے طبی سہولیات اور دیگر غذائی اجناس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھتے ہوئے اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا دورِ جدید کے مہذب سماج میں قابل ملامت ومذمت کارروائی سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کی بدنامِ زمانہ قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAاور EDکی طرف سے ریاست جموں کشمیر کے حریت پسند راہنماؤں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، شاہد الاسلام، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین، فاروق احمد ڈار، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہدہ نصرین، ظہور احمد وٹالی، محمد اسلم وانی، شاہد یوسف، شکیل احمد کے خلاف فرضی اور من گھڑت الزامات کے تحت دہلی کے تہاڑ جیل میں ظلم وبربریت کا نشانہ بنائے جانے کی سنگین نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت قائدین کی کردار کُشی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی ان حقیر اور مذموم حربوں سے مرعوب ہوکر دہلی کے حکمرانوں کے جبرواکراہ کے سامنے جھکنے اور بِکنے کو حاشیۂ خیال میں بھی لاسکتی ہے۔ انہوں نے NIAاور EDایجنسیوں کے گھناؤنے رول کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سبھی ایجنسیاں جموں کشمیر کی سرزمین پر تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے زمینی حقائق اور عوامی جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی فریب کاریوں اور ساحرانہ اداؤں سے کسی بھی حریت پسند راہنما یا کارکن کو بے بنیاد الزامات تراشتے ہوئے کسی غریب شخص کو راتوں رات کروڑ پتی اور کروڑپتی کو بھکاری ثابت کرنے کی بے ہودہ مشق کرنے میں یکتائے روز گار ہیں۔کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت نے تہاڑ جیل میں مقید حریت پسندوں کی حالتِ زار اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فاشسٹ حکمران ان حریت پسند محبوسین کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے دیگر محبوسین بشمول ڈاکٹر غلام محمد بٹ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، مظفر احمد ڈار، طارق احمد ڈار، منظور احمد، عبدالغنی بٹ، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، سرجان برکاتی، مشتاق الاسلام، غلام محمد خان سوپوری، فاروق توحیدی، شیخ محمد رمضان، اسداللہ پرے، عمر عادل ڈار، بشیر احمد قریشی، حکیم شوکت، سراج الدین، عبدالرشید مغلو کے علاوہ جملہ اسیران زندان کے صبرو استقلال کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی خاتون سربراہ مائیکل بیچلیٹ کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت کے جیل خانوں کا دورہ کرنے اور یہاں قیدیوں کی حالت زار کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے ان جہنم نما قید خانوں کا دورہ کیا جائے اور اس ضمن میں انسانی ہمدردی کے ناطے مناسب اقدامات کرکے جموں کشمیر کے حریت پسند قیدیوں کو بھارتی جیل حکام کے ہاتھوں ظلم واستبدادکے چُنگل سے نجات دلائی جاسکے۔ مزاحمتی قیادت نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی سبھی انجمنوں اور تنظیموں کو اس ضمن میں اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے کا مطالبہ بھی کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *