انکاو نٹر تفصیل کے ساتھ 

سری نگر؍؍کے این ایس ؍؍فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رفیع آباد کے ڈو نیواری جنگلات میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے در میان جاری شدید معرکہ آرائی کے دوران4جنگجو ؤں کو جاں بحق کیا گیا ہے جبکہ جھڑپ کے دوران فوج کا ایک پیرا کمانڈو شدید زخمی ہوا جسے علاج و معالجہ کے لئے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ۔اس دوران پولیس کے ریاستی سر براہ ڈاکٹر ایس پی وید نے رفیع آبادکے ڈو نیواری علاقے میں جاری جھڑپ کی تصدیق کرتے ہو ئے بتایا کہ علاقے میں 5جنگجو ؤں محصور ہے ۔ادھر گریز میں فوج اور فورسز نے بدھوار کی صبح جنگجوؤں کی تلاش کے لئے تلاشی آپریشن دو بارہ شروع کیا ہے تاہم آخری اطلاعات مو صول ہو نے تک فوج اور جنگجوؤں کا آمنا سامنا نہیں ہوا ۔یاد رہے کہ منگلوار کو گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک بکھتور علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے در میان پیش آنے والی معرکہ آرائی کے دوران ایک فوجی میجر سمیت چار اہلکار ہلاک ہو ئے تھے جبکہ اس دوران دو جنگوکو بھی مار گرایا گیا تھا ۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس )کے مطابق رفیع آباد کے ڈو نیواری علاقے کے جنگلات کو فوج کی 32آر آر ،9پیرا اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے بدھوار کی صبح اس وقت محاصرے میں لیا جب انہیں ایک مصدقہ اطلاع مو صول ہو ئی کہ علاقے میں 5جنگجو ؤں پر مشتمل ایک گروپ چھپا بیٹھا ہے ۔فوجی زرائع نے بتایا کہ جوں ہی فوج اور فورسز کی مشترکہ پارٹی گھنے جنگلات میں موجود جنگوؤں کی طرف بڑھنے لگے تو اس دوران جنگجوؤں نے خود کا ر ہتھیاروں سے سیکورٹی فورسز پر زدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9پیرا سے وابستہ ایک کمانڈو شدید زخمی ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد با ضا بطہ طور جھڑپ شروع ہو ئی جس کے دوران 4جنگجوؤں کو مار گرایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ گھنے جنگلات ہو نے کے نتیجے میںآپریشن مشکل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جنگجوؤں کے فرار ہو نے والے تمام ممکنہ راستے سیل کئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کا یہ گروپ حال ہی میں در اندازی کر کے اس پار داخل ہوا ہے۔زرائع نے بتایا کہ علاقے میں ابھی بھی آپریشن جاری ہے ۔اس دوران ریاستی پولیس کے سر برا ڈاکٹر ایس پی وید نے رفیع آباد میں جاری جھڑپ کی تصدیق کرتے ہو ئے بتا یا کہ پولیس اسٹیشن ڈنگی و چھہ کے تحت آنے والے علاقے ڈو نیواری کے جنگلات میں فوج اور فورسز نے وسیع جنگلات کا محاصرہ کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق علاقے میں5سے زیادہ جنگجو مو جود ہیں ۔انہوں نے جھڑپ میں شامل اہلکاروں کی ستا ئش کرتے ہو ئے نیک خوا ہشات کا بھی اظہار کیا ۔ مقامی زرائع نے کے این ایس کو بتایا کہ بدھوار کی صبح سے ہی علاقے میں بھاری تعداد میں فوج اور فورسز نے وسیع علاقے کو محاصرے میں لے لیا ۔انہوں نے بتایا کہ اس کے کچھ دیر بعد علاقے میں گن گر ج کی آوازیں سنائی دی جس کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و دہشت کی لہر دو ڈ گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ جنگلات جن میں جنگجو محصور ہے کو وجے ٹاپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ علاقہ نو گام سیکٹر کے متصل ہے اور ممکنہ طور پر جنگجوؤں کا یہ گروپ حا ل ہی میں در اندازی کر کے اس پار داخل ہو نے میں کامیاب ہوا ہے ۔اس دوران پولیس زرائع نے مزید بتایا کہ گھنے جنگلات میں جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ آیا کسی جنگجو کو مو ر گرایا گیا ہے کہ نہیں ۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کو اختتام کر نے بعد ہی صورتحال کے بارے میں واضح جانکاری فراہم کی جائے گی ۔اس دوران زرائع نے بتایا کہ بدھوار کی صبح کو ہی فوج اور فورسز نے گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک جنگجوؤں کی تلاش کے لئے تآپریشن دو بارہ شروع کیا ہے تاہم آخری اطلاعات مو صول ہو نے تک فوج اور جنگجوؤں کا دو بارہ آمنا سامنا نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ منگلوار کے روز بھی گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور جنگجو ؤں کے در میان پیش آنے والی معرکہ آرائی کے دوران ایک میجر سمیت فوج کے 4اہلکار ہلاک ہو ئے تھے جبکہ اس دوران 2جنگجو بھی مارے گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *