جموں وکشمیرکیلئے نئے گورنرکی تعیناتی اورحکومت سازی کی پھربازگشت

رواں ماہ بڑی تبدیلیاں متوقع
نئی دہلی میں فیصلہ کن مشاورت ،35A معاملے کوالتواء میں ڈالے جانیکاامکان
رام مادھوکی سری نگرمیں پارٹی لیڈروں اورسجادغنی لون کیساتھ طویل واہم مشاورت
سری نگر؍؍کے این این؍؍رواں ماہ کے اوآخرتک جموں وکشمیرکے حوالے سے سیاسی ،انتظامی اورآئینی نوعیت کے کچھ اہم اوربڑے فیصلے لئے جانے کاقوی امکان ہے کیونکہ نئے گورنرکی تعیناتی عمل میں لانے کیساتھ ساتھ نئی ملی جلی سرکارتشکیل دینے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں جبکہ 27اگست کی سماعت کے بعددفعہ35-Aکے حساس معاملے کوالتواء میں ڈالے جانے یاکہ اس معاملے پرعدالتی سماعت کے طول پکڑجانے کابھی امکان ہے ۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کے مطابق رواں ماہ کے اوآخر تک جموں وکشمیرسے متعلق سیاسی ،انتظامی اورآئینی نوعیت کے کچھ اہم اورغیرمعمولی فیصلے سامنے آسکتے ہیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سب سے پہلااقدام ریاست جموں وکشمیرکیلئے نئے گورنرکی تعیناتی عمل میں لاناہے،اوراس سلسلے میں نئی دہلی میں فیصلہ کن مشاورت جاری ہے ۔بتایاجاتاہے کہ نئے گورنرکیلئے کئی نام مرکزی سرکارکے زیرغورہیں ،جن میں ایک ریٹائرڈفوجی جنرل کے علاوہ کچھ ریٹائرڈبیوروکریٹ بھی شامل ہیں ۔اوراس سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ اورمرکزی وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کی گئی ۔بتایاجاتاہے کہ سراغ رساں ایجنسیوں نے بھی اس حوالے سے مرکزی سرکارکواپنی رائے سے آگاہ کردیاہے ،اوربیشتررپورٹو ں میں مرکزی سرکارکویہ مشورہ یارائے دی گئی ہے کہ جموں وکشمیرکی موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے کسی سابق فوجی جنرل کووہاں بحیثیت گورنربھیجنامناسب نہیں رہے گاجبکہ مختلف ایجنسیوں نے اسبات پرزوردیاہے کہ کسی سابق بیوروکریٹ کی بطورگورنرتعیناتی عمل میں لائی جانی چاہئے ۔اوراس سلسلے میں سابق مرکزی داخلہ سیکرٹری راجیومہرشی ،مرکزکے نامزدمذاکرات کاردنیشورشرمااورریاستی گورنرکے مشیروں میں شامل ایک سابق بیوروکریٹ کے نام پرغورکیاجارہاہے ۔بتایاجاتاہے کہ دنیشورشرماکوموجودہ ذمہ داری سے فارغ نہیں کیاجائیگاکیونکہ مرکزی سرکارمذاکرات کے عمل یارواں سلسلے کوجاری رکھناکے حق میں ہے۔خیال رہے موجودہ گورنراین این ووہراکو25جون2008میں اُسوقت گورنرمقررکیاگیاتھاجب جموں وکشمیرمیں سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزادکی سربراہی والی کانگریس ،پی ڈی پی مخلوط سرکاربرسراقتدارتھی ،اورمسٹرووہراریاست کے12ویں گورنرکی حیثیت سے تب سے متواترفرائض انجام دیتے آرہے ہیں ۔این این ووہرانے بطورگورنراپنے لگ بھگ 10سال پرمحیط دورمیں غلام نبی آزادکے علاوہ عمرعداللہ ،مفتی محمدسعیداورمحبوبہ مفتی کیساتھ کام کیا۔جون 2018میں جب مسٹرووہراکی بطورگورنردوسری معیادمکمل ہونے والی تھی تو19جون کوبھاجپاکی جانب سے پی ڈی پی سے ناطہ توڑجانے کے نتیجے میں مخلوط سرکارگرگئی اورمسٹرووہراکی معیادمیں ہنگامی طورپرتین ماہ کی توسع کی گئی ۔اب جبکہ اگست کے اوآخرمیں این این ووہراکی معیادتوسیع مکمل ہونے والی ہے تورواں ماہ کے اوآخر سے پہلے ہی ریاست کیلئے ئے گورنرکونامزدکیاجائیگا۔اس دوران معلوم ہواکہ رواں ماہ کے آخرتک حکومت سازی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کاامکان ہے ۔میڈیارپورٹس میں اسبات کاخلاصہ کیاجارہاہے کہ ناطہ ٹوٹنے کے باوجودپی ڈی پی اوربھاجپاکے درمیان رابطہ برقرارہے ۔بتایاجاتاہے کہ پی ڈی پی میں بڑے پیمانے پربغاوت نہ ہونے کے بعداب بی جے پی کی لیڈرشپ نے یہ راستہ کھول دیاہے کہ دونوں جماعتیں ملکرپھرسرکارتشکیل دے سکیں ،اوراس سلسلے میں دونوں پارٹیوں کے کچھ سینئرلیڈران کے درمیان باہمی صلاح مشورہ بھی ہواہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھاجپااسبات کیلئے کوشاں ہے کہ پی ڈی پی لیڈرشپ کوسرنومخلوط سرکارتشکیل دینے پرآمادہ کیاجائے تاہم ابھی پی ڈی پی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی مثبت اشارے نہیں دئیے گئے ہیں کیونکہ پی ڈی پی لیڈرشپ کویہ اندیشہ لاحق ہے کہ دوبارہ بھاجپاکاہاتھ تھامنے سے کشمیروادی میں پارٹی کی رہی سہی سیاسی اورعوامی اہمیت یااعتباریت بھی داؤپرلگ جائیگی ۔تاہم بتایاجاتاہے کہ پی ڈی پی نے اُسی صورت میں بھاجپاکیساتھ سرنواتحادکرنے رضامندہونے کااشارہ دیاہے ،اگرمرکزی سرکارکی جانب سے جموں وکشمیرکے حوالے سے کچھ اہم اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں ۔اس دوران پی ڈی پی کیساتھ اتحادکے محرک بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے بدھوکے روز اچانک سری نگر واردہوکریہاں حکومت سازی کے معاملے پرسرنوصلاح مشورہ شروع کیا۔معلوم ہواکہ رام مادھونے چرچ لین سری نگرمیں بھاجپاکی ریاستی شاخ کے کچھ سینئرلیڈروں اورسابق سرکارکی کابینہ میں شامل پارٹی سے وابستہ کچھ وزراء بشمول کویندرگپتا،ست شرما،سنیل شرما،راجیوجسروتیہ اوربالی بھگت کیساتھ حکومت سازی کے معاملے پرتبادلہ خیال کیا۔اس دورا ن کچھ بھاجپالیڈروں نے سرنوپی ڈی پی کیساتھ اتحادکی مخالفت کی جبکہ کچھ دوسرے لیڈروں نے تیسرے آپشن پرکام کرنے کی حمایت کی ۔انہوں نے پی ڈی پی میں بڑے پیمانے پردراڑپیداہونے کاامکان ظاہرکرتے ہوئے رام مادھوسے کہاکہ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی کیساتھ اتحادکرکے پھرمخلوط سرکاربناناٹھیک نہیں رہے گا۔پارٹی لیڈروں کارام مادھوسے کہناتھاکہ ہمیں پہلے آپشن پرہی توجہ مرکوزکرنی چاہئے کہ پی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ ممبران اسمبلی باغی ہوکرنئی سرکارکی تشکیل میں تعاون دیں ۔اس دوران معلوم ہواکہ رام مادھونے چرچ لین میں واقع کویندرگپتاکی سرکاری رہائش گا ہ میں پارٹی لیڈروں کیساتھ طویل مشاورت کے بعدبدھ کی شام سابق وزیراورپیپلزکانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون کی رہائش گاہ واقع صنعت نگرجاکرثانی الذکرکیساتھ حکومت سازی کی جاری کوششوں پرمزیدتبادلہ خیال کیا۔دریں اثناء سیاسی اورعوامی سطح پربے چینی اورغیریقینی صورتحال کاموجب بننے والے دفعہ35Aمعاملے پرسیاسی سطح پرگفت شنیدجاری ہے ،اورمرکزی سرکاربھی اس معاملے کوطول دینے کے حق میں نہیں ہے بلکہ مرکزی حکومت کے ذمہ داروں کومختلف حلقوں سے یہ مشورے دئیے جارہے ہیں کہ اس حساس معاملے کوالتواء میں رکھاجائے تاکہ کشمیروادی کیساتھ ساتھ ریاست کے دوسرے علاقوں میں کوئی مخاصمانہ یاناخوشگوارصورتحال پیدانہ ہونے پائے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *