جمہوریت کے دعوے اور ظلم و جبر کے حربے ایکساتھ نہیں چل سکتے

کشت وخون،چھاپے اورپکڑدھکڑفورسز کیلئے روزکامعمول:ملک یاسین
سری نگر؍؍کے این این ؍؍ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہاہے کہ جمہوریت کے بلند و بانگ دعوے اور نہتے عوام نیز پرامن سیاسی مزاحمت پر ظلم و جبر شانہ بشانہ نہیں چل سکتے ۔ فرنٹ چیئرمین نے الزام لگایاکہ جموں کشمیر پولیس کے ذریعے چلائی جانے والی ریاست ہے جہاں معصوم انسانوں کا خون بہانا اور سیاسی قائدین و اراکین کو آئے روز گرفتار کرنا بھارتی فورسز کے لئے معمول کا کام بن چکا ہے۔کے این این کوموصولہ بیان میں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے وادئ کشمیر خاص طور پر جنوبی و شمالی اضلاع میں بھارتی نوآبادیاتی فوج و فورسز کی جانب سے جاری رکھے جانے والے انسانیت سوز مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب بھارتی حکمران اور انکے کشمیری گماشتے جمہوریت کے بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں اور دوسری جانب انسانوں کی آواز کو دبانے کیلئے فوجی و پولیسی جبر کا ننگا ناچ بھی زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے بلند و بانگ دعوے اور نہتے عوام نیز پرامن سیاسی مزاحمت پر ظلم و جبر شانہ بشانہ نہیں چل سکتے کیونکہ یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پولیس کے ذریعے چلائی جانے والی ریاست ہے جہاں معصوم انسانوں کا خون بہانا اور سیاسی قائدین و اراکین کو آئے روز گرفتار کرنا بھارتی فورسز کے لئے معمول کا کام بن چکا ہے۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ کچھ روز قبل پلوامہ کے درجنوں گاؤں جات کو بھارتی قابض و ظالم فورسز نے گھیر ے میں لے کر خانہ تلاشیوں ، جبرو تشدد، لوگوں کی مار پیٹ، گھروں کی توڑپھوڑ اور ذی عزتوں کی تذلیل کا کام شروع کیا گیا اور اسی دوران قتل و غارت کے خوگران فو جیوں نے نہتے لوگوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دئے اور انسانوں کے سروں اور چھاتیوں کا نشانہ لے لے کر گولیاں برسانا شروع کر دیاجس سے معصوم جوان فیاض احمد شہید جبکہ درجنوں دوسرے زخمی ہوگئے ہیں ۔یہ قتل و غارت اور ظلم و جبر جہاں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ایک اور ثبوت ہے وہیں پر یہ بھارتی حکمرانوں کی ایک سوچی سمجھی سازش بھی ہے جس کے تحت وہ کشمیریوں کو مذید تکلیف اور درد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں ڈرا دھمکا کر تحریک آزادی سے دست بردار کر سکیں اور سرینڈر پرمجبور کر سکیں ۔بیان میں انہوں نے کہا کہ کریک ڈاؤن اور اس دوران عام شہر یوں کی مارپیٹ ،عمرو جنس کا لحاظ کئے بغیر لوگوں کا ٹارچر اور انہیں تذلیل کا نشانہ بنانا، عام لوگوں کے گھروں ،دکانوں،جائداد،گاڈیوں کو جلانا، بلاسٹ کرنا اور تباہ کرنا، جوانوں اور بزرگوں کو قید کرنا وغیرہ جیسے مظالم حد سے تجاوز کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ سرکاری دہشت گردی جاری ہے اور دوسری جانب نام نہادجمہوریت کو جبری طورنافذ کروانے کا کام بھی کیا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے منا فقت کی بدترین مثال ہے۔فرنٹ چےئرمین نے کہا کہ قتل و غارت، گرفتاریوں کے چکر،لوٹ مار اور ایسے ہی دوسرے اقدامات سے ایک ایسی قوم کو دبانایا سرینڈر پر مجبور کرنا عبث اور ناممکن ہے جس نے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کررکھا ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو سرینڈر پر مجبور کرنا اُن کے لئے ممکن تھا،ہے اور نہ ہی ہوگا کیونکہ ظلم و جبر سے قوموں کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ظلم و جبر اور قتل و غاات گری کے ان واقعات سے ہمارے عزائم اور بھی جوان ہو رہے ہیں اور آزادی نیز حق خودارایت کے حصول کی ہماری جدوجہد اور توانا اور مظبوط ہو رہی ہے۔بیان کے مطابق لبریشن فرنٹ چیئرمین نے بھارت اور جموں کشمیر کی جیلوں اور اذیت گاہوں میں جموں کشمیر کے اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی مختلف جیلوں بشمول تہاڑ و منڈاولی جیل دہلی اور جموں کشمیر کی مختلف جیلوں جن میں ادھمپور جیل، ہیرا نگر جیل، کھٹوعہ جیل، امپھالہ جیل جموں، کورٹ بلوال، سرینگر سینٹرل جیل، کپوارہ جیل، بارہمولہ جیل، اسلام آباد جیل، پلوامہ جیل قابل ذکر ہیں میں کشمیری قیدیوں کو انتہائی سخت مظالم سے دوچار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت قیدیوں حق میں پاس کئے گئے جینوا معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس حوالے سے اس ملک پر لازم ہے کہ یہ اس معاہدے کی پاسداری کرے لیکن اس کے بالکل برعکس بھارت کشمیری اسیروں کو تنگ طلب کرنے، ان کے ایام اسیری کو طول دینے اور انہیں زیادہ سے زیادہ تکلیف میں مبتلا کرنے کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے آزما رہا ہے جو حد درجہ مذمو م ہے۔ لبریشن فرنٹ کے اسیر قائدین نذیر احمد شیخ ، سراج الدین میر، ظہور احمد بٹ،عبدالرشید مغلو ا، علیل غلام نبی کشمیری اور معروف حریت پسند عالم دین مولانا سرجان برکاتی کی مسلسل نظر بندی اور ان کے ایام اسیری کو طول دینے کی سرکاری ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ کشمیری اسیروں کی حالت زار اور انہیں پہنچائی جانے والی تکالیف ناگفتہ بہہ ہیں اور بار بار سیفٹی ایکٹ لگانا،پولیسی حربے استعمال کرکے ایام اسیری کو طول دینا،این آئی اے اور ای ڈی جیسی بھارتی ایجنسیوں کو استعمال کرکے کشمیریوں کو مختلف بھارتی جیلوں میں ڈال دینا،عمر قید کی سزا کاٹنے والوں اور دوسرے عام قیدیوں کو کشمیر کی جیلوں سے نکال کر جموں کی سخت جیلوں میں شفٹ کرنا،اسیروں سے متعلق خود اپنی عدالتوں کے احکامات اور دوسرے مروجہ اصولوں کی بیخ کنی کرنا، اسیروں کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا،انہیں مکمل ننگا کرکے کئی کئی دن جیل کی تنگ و تاریک اور تنہائی کی کوٹھریوں میں رکھنا ،انکی مار پیٹ، تعذیب اور تذلیل و تحقیر کرنااور اسی قسم کے دوسرے جبری ہتھکنڈے ظالم حکام کا محبوب مشغلہ بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اسیر بھارت اور جموں کشمیر کی جیلوں میں سخت تکالیف اور دوہرے پن کا شکار ہیں اور عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ کشمیری اسیروں کی زندگیاں بچانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، انسانی حقوق اداروں، سول سوسائٹی،عالمی ریڈ کراس(آئی سی آر سی)اور دوسروں کو اس ظلم و جبر کا نوٹس لے اور فوری مداخلت کرکے اسیروں کے حقوق ، انہیں تعذیب و ترہیب سے بچانے اور انہیں اسیری سے نجات دلانے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال میں لائیں تاکہ کشمیریوں کا اس پر اعتماد بحال ہوسکے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *