حوالہ اسکنڈل کیس : گرفتارمزاحمتی لیڈروں کی رہائی کاراستہ ہموار

معروف تاجرظہوروٹالی کی ضمانتی عرضی منظور
2لاکھ روپے بطورضمانتی بونڈاوراپناانٹرنیشنل پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
سری نگر؍؍کے این این؍؍ماہ جولائی 2017سے جموں وکشمیرکے سیاسی وعوامی حلقوں ہلچل پیداکرچکے حوالہ اسکنڈل کیس کی قانونی کارروائی نے اُسوقت نیاموڑلیاجب دلی ایک عدالت نے گزشتہ لگ بھگ ایک برس سے تہاڑجیل میں نظربندمعروف کشمیری تاجرظہوروٹالی کی ضمانتی درخواست مشروط بنیادوں پرمنظوری دیتے ہوئے موصوف کی رہائی کاراستہ کھول دیا۔کے این این مانٹرنگ ڈیسک کے مطابق24جولائی2017کوقومی تحقیقاتی ایجنسی ’این آئی اے ‘کی جانب سے سری نگراورنئی دہلی میں الگ الگ کاروائیوں کے دوران 7مزاحمتی لیڈران بشمول نعیم احمد، الطاف احمدشاہ ،ایازاکبر،یرسیف اللہ ،شاہدالاسلام ،معراج الدین کلوال اورفاروق ڈارعرف بٹہ کراٹے کوگرفتارکئے جانے کے بعداین آئی اے نے وادی کے ایک معروف تاجرظہووٹالی کے علاوہ جنوبی کشمیرکے ایک نوجوان فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف اورجاویداحمدبٹ کوبھی حراست میں لیکرنئی دہلی منتقل کیاتھا۔سبھی ملزمان یعنی سات مزاحمتی لیڈروں ،ظہوروٹالی۔کامران یوسف اورجاویدبٹ کیخلاف این آئی اے نے دلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں 18جنوری2018کو چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے سبھی 10ملزمان پرفردجرم عائدکردیا۔تاہم فردجرم عائدکئے جانے کے کچھ وقت بعداسی عدالت نے کامران یوسف اورجاوید احمدبٹ کی ضمانتی درخواستوں کومنظورکرلیا،اوران دونوں نوجوانوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔جمعرات کوحوالہ اسکنڈل کیس کی قانونی کارروائی نے اُسوقت نیاموڑلیاجب دلی ایک عدالت نے گزشتہ لگ بھگ ایک برس سے تہاڑجیل میں نظربندمعروف کشمیری تاجرظہوروٹالی کی ضمانتی درخواست مشروط بنیادوں پرمنظوری دیتے ہوئے موصوف کی رہائی کاراستہ کھول دیا۔پٹیالہ ہاؤس کورٹ نئی دہلی نے ضمانتی عرضی منظورکرتے ہوئے ظہوروٹالی کویہ ہدایت دی کہ وہ بطورضمانت یایقین دہانی کے مبلغ2لاکھ روپے جمع کرانے کیساتھ ساتھ اپناانٹرنیشنل پاسپورٹ بھی جمع کرائیں ۔خیال رہے اس کیس کے سلسلے میں حریت کے دونوں دھڑوں سے وابستہ7سینئرلیڈراوراراکین جولائی2017میں این آئی اے کے ہاتھوں گرفتارکئے جانے کے بعدسے دلی کے تہاڑجیل میں نظربندہیں جبکہ فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیراحمدشاہ اورعسکری قائدسیدصلاح الدین کے دوفرزندسیدشاہداورسیدشکیل کو بھی مبینہ طورپر حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے بیرون ممالک سے رقومات وصولنے کی پاداش میں تہاڑجیل میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیں ۔غورطلب ہے کہ سیدشاہدیوسف گزشتہ برس سے تہاڑجیل میں بندہیں جبکہ سیدشکیل کی گرفتاری گزشتہ دنوں عمل میں لائی گئی ،اوراُنکوبھی این آئی اے کی ٹیم نے سری نگرسے نئی دہلی منتقل کیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *