خصوصی پوزیشن آئین کی فراہم کردہ، گورنر سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں!

یاترا پر حملے کا شوشہ چھوڑ کر کشمیریوں کو بدنام کرنے کی منصوبہ بند سازش: مظفر شاہ
سرینگرکے این ایس جموں وکشمیر عوا می نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے بتایا کہ ریاستی سطح پر ہر آن نئے حکم نامے جاری ہونے سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے جو بھی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اقتدار پر قابض حکمران ہندوستان کی آئین شکنی پر اُتر آئے ہیں۔ کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں وکشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے سنیچر وار کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی سطح پر ہر آن نئے نئے حکم جاری ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں عوامی حلقوں میں تشویش گہری ہوتی جارہی ہے۔شاہ کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ مرکز میں اقتدار پر قابض حکمران ہندوستان کی آئین شکنی پر ا±تر آئے ہیں۔اے این سی لیڈر نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35-A کے تحت خصوصی پوزیشن ریاست کو ہندوستانی آئین نے دی ہے اس کی برقراری کے لئے کسی کو گورنر سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔تعجب اور حیرانی کا مقام ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم سے لیکر ریاست کے گورنر کی زبانی یہ بات سنائی گئی کہ خصوصی دفعات میں کوئی تبدیلی نہیںلائی جائیگی اور ریاست میں امن و سلامتی کی فضا قائم ہونے لگی ہے تاہم دوسری طرف سے ریاست میں موجود لاکھوں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے اور کشمیری عوام کی صدیوں پرانے بھائی چارے اور مہمان نوازی کو ایک بار پھر بدنام کرنے کی غرض سے امرناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے کا شوشہ چھوڑا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا نشہ ،طاقت کا غرور اور فوجی قوتوں کا گھمنڈ اور اس کے بھیانک نتائج تواریخ میں ہم نے پڑھے ہیں اور یہ ہوتا ہی ایسا ہے کہ یہ بڑے بڑوں کا دماغ خراب کردیتا ہے۔اگر آج بھی جموں و کشمیر کی سا لمیت پر کاری ضرب لگانے کا کوئی منصوبہ باندھا جارہا ہے۔ تویہ کوئی نئی بات نہیں، طاقت کے بل بوتے پر جیسے چاہیں گے لوگوں پر ظلم و ستم ڈھایا جاسکتا ہے لیکن یہ جمہوریت،سیکولرازم اور انسانیت کی روح پامال کرنے کے مترادف کا رروائی ہوگی۔مظفر شاہ نے بتایا کہ ریاست کے گورنر بار بار کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی ایسا قدم نہیں ا±ٹھایا جائے گاجس سے کشمیر میں بدامنی کو تقویت ملے گی لیکن دوسری طرف نئے نئے احکامات جاری ہونے سے گورنر کے بیانات کی تردید ہوتی ہے۔ ان حالات میں گورنر کے لئے بھی یہ حکمت عملی ایک لمحہ فکر یہ نبتی ہے کہ وہ جس منصب پر بیٹھے ہیں یہ نام نہاد منصب تو نہیں ہے۔مظفر شاہ کا کہنا تھا کہ کشمیر ی عوام 1931سے ظلمتوں کے سیلاب سے گذرتے آئے ہیں، اگر آج بھی غیض و غضب کا کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس کا بھی کشمیر کے غیرت مندلوگ اُسی طرح مقابلہ کریں گے جس طرح انہوں نے مغلوں ،سکھوں اور افغانیوں کے خلاف عملی ثبوت دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial