دفعہ ۔35اور 370کا دفاع ”موت و حیات“ کا معاملہ: محبوبہ مفتی

فورسز کی اضافی طلبی اور پولیس کو سائیڈ لائن کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے
این سی کی وزیر اعظم کےساتھ میٹنگ میں زیر بحث اُمور حیران کن
سرینگرکے این ایس پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے خصوصی پوزیشن کے دفاع کو ”موت و حیات “ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزسے فورسز کی اضافی طلبی اور جموںکشمیر پولیس کو سائیڈلائن کرنے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جموں وکشمیر میں ضرورکچھ ہونے والا ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس وفد نے جس طرح دیگر اہم اور حساس معاملات پر وزیر اعظم نریندر مودی کےساتھ منعقدہ میٹنگ کے دوران خاموشی اختیار کی وہ حیران کن ہے،انہیں کم سے کم لوگوں کے سامنے آکر اس میٹنگ میں ہوئی باتوں کا خلاصہ کرنا چاہیے تھا۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق شمالی کشمیر بارہمولہ کے ڈاک بنگلہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ دفعہ 35Aاور 370کا دفاع کشمیریوں کےلئے ”موت و حیات“ کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی صورت میں خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنا ہے چاہیے اس کےلئے کوئی بھی قربانی کیوں ہی نہ دینی پڑے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پہلے خصوصی شناخت کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، پھر اس کے بعد اسمبلی الیکشن پر سوچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن منعقد کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، فی الحال جو مسئلہ ہمارے سارمنے اُبھر کرسامنے آیا ہے وہ خصوصی پوزیشن کا دفاع کرنا ہے جو ہمارے لئے موت و حیات سے بھی بڑھ کر ہے۔پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ اگر انتخابات آج نہیں ہوں گے تو بعد میں ہی ہوں گے اور کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے پی ڈی پی ہو، نیشنل کانفرنس ہو یاکوئی اور ہو، الیکشن کے بعد حکومت بنائے گی لیکن فی الوقت جس مسئلے نے سنگین رخ اختیار کیا ہے وہ دفعہ 35Aاور 370کا دفاع ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت علیحدگی پسند لیڈران کو قید میں رکھا گیا ہے لہٰذا یہاں کی مین اسٹریم پارٹیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خصوصی پوزیشن کے دفاع کےلئے ہر ممکن اقدام اُٹھائے۔نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایا کہ یہ مرحوم شیخ عبداللہ ہی تھے جنہوں نے ہندوستانی آئین کو ریاست میں نافذ کرایا، اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ریاست کو درپیش خطرات سے بچانے کےساتھ ساتھ ہندوستانی آئین کی بھی حفاظت یقینی بنائے۔نیشنل کانفرنس وفد کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کےساتھ ہوئی ملاقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بتایاکہ میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نریندر مودی کے درمیان ہوئی میٹنگ کے حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتی۔ میں یہ نہیں جانتی کہ کیا ڈاکٹر فاروق عبداللہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے بھی یا نہیں؟ لیکن میں اُس وقت مایوس ہوگئی جب سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ وفد نے وزیر اعظم کو جموں وکشمیر میں اسمبلی الیکشن منعقد کرنے پر زور دیا۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس وفد نے جس طرح دیگر اہم اور حساس معاملات پر میٹنگ کے دوران خاموشی اختیار کی وہ حیران کن ہے۔انہیں کم سے کم لوگوں کے سامنے آکر اس میٹنگ میں ہوئی باتوں کا خلاصہ کرنا چاہیے تھا۔بی جے پی لیڈرشپ پر برستے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی قیادت کی جانب سے جو شرانگیز بیانات سامنے آرہے ہیں انکی وجہ سے کشمیرمیں کربناک اور پرتناﺅ صورتحال رونما ہوئی ہے۔انہوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ مرکزی سرکار نے جموں وکشمیر پولیس کو مکمل طور پر سائیڈ لائن کیا ہوا ہے۔ مرکز سے فورسز کی اضافی تعیناتی نے لوگوں کے دلوں کے اندر شکوک و شبہات پید اکئے ہیں جس کی وجہ سے یہ پورا معاملہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ضرور کچھ ہونے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial