سرجان برکاتی کی طویل نظربندی،اہل خانہ بے حال

پریس کالونی میں بیوی بچوں اوررشتہ داروں کاپُرامن احتجاج
سری نگر؍؍کے این این؍؍گرمائی ایجی ٹیشن2016کے دوران مخصوص ومنفردنعروں سے مجمعے میں جوش پیداکرنے والے مزاحمتی کارکن سرجان برکاتی کی ایام اسیری کولگ بھگ700دن مکمل ہوگئے ہیں ،اورموصوف کی مسلسل نظربندی کے نتیجے میں اُنکے اہل خانہ سخت مشکلات کاسامناکررہے ہیں ۔کے این این سٹی رپورٹر کے مطابق سرجان برکاتی کی رہائی کی مانگ کولیکرموصوف کی اہلیہ شبروزہ بیگم اپنی 12سالہ بیٹی صغریٰ ،7سال کے بیٹے اذان اورکچھ رشتہ داروں کیساتھ منگل کی صبح سری نگرکی پریس کالونی میں نمودارہوئیں ۔انہوں نے کہاکہ سرجان احمدوگے العروف رجان برکاتی ساکنہ ریبن زینہ پورہ شوپیان کوپولیس نے یکم اکتوبر2016میں گرفتارکیاتھا،اوراب تک اُن پرکئی بارپی ایس اے کاطلاق عمل میں لایاگیاہے جبکہ عدالت عالیہ کی احکامات کے باوجودانکی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ہاتھوں میں بینراورپلے کارڈس لئے سرجان برکاتی کے اہل خانہ اوررشتہ داروں نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ موصوف کومحض سیاسی انتقام گیری کی بنیادپرپابندسلاسل رکھاجارہاہے۔سرجان برکاتی کی اہلیہ شبروزکاکہناتھاکہ شوہرکی گرفتاری کے بعدسے اُنھیں گھرچلانے اوربچوں کی پرورش کرنے میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں شوہرکی رہائی کیلئے کورٹ کچیری کے چکرکاٹتی رہتی ہوں اوربچوں کی جانب میراکوئی دھیان ہی نہیں ۔انہوں نے افسردہ لہجے میں کہاکہ اب میرے بچے اسکول بھی نہیں جاپاتے ہیں ۔شبروزہ بیگم نے کہاکہ ہماری گھریلواورمالی حالت بہت خراب ہوچکی ہے کیونکہ گھرمیں کوئی کمانے والاہی نہیں ۔انہو ں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ میں شوہرکے کیس دیکھوں ،گھرکوچلاؤں یابچوں کی دیکھ بال کرؤں ،میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا،کہ زیادہ اہم کیاہے؟۔اس موقعہ پرگزشتہ لگ بھگ23ماہ سے محبوس مزاحمتی کارکن سرجان برکاتی کی بارہ سال کی کمسن بیٹی صغریٰ نے کہاکہ ہماری ماں ہمارے والدکیخلاف درج کیسوں کے چکرمیں اُلجھی ہوئی ہیں ،اورہم دونوں بھائی بہن بھی پریشان اوراس انتظارمیں ہیں کہ کب ہمارے پاپاکوجیل سے رہائی ملے گی۔صغریٰ نے کہاکہ وہ اپنے اہل خانہ اوررشتہ داروں کے ہمراہ7ستمبرکوکولگام میں احتجاجی دھرنادینے جارہی ہیں ۔سرجان برکاتی کی اہلیہ اورکمسن بچی نے کہاکہ ہم نے بہت ظلم برداشت کیاہے ،اورہم موجودہ سرکارسے اپیل کرتے ہیں کہ محض انسانی بنیادوں پرسرجان برکاتی کی رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمیں اس مصیبت اورآزمائش سے نجات مل سکے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *