سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں کی فائرنگ 

حریت(گ) کارکن کا قتل
مہلوک کارکن حال ہی میں جیل سے رہا ہوا تھا،ہلاکت میں عسکریت پسند ذمہ دار :پولیس
سوپور:۸،ستمبر:کے این این / ریشی پورہ بمئی سوپور میں ہفتہ کی صبح اْس وقت دہشت کی لہر دوڑ گئی جب نامعلوم بندوق برداروں نے سرگرم مزاحمتی کارکن کو نزدیک سے گولی مار کر ابدی نیند سلادیا ۔یہ وادی میں رواں برس کسی حریت کارکن کا نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں قتل کا دوسرا واقعہ ہے۔پولیس ترجمان نے مزاحمتی کارکن کی ہلاکت کیلئے عسکریت پسندوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔کے این این کے مطابق ریشی پورہ بمئی سوپور میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ایک مزاحمتی کارکن کاقتل ہوا ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو نامعلوم بندوق بردار ریشی پورہ بمئی سوپور میں نمودار ہوئے جہاں انہوں نے 45سالہ حریت (گ) کارکن حکیم الرحمان سلطانی ولد مولوی نظام الدین کو اپنی رہائش گاہ واقع ریشی پورہ بمئی سوپور کے نزدیک گولی ماری ،جسکی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا ۔تفصیلات کے مطابق زخمی مزاحمتی کارکن کو خون میں لت پت فوری طور پر سب ضلع اسپتال سوپور پہنچایا گیا،جہاں ڈاکٹروں نے اْسے مردہ قرار دیا۔ مہلوک مزاحمتی کارکن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سید علی گیلانی والی حریت کانفرنس کے ساتھ وابستہ تھا اور حال ہی میں اُسے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔اد رہے کہ رواں برس فروری کے دوسرے ہفتے میں بڈگام کے چرن گام بیروہ میں نامعلوم مسلح افراد نے تحریک وحدت اسلامی کے سرگرم کارکن یوسف ندیم ساکنہ ساندی پورہ پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اْس کی موقعے پر ہی موت ہوئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت میں عسکریت پسندوں کا ہاتھ کارفرما ہے ۔پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریشی پورہ بمئی سوپور میں عسکریت پسندوں نے عام شہری حکیم الرحمان کو گولی مار کر قتل کیا ۔اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ۔اس دوران مہلوک مزاحمتی کارکن کی میت جونہی آبائی علاقہ پہنچائی گئی ،تو وہاں صف ماتم بچھ گئی ۔مہلوک مزاحمتی کارکن کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔بعد میں اُسے آبائی قبرستان میں جذباتی مناظر کے بیچ سپرد لحد کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *