عام شہریوں کوگولیوں کا نشانہ بنانا سرکاری دہشت گردی

چیوہ کلان پلوامہ کے فیاض احمد وانی کی ہلاکت قابل مذمت/صحرائی 
سری نگر// چیرمین تحریک حریت جموں کشمیر محمد اشرف صحرائی نے چیوہ کلان پلوامہ میں فورسز کے ہاتھوں فیاض احمد وانی ولد محمد احسن وانی کو راست فائرنگ سے شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز بے گناہ لوگوں کا خون بہارہی ہے۔ فیاض احمد ایک سیول جوان ہے، اس کو گولیوں کا نشانہ بنانا سرکاری دہشت گردی ہے۔موصولہ بیان میں محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے رُکن غلام رسول کلو چھتہ بل سرینگر اور حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کے آفس بوائے محمد امین بٹ کولگام کو کالے قانون پی ایس اے کے تحت کٹھوعہ اور کوت بھلوال جیل منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو ان کالے قوانین کے تحت جیلوں میں بند کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، لیکن یہاں قانون کے بجائے پولیس اور فوجی راج قائم ہے، جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں تمام انسانی، جمہوری اور سیاسی حقوق پامال کئے جاچُکے ہیں۔ انہوں ے کہاکہ انتظامیہ تحریک آزادی سے وابستہ سیاسی کارکنوں کو بلاوجہ انتقام کا نشانہ بنارہی ہے اور جو لوگ کئی کئی برس کالے قانون پی ایس اے کے تحت جیلوں میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے اُن کو اب بلاوجہ پھر پی ایس اے لگاکر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ غلام رسول کلو بھی بار بار پولیس حراست میں رہے اور عید سے پہلے رہا کئے گئے، جبکہ سنیچروار کو اُن کو پھر صفاکدل تھانے پر طلب کیا گیا اور اس کے لواحقین کو بتائے بغیر پی ایس اے لگا کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا۔ اسی طرح محمد امین بٹ کو بھی کولگام تھانے سے کوت بھلوال جیل شفٹ کیا گیا۔ صحرائی صاحب نے کہا کہ گرفتاریوں اور کالے قوانین کے نفاذ سے تحریک آزادی سے وابستہ کارکنوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء تحریک حریت جموں کشمیر کے ذمہ داروں محمد یوسف مکرو، عاشق حسین نارچور اور یاسر احمد پر مشتمل وفد نے سبزار احمد بٹ کھنہ بل اسلام آباد کی پھوپھی جان کے انتقال پر اُن کے گھر جاکر لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر تعزیتی مجلس سے محمد یوسف مکرو نے خطاب کرتے ہوئے مرحومہ کے خاندان کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ کا لخت جگر تحریک آزادی کی جدوجہد میں شہید ہوچُکا ہے۔ انہوں نے مرحومہ کے حق میں جنت نشینی کی دُعا کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *