پاکستان کشمیرمیں امن کا دشمن، امرناتھ یاترا نشانے پر

حد متارکہ پر صورتحال قابو میں: لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون
آج کا سنگ باز کل کا جنگجو، کشمیری مائیں بال بچوں کی فکر کریں
سرگرم جنگجوﺅں کی تعداد میں کمی: دلباغ سنگھ؛ خطرات کے باجود یاترا کو کامیاب بنایا:ذوالفقار حسن
سرینگرکے این ایس فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کےلئے امر ناتھ یاترا کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے حد متارکہ پر صورتحال کو قابو میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ کشمیری ماﺅں سے اپیل کرتے ہوئے فوجی آفیسرنے کہا کہ 500روپے کے عوض سنگ باری کرنے والا نوجوان کل جنگجو بن جاتا ہے لہٰذا مائیں اپنے بال بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔کشمیرنیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے جمعرات کو 15ویں کارپس کمانڈ کے ہیڈکوارٹر پر بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ حد متارکہ پر حالات پرامن ہے۔ 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کےلئے اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرمیں غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کو جاری رکھنے کےلئے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ فوجی آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو مکدر بنانے کےلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوا ہے تاہم انہوں نے گزشتہ دنوں سے حد متارکہ پار جاری آر پار کی گولہ باری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال پرامن ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوﺅں کی طرف سے خطرات ہنوز برقرار ہے۔ جگہ جگہ بارودی سرنگوں کا خطرہ عیاں ہے تاہم سیکورٹی فورسز اس طرح کی کارروائیوں کو ڈیل کرنے کی خاطر مسلسل تلاشی کارروائیاںعمل میں لارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقے میں تلاشی کارروائیاں جاری ہیں جہاں پر جنگجو نے فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون کا کہنا تھا کہ تلاشی کارروائی کے دوران یہاں سے ایک سرنگ برآمد کی گئی جس پر پاکستانی فیکٹری کا نام ثبت تھا۔انہوں نے بتایاکہ امرناتھ یاترا کے روایتی راستے پر فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں دیگر نوعیت کا اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیاجن میں امریکی ساخت M-24انساس رائفل اور پاکستان کی جانب سے بنائی گئی بارودی سرنگ بھی شامل ہیں۔اس دوران فوجی آفیسر نے بتایا کہ 83فیصد جنگجو سنگ باری میں ملوث رہے ہیں۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کی غرض سے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران شوپیان علاقے سے امریکی سخت سنائپر اور پاکستان کی تیار کردہ بارودی سرنگ کو برآمد کیا۔لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون نے کہا کہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی پاکستان کو قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائےگی۔انہوں نے کہا کہ امن کی صورتحال کو بگاڑنے کےلئے پاکستان کا ہر قدم ناقابل برداشت ہے جس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ حد متارکہ پر اگر چہ کئی دنوں سے آرپار کی گولہ باری جاری ہے تاہم مجموعی طور پر یہاں صورتحال قابو میں ہے کیوں کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کا فورسز بھر پور طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان اس تاک میں بیٹھا ہے کہ وہ دراندازوں کو اس پار دھکیلنے میں لگا ہوا ہے تاہم سرحدوں پر تعینات فوج الرٹ ہے اور پاکستان کی طرف سے کی جارہی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔فوجی آفیسر نے بتایا کہ شوپیان علاقے سے جو بارودی مواد برآمد کیا گیا اُسے تحقیقات کےلئے ماہرین کے سپرد کیا گیا ہے۔پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ امن کی فضا کو بگاڑنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائےگی۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے پاکستان ساخت بارودی سرنگوں کو بھی برآمد کیا جس یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کےلئے پاکستانی فوج جنگجوﺅں کوہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے تاہم انہوں نے جگہ کے نام کا خلاصہ نہیں کیا۔ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر سرگرم جنگجوﺅں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کےساتھ ساتھ جموں صوبے میں بھی اب سرگرم جنگجوﺅں کی تعداد کم ہوتی نظر آرہی ہے۔فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیںخفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کےلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا ۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کےلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے، اور یہ سلسلہ معمول چلتا رہتا ہے۔اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے بتایا کہ پہلے سے موجود فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کےلئے درکار ہے، جن کی جگہ دوسری نفری کو تعینات کیا جارہا ہے تاکہ سیکورٹی گرڈ میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہو۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ فورسز نے پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوﺅں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوﺅں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کی غرض سے 10مرتبہ زیر زمین دھماکے کئے۔پریس کانفرنس کے دوران فورسز کے اعلیٰ حکام نے ماﺅں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا جنگجو ہوسکتا ہے لہٰذ ااپنے بال بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ فورسز کمانڈروں کا کہنا تھا کہ ”ہم نے کشمیر میں جاری دہشت گردی کا گہرائی سے جائزہ لیا ، 83فیصدی مقامی نوجوان جنہوں نے بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کیا ، ان کا ماضی سنگ بازی میں ملوث رہا ہے ، لہٰذا ہم کشمیری ماﺅں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو خصوصی خیال رکھیں، انہیں سنگ بازی جیسی کارروائی سے باز رکھیں، کیوں کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا دہشت گرد ہوگا“۔انہوں نے کہا کہ نوجوان 500روپے کے عوض سنگ باری کرتا ہے اور کل یہی نوجوان دہشت گرد بن جاتا ہے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کےلئے کئی اقدامات اُٹھائے۔ جنگجوﺅں کی جانب سے یاترا میں خلل ڈالنے کےلئے کئی کوششیں کی گئیں لیکن فورسزکی مشترکہ کارروائیوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوام کے تعاون کے نتیجے میں اس طرح کی کارروائیاں ناکام ہوئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial