کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش: میرواعظ عمر فاروق

حکومت ہند کشمیر کی متنازعہ شناخت بگاڑنہیں سکتی
ہندنواز سیاستدانوںپر خصوصی پوزیشن کا دفاع اخلاقی فرض
سرینگرکے این ایس حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ سیاسی حیثیت کو بگاڑنے اور جموںوکشمیر کی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ایک لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور کسی بھی عدالتی ، قانونی یا سیاسی اقدامات کے ذریعے اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت و ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق نماز جمعہ سے قبل عوام کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سرینگر میں حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ سیاسی حیثیت کو بگاڑنے اور جموںوکشمیر کی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ایک لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حریت کانفرنس(ع) کا اس سلسلے میں موقف بالکل واضح ہے اور یہ کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور کسی بھی عدالتی ، قانونی یا سیاسی اقدامات کے ذریعے اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت و ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتااور آج نہیں تو کل اس مسئلہ کو حل کرنا ہی ہوگا۔ میرواعظ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مخدوش غیر واضح اور حد درجہ تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی ہفتوں سے لگاتار یہاں کے حالات میں زبردست تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نیم فوجی دستوں کو نئے سرے سے یہاں لاکر کشمیر کے چپے چپے پر تعینات کیا جارہا ہے ایسے حالات میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ حکومت کے کیا منصوبے اور عزائم ہیں کیونکہ ان حالات کی وجہ سے ہر طرف تشویش اور چے میگوئیوں کا بازار گرم ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اس سارے عمل کو معمول کی کارروائی بتاکر حالات ٹھیک ہیں کا اعلان کررہی ہےں مگر دوسری طرف جبکہ کشمیر میںپہلے سے ہی لاکھوں کی تعداد میں فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں ایسے میں مزید ہزاروں کی تعداد میں فورسز کی تعیناتی سمجھ سے بالا ترہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔میرواعظ نے کہا کہ جہاں تک 35A اور دفعہ370کا تعلق ہے تو کبھی ان دفعات کو ہٹانے کی بات کی جاتی ہے جسکا مقصد اس ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنا ہے اور یہ آج سے نہیں 1947سے کوشش ہو رہی ہے اور اس حوالے سے بھارت کے سپریم کورٹ میں بھی کئی عرضیاں داخل کی جاچکی ہیں اور کشمیر کی ہند نواز جماعتوںکیلئے ان دفعات کا دفاع کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور وہ عوام کے سامنے آکر انہیں بتائیں کہ انہوں نے کن شرائط کے تحت بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کیاتھا ۔میرواعظ کے بقول مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پوری عالمی برادری تسلیم کرچکی ہے اور آج امریکہ سمیت پوری دنیا بھارت اور پاکستان پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کو بامعنی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کریں اور ہماری ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ آخر کار بھارت اور پاکستان اور کشمیری عوام کو ہی اس مسئلہ کو حل کرنا ہے ۔ شوشہ بازی، افواہ بازی ، دھونس دباﺅکی پالیسی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اس مسئلہ کی وجہ سے ہی کئی بار دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے لیکن عالمی برادری کی مداخلت کی وجہ سے جنگی صورتحال ٹل گئی اورہم دیکھ رہے ہیں کہ آج ایل او سی پر گریز سیکٹر، راجوری اورمژھل سیکٹر میں دونوں اطراف سے بھاری گولہ باری کے نتیجے میں انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ نہ پاکستان اور نہ بھارت کا کوئی فوجی مرے اور نہ کشمیری ہی مرےں کیونکہ ہمارا واحد مدعا و مقصد یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔حریت (ع) چیرمین نے کہا کہ 1947سے یہاں کے حالات میں اتار چڑھاﺅ آتے رہے ہیں تاہم حریت قیاد ت کو ہدف تنقید بنانے سے یا بیجا پروپیگنڈا کرنے سے اس مسئلہ کی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ حریت کانفرنس نے 2004میں بھی بھارت اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار کئے اور آج بھی ہمارا یہ موقف واضح ہے کہ اس مسئلہ کو صرف تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے عوام سے تلقین کی کہ وہ آج کے مخدوش اور غیر یقینی صورتحال میں اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق قائم رکھیں اور اللہ کی ذات بے ہمتا پر مکمل بھروسہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف انفرادی اور اجتماعی طور پر رجوع کریں کیونکہ اس ذات واحد کے ساتھ توسل کرنے سے ہی ہمارے جملہ مشکلات اور مصائب حل ہو سکتے ہیں اور ہم نے ماضی میں بھی مشکل حالات کے دوران جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا ہے آئندہ بھی اللہ کے بھروسے اسی ہمت اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial