کمسن بچی کا مبینہ قتل ، بونیاراوڑی میں مکمل ہڑتال 

لواحقین کا احتجاج ، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا کیا مطالبہ 
بونیار//بونیار اوڑی میں 9سالہ کمسن بچی کے مبینہ قتل کے خلاف پیر کو احتجاجی ہڑتال رہی جسکی وجہ سے یہاں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔مہلوک بچی کے لواحقین اور رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے ۔کے این این کے مطابق شمالی ضلع بارہمولہ کے بونیار اوڑی کے ترکانجن جنگل سے پیر کے روز 9 سالہ کمسن بچی کے مبینہ قتل کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران بونیار اور اس سے ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے سری نگر ۔مظفرآباد شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی مظاہرین کمسن بچی کے مبینہ قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بچی کو کسی جانور نے نوالہ نہیں بنایا کیونکہ جس جگہ بچی کی نعش ملی وہاں سے انہوں نے اُسکے کپڑے اور چیپل وغیرہ پائی ،جسے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بچی کا سفاکانہ قتل کیا گیا ۔یاد رہے کہ بونیار اوڑی کے تری کنجن جنگل سے اتوار کے روز کمسن بچی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ مہلوک کمسن بچی 23 اگست کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس کے ترجمان نے کہا تھا ’9 سالہ لاپتہ لڑکی کو بونیار بارہمولہ کے جنگلی علاقہ میں مردہ پایا گیا۔ مہلوک لڑکی شناخت مسکان جان کے بطور کی گئی۔ وہ 23 اگست کو لاپتہ ہوئی تھی‘۔بتایا جاتا ہے کہ مہلوک لڑکی کو ظاہری طور پر کسی جنگلی جانور نے حملہ کرکے مارا ڈالا ہے۔ تاہم بونیار کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کا انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔بونیار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پیر کو دکانات اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ ہڑتال کے دوران مقامی لوگوں نے مصروف ترین سری نگر۔ مظفرآباد شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا اور اسے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ۔مہلوک بچی کے لواحقین اور رشتہ داروں نے پولیس یقین دہانی کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کیا ۔پولیس نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات شفاف بنیادوں پر کی جارہی ہے اور اس میں جوکوئی بھی ملوث پایا جائیگا ،اپس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *