کٹریال کٹراجنگل میں جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی 

3جنگجوجاں بحق ،پولیس افسر سمیت12فورسز اہلکار زخمی 
جنگجوؤں کیخلاف خصوصی کمانڈوز، ڈرونز، تھرمل امیجر اور ہیلی کاپٹرزیر استعمال،آپریشن جاری
جموں؍؍کے این این ؍؍جھجر کوٹلی ادھمپور میں فورسز ناکہ پارٹی پر مسلح حملہ کرکے فرار ہوچکے جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان جمعرات کی صبح تلاشی کارروائی کے دوران کاکریال کٹرا نزدیک ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے مقام پر آمنا سامنا ہوا،جس دوران یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی کارروائی پر مامور فورسز اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی ،جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپ شروع ہوئی ۔دن بھر جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی میں3عدم شناخت جنگجو جاں بحق اور ایس ڈی پی او سمیت12فورسز اہلکار زخمی ہوئے ۔پولیس اور فوج نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں اب تک دو جنگجو جاں بحق ہوگئے جبکہ آپریشن جاری ہے ۔کے این این کے مطابق جھجر کوٹلی ادھمپور میں فورسز ناکہ پارٹی پر مسلح حملہ کرکے فرار ہوچکے جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان بڑے پیمانے پر شروع کی گئی تلاشی کارروائی کے دوران کاکریال کٹرا نزدیک ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے مقام پر آمنا سامنا ہونے کے ساتھ خونین معرکہ آرائی شروع ہوئی ۔ایس ڈی پی وہ نگروٹہ موہن لال شرما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ چھڑ چکی جھڑپ میں اب تک2 پولیس اہلکار، 5 سی آر پی ایف اہلکاراور4فوجی اہلکار زخمی ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ جھنجر کوٹلی ادھمپور کے جنگلی علاقے میں جمعرات کی صبح سے جاری ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کٹریال جنگلات (ریاسی) ضلعے میں تلاشی کارروائی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کی ،جسکے بعد یہاں جھڑپ شروع ہوگئی۔معلوم ہوا ہے کہ زخمیوں کو نارائین اسپتال کٹرا میں داخل کیا گیا ۔ یاد رہے کہ بدھ کو تلاشی کارروائی کے دوران مسلح جنگجوؤں جن کی تعداد دو سے تین تھی ،نے جھجر کوٹلی ادھمپور کے مقام پر فورسز کی ایک ناکہ پارٹی پر فائرنگ کی تھی جس میں ایک سریکلچر گارڈ زخمی ہوا تھا۔فائرنگ کرنے کے ساتھ مسلح جنگجوؤں نے نزدیکی جنگلات میں پناہ لی اور بدھ سے ہی فوج وفورسز کی بھاری نفری نے اْنکی تلاش شروع کردی۔اس مقصد کیلئے جہاں فوج وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ،وہیں ڈرون طیاروں کی بھی خدمات حاصل کی گئی جبکہ تھرمل امیجر اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے گئے ۔جنگجوؤں کو تلاش کرنے کی غرض سے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا جبکہ خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔جمعرات کی صبح مفرور جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کاکریال کٹرا نزدیک ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے مقام پر آمنا سامنا ہوا جب سے لیکر طرفین کے مابین شدید اور خونین معرکہ آرائی جارہی ہے۔ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ متعدد فورسز اہلکار بھی ہوئے ،جسکے بعد طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں ایک اور جنگجو جاں بحق ہوا ۔پولیس کے ایک ترجمان نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کاکریال انکاؤنٹر میں اب تک3 جنگجو جاں بحق ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں ایس ڈی پی او اور دیگر کئی سی آر پی ایف اورپولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔اُدھرمعلوم ہواکہ علاقہ میں موجودجنگجوؤں اورفوج وفورسزکے درمیان پھرشدیدجھڑپ شروع ہوئی ،اورگولیوں کے تبادلے میں 4فوجی اہلکاروں کے زخمی ہوجانے کی اطلاع ہے ۔تاہم یہ واضح نہیں کہ فائرنگ تیسراجنگجوجاری رکھے ہوئے ہے جسکے بارے میں دفاعی ذرائع کاکہناتھاکہ وہ شدیدزخمی ہوگیاہے ،یاکہ علاقہ میں چوتھاجنگجوبھی موجودہے۔جھڑپ جاری ہے۔ اس دوران فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی ) یونیفورم فورس میجر جنرل اروند باٹیہ نے بتایا کہ جاری جھڑپ میں3 ملی ٹنٹ ہلاک ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ جنگجوؤں کا ایک گروپ حال ہی میں سامبا بوبیان بین الاقوامی سرحدی سے دراندازی کرکے اِس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ حراست میں لئے گئے ٹرک ڈارئیور اور کنڈیکٹر کو بالائی زمین ورکر کے بطور تربیت دی گئی تھی۔یاد رہے کہ جھجر کوٹلی ادہم پور کے قریب ایک ٹرک میں سوار مشتبہ اسلحہ برداروں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں محکمہ سریکلچر کا ایک ملازم زخمی ہو گیا جبکہ اسلحہ بردار فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے ایک وسیع علاقے میں تلاشی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے اور حملہ آوروں کو تلاش کرنے کیلئے ڈرونز، فوجی ہیلی کاپٹر،سونگھنے والے کتے علاقوں میں جھونک دیئے گئے ۔پولیس نے ٹرک کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو حراست میں لے لیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *