گور نر اور صوبائی کمشنر کی یقین دہانیوں کے باووجود اہل وادی اضطراب میں مبتلا

عدم تحفظ کے احساس نے والدین کو تشویش میں مبتلا رکردیا، تعلیمی اداروں سے بچوں کو واپس بلایا
وادی میں کارو باری سرگرمیاں ٹھپ، ایک ہی اعلان کے ساتھ اقتصادیات صفر پر پہنچی
سرینگرکے این ایس وادی کشمیر اچانک پیدا ہوئے تززب اور افرا تفری کے ماحول پر گور نر اور صوبائی کمشنر کی یقین دہانیوں کے باوجود اہل وادی بشمول تمام سیاست دان اضطراب میں مبتلا ہوئے،اس دوران وادی کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم غیر ریاستی طلباءکو گھر والوں کی جانب سے گھر واپس بلانے کے بعد مقامی لوگوں نے بھی اپنے بچوں کو گھروں کو بلایا ہے اس دوران وادی کے مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں بشمول کئی دانش گاہوں میں زیر تعلیم اکثر طلبا کو گھر والوں نے فوری طور گھر بلایا ہے ۔ادھر جمعہ کے روز انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں اور سیاحوں کو فوری طور وادی چھوڑنے کے بعد وادی کے تمام سیاحتی مقامات اور سرینگر کے ہوٹل خالی ہوئے ہیں جبکہ بازروں میں لوگ غائب ہیں اور ہر ایک کا ایک ہی سوال ہے کیا ہونے والا ہے ؟۔کشمیر نیوز سروس( کے این ایس ) کے مطابق ریاست جموں کشمیر سرکار کی جانب سے امر ناتھ یاترا پر امکانی حملے کے پیش نظر سیاحوں اور امر ناتھ یاتریوں کے لئے جاری ایڈوائزی کے علاوہ وادی میں فوج کی مذید کمنپیوں کو وادی لانے کے بعد گورنر اور صوبائی کمشنر کی جانب سے شانتی بنائے اور افواہوں پرکان نہ دھر نے کی یقین دہانہوں کے باجود اہل وادی بشمول سیاست دان تززب کے شکار ہوئے ہیں اور ہر ایک کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر کیا ہونے والا ہے؟ ۔جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے اس دوران سنیچر کے روز صبح سویرے سرینگر کے کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا کو سرکاری گاڑیوں میں سوار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس کے بعد مزکورہ طالبا کے ساتھ ہی مختلف جماعتوں میں زیر تعلیم بیشتر دانش گاہوں اور کالجوں کے مقامی طلبا ءکو بھی والدین نے گھر بلایا ہے تاکہ انہیں اس حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے ۔ذرائع نے بتایا سیاحوں اور امر ناتھ یاتریوں کے علاوہ وادی میں برسوں سے کام کر رہے مزدوروں نے بھی یہا ں سے اپنا بستر گول کر لے اشک بار آنکھوں سے وادی کو خیر باد کہہ دیا ہے ۔ اس دوران کشمیر نیوز سروس کے سٹی رپوٹر وں کے علاوہ وادی کے باقی ضلع تحصیل صدر مقامات کے علاوہ سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام سے جو اطلاعات فراہم کئے گئے ہیں ان کے مطابق سرکاری اعلان کے چند منٹوں بعد سیاحتی مقامات خالی ہوئے ہیں جبکہ ہوٹلوں میں الوں بولنے لگے ہیں ۔اس دوران شہر سرینگر راج باغ سمیت وادی کے دیگر ہوٹل راتوں رات خالی ہوئے جہاں سیاحوں نے وادی سے راہ فرار اختیار کی ہے۔ اد ھر سرینگر میں میں کچھ تاجروں نے بتایا مزکورہ اعلان کے بعد یہاں کی اقتصادیات میں طوفان آیا ہے جس دوران سرینگر میں سنیچر کے روز ایک بھی سیاح یا عام خریدارکسی بھی جگہ نظر نہیں آیا ہے ۔سرکاری اعلان اور اضافی فورسز کو وادی لانے کے بعدلوگوں نے اے ٹی ایموں سے رقمات نکالی ہے جس کے نتیجے میں بیشتر اے ٹی ایم سنیچر کو خالی پڑے تھے جبکہ کچھ علاقوں میں لوگوں نے غذائی اجناس کے ساتھ پیٹرول اور بچوں کے دودھ کے علاہ ادویات کو زخیرہ کے رکھا ہے جہاں ناجائز منافع خوری بھی اعلان کے ساتھ ہی بڑ گئی ہے جبکہ چند سبزیوں کے دام منٹوں دوگنی ہوئی ہے۔ ادھر وادی کے شمالی و جنوبی میں لوگوں نے تعمیر ہو رہے مکانات اور باقی کا م کو بند کیا ہے جبکہ بیشتر لوگوں نے بچوں کو سکول بھی نہیں چھوڑا ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں بازاروں میں صرف مجبور اور ملازم پیشہ افراد کو ہی دیکھا گیا ہے جبکہ عام لوگوں نے مقامی بستیوں یا گھروں میں ہی رہنے کو ترجیحی دی ہے ۔خیال رہے سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی صرف ایک ہی سوال ہے کہ ہو کیا رہا ہے جس کے بارے میں کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے جس کے نتیجے میں عام لوگ دم بخود ہیں۔خیال رہے مرکز نے وادی میں 35000ہزارواضافی فورسز کی نفری کو تعینات کرنے کے علاوہ امرناتھ یاترا پر حملے کے اطلاعات کے بعد ایک ایڈوائزی جاری کی ہے جس میں سیاحوں اور یاتریوں کو وادی چھوڈنے کے لئے کہا گیا ہے جہاں ایک ہی اعلان کے فوراً بعد وادی میں تمام سیاسی و سماجی حلقوں میںسخت افراد تفری مچ گئی ہے جس دوران کئی سیاسی پارٹیوں نے آپسی مشورے کے بعد رات دیر گئے جمعہ کی شب گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات ہے جبکہ یہاں سرینگر میں پرس کانفرنسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ادھر گور نر ستیہ پال ملک اور صوبائی کمشنر نے لوگوں سے بار بار تاکید کی ہے کہ آپ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ شانتی بنائے رکھئے تاہم لوگوں کسی کا بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اضطراب کی کیفیت ہنوز جاری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social Share Buttons and Icons powered by Ultimatelysocial